فطری آنسو۔۔عنبر عابر

وہ ایک نیوز کاسٹر تھا اور اندر کے حالات بخوبی جانتا تھا۔بے شک وبا نے چند ملکوں کو بری طرح لپیٹ میں لے لیا تھا لیکن اس کے ملک میں یہ وبا اتنی خوفناک نہیں تھی، جتنا اسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا تھا۔یقیناً اموات ہوئی تھیں لیکن یہ معمول کی اموات تھیں اور انہوں نے کبھی ان اموات کو یوں اجاگر نہیں کیا تھا۔
“تم نے آج آنسو بہانے ہیں“
میڈیا چینل کے ڈائریکٹر نے اس سے کہا۔
“اموات بڑھ رہی ہیں۔ملک کی معیشت جام ہوچکی ہے اور عوام بھوک سے مر رہی ہے۔سمجھ رہے ہو میں کیا کہہ رہا ہوں؟“
“جی سر! میں آپ کی بات سمجھ گیا“ ایک نوکر پیشہ انسان کی طرح وہ بغیر چوں و چرا ں احکامات سننے کا عادی تھا۔
“مجھے یقین ہے تمہارے دو آنسو سے کوئی ایسا سیلاب نہیں آئے گا ،جو ہمارے ملک کی صحت کیلئے مضر ہو۔درست کہا میں نے؟“ ڈائریکٹر کے لہجے میں مزاح کا عنصر تھا۔وہی مزاح جو اکثر، کسی غلط کام سے بننے والے بوجھل ماحول کو ہلکا بنانے کیلئے کیا جاتا ہے۔
“جی سر! یقیناً نہیں آئے گا“ وہ بھی جواب میں مسکرا دیا کہ آداب سے اچھی طرح واقف تھا۔
“تمہیں آج کے جعلی لیکن فطری آنسو بہانے کا اضافی معاوضہ ملے گا۔۔سمجھ گئے میری بات؟ فطری آنسو؟“ ڈائریکٹر نے “فطری آنسو” پر زور دیا۔اس نے اثبات میں سر ہلایا۔وہ بخوبی جانتا تھا کہ دنیا میں اداکاروں کی ڈیمانڈ بڑھ گئی تھی۔
یہ کہہ کر ڈائریکٹر تو چلتا بنا لیکن وہ سوچوں میں غلطاں اپنی جگہ بیٹھا رہ گیا تھا۔آج تک اس نے فرضی آنسو نہیں بہائے تھے۔ وہ کیونکر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک سکتا تھا؟۔ تھوڑی دیر وہ سوچتا رہا پھر ایک آئیڈیا اس کے ذہن میں آگیا۔اگرچہ اس کا دل اس بے رحم آئیڈیے سے ہولنے لگا تھا لیکن بہت سی مجبوریوں کا سوال تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ خبریں نشر کر رہا تھا۔
“آج فلاں علاقے کو سیل کردیا گیا“
“آج کرونا کے اتنے مریض جان کی بازی ہار گئے“
آنسو بہانے کا وقت آچکا تھا۔وہ اس بے رحم آئیڈیا کے مطابق تصور میں اپنے بیٹے کی تصویر لے آیا۔اس کا بیٹا اس کی لاش سے لپٹ رہا تھا اور اپنی ماں سے پوچھ رہا تھا۔
“امی! ابو کیوں نہیں بول رہے؟“
اس نے اس سنگدلانہ آئیڈیے پر خوب غور و خوض کیا تھا۔وہ ایسا بھی کرسکتا تھا کہ تصور میں اپنے بیٹے کو کرونا کا شکار بناتا اور اس پر فطری آنسو بہاتا لیکن اس نے سوچا تھا کہ شاید تب اس کی آنکھوں میں آنسو نہ آئے۔کیونکہ اس صورت میں اس کا بیٹا خاموش اور پُرسکون لیٹا ہوگا اور اس کے بیٹے کا یہ سکون اس کی آنکھوں میں تلاطم برپا نہ کرپائے گا۔سو اُس نے اِس کے اُلٹ کیا۔وہ تصور میں خود پُرسکون لیٹ گیا اور اپنے بیٹے کو تڑپتا دیکھنے لگا۔ تصور میں اپنے بیٹے کی یہ بے بسی دیکھ کر اس کے آنسو خود کو بہنے سے روک نہ سکے۔
اس کے آنسو سیلاب لے آئے تھے۔نیوز دیکھنے والے ہر شخص کی آنکھیں نم ہوگئی تھیں جبکہ اپنے آفس میں اطمینان سے بیٹھا ڈائریکٹر ان فطری آنسوؤں کو داد دئے بغیر نہ رہ سکا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تھکا ماندہ گھر آیا۔اس کی بیوی اپنے بیٹے کے ساتھ صوفے پر خاموش بیٹھی ہوئی تھی۔
“حالات بہت خراب ہوگئے ہیں نا؟“ اس کی بیوی نے وحشت بھرے لہجے میں پوچھا۔
“لگ تو ایسے ہی رہا ہے“ اس نے بیزاری سے کاندھے اچکائے۔
اس کی بیوی نے قریب رکھا موبائل اٹھایا اور بولی۔”تمہیں ایک چیز دکھاتی ہوں“
“کیا؟“ وہ سیدھا ہوکر بیٹھ گیا۔
بیوی نے موبائل اس کے سامنے کیا۔موبائل کی سکرین پر ایک تصویر چمک رہی تھی۔تصویر دیکھ کر وہ بھونچکا رہ گیا۔یہ اس کی تصویر تھی۔یہ اس کے معصوم بیٹے کی تصویر تھی۔اس کا بیٹا ٹی وی سکرین پر نظر آنے والے اس کے جعلی آنسو پونچھ رہا تھا۔اس کا دل دھک سے رہ گیا۔
اس نے اپنے ملک کی عوام کو دھوکہ دینے کیلئے اپنے بیٹے کو استعمال کیا۔اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ خود اس کا بیٹا بھی اس دھوکے کی زد میں آجائیگا۔
اگلے دن جب ڈائریکٹر اسے فطری آنسو کا اضافی معاوضہ دینے لگا تو اس نے بڑی نرمی سے انکار کردیا تھا۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *