پاکستان اور بدلتی دنیا۔۔شہباز الرحمٰن خان

ہندوستان میں 29 اسٹیس میں 1600 کے قریب مختلف زبانیں اور سماج کلچر کے لوگ آباد ہیں ، میں سوچ رہا تھا کہ  ایک ارب 26 کروڑ کی آباد ی والا ملک کس طرح 76 سال گزار گیا؟۔۔

یوٹیوب پر اکثر پارلیمنٹ کے کسی بھی ا جلاس اور قانون سازی کی مکمل کارروائی  دیکھنے کو  مل جاتی ہے،جس سے مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔

اسی طرح ایک روز میں نے لوک سبھا کی ایک مسلمان رُکن کے حلف اٹھانے کی تقریب دیکھی،پھر ایک ہندو کو گیتا پر حلف اتھاتے دیکھا۔۔

اسے دیکھنے کے بعد میں ذہن میں ایک سوال نے سر اٹھایا کہ کیا یہ جمہوری نظام ہے؟

جواب  ملا کہ “دستور نے ہر شہری کو اتنا اختیار دیا ہے کہ  وہ اپنے رواج اور مذہبی آزادی برقرار رکھے ہوئے ہیں”۔ اس طرح ہر ریاست  کا قانون اس کی عوام کی اکثریت کے مطابق قانون ساز اسمبلی نے تشکیل دیا ہے ۔میں کلدیپ نیّر صاحب کے آرٹیکل بہت شوق سے پڑھا کرتا تھا، جب ان کا انتقال ہوا  تو مجھے بہت دکھ بھی ہوا ، برِ صغیر  کے ترتی پسند عوام ایک روشنی سے محروم ہوگئے تھے ، اور آپ کو حیرت ہوگی کہ  ان کی آخری رسومات دریائے راوی میں ادا کی گئیں ، ا ن کی وصیت تھی  کہ میری چِتا کی راکھ (استھیاں)کو دریائے راوی میں بہایا جائے ،شاید اس راوی کی خشکی میری چِتا کی راکھ ختم کردے۔

لکھتے ہوئے میرا دماغ کلدیپ نیّر صاحب کی  طرف چلا گیا ۔۔ایک بات مجھے بہت اچھی طرح سمجھ آگئی کہ  ہماری تباہی کی وجوہات کیا ہیں ۔۔ جو معاشرے یا فرد، جہد کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہوتے وہ تباہ ہوجاتے ہیں ،جب کہ اب دنیا ایک نئی صدی میں داخل ہوری ہے ،ایک نئی سمت کی طرف بڑھ رہی ہے، دنیا میں نئی  طرز کا  نظام ترتیب دیا جارہا ہے یہاں پر نیشنلزم کا فلسفہ رائج ہے ،ہم اتنے بدنسب  ہیں  کہ جمہوری نظام کی بھی شکل بگاڑنے میں کوئی کسر  نہیں اٹھا رکھی ہم نے، مغرب اور دیگر ممالک  نے اس سے اپنے اہداف حاصل کیے اور اب اس کے متبادل کی طرف چل پڑے ۔

ہندوستان  وہ ہدف حاصل نہیں کرسکا لیکن دستور نے عوام کو جوڑے رکھا ،کیونکہ ایک منتشر اور تضادات سے بھرپور سماج کو جوڑے رکھنا بہت مشکل کام ہےاور آپ عوام کو ایک پیج پر نہیں لا سکتے ہم مختلف مذاہب اور زبان ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف مسالک کے لوگ بھی ہیں ،اب آپ کس فارمولے کے تحت عوام کو ریاست سے جوڑے رکھتے ہیں، جبر اور دباؤ سے ہم اور پیچھے چلے گئے ،شاید  کچھ امید بندھتی ،جب ہم اختیار  وفاق سے  صوبہ کو منتقل کرتے اور صوبے اپنا اختیار شہر کو منتقل کرتے اور شہر اس طرح ٹاؤن شپ کو بااختیار کرتے ،تو آج پاکستان بہت خوشحال ہوتا ،کسی حد تک تضادات بھی ختم ہو جاتے، ہم دستور سے ہدف حاصل کرلیتے ،یہ ممکن نہیں ہوسکا ،فوجی اور سیاسی اختیارات کی کھینچا  تانی میں پاکستان  دیگر اقوامِ  علم  کے مقابلے میں بہت پیچھے رہ گیا۔

اب ایک نیا نظام ترتیب دیا جارہا ہے ،  جہاں تک میں  سمجھتا ہوں یہ یونٹ بیس نظام پاکستان کو ٹکڑوں میں تقسیم  کردے گا ،کیوں کہ  جس کو پیروں پر کھڑا ہونا نہیں آتا ، وہ   ریس میں کیسے  شامل ہوگا ۔دنیا میں ایک ریس کی کیفیت ہوگی ،سرمایہ دارانہ نظام میں ٹیکنالوجی اور ٹیکنوکریٹ حکومت بنائی جائے گی مجھے پاکستان کا  مستقبل (خدا نخواستہ)بہت بھیانک نظر آتا ہے، اور یہ  میرے لیے بہت تکلیف دہ بات ہے ،کیونکہ میں اور میرے خاندان کا مستقبل پاکستان سے منسلک ہے۔

شہباز الرحمٰن خان
شہباز الرحمٰن خان
شہباز الراحمن خان سابق ڈپٹی جنرل سیکریٹری پیپلز پارٹی برائے نوجوان کراچی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *