حج سے پہلے حج۔۔۔قیصر ٹھیٹھیہ

اسے بڑی بے چینی سے انتظار تھا وہ ہر تیسرے دن صبح صبح میرے دروازے پر دستک دیتا اور پوچھتا ”پتر حج کھل گئی اے” میں اسے بتاتا کہ چاچا یوسف ابھی تک کوئی پالیسی نہیں آئی جب حکومت کوئی اعلان کرے گی تو آپ کو بتا دوں گا۔ وہ مجھے کہتے پترلازمی بتانا ایسا نہ ہو میں رہ ہی جاؤں اور اگر اس بار رہ گیا تو پھر میں رہ ہی جاؤں گا۔

چاچا یوسف پیشے کے اعتبار سے درزی ہیں اور 65 سال کی عمر میں ہیں۔ 5 سال قبل انکی بیوی کا انتقال ہوا۔ ان کی کوئی اولاد نہیں اور گھر کے سارے کام چاچا یوسف خود کرتے ہیں،گھر کے اندر ہی ایک کمرے میں بھی سلائی کرتے ہیں۔وہ آنے والے گاہکوں کو پانی پلاتے ہوئے درجن بھر دعائیں دیتے ہوئے رخصت کرتے ہیں۔ فوتگی والے گھر کفن بنانے کے لیے اپنی سلائی مشین کو سائیکل پر لاد کر پہنچ جاتے ہیں ،چاچا یوسف نے بیوی کی وفات کے بعد پانچ سال قبل حج کی تیاری شروع کی، اس کے بعد وہ اپنے ہر گاہک سے کہتے میرے لیے دعا کرو کہ میں حج پر چلا جاؤں۔

ایک دن مخصوص دستک ہوئی تو مجھے پتہ چل گیا کہ چاچا یوسف دروازے پر آیا ہے میں نے دروازہ کھولا تو ایک ہی سانس میں درجن بھر دعائیں دینے کے بعد چاچا یوسف نے رازدارانہ لہجے میں پوچھا ”پتر اے مقبول حج کونسی ہوتی ہے”

میں خاموش رہا تو بولا پتر میری درخواست اسی مقبول حج میں جمع کرانی ہے ،پیسے کی پرواہ نہ کر ،تیری چاچی کے زیور بھی تو پڑے ہیں نا۔ میں نے کہا چاچا یوسف مقبول حج کے لیے زیادہ پیسوں کی نہیں زیادہ خلوص کی ضرورت ہوتی ہے۔ چاچا یوسف بولا اچھا اچھا پتر سمجھ آ گئی ہے۔ بھلا خلوص میں بھی ملاوٹ ہو سکتی ہے۔ خلوص تو آئینہ ہے جو اپنا چہرہ دکھاتا ہے۔ بھلا دھندلا آئینہ صاف چہرہ دکھا سکتا ہے۔ پتر خلوص تو میرا پہلے ہی خالص تھا بس اب اپنے خلوص کو وضو کرواتا رہوں گا۔ میں نے کہا چاچا خلوص کو وضو؟ وہ بولے پتر خلوص کو پاک رکھنا ضروری ہے، تاکہ اس میں تکبر نہ آئے۔میں اس بوڑھے درزی کی بات کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ بولا حج میری خواہش، میرا خواب ہے اس کے لیے میں نے ایک ایک پائی اکٹھی کی اور ایک ایک پل انتظار کیا، پتر میں رات کو بھی گڑ گڑا کر دعائیں مانگتا ہوں کہ رب تعالی مجھے اپنے گھر بلا لے، مجھے حضور اکرم ﷺکے روضہ اقدس پر حاضری کا شرف بخش دے۔

میں نے کہا چاچاجی آپ فکر نہ کریں پاسپورٹ آپ کا بن گیا ہے، کاغذات مکمل ہیں جیسے ہی درخواستیں وصول ہوں گی میں آپ کو بینک لے جاوں گا اور میں نے بینک منیجر سے بات کر لی ہے۔ میری بات سن کر چاچا بہت خوش ہوا اور خوشی سے اس کے آنسو چھلک پڑے۔

ایک ہفتہ قبل شام کے وقت دستک ہوئی تو چھوٹا بیٹے نے بتایا کہ دادا یوسف درزی آیا ہے۔ میں حیران سا باہر نکلا اور بیٹھک کا دروازہ کھولا۔
میں نے کہا چاچا یوسف خیریت ہے آج تو اس وقت آپ آئے ہیں۔چاچا یوسف بولے پتر مبارک ہو میری درخواست جمع ہو گئی ہے۔ میں نے کہا چاچا ابھی تو حج درخواستیں شروع بھی نہیں ہوئی ہیں۔ کرونا کی وجہ سے ابھی پتہ بھی نہیں کہ اس سال درخواستیں جمع بھی ہوں گی کہ نہیں،
چاچا کسی فراڈیے کے فراڈ میں تو نہیں آ گئے۔
چاچا یوسف مسکرا کر بولے نہیں ”پتر میری درخواست تو مقبول حج کے لیے قبول ہوئی ہے”

میں مزید پریشان اور حیران ہو کر بولا چاچا تم کسی ٹھگ کے ہتھے چڑھ گئے ہو جس نے آپکی جمع پونجی ہتھیا لی ہے۔ چاچا یوسف نے شاید زندگی کا پہلا قہقہہ لگایا۔ تھوڑی دیر خاموش ہو گیا۔ پھر روتے ہوئے بولا “بھولاپترساری دنیا کا حج بند ہے لیکن یوسف درزی کا حج ہو بھی گیا ہے اور قبول بھی ہوگیا ہے” میں نے انہیں غور سے دیکھا تو ان کا چہرہ دمک رہا تھا وہ بولے ”پتر میں نے جو چھ لاکھ روپے محنت مزدوری کرکے بنائے تھے کہ حج کروں گا۔ وہ سارے کے سارے پیسے میں نے غریبوں، دیہاڑی داروں میں بانٹ دیے ہیں, تیری چاچی کا سارا زیور بھی زرینہ اور فاطمہ کی بیٹیوں میں بانٹ دیا ہے”میں نے کہا چاچا یوسف۔۔۔لیکن۔۔۔۔
چاچا یوسف نے میری بات کاٹتے ہوئے کہا کہ پتر جب ”خلوص” امتحان میں آ جائے تو وہاں ” لیکن ” نہیں ہوتی وہاں ہاں یا ناں ہوتی ہے.میں اپنے خلوص کا وضو برقرار رکھنا چاہتا تھا پتر۔ پتر میں نے ہاں کر دی۔

چاچا یوسف کے آنسو نکل آئے اور وہ روہانسی آواز میں بول رہے تھے پتر اس آفت میں جسمانی حج بند ہے روحانی نہیں۔ آج بھی لوگ طواف میں ہیں۔ بس بات سمجھنے کی ہے پترجی۔ اللہ پاک کے پاس ہی تو خلوص کا اصل تھرما میٹر ہے۔ پتر جی میں حاجی کہلوانے کے لیے حج پر نہیں جانا چاہتا تھا میں تو اس رب العزت کی خوشنودی چاہتا تھا، پتر کل رات مجھے پیغام آ گیا ہے کہ یوسف اس سال حج سے پہلے ہی آپ کو مبارک ہو، پتر حج سے پہلے حج کا قبول ہوجانا سنا بھی نہیں تھا،سوچا بھی نہیں تھا، بس یہ اس مالک کا خاص کرم ہے پتر۔چاچا یوسف کی آنکھوں سے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے لیکن یہ آنسو قبولیت کے آنسو تھے، یہ خلوص کے آنسو تھے۔

قیصر ٹھیٹھیہ
قیصر ٹھیٹھیہ
Freelance Journalist,Columist,Travel Photographer Blogger, Author, Poet & Patriot Pakistani Anti #EconomicTerrorism Anti #StatusQuo

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *