حماقتیں نہیں دانائیاں۔۔طارق اقبال ملک

نام اور چہرے یاد رکھنے میں ہم بہت ہونق واقع ہوئے ہیں۔ کسی سے جان پہچان رہی ہو اور دوبارہ ملاقات کچھ وقفے کے بعد ہو تو نام کبھی یاد نہ آیا،کبھی پہچاننے میں مکمل ناکام رہے۔اب کوئی کیفیت بھانپ کر پوچھ لے کہ پہچانا؟ تو جو حالت ہوئی وہ بیان کرنے سے قاصر ہیں۔

اس کا حل ڈھونڈ نکالا ہے، جو بھی ملے، تپاک سے ملتے ہیں, بھائی جناب کہتے ہوئے حال احوال اور مصروفیات پوچھ کر کوشش کرتے ہیں کیفیت ظاہر نہ ہو۔
کچھ اور بھی کلیے ایجاد کر رکھے ہیں جو ہماری ذہانت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

ایک جاننے والے رحمن بھائی دور سے دیکھ کر نام لے کر سلام کرتے اور تپاک سے ملتے،ادھر ہم کہ نام باوجود کوشش کے یاد نہ رہتا۔بہت سوچ بچار کے بعد حل نکالا، موصوف جب نظر آتے الحمدللہ سے پڑھنا شروع کرتے اور الرحمن الرحیم پر پہنچ کر باآواز بلند کہتے،کیا حال ہیں رحمن بھائی۔

وصال خان کا ذکر کرتے وقت موت کو یاد کر کے وصال تک پہنچتے، ایک محترمہ کہ بیگم جن کے نام کا حصہ تھا، کہ نام کے لیے نہ چاہتے ہوئے بھی ذہن میں بیگم کا خیال لانا پڑتا۔
کراچی کے علاقے میرہ ناکہ کا ذکر کرنے سے پہلےہمیشہ امیتابھ کا گانا “پگ گھنگھرو باندھ میرا ناچی” گنگناتے۔

ابھی کچھ دن پہلے محلے میں چائے کے ہوٹل پر دوست کے ساتھ بیٹھے تھے کہ ایک صاحب نے سلام کے بعد پُرجوش مصافحہ کیا،ہم نے بھی بھرپور احوال لیے اور چائے کی آفر کی۔ان کے جانے کے بعد دوست سے پوچھ لیا کہ بھائی کون تھے یہ صاحب؟ جواب ملا کہ پُرتپاک ملے وہ آپ سے ہیں ،ہم کیا جانیں۔۔۔۔دو دن تک ذہن پر وہ صاحب حاوی رہے کہ ان کو جانتے تو ہم ہیں لیکن یاد کیوں نہیں آ رہے کون ہیں۔

تیسرے دن بیگم صاحبہ نے تندور سے روٹیاں لینے بھیجا، تندور پر ان صاحب کو گرما گرم روٹیاں لگاتے دیکھ کر دو دن تک ذہنی ٹارچر کرنے پر انھیں دل ہی دل میں ڈھیر صلواتیں دے کر واپس گھر لوٹے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”حماقتیں نہیں دانائیاں۔۔طارق اقبال ملک

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *