دوسری جنگِ عظیم۔۔جواد سرور

جب سے انسان اس دنیا میں آئے ہیں وہ اپنی مفاد یا اپنے حق کے لیے لڑے ہیں۔ جنگوں کی تاریخ اُتنی ہی پُرانی ہے جتنی انسانوں کی ہے۔ عمومی طور پر جنگ دو قبیلوں، دونظریوں یا دو ملکوں کے درمیان ہوتی تھی۔

جنگ تجارتی بھی ہوتی ہے اور عالمی بھی لیکن جنگ یسے بھی ہوں وہ انسان یا انسانی زندگی کے لیے بہت بُرے اثرات مرتب کرتے ہیں ۔مگر بیسویی صدی میں دو ایسی جنگیں لڑی  گئیں  جنہوں نے انسانی زندگی کو کافی حد تک متاثر کیا۔ جس میں فرسٹ ورلڈ وار (پہلی جنگ عظیم) اور سیکنڈ ورلڈ وار (دوسری جنگ عظیم) شامل ہیں۔ یہ جنگِ عظیم اس لیے کہلاتے ہیں کیونکہ یہ جنگیں عالمی سطح پر لڑی گئی تھیں، جن میں دنیا کے بیشتر ملکوں نے حصہ لیا تھا۔ مثلاً جرمنی،جاپان،فرانس،پولینڈ وغیرہ۔ ۔ ۔

سیکنڈ ورلڈ وار (دوسری جنگِ عظیم) کو دنیا کی سب سے زیادہ خونریز جنگوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کو گلوبل وار یا ٹوٹل وار بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ پہلے جنگیں فوجوں کے درمیان ہوتی تھیں  مگر اس جنگ میں شہری آبادیاں بھی حصہ لے رہی تھیں  اور دشمن کی  فورسز کا شکار بھی ہورہی تھیں۔ شہری آبادیوں پر فضائی حملے کیے گئے۔ اور سب سے دلچسپ بات یہ کہ اس جنگ میں پہلی مرتبہ ایٹم بم کا استعمال کیا گیا۔ اس جنگ میں تقریباً 61 ممالک اور ایک ارب فوجیوں نے حصہ لیا۔

دوسری جنگِ عظیم کا سب سے بڑا کردار ایڈوولف ہٹلر کو مانا جاتا ہے اور اگر ہم 1918 سے لیکر 1939 تک یورپ کی تاریخ کو اُٹھا کر دیکھیں تو برطانیہ اس بات سے ڈرتا تھا کہ ہٹلر زیادہ سے زیادہ طاقت پکڑ جائے گا اور ہمیں اپنے اشاروں پر نچائے  گا۔

دوسری جنگِ عظیم کا آغاز تب ہوا جب جرمنی نے پولینڈ پر حملہ کیا ۔اس چھ سالہ طویل جنگ میں تقریباً 6 سے 7 کروڑ لوگ موت کے گھاٹ اُتار دیے گئے، جس میں 5 کروڑ شہری اور دو کروڑ فوجی مارے گئے۔ دوسری جنگ عظیم میں بھی پہلی جنگ عظیم کی طرح دنیا کو دو حصّوں میں تقسیم کیا گیا۔ ایک طرف الائیڈ فاؤر(متحدہ فاور) جس میں بریٹین، امریکہ، فرانس، سویت یونین، پولینڈ، چائنہ، یوگو سلاویہ اور گریس شامل تھے۔ تو دوسری طرف ایکسیز فاور(محور فاور) جس میں جرمنی، اٹلی اور جاپان شامل تھے۔

پہلی جنگ عظیم میں جیسے یورپی ممالک اپنی اپنی فوجیں بنانے میں مصروف تھے اسی طرح دوسری جنگ عظیم میں بھی جاپان اپنی فوج تیار کر رہی تھی۔ جاپان اپنے ہمسایہ ممالک پر مسلسل حملے کررہا تھا۔ جن میں کوریا اور چین موجود تھے۔
دوسری جنگ عظیم کی سب بڑی وجہ یورپی ملکوں کا جرمنی سے بُرا رویّہ تھا۔

یورپی ممالک اکثر جرمنی کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔ اور ان سب سے آگے فرانس تھا جو جرمنی کو اکثر دھمکاتا تھا۔ اسی دوران ہٹلر پاور میں آیا اور اس نے بدلا لینے کا فیصلہ کیا۔ اور اپنی فوج کو طاقت ور بنانے میں لگ گیا۔ دوسری جنگ عظیم کی   ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس وقت ڈکٹیٹر شپ اور قوم پرستی اپنے عروج پر تھی۔

1933 میں ہٹلر جرمنی کا ڈکٹیٹر بن گیا اور اسی دوران دنیا کے نامور سائنسدان آئن  سٹائن  جرمنی سے امریکہ منتقل ہوگئے۔ڈکٹیٹر بنتے ہی ہٹلر  اپنی ائیرپورٹس اور فوج کو منظم کرنے لگا۔ یوں ہٹلر خود بھی الیکشن جیتنے کے بعد چانسلر بنا تھا مگر ڈکٹیٹر بننے کے بعد اس نے جرمنی میں الیکشن بند کروادیے تھے۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد جرمنی کو بہت شرمندگی اُٹھانا پڑی اس لیے ہٹلر جرمنی کو دوبارہ عظیم بنانا چاہتا تھا اور اپنے دشمنوں سے بدلا بھی لینا چاہتا تھا۔

پہلی جنگ عظیم میں جاپان شامل نہ تھا مگر پہلی جنگ عظیم کے بعد جاپان نے اپنی فوج کو مضبوط کرنا شروع کردیا اور ساتھ ہی ساتھ اپنے ہمسایہ ملکوں پر حملہ اور ان پر   قبضہ کرنے لگا۔

جرمنی، اٹلی اور جاپان کے بیچ ایک معاہدہ طے پایا کہ اگر جنگ ہوئی  تو جنگ کی  صورت میں تینوں ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد جرمنی کے کچھ علاقے پولینڈ میں شامل کردیے گئے تھے اور ہٹلر انہیں بھی اپنے قبضے میں کرنا چاہتا تھا۔ مگر فرانس، برطانیہ اور پولینڈ نے بھی جنگی معاہدہ کیا تھا۔ فرانس اور برطانیہ نے پولینڈ کی حفاظت کا وعدہ کیا تھا۔ اسی سال سویت یونین اور جرمنی نے ایک ساتھ مل کر پولینڈ پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنالیا۔

چنانچہ اس جنگ کا باقاعدہ آغاز 1 ستمبر 1939 میں ہوا جب جرمنی نے پولینڈ پر حملہ کردیا۔ جس وقت جرمنی نے پولینڈ پر حملہ کیا اُسی دوران فرانس اور برطانیہ نے جرمنی پر حملہ کرنے کا اعلان کردیا۔

منصوبے کے مطابق سویت یونین نے مشرق سے پولینڈ پر حملہ کردیا اور پولینڈ جلد ہی جنگ ہار گیا۔ جرمنی اور سویت یونین نے پولینڈ کو آپس میں بانٹ لیا۔ اس کے بعد جرمنی نے ڈنمارک اور ناروے پر حملہ کردیا اور دونوں پر جلد ہی قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد جرمنی نے بیلجیم اور نیدر لینڈ پر بھی حملہ کردیا اور اُن پر بھی قبضہ کرلیا۔ اُدھر سویت یونین نے فن لینڈ پر حملہ کردیا اس کے ساتھ ہی فرانس نے اٹلی پر حملہ کردیا اور اسی طرح اٹلی بھی دوسری جنگ عظیم میں شامل ہوگیا۔

1940 میں جرمنی نے فرانس پر حملہ کردیا اور چار دن کے اندر اندر فرانس نے گُھٹنے ٹیک دیے۔ اس کے بعد جرمنی اور برطانوی ایئر فورس کے درمیان جنگ ہوئی۔جرمنی ایئر فورس نے برطانیہ کے شہروں اور کمپنیوں پر بمباری کی، اس کا بھی برطانیہ نے خوب جواب دیا۔ یہ ہوا میں لڑنے والی سب سے بڑی جنگ قرار دی جاتی ہے۔ اس جنگ میں برطانیہ کے ایک ہزار اور جرمنی کے تقریباً سولہ سو طیارے تباہ ہوئے۔

اس کے بعد ہنگری، بلگاریہ اور رومانیہ نے بھی ایکسز پاور میں شمولیت کرلی۔ 1941 میں اٹلی اور برطانیہ کی افریقہ میں لڑائی ہوئی کیونکہ افریقہ میں فرانس، برطانیہ اور اٹلی کی کالونیز تھیں اور ان ملکوں کی فوج بھی وہاں موجود تھی۔ اس جنگ کے آغاز میں اٹلی کمزور پڑگیا تھا اس لیے جرمنی نے اٹلی کی مدد کے لیے اپنی فوج بھیج دی۔ اسی دوران جرمنی نے یونان اور یوگوسلاویہ پر بھی حملہ کردیا اور اُن پر قبضہ جمالیا اور اسی طرح جرمنی نے پورے یورپ کو اپنی مٹھی میں کرلیا۔

یہاں سے شروع ہوتا ہے جرمنی کا زوال۔معاہدے  کے خلاف جا کر جرمنی نے سویت یونین پر حملہ کردیا۔ اس دوران موسم گرما اپنے اختتام پر پہنچ گیا اور سردیاں آگئیں اور جرمن فوج سردی میں نہ لڑ سکی ، اور سویت یونین میں پھنس کر رہ گئی ، بعد میں سویت یونین نے چُن چُن کر جرمن فوج کو مار کر ختم کردیا۔ ہٹلر کے جرنیلوں نے ہٹلر کو سویت یونین پر حملہ کرنے پر روکا تھا کیونکہ اس طرح کا رسک نپولین بھی لے چُکا تھا مگر ہٹلر نے کسی کی بھی نہ سُنی اور نقصان سے دو چار ہوا۔

1941 میں جاپان نے فرانس، امریکہ اور برطانیہ سے جنگ چھیڑ دی۔ اسی دوران امریکہ نے جاپان کو تیل کی رسائی بند کردی اور یوں جاپان بوکھلا گیا۔ جاپان کو اس بات کا بھی ڈر تھا کہ امریکہ کبھی بھی اُس پر حملہ کرسکتا تھا ۔اس لیے جاپان نے منصوبہ بنایا کہ امریکہ سے پہلے میں امریکہ پر حملہ کردوں گا اور جاپان اپنے منصوبے میں کامیاب بھی ہوگیا جاپان نے امریکہ کے بندرگاہ پر حملہ کردیا جس سے پورا امریکہ ہل کر رہ گیا جس میں امریکن نیوی کے بہت سے جنگی جہاز اور شیپس تباہ ہوگئے اور تقریباً پچیس سو لوگ ہلاک ہوگئے۔ اس کے بعد امریکہ نے جنگ میں شامل ہونے کا اعلان کردیا۔

1942 کے آغاز میں امریکہ نے جاپان کے آئی لینڈز پر حملہ کرکے انھیں جاپان سے چھین لیا۔ اُدھر سویت یونین نے جرمنی کو سویت یونین سے باہر نکالا اور اپنی جگہیں واپس لے لیں۔ اس جنگ میں فوج کے ساتھ ساتھ ایک بڑی تعداد میں شہری بھی ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد الائیڈ پاور پھر سے اپنا زور پکڑ رہا تھا۔ اسی دوران اٹلی اور جرمنی دونوں افریقہ میں جنگ ہار گئے تھے۔

1943 الائیڈ پاور نے اٹلی پر قبضہ کرلیا اور اٹلی کے ڈکٹیٹر مسولینی کو عہدے سے ہٹالیا گیا تھا اور بعد میں گرفتار بھی کرلیا تھا۔ چونکہ فرانس ابھی تک جرمنی کے قبضے میں تھا۔ الائیڈ پاور نے اپنا سارا زور فرانس پر لگا دی اور چند ہی مہینوں میں فرانس سے جرمنی کی فوج کو باہر نکال دی۔ جرمنی اب مسلسل شکست کھارہی تھی۔

1945 میں الائیڈ پاور نے جرمنی پر حملہ کردیا اور مشرق سے سویت یونین نے بھی جرمنی پر حملہ کردیا اور 29 اپریل 1945 میں جرمنی نے شکست تسلیم کرلی اور 30 اپریل کو ہٹلر نے خودکُشی کرلی۔ اس کے ساتھ ہی یورپ میں لڑائی ختم ہوگئی۔ اور الائیڈ پاور فتح یاب ہوگئے۔

اس کے بعد امریکہ نے جاپان پر ایٹم بم گرانے کا اعلان کردیا امریکہ جانتا تھا کہ اگر اس نے جاپان پر فوجیوں کے ذریعے حملہ کیا تو اس کے بہت سے فوجی مارے جائیں گے اور جاپان کو ہرانا بھی مشکل ہوجاۓ گا۔ چنانچہ 6 اگست کو امریکہ نے ہیروشیما پر لٹل بواۓ گِرا دیا اور تین دن بعد ناگاساکی پر فیٹ مین گِرا دیا گیا۔

ہیروشیما میں تقریباً 1 لاکھ اور ناگاساکی میں 80 ہزار لوگ مارے گئے۔ پھر ایٹمی حملے کے بعد 15 اگست کو جاپان نے شکست تسلیم کی اور اس کے ساتھ ہی دوسری جنگ عظیم بھی اپنے اختتام پر جاپہنچا۔

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *