کیا آپ صاف گھر میں نہیں رہتے؟عبداللہ قمر

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 22 اگست کو ایک پریس کانفرنس کی جس میں پاکستان کے متعلق اپنی خارجہ پالیسی کا اعلان کیا اور پاکستان سے “ڈو مور” کا مطالبہ کیا۔ جب امریکی صدر کی جانب سے اس بات کا مطالبہ کیا گیا کہ ابھی آپ ڈو مور کریں تو یقینی طورپر افواجِ پاکستان اورقوم جنہوں دہشت گردی کے خلاف اور خطے میں امن کی فضا قائم کرنے کے لیے قربانیاں دیں ہیں، کو ٹھیس پہنچی ہو گی۔جونہی یہ بات منظرِ عام پر آئی ملک کی چھوٹی ،بڑی،مذہبی و سیاسی جماعتوں نے اس پر خوب تنقید کی، احتجاج و مظاہرے بھی کیے مگر حکام کی طرف سے کوئی خاص ردِّ عمل سامنے  نہ آیا۔6ستمبر کو آرمی چیف جنرل قمر جاید باجوہ نے اپنی تقریر میں واضح طور پر یہ بات کہی کہ “اگر پاکستان نے اس جنگ میں کافی نہیں کیا تو پھر دنیا کے کسی ملک نے کچھ نہیں کیا” اور عالمی برادری کو یہ پیغام دیا کہ اب آپ ڈو مور کریں۔سلام ہے جنرل باجوہ کی عظمت کو کہ جنہوں نے مضبوط پیغام دنیا کو دیا کہ ہم نے بہت کیا ہے اب آپ کی باری ہے۔لیکن اس کے بعد وزیرِ خارجہ خواجہ محمد آصف نے  امریکی صدر کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے یہ بیان دیا کہ “ہمیں اپنے گھر کی صفائی کرنی چاہیئے”۔یہ فقرہ سنتے ہوئے اس قوم کو ایک عرصہ گزر چکا ہے لیکن گزشتہ تین چار سال مسلسل قربانیاں اور شہادتیں پیش کرنے کے بعد بھی وزیرِ خارجہ کا یہ بیان دینا انتہائی مایوس کن ہے۔

گزشتہ ایک عرصے سےامورِ خارجہ اور سفارتکاری کے حوالے سے اس ملک کے ساتھ جو زیادتیاں کی گئیں وہ ناقابلِ برداشت ہیں اور اس کا خمیازہ ہم اب تک بھگت رہےہیں  جو کہ  ہمیں مستقبل میں بھی بھگتنا پڑے گا۔برکس کو بھی پاکستان کی سفارتی ناکامی قرار دیا جا رہا ہے۔لیکن اب یہ بات بھی ذرا بتلا دی جائے کہ نیشنل ایکشن پلان ہم نے صفائی کے واسطے شروع کیا  اور  ستر ہزار جانوں کا نذرانہ پیش کیا  ۔ضربِ عضب کا آپریشن کیا ، آپریشن ردّ الفساد کا آغاز کیا ۔کلبھوشن ہم پکڑ رہے ہیں  اور ایل او سی پر مسلسل بھارت کی اشتعال انگیزی بھی ہم برداشت کر رہے ہیں۔ جتنی صفائی ہم نے پچھلے  چار پانچ سالوں میں کی ہے شاید ہی کسی ملک نے کی ہو۔لیکن اس کے باوجود ہم  سے آخر کس بات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔اگر ہماری عسکری قیادت دنیا کے سامنے کھڑی ہو گئی ہے کہ ہم نے بہت کر لیا ہے اب آپ ڈو مور کریں تو  ہماری حکومت اس مؤقف کی تائید میں کیوں نہیں ڈٹ سکتی۔ کیا بھارت، امریکہ، افغانستان  اور میانمار کو گھر کی صفائی کی ضرورت نہیں۔

پاکستان کی جانب سے اقوامِ متحدہ اور امریکہ سے اس بات کا مطالبہ کیوں نہیں کیا جاتا کہ بھارت میں کام کرنے شیو سینا(لشکرِ شیو) اور آر ایس ایس جیسی دہشتگرد تنظیموں پر بھی پابندیاں عائد کی جائیں اور انہیں کالعدم قرار دیا جائے۔کشمیر میں جو مسلمانوں کا خون بہایا جا رہا    ہےاسے روکنے کے لیے اور مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے اقوام متحدہ میں جو قراردادیں پاس ہو چکی ہیں ان پر عملدرآمد کے لیے  بھارت کے خلاف سفارتکاری اور دباؤ کیوں نہیں ڈالا جاتا۔ برما کے مسلمانوں کے لیے پاکستان کی جانب سے مضبوط آواز کیوں نہیں اٹھائی جاتی۔کیا امریکہ اور انڈیا عالمی دہشت گرد نہیں ہیں۔بھارت پر اس بات کا دباؤ کیوں نہیں ڈالا جاتا کہ افغانستان کی سرزمین پر بیٹھ کر پاکستان میں دہشت گردی کرنا بند کرے، بلوچستان میں تخریب کاری اور علیحدگی کی تحریکوں کو منظم کرنا بند کرے۔ آخر اس سطح کی سفارتکاری کیوں نہیں کی جاتی؟

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ایسے لوگوں سے چھٹکارا حاصل کریں جنہوں نے ایوانوں کو اپنی جاگیر سمجھ رکھا ہے۔ یہ ملک لاالہ کا ملک ہے اور لا الہ کا مطلب ہے کوئی خدا نہیں۔ جو امریکہ کے ڈو مور کے آگے لیٹ جائیں وہ اس ملک و قوم کے نمائندے کیونکر ہو سکتے ہیں۔مجھے پانامہ میں لٹے پیسے کا اتنادکھ نہیں جتنی فکر مجھے ان “ڈپلومیٹک بلنڈرز” کی  ہےجو ان نااہل وزیروں نے کیے۔نواز شریف صاحب  نے چار سال تک وزارتِ خارجہ کے قلمدان کو اپنے قبضے میں رکھا جس کے وہ بالکل اہل نہیں تھے اور اس کے بعد برکس میں جو باتیں کی گئیں  وہ اسی سفارتی ناکامی کا نتیجہ ہیں۔ کشمیر اور انڈیا کے متعلق آپ کی کوئی خارجہ پالیسی سرے سے نہیں ہے۔ تو خدارا اب یہ زیادتیاں بند کریں اور اس ملک ِ خدا داد کے ساتھ مخلص ہو کر اپنے فرائض ادا کریں،اور رہی بات پاکستان  میں امن اور صفائی  کی، تو مجھے بتلائیےکیا آپ رات کو بے خوف و خطر نہیں سوتے؟ کیا  آپ کے بچے بے خوف و خطر سکول نہیں جاتے ؟اگرہاں ،تو بے فکر ہوجائیے کہ آپ کا گھر صاف و شفاف اور پر امن ہے۔اس وقت اصل مسئلہ اور المیہ یہ ہے کہ وہ لوگ جو اس وقت قوم کا چہرہ ہیں،جنہوں نے اقوامِ عالم کے سامنے پاکستان کا وقار بلند کرنا ہے  ،جنہوں نے دنیا کے سامنے قوم کی نمائندگی کرنی ہےاور دنیا کے سامنے اپنا مؤقف پیش کرنا ہےوہ اپنا کردار ادا کریں بجائے  اس کے کہ پاک آرمی پر دباؤ ڈالا جائے اور مسلح افواج کے کردار کو متنازعہ بنایا جائے ۔اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔

Abdullah Qamar
Abdullah Qamar
Political Writer-Speaker-SM activist-Blogger-Traveler-Student of Islamic Studies(Eng) at IOU-Interested in International Political and strategic issues.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *