• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کورونا وائرس کا علاج ۔ فی الوقت حقیقت ہے یا افسانہ؟۔ ۔غیور شاہ ترمذی

کورونا وائرس کا علاج ۔ فی الوقت حقیقت ہے یا افسانہ؟۔ ۔غیور شاہ ترمذی

اگر آپ یہ کالم اس نیت سے پڑھ رہے ہیں کہ اسے پڑھ کر کسی طلسم یا کسی پُرسرار روحانی طاقت کی شف شف سے کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے علاج کے لئے کوئی نسخہ کیمیاء بیان کیا جائے گا یا کسی بڑے سائنسی ادارے کی ریسرچ کی روشنی میں اس کے علاج کے بارے بتایا جائے گا، تو مجھے معذرت کرنی چاہیے کہ اس کالم میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ابھی تک دنیا میں کورونا وائرس کے تدارک کے لئے نہ تو کوئی ویکسین ہے اور نہ ہی کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے علاج کے لئے کوئی دوا بن سکی ہے۔ جی یہ درست ہے کہ سپر طاقتوں اور ترقی یافتہ ممالک کی کئی کمپنیوں نے اس ضمن میں بڑے بڑے دعوے ضرور کیے ہیں لیکن ان دعوؤں کی کسی بھی سنجیدہ سطح پر کوئی پرکھ نہیں ہو سکی۔ ہم پاکستانی بھی کسی سے پیچھے رہنے والے نہیں ہیں۔ اس لئے ہماری ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی کراچی نے بیان داغا تھا کہ انہوں نے امیونو گلابلن یا آئی جی ایم ( Immunoglobulins ) کے ذریعہ کورونا کا علاج دریافت کرلیا ہے اور پورے ملک نے تالیاں بجانا شروع کر دی تھیں۔ نیوز نے ہیڈ لائنز چلائیں تو سوشل میڈیا دانشوروں نے بھی دھڑا دھڑ اسے شیئر کرنا شروع کر دیا۔ حالانکہ حقیقت صرف یہ ہے کہ ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی کراچی کو صرف گوگل سے پتہ چلا ہے کہ ایک صحت یاب مریض کے خون سے اینٹی باڈیز لے کر دوسرے مریض کا علاج ممکن ہے۔ یہ طریقہ پرانا بھی ہے اور سوائے بون میرو ٹرانسپلانٹ کے اتنا زیادہ قابل عمل بھی نہیں ہے۔ اس سارے مشکل کام کو سمجھنے کے لئے ہم شروع سے اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ہماری وسیع و عریض کائنات میں جتنی بھی زندہ مخلوقات ہیں ان سب میں ایک چیز مشترکہ ہے اور وہ ہے اپنی بقا کی جنگ۔ تما م مخلوقات اپنی بقاء کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ کھربوں اقسام کی  زندہ مخلوقات ہیں۔ ایک قسم کی مخلوق اپنی بقا کے لئے جہاں تک ممکن ہو باقی مخلوقات کو کھا کر یا باقی مخلوقات کا کھانا بن کر اپنی بقاء کی جنگ لڑتی رہتی ہیں۔انسان اپنی بقا کے لئے ہزاروں اقسام کے جاندار کھا جاتا ہے۔ اسی طرح وائرس بھی اپنی بقاء چاہتے ہیں۔ اُن کی بقا اس میں ہے کہ یہ دوسرے جاندار کے اندر داخل ہوکر اپنی افزائش نسل جاری رکھتے ہیں۔ یوں تو وائرس گھومتے پھرتے انسان کے جسم میں بھی داخل ہوجاتے ہیں مگر خون رکھنے والی تمام مخلوقات میں ایک مسئلہ ہوتا ہے کہ ان کے پورے جسم میں سیلز اور پروٹینز کا ایک پیچیدہ جال پھیلا ہوا ہوتا ہے جس کو امیون سسٹم (قوت مدافعت کا نظام) کہتے ہیں۔ جب بھی کوئی جراثیم پہلی دفعہ انسانی جسم پر حملہ آور ہوتا ہے تو اس کا قوت مدافعت کا نظام حرکت میں آتا ہے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک اینٹی باڈی بنتی ہے جسے امیونو گلابلن یا آئی جی ایم کہا جاتا ہے۔اینٹی باڈی خون کے اندر بننے والا ایسا مواد یا پروٹین ہے جو جراثیم کو تلف کرتا ہے۔ یہ امیونوگلوبلن کچھ ہفتے تک جسم میں رہتی ہے اور اس کے بعد بکھر جاتی ہے۔ دوسری مرتبہ جسم کو اسی جراثیم کے حملے کا سامنا ہوتا ہے تو اس مرتبہ زیادہ تیزی سے اس میں ایک اینٹی باڈی بنتی ہے جسے آئی جی جی کہا جاتا ہے۔

مختلف وائرس کے لئے ہمارا امیون سسٹم مختلف قسم کی اینٹی باڈیز بناتا ہے مگر کبھی کبھار ایسا ہوجاتا ہے کہ ہمارا امیون سسٹم اِن انجان وائرس کو پہچان نہیں پاتا اور انہیں مارنے کے لئے اینٹی باڈیز بنانے میں وقت لگا دیتا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں جیسے کہ امیون سسٹم کا کمزور ہونا یا حملہ آور وائرس کا تیز طراز ہوکر ایمیون سسٹم کے سامنے اپنی شناخت چھپانا وغیرہ ۔ ایمیون سسٹم کا وقت لینا یا وائرس کی پہچان کرکے اینٹی باڈیز کے ذریعہ ان کاؤنٹر کرنے میں جتنا بھی وقت صرف ہوتا ہے وہ ہمارے لئے نقصان دہ ہی ہوتا ہے۔ اکثر یہ وقت اتنا زیادہ ہوجاتا ہے کہ تب تک انسان مرجاتا ہے۔ یوں ہم لیبارٹریز میں وائرس کے لئے اینٹی باڈیز بناکر ان کو ماردیتے ہیں۔ اگرچہ پرانے زمانے میں یہ ممکن نہیں تھا۔ سانپ کے زہر کے خلاف انسان کا قوت مدافعت پریشان کن حد تک سست ہے جب کہ گھوڑے کا امیون سسٹم سب سے تیز ہے۔ تب انسان یوں کرتا تھا کہ جس کو سانپ نے کاٹا ہو۔ اُس سانپ کا زہر معمولی مقدار میں گھوڑے میں داخل کیا جاتا۔ گھوڑے کا امیون سسٹم فٹافٹ انیٹی باڈی بنالیتا اور ہم گھوڑے کے خون سے انٹی باڈیز لے کر انسان میں انجیکٹ کرتے، اور یوں انسان بچ جاتا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ ہم ایسا کورونا وائرس کے لئے کیوں نہیں کر رہے؟۔ تو جواب عرض ہے کہ کورونا وائرس انتہائی سمجھدار ہے۔ یہ انسان کے علاوہ کسی دوسرے جاندار پر اثرانداز نہیں ہوتا۔ سنا ہے کہ کورونا وائرس ہماری طرح چمکادڑ کو بھی انفیکٹ کرتا ہے مگر چمگادڑ سے اینٹی باڈیز لینے کا رسک بہت زیادہ ہے کیونکہ کورونا وائرس کا اینٹی باڈی تو شاید وہاں سے مل جائے مگر اس کے ساتھ ساتھ چمگادڑ میں موجود کھربوں قسم کے مزید وائرس سے ہم کیسے بچیں گے؟۔

اب ایک اور اہم بات کی طرف دھیان دے لیتے ہیں کہ جو انسان بھی کورونا وائرس سے متاثر ہو کر بچ جاتا ہے تو یہ گارنٹی ہوتی ہے کہ اُس کے امیون سسٹم نے کورونا وائرس کے خلاف امیونو گلابلن یعنی اینٹی باڈیز بنائی ہوئی ہوتی ہیں۔ جیسا کہ کراچی کے یحییٰ جعفری جو کورونا سے متاثر ہونے کے بعد پہلے مریض تھے جو صحت یاب ہوئے۔ انہوں نے صحت یاب ہونے کے بعد اپنا پلازمہ بھی کراچی میں عطیہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لئے اُن کے جسم سے خون لے کر اُس میں سے سفید سیلز اور پلازمہ کو الگ کیا گیا۔ اب اس پلازمہ کو کسی کورونا وائرس سے متاثرہ مریض کو لگایا جائے تو وہ بھی اینٹی باڈیز بنا کر صحت یاب ہو سکتا ہے۔ اس سلسلہ کی نشاندہی نامور طبیب ڈاکٹر طاہر شمسی پہلے ہی کر چکے ہیں۔ یہ وہی ڈاکٹر طاہر شمسی ہیں جنہیں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی لاہور جیل میں شدید بیماری اور سروسز ہسپتال منتقلی کے وقت ماہرانہ رائے دینے کے لئے بلایا گیا تھا۔ ڈاکٹر طاہر شمسی کا کہنا تھا کہ ’’کورونا وائرس کی بات کریں تو اس میں 85 فیصد سے زیادہ مریض معمولی نزلہ زکام کے بعد ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اینٹی باڈی آئی جی ایم وائرس کا مقابلہ کر کے اسے ختم کر دیتی ہے کیونکہ وہ اس جراثیم کو پہچان چکی ہوتی ہے اور وہ جلدی اثر کرتی ہے‘‘۔ کووِڈ۔19 یعنی کورونا وائرس کے صحت یاب ہونے والے ایسے ہی مریض کے خون سے اسے نکال کر ایسے مریض کے خون میں داخل کیا جاتا ہے جو شدید علیل ہو، اسے نمونیا ہو یا پھر اسے متعدد اندرونی اعضاء کے فیل ہو جانے کا خدشہ ہو۔آسان لفظوں میں یہ کہہ لیں کہ یہ اینٹی باڈی اس کے جسم میں جا کر ایسے ہی جراثیم کو ختم کرتی ہے جیسے اس نے صحت یاب ہو جانے والے مریض کے جسم میں کیا تھا۔ یہ طریقہ کار نیا نہیں ہے بلکہ اس وقت سے مختلف قسم کے ایسے وبائی امراض کے علاج کے لئے استعمال ہو رہا ہے جب ویکسین وغیرہ نہیں بنی تھی۔کورونا وائرس بھی انسان کے علم میں نہیں تھا اس لئے اس کی کوئی ویکسین تاحال تیار نہیں ہوئی اور ہونے میں کافی وقت بھی لگے گا۔ کورونا وائرس کی مطابقت سے امریکن ادارہ ایف ڈی اے اس کو کووِڈ۔19 کونویلیسینٹ پلازمہ کا نام دیتا ہے۔

ڈاکٹر طاہر شمسی کے مطابق ایسی صورتحال میں کووِڈ۔19 کونویلیسینٹ پلازمہ کی مدد سے انتہائی علیل مریضوں کا علاج ہی موزوں طریقہ ہے۔ ایسے مریضوں کی  تعداد بھی لگ بھگ دس فیصد کے قریب ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ صحت یاب ہونے والے مریضوں کے خون سے پلازمہ کو الگ کرنے کا عمل مقامی طور پر پاکستان میں کیا جا سکتا ہے۔ ‘ایک دو مریضوں میں تو ہم فوراً کر سکتے ہیں تاہم زیادہ مقدار درکار ہو تو دو ہفتے کے  اندر اس کے نتظامات مکمل کیے جا سکتے ہیں۔ فی الحال پاکستان میں کورونا وائرس سے صحت یاب لوگوں کی تعداد انتہائی کم ہے اور ناکافی ہے۔ جب ان کی تعداد میں اضافہ ہوجائے تو لازماً ان سب سے خون لیا جائے گا تاکہ باقی انسانوں کا علاج ہوسکے۔ فی الحال یہ طے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کووِڈ۔19 کونویلیسینٹ پلازمہ مکمل طور پر مصدقہ طریقے سے صحت یاب ہونے والے اس مریض سے حاصل کیا جائے جو خون عطیہ کرنے کا اہل ہو ۔ نیز یہ انہی مریضوں کو لگایا جائے جن میں کووِڈ۔19 کی علامات انتہائی شدید ہوں یا ان کی زندگی کو فوری خطرہ لاحق ہو۔ یہ بھی یاد رہے کہ پلازمہ کے استعمال سے پہلے مریض کی رضامندی لینا ضروری ہو گا اور اس کے لئے لواحقین کو ویسے ہی فارم پر دستخط کر کے دینے پڑتے ہیں جیسا کہ کسی سرجری سے پہلے لواحقین دستخط کیا کرتے ہیں۔

کورونا وائرس پر سب سے پہلے قابو پانے والے چین نے ایک کام کیا کہ جو لوگ کوروناوائرس سے صحتیاب ہوئے، اُن کے خون سے پلازمہ نکال کر دوسرے مریضوں کے خون میں انجیکٹ کیا تو خاطر خواہ رزلٹ ملے۔ چین میں ڈاکٹرز نے نے 2 ایم ایل پلازمہ لگایا تو 2 بار لگانا پڑا اور جسے 6 ایم ایل لگایا تو ایک ہی ڈوز میں مریض صحت یاب ہو گیا۔ ایسے لوگ جن میں کورونا پازیٹیو ہو اور علامات طاہر نہ ہوئی ہوں ( جیسے سندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی، اب صحتیاب ہوئے ہیں) اُن کے خون سے پلازمہ نکال کر کم از کم 2 لوگوں کو صحت یاب کیا جاسکتا ہے۔ کورونا کا علاج اس طرح ممکن ہے جس طرح چین نے دنیا کو بتایا ہے۔ پلازمہ ٹیکنیک سے کورونا مریضوں کو آئی سی یو، وینٹی لیٹر کی ضرورت نہیں ہوگی۔ کورونا سے  صحتیاب مریض ہر2 ہفتے بعد پلازمہ عطیہ کرسکیں گے، مریض25 کلو سے کم وزن ہے تو ایک پلازمہ 2لوگوں کو لگایا جاسکے گا۔چینی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے تیز ترین اور سستا علاج خون کی ویکسین ہی ہے۔ کورونا سے صحت یاب افراد پر ذمہ داری ہے کہ وہ پلازمہ عطیہ کریں۔ صحت یاب افرادپلازمہ دے کر ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل کی صف میں کھڑے ہوسکتےہیں۔ اگر حکومت اس تجویز سے اتفاق کر لے تو پلازمہ ڈونیشن سینٹرز بنائے جا سکتے ہیں جہاں کورونا سے متاثرہ افراد آ کر ڈونیشن دے سکتے ہیں۔ پاکستان میں 14اپریل تک 1,378 لوگ صحت یاب ہو چکے ہیں جبکہ ہمارے یہاں جن انتہائی سیریس لوگوں کو پلازمہ لگانے کی ضرورت ہے، اُن کی تعداد صرف 46 ہے۔ اگر کورونا سے صحت مند ہونے والے یہ لوگ ان سیریس بیماروں کے لئے ہی پلازمہ عطیہ کر دیں تو کم از کم ان میں سے بیشتر کی جان بچائی جا سکتی ہے۔

ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ زیادہ تر افراد معمولی سے درمیانے درجے کی علامات کے ساتھ ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں ان چند سیریس مریضوں کے علاوہ جو دوسرے 4300 کے نزدیک معمولی سے درمیانے درجے کی علامات والے مریض ہیں، اُن کے علاج کے لئے بھی وہ طریقہ استعمال کرنا چاہیے جو چین میں کیا گیا تھا۔ اس طریقہ کار کے مطابق انہیں روزانہ وٹامن C-1000 ، وٹامن E اور Egg one item کی دوا دی جاتی تھی۔ صبح 10:00 – 11:00 کے درمیان انہیں 15-20 منٹ کے لئے دھوپ سینکنے کے لئے لے جایا جاتا تھا۔ روزانہ 7-8 گھنٹوں کے لئے آرام کروایا جاتا تھا۔ روزانہ ڈیڑھ لٹر نیم گرم پانی اور گرم خوراک دی جاتی تھی۔ چونکہ کورونا وائرس کا pH لیول 5.5 سے 8.5 کے درمیان ہوتا ہے، اس لئے ان مریضوں کو جو خوراک دی جائے، وہ ایسی ہو جس کا pH لیول 8.5 سے زیادہ ہو جیسا کہ لیموں کا pH لیول 9.9 ہے، مگر ناشپاتی یعنی Avocados کا pH لیول 15.6، لہسن کا pH لیول 13.2، آم کا pH لیول 8.7، سنگترہ طرز کی طنچوی نارنگی کا pH لیول 8.5، انناس کا pH لیول 12.7، ککروندا یعنی Dandelion کا pH لیول22.7 اور کینو، مالٹے کا pH لیول 9.2 ہوتا ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ تمام حکومتی اداروں کے اندازوں کے برعکس پاکستان میں کرونا اموات بہت حد تک کم رہی ہیں اور اُمید یہی ہے کہ آئندہ بھی کم ہی رہیں گی۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ کورونا وائرس ہمارے یہاں نہ پھیلا ہو۔ کیونکہ جیسا ہمارا رہن سہن اور اکٹھ کرنے کے مذہبی و سماجی نظریات ہیں، اُن کی موجودگی میں کورونا کا پھیلاؤ اچھا خاصا ہوا ہو گا۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جتنے کورونا وائرس ٹیسٹ ہمارے یہاں ہونے چاہئے تھے، اس کا عشر عشیر بھی ہم نہیں کر پا رہے۔ لگتا یہی ہے کہ طرح طرح کے ملاوٹی کھانے کھا کر اور ٹی بی سے بچاؤ والی ویکسین لگوا کر ہمارا ایمیون سسٹم کورونا کو برداشت کر چکا ہے اور لاتعداد لوگ بغیر کسی علاماتِ ظاھر ہوئے، اِس سے گرز کر صحت یاب ہو چکے ہیں۔ دعا یہی ہے کہ ہم اس عذاب سے بغیر انسانی جانوں کے نقصان کے جلد گزر جائیں مگر اس کے لئے تمام حفاظتی اقدام اور لاک ڈاون کی پابندی لازم ہے کیونکہ ہر شخص کا مدافعاتی نظام اتنا مضبوط نہیں ہوتا کہ اس موذی کورونا وائرس سے اسے بچا سکے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *