میرا خواب ڈیجیٹل عدالتی نظام۔۔قیصر اقبال ٹھیٹھیہ

پاکستان میں ہمیشہ انقلاب کی بات ہوتی رہی ہے نئے خواب کی بات ہوتی رہی ہے, لیکن تمام تر انفراسٹرکچر بنا بھی دیاجائے تو نا انصافی دیمک کی طرح سب کچھ چٹ کر جائے گی۔ موجودہ حکومت کا ویژن ہے کہ کمزور اور نادار طبقے کو سستااور فوری انصاف فراہم کیا جائے گا۔ وفاقی وزارت قانون اور وفاقی وزیر قانون قانونی موشگافیوں میں الجھے ہوئے ہیں, لیکن میں ڈیجیٹل عدالتی نظام کا خواب دیکھ رہا ہوں۔ جہاں تاریخ پر تاریخ نہیں بلکہ تاریخ رقم ہوگی انصاف کی، جہاں تاخیر نہیں تعبیر ہوگی۔ تمام تر عدالتی ریکارڈ کی مخصوص سوفٹ ویئر پر منتقلی کرکے وکلا،گواہان، پولیس و دیگر کو اپنے اپنے موبائل فونز کے ذریعے عدالتی فاسٹ جسٹس سسٹم سے منسلک کر دیا جائے۔ پولیس اور دیگر گواہان بائیو میٹرک ویری فکیشن کے ذریعے اپنے اپنے دفاتر یا اپنے موبائل فون سے گواہی ریکارڈ کرائیں گے۔ ملزمان کو جیل سے ہر پیشی پر لانے لے جانے کے لیے کروڑوں روپے کا خرچہ بچاتے ہوئے انہیں جیلوں کے اندر ہی سے ویڈیو لنک اور بائیو میٹرک حاضری کے ذریعے ڈیجیٹل طریقے سے کمرہ عدالت میں موجود رکھا جائے گا۔ اس جدید نظام کی تنصیب کے بعد ججز اور کورٹ عملہ سالوں کا کام دنوں میں نمٹا سکے گا اور غیر ضروری تاخیری حربے ختم ہوں گے۔

اس تاریخ پر پولیس نہیں آئی۔ اس تاریخ پر ڈاکٹر نہیں آیا۔ اس تاریخ پر گواہ نہیں آیا۔ اس تاریخ پر چونکہ ججز کے پاس کیسز زیادہ تھے اس لیے اگلی تاریخ مل گئی۔ اس سے چھٹکارے کے لیے آرٹیفشل انٹیلیجنس سوفٹ ویئر استعمال کرکے کیس سے متعلق ڈیجیٹل سوالنامے تیار کرکے تمام فریقین کو ای میل۔ وٹس ایپ اور مخصوص عدالتی ایپ، سوفٹ ویئرکے ذریعے بھیجے جائیں گے جس پر متعلقہ وکلا، گواہان، پولیس، ڈاکٹرز و دیگر ادارے اپنے اپنے جوابات آڈیوز، ویڈیوز، سوالنامے کے جوابات اسی سوفٹ ویئر، ایپ کے ذریعے مقررہ وقت کے اندر واپس بھجوادیں گے۔ عدالتی سوفٹ ویئر ان سوالناموں کے جوابات کو سائنسی اور قانونی طریقوں سے جانچ کر جج صاحب کو سمری بناکر دے گا۔ ججز اس سمری کو مینوئل طریقے سے بھی جانچ پرکھ سکیں گے۔اعتراضات اور نقول کی کاپیاں آن لائن طریقے سے فریقین کو رئیل ٹائم فراہم ہوں گی۔ پھر تمام گواہان۔ وکلا کو ایک ہی دن بلا کر اعتراضات کی سماعت (ڈیجیٹل سماعت) کرکے حکم سنائیں گے۔میڈیا و دیگر لوگ ان قانونی دستاویزات کو آن لائن بغیر کسی معاوضے کے حاصل کر سکیں گے۔

نچلی عدالتوں سے اعلیٰ  عدالتوں میں اپیل کے لیے صرف آئی ڈی نمبر حاصل کرکے آن لائن طریقے سے اپیل لانچ ہوگی اور سارا ڈیٹا ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کی دسترس میں ہوگا۔ اس سے کاغذوں کے پلندوں، غیر ضروری نقول اور اس سے منسلک رشوت کا خاتمہ ہوگا۔
اس سسٹم میں ہر وکیل کے پاس عدالتی ایپ، سوفٹ ویئر ہوگا۔ گواہان کو کیس کے مطابق بائیو میٹرک آئی ڈی دی جائے گی۔ اس سے جعلی اور پیشہ ور گواہان سے جان چھوٹے گی۔وکیل اپنی آسانی کے ساتھ اپنے دلائل ویڈیو، ٹیکسٹ کی صورت میں گھر یا دفاتر سے بھیج سکیں گے۔

عدالتی نظام کو ڈیجیٹل کرنے کے لیے نادرا، پولیس کے پاس پہلے ہی ڈیٹا اور سسٹم موجود ہے۔ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ پنجاب بھر کے بہت سے محکموں کا نظام ڈیجیٹل کرنے میں لگا ہوا ہے۔ ان کی تکنیکی معاونت سے یہ کام چند ماہ میں کیا جا سکتا ہے جس سے عام آدمی کی زندگی میں آسانیاں پیدا کی جا سکتی ہیں۔ میں تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان اور چیف جسٹس آف پاکستان سے گزارش کرتا ہوں کہ  اس سلسلے میں آگے بڑھ کر ڈیجیٹل عدالتی نظام کی راہ میں حائل قانونی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے سفارشات مرتب کریں۔ ان سفارشات کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو بھیجا جائے۔میں پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے موجودہ سربراہ اورسابق سربراہ ڈاکٹر عمر سیف، پلان نائن کی ٹیم، وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری سے گزارش کرتاہوں کہ پاکستان کے نظام انصاف کو انصاف دلاتے ہوئے میدان عمل میں آئیں اور عام آدمی کو تاریخ پر تاریخ سے نجات دلائیں۔حصول انصاف کے لیے کچہری کے بنچوں پر سال ہا سال سے انتظار کرنے والے تاریخ پر تاریخ بھگتا بھگتا کر اب تنگ آ چکے ہیں۔ اس جدید دور میں بھی ہم بوسیدہ نظام کے ذریعے انصاف فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں یہ انصاف نہیں نا انصافی ہے۔

ڈیجیٹل عدالتی نظام سے سالانہ کروڑں روپے کی بچت ہوگی، بروقت انصاف سے جرائم کی شرح کم ہو گی۔ انصاف میں تاخیر کی وجہ سے ہونے والے جرائم ختم ہوں گے۔ رشوت ستانی میں کمی ہوگی،وکلا اور ججز کے وقت کی بچت ہوگی، سوفٹ ویئر انٹیلیجنس سسٹم کی وجہ سے فیصلوں میں خامیاں کم سے کم ہوں گی۔ جرائم کے چارٹ اور گراف کا بروقت ڈیٹا حاصل ہوگا جس سے انسداد جرائم کے ادارے بروقت پالیسیاں بنا سکیں گیاور ان جرائم کے تدارک کے لیے اقدامات کر سکیں گے۔ انسداد دہشت گردی کے ججز اور سٹاف کی شناخت مخفی رہے گی اور اس طرح ان کی جان کو خطرات کم سے کم ہوں گے۔مخصوص حالات میں ججز سماعت گھروں یا دیگر اضلاع سے بھی کر سکیں گے۔

وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب انصاف سستا تبھی ہوسکتا ہے جب عدالتی نظام ڈیجیٹل ہو، وزیراعظم صاحب انصاف تیز تبھی ہو سکتا ہے جب ہم جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے اسے تیز بنانے کا عہد کریں گے، ورنہ بڑھتے ہوئے جرائم، جھگڑوں کی فائلوں کے نیچے موجودہ پرانا، بوسیدہ عدالتی نظام دھڑام سے گر جائے گا اور نیچے سے آواز آئے گی سرکاربنام سرکار۔

قیصر ٹھیٹھیہ
قیصر ٹھیٹھیہ
Freelance Journalist,Columist,Travel Photographer Blogger, Author, Poet & Patriot Pakistani Anti #EconomicTerrorism Anti #StatusQuo

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *