• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • سخت فیصلوں کی ضرورت۔۔محمد ہارون الرشید ایڈووکیٹ

سخت فیصلوں کی ضرورت۔۔محمد ہارون الرشید ایڈووکیٹ

اِس وقت پوری دنیا کرونا کا شکار ہے۔  تقریباً  20 لاکھ سے زائد افراد پوری دنیا میں وائرس کا شکار ہو چکے ہیں اور اب تک ایک لاکھ 27 ہزار سے کچھ زائد اس وائرس کے ہاتھوں  موت کے  گھاٹ اُتر چکے ہیں۔ ہمارے ملک میں تقریباً چھ ہزار کے قریب افراد اس وائرس سے متاثر ہیں اور تاحال ایک سو سات افراد وفات پا چکے ہیں۔ اگر دنیا کے دیگر ممالک سے موازنہ کیا جائے تو پاکستان کی صورتحال خاصی حوصلہ افزا ہے ۔ امریکہ میں یومیہ ڈیڑھ سے دوہزار افراد موت کا شکار ہو رہے ہیں۔ اٹلی، سپین، فرانس اور برطانیہ میں روزانہ تقریباً چھ سو سے آٹھ سو افراد مر رہے ہیں۔ ایران اور کئی دوسرے ممالک میں یہ تعداد یومیہ ایک سے دو سو تک ہے، ایسے میں پاکستان کا انڈیکس انتہائی حوصلہ افزا ہے۔

اِس وائرس نے پوری دنیا کو لاک ڈاؤن پر مجبور کر دیا ہے کہ سماجی فاصلے کے علاوہ تاحال اس وائرس سے بچنے کی کوئی اور صورت سامنے نہیں آ سکی اور نہ ہی ابھی تک ماہرین اس کی ویکسین تیار کر سکے ہیں ۔ لاک ڈاؤن ہونے کی وجہ سے کاروبار بند پڑے ہیں اور دنیا کی بڑی اور مضبوط معیشتیں بھی   لڑکھڑا رہی ہیں تو ظاہر ہے  ہمارے جیسے غریب ممالک کی معیشتیں کیسے اس بوجھ کو سہار سکتی ہیں؟  تقریباً 20 مارچ سے پاکستان بھی لاک ڈاؤن میں ہے اور تین ہفتے کے لاک ڈاؤن کے بعد دو روز سے گرما گرم بحث جاری ہے کہ لاک ڈاؤن بڑھایا جائے یا نہیں اور مکمل لاک ڈاؤن ہو یا جزوی لاک ڈاؤن ہو؟

یہ درست ہے کہ ہماری معیشت مکمل لاک ڈاؤن برداشت نہیں کر سکتی لیکن  ہمارے وزیراعظم جو ایک رہنما سے زیادہ موٹیویشنل سپیکر محسوس ہوتے ہیں ، وہ ہمیں بار بار یہ لیکچر دیا کرتے ہیں کہ بحران لیڈرشپ کا اصل امتحان ہوتا ہے لیکن جب عمل کی باری آتی ہے تو ہمارے وزیراعظم بغلیں جھانکنے لگتے ہیں۔ وزیراعظم شروع دن سے لاک ڈاؤن کے مخالف ہیں، جس کا وہ ہر روز بلاناغہ اظہار کرتے ہیں لیکن اُن کی مخالفت کے باوجود ملک میں عملاً لاک ڈاؤن ہے جس کو کل قومی رابطہ کمیٹی نے دو ہفتے کے لیے بڑھانے کا اعلان کر دیا ہے لیکن میں ابھی تک سمجھنے سے قاصر ہوں کہ لاک ڈاؤن بڑھایا گیا ہے یا ختم کر دیا گیا ہے؟

میں کئی بار اس بات کا اظہار کیا کرتا  ہوں کہ ہمارے ملک میں  سیاسی اور مذہبی پولرائزیشن اتنی گہری ہے کہ ہم کسی بھی معاملے پر قوم میں اتفاقِ رائے پیدا نہیں کر سکتے، اِس مشکل وقت میں بھی ہمیں ایک بار پھر اتفاقِ رائے کے بحران کا سامنا ہے۔ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر لعن طعن میں مصروف ہیں اور مذہبی حلقے اِس فکر میں غلطاں ہیں کہ مسجد اور مدرسہ کیوں نہیں کھولا جا رہا؟ ہمارا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم کسی بھی معاملے کا تجزیہ کرتے ہوئے کسی ایک انتہا کا شکار ہو جاتے ہیں اور اعتدال کہیں دائیں بائیں پڑا منہ دیکھتا رہ جاتا ہے۔ اگلی سطروں میں مَیں اب تک کے لاک داؤن کا اور اگلے دو ہفتے کے لاک ڈاؤن کا  ایک غیر جذباتی تجزیہ کرنے کی کوشش  کر رہا ہوں، یہ کتنا معتدل تجزیہ ہو گا، اس کا فیصلہ پڑھنے والوں پر ہے۔

اب تک جو لاک ڈاؤن ہوا ہے ، اُس میں کھانے پینے سے متعلق اشیا کی چھوٹی بڑی دکانوں کے علاوہ  سب کاروبار بند رکھے گئے ہیں۔ سبزی اور فروٹ کی دکانوں کے علاوہ سبزی منڈیاں بھی اس میں شامل ہیں۔ دودھ دہی کی دکانوں کے علاوہ باقی تمام دکانوں کا وقت صبح آٹھ بجے سے لے کر شام پانچ بجے تک   رکھا گیا ہے۔ مجھے خود جب بھی مارکیٹ جانے کا اتفاق ہوا میں نے کہیں رش یا ہڑبونگ کا منظر نہیں دیکھا سوائے سبزی منڈی کے جہاں نہ تو رش میں کوئی فرق آیا ہے اور نہ وہاں کسی قسم کی احتیاطی تدبیر نظر آئی ہے۔ اِس لاک ڈاؤن کا اطلاق مسجدوں پر بھی ہوا ہے اور گزشتہ دو جمعے تو نمازِ جمعہ بھی مساجد میں ادا نہیں کی گئی اور سندھ کی مساجد میں غالباً چار جمعوں سے یہ عمل جاری ہے۔ اِس صورتحال میں ظاہر ہے سب سے زیادہ متاثر وہ غریب ہوا ہے جو دیہاڑی پر کام کرتا تھا اور کاروبار بند ہونے کی وجہ سے  اُس کے لیے گھر والوں کے لیے روٹی کا سامان مہیا کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ دیہاڑی دار طبقے کے علاوہ گھروں میں کام کرنے والے ملازمین بھی اسی مشکل سے دوچار ہیں البتہ اُن کی مشکل اس وجہ سے بھی کچھ کم ہے کہ ہمارا معاشرہ بے حسی کی اُس گراوٹ کا شکار ابھی نہیں ہوا اور اس میں خاصا خیر ابھی باقی ہے جس کی وجہ سے ملازمین کو چھٹی دینے کے باوجود جن گھروں میں وہ کام کرتے تھے، وہ خاندان اُن کے راشن پانی کا بندوبست کر رہے ہیں۔ بے شمار فلاحی تنظیمیں بھی میدان میں ہیں اور غربا میں راشن کی تقسیم کا عمل بھی جاری ہے اور حکومت سےبھی جہاں اور جتنا بن پڑ رہا ہے، ہاتھ پاؤں مار رہی ہے۔ سرکاری ملازمین کو اِس لیے زیادہ فکر نہیں ہے کہ ظاہر ہے اُن کی تنخواہیں سرکار برابر پہنچا رہی ہے اور اسی طرح بڑے کاروباری افراد بھی اُس مشکل کا سامنا نہیں  کر رہے جس کا سامنا چھوٹے تاجر یا دیہاڑی دار کر رہے ہیں۔

چونکہ یہ لاک ڈاؤن 14 اپریل تک تھا لہٰذا تین چار روز سے ہی میڈیا پر بحث جاری تھی کہ 14 کے بعد لاک ڈاؤن بڑھایا جائے گا یا کم کیا جائے گا۔ وزیراعظم چونکہ شروع دن سے ہی  لاک ڈاؤن کے حق میں نہیں ہیں اور وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ اُنہیں غریبوں کا بہت خیال ہے، جو کہ یقیناً ہو گا اور صوبے خاص طور پر سندھ اور کسی حد تک پنجاب بھی اِس لاک ڈاؤن کو   بڑھانا چاہتے تھے لہٰذا اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے رابطہ کمیٹی کا اجلاس دو دن جاری رہا اور پھر لاک ڈاؤن اس طرح بڑھایا گیا کہ کپڑوں، جوتوں اور الیکٹرانکس کی دکانوں کے علاوہ  تقریباً تمام ہی کاروبار کو کھولنے کا اعلان کر دیا گیا۔ لاک ڈاؤن بڑھایا جائے یا لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، ظاہر ہے کہ یہ دونوں ہی فیصلے مشکل ہیں لیکن لیڈرشپ کا کام یہی ہے کہ وہ مشکل فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو، خاص طور پر ہم اپنے موٹیویشنل سپیکر وزیرِاعظم سے تو ہر روز یہی سنتے ہیں کہ لیڈر شپ کا کام ہی یہ ہے کہ وہ مشکل وقت میں بروئے کار آئے۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہم اِس وائرس کا اُس طرح شکار نہیں ہیں جس طرح باقی دنیا لاشوں پر لاشیں اٹھا رہی ہے اور اللہ نہ کرے کہ ہم پر وہ وقت آئے لیکن احتیاط تو بہرحال ضروری ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ چاہے آہستہ ہی سہی لیکن یہ مرض ابھی پھیل رہا ہے۔

ایسی صورت میں دو طرح کے فیصلے کیے جا سکتے تھے یا تو لاک ڈاؤن بڑھا دیا جاتا یا حفاظتی تدابیر کو یقینی بنا کر لاک  ڈاؤن ختم کر کے قوم کو Herd Immunity کی طرف لے جایا جاتا جس کے نتائج ظاہر ہے خاصے خوفناک بھی ہو سکتے ہیں۔  پہلی صورت میں نیم کرفیو کی سی کیفیت نافذ کر کے لاک ڈاؤن یقینی بنایا جاتا کہ لوگوں کا گھروں سے نکلنا بالکل محدود کر دیا جاتا۔ اب تک کا لاک ڈاؤن اتنا مؤثر نہیں تھا جتنا ہونا چاہیے تھا اور وزیراعلیٰ پنجاب نے درست کہا کہ لاک داؤن کے نتائج اُس وقت تک سامنے نہیں آ سکتے جب تک عوام حکومت سے تعاون نہ کرے۔ اور عوام اُس وقت تک مکمل تعاون پر آمادہ نہیں ہو گی جب تک مرکز اور صوبوں کی قیادت اور حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف   کی قیادت ہم آہنگ نہیں ہو گی۔ لہٰذا اگر عوام تعاون نہیں کرتی تو ایک نیم کرفیو کی کیفیت لائے بغیر لوگوں کو گھروں تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ایسی صورت میں سب سے زیادہ مسئلہ یہ درپیش ہوتا کہ لوگوں تک، خاص طور پر اُن لوگوں تک جن کا ذریعہ معاش ہی ختم ہو گیا ہے،   راشن کیسے پہنچایا جائے۔ اس وقت تک الخدمت، اخوت، ایدھی، سیلانی، چھیپا اور درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں فلاحی تنظیمیں لوگوں تک راشن پہنچا رہی ہیں  لیکن یہ کام ایک غیر منظم طریقے سے ہو رہا ہے کہ جن تک راشن پہنچ رہا ہے اُن کا ڈیٹا شاید اُس طرح محفوظ نہ ہو رہا ہو جیسے ہونا چاہیے۔ الخدمت اور اخوت جیسی تنظیمیں تو ریکارڈ محفوظ رکھتی ہیں لیکن کئی جگہ پر ایسا بھی ہوا ہو گا کہ ایک ہی خاندان کو شاید کئی تنظیموں کی طرف سے راشن پہنچ گیا ہو اور کسی خاندان کو کہیں سے بھی امداد نہ پہنچی ہو۔ ایسی صورت میں حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ ان تنظیموں کے ساتھ مل بیٹھتی اور کرفیو یا نیم کرفیو کی صورت میں ہر تنظیم کے ذمے مخصوص علاقے  بانٹ دیتی جو پاک فوج کی نگرانی میں اُن علاقوں تک امداد پہنچاتے، اس طرح منظم طریقے سے  زیادہ سے زیادہ لوگوں تک امداد پہنچانا ممکن ہو جاتا۔ کرفیو یا نیم کرفیو والی آپشن تو وزیرِاعظم سننا بھی نہیں چاہتے لہٰذا اس کا تو امکان بھی نہیں تھا۔

دوسری صورت Herd Immunity کی ہے جس میں احتیاطی تدابیر کے ساتھ سب کاروبارِ زندگی  کھول دیا جائے۔ اِس وقت وائرس کا شکار جو ڈیڑھ دو ہزار افراد صحتیاب ہو چکے ہیں اُن کے جسم میں آئندہ کے لیے اس وائرس سے مدافعت پیدا ہو چکی ہے، لہٰذا جتنے زیادہ لوگ متاثر ہوتے اتنے ہی زیادہ صحتیاب بھی ہوتے اور اپنے اندر آئندہ کے لیے اس جرثومے سے لڑنے کی استعداد پیدا کر لیتے لیکن ظاہر ہے اس میں رسک بہت زیادہ ہوتا کہ بےشمار لوگوں کے جان سے جانے کا خطرہ ہوتا۔ یہ احساس ہی جان لیوا ہے کہ ہر روز ہزار دوہزار میتیں اٹھائی جائیں , ایسی کسی بھی صورت سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔

لیکن اِس اقت جو فیصلہ ہوا ہے وہ کم از کم میری سمجھ سے تو باہر ہے اور اِس نے ملک کو ایک نئی مشکل میں بھی ڈال دیا ہے۔ جہاں بہت سے کاروبار کھولنے کی اجازت دی گئی ہے وہاں مذہبی طبقے نے بھی اعلان کر دیا ہے کہ مساجد مزید بند نہیں رہیں گی۔ تاجر تنظیمیں بھی سیخ پا ہیں کہ آدھا تیتر آدھا بٹیر قسم کا فیصلہ قبول نہیں   اور ایک دو روز میں کاروبار کھول دیے جائیں گے۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا کہ ہم تجزیہ یا تبصرہ کرتے وقت اعتدال کو چھوڑ دیتے ہیں، کل سے میں یہی دیکھ رہا ہوں کہ  علماء کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ کاروباری طبقے کے بیانات پر کسی نے کوئی طنز اور کوئی تنقید نہیں کی یا کی بھی تو بس منمناتے ہوئے کہ بازار تو ہماری پسندیدہ جگہیں ہیں۔ میں نے علماء کی تجاویز دیکھی ہیں، اور علماء میں مفتی منیب الرحمان اور مفتی تقی عثمانی جیسے جید علماء نے یہ تجاویز دی ہیں  کہ احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے مساجد کو کھول دیا جائے۔ تجاویز انتہائی صائب ہیں کہ مساجد سے قالین اٹھا دیے جائیں، ہر نماز سے قبل مساجد میں جراثیم کُش سپرے کیا جائے، وضو خانے بند رہیں، جو نماز کے لیے آنا چاہے وہ ماسک اور دستانے پہن کے آئے، مساجد کے دروازوں پر سینیٹائزر کی دستیابی یقینی بنائی جائے، نمازی اپنے جائے نماز ہمراہ لائیں اور واپسی پر ساتھ ہی لے جائیں، ہر صف کے بعد ایک صف کو خالی چھوڑا جائے اور نماز کے دوران مناسب فاصلے سے کھڑا ہوا جائے۔  اِن احتیاطی تدابیر کے ساتھ مساجد کو بھی کھول دیا جائے تو کیا حرج ہے۔یہ تجاویز انتہائی مناسب ہیں البتہ علماء فیصلہ سنانے کی بجائے تجاویز کی صورت میں بات کرتے تو زیادہ اچھا ہوتا اور ریاست کے اندر ریاست بنانے کا بیانیہ تقویت نہ پکڑتا۔ ویسے بھی یہ اعلان کرنے والے مختلف مکاتب فکر کے نمائندہ علماء بہرحال روایتی دینی سوچ کے حامل افراد ہیں  جو شاید وبا کی سنگینی کا ادراک بھی نہیں کرنا چاہتے۔ وہ علماء جنہوں نے اپنی سوچ کو روایت سے کسی حد تک الگ کیا ہے وہ تو مسلسل کہہ رہے ہیں کہ  گھروں میں عبادت کی جائے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے بھی جہاں وبا ہو وہاں جانے سے منع فرمایا ہے۔ علماء کا موقف ہے کہ اللہ سے توبہ واستغفار کیا جائے اور ظاہر ہے کہ بالکل درست مؤقف ہے لیکن اللہ صرف مسجد میں ہی تو نہیں سنتا، اللہ تو ہر جگہ موجود ہے اور وہ مسجد یا معبد میں تو رہائش نہیں رکھتا۔  مانسہرہ کے ایک عالمِ دین مسجد میں نماز پڑھانے کی وجہ سے اس وائرس کا شکار ہو کے اللہ کو پیارے ہوگئے اور جاتے جاتے بھی انہوں نے مساجد کو کھولنے کی اپیل کی۔ امریکہ میں ایک چرچ کے پادری نے کہا کہ وائرس نہیں بلکہ خدا بڑا ہے لہٰذا چرچ میں عبادت کے لیے آتے رہو، وہ پادری بھی وائرس سے جان گنوا بیٹھا۔ اللہ ہی بڑا ہے اور قادرِ مطلق بھی ہے لیکن مساجد کھولنے سے وائرس کا شکار کوئی آدمی باقی لوگوں کو بھی وائرس منتقل کر آیا تو اس کا ذمہ دار کون ہو گا؟ معروف مذہبی سکالر جناب طفیل ہاشمی نے لکھا کہ  اگر صرف ایمان، توکل اور تقویٰ کی طاقت سے وبا سے بچا جا سکتا تو ابوعبیدہ بن الجراح امین الامۃ اور معاذ بن جبل سمیت پچیس ہزار صحابہ کرام و تابعین میں سے کسی کو کوئی گزند نہ پہنچتی۔ بخدا ساری دنیا کے اولیاء کرام کامجموعی ایمان، تقویٰ  اور توکل اکیلے ابو عبیدہ اور معاذ کے ایمان، تقویٰ  اور توکل کے پاسنگ بھی نہیں ہے لیکن بچ وہی سکے جنہوں نے عمرو بن العاص کے مشورے پر عمل کر کے سوشل ڈسٹنسنگ کو موثر بنانے کے لیے دور دور کی پہاڑیوں پر خیمے گاڑ لیے۔ عمرو بن العاص  نے کہا تھا کہ وبا آگ کی طرح ہے اور انسان اس کا ایندھن۔ایک انسان دوسرے سے اتنے فاصلے پر چلا جائے کہ وبا کی آگ ایک سے دوسرے تک نہ پہنچ سکے۔  لیکن میں مساجد کو کھولنے کی حمایت اُس صورت میں کر رہا ہوں کہ جب سبزی منڈیوں کے رش آپ کو وائرس پھیلاتے نظر نہیں آ رہے، احساس پروگرام سے استفادہ کرتے بے ہنگم ہجوم آپ کو وائرس پھیلانے کے ذمہ دار محسوس نہیں ہو رہے( ان بےہنگم ہجوموں پر دو ایک روز میں ہی البتہ قابو پا لیا گیا ہے) اور لوگوں کو آپ گھروں میں رہنے کی تلقین کر رہے ہیں اور ساتھ ہی باقی کاروبار آپ احتیاطی تدابیر کے ساتھ کھولنے جا رہے ہیں تو پھر مسجد کو بھی احتیاطی تدابیر کے ساتھ کھول دیجیے۔ ویسے بھی لوگ جب درزی اور نائی کے پاس جائیں گے تو وہاں کپڑوں کا ناپ دیتے وقت اور بال کٹواتے وقت کون سا سماجی فاصلہ آپ برقرار رکھ پائیں گے اور جب آپ باقی کاروبار کھول رہے ہیں اور ساتھ وزیراعظم یہ ارشاد بھی فرما رہے ہیں کہ وائرس کسی وقت بھی بے قابو ہوسکتا ہے تو خالی مسجد کو بند رکھنے اور صرف علماء پر طعنہ زنی کا کوئی جواز نہیں ہے اور اگر اس وائرس پر قابو پانا ہے ، اس کے پھیلاؤ کو روکنا ہے تو پھر وزیرِاعظم کو چاہیے کہ پوری قوم کو ساتھ لے کر، حزبِ اختلاف کو ساتھ لے کر، سندھ حکومت پر لعن طعن کو بند کر کے اور فلاحی تنظیموں کے وسیع نیٹ ورک کو منظم طریقے سے بروئے کار لا کر سخت فیصلے کریں۔ جیسےجناب نے اپنے منتخب نمائندوں کو ہمیشہ کے لیے اپنے حلقے قابو کرنے کا بےوقت مشورہ دیا ہے، میرا وزیرِاعظم کو بروقت مشورہ ہے کہ آپ بھی ہمیشہ کے لیے تاریخ میں ایک رہنما کے طور پر نام لکھوا سکتے ہیں اگر اِس وقت اپنی ذات اور پارٹی کی سطح سے اوپراُٹھ جائیں۔

محمد ہارون الرشید ایڈووکیٹ
محمد ہارون الرشید ایڈووکیٹ
میں جو محسوس کرتا ہوں، وہی تحریر کرتا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *