کیا نفرت سے آفت مٹ جائے گی؟۔۔ابھے کمار

منگل کی شام دودھ خریدنے کے لیے میں ایک دکان پر پہنچا۔دکان جنوبی دہلی میں واقع تھی۔وہاں کھڑے  ہو کر میں اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا۔دکاندار کی عمر چالیس کے قریب تھی اور اس کا بدن بھرا ہوا تھا۔منہ پر کالا ماسک لگائے وہ سامان تول رہا تھا،مگر اس کی ایک آنکھ دکان میں رکھے ٹی وی پر بھی تھی۔اچانک سے وہ بول پڑا ۔’دیش کا کاروبار تبلیغی مسلمانوں نے بند کروا رکھا ہے’۔

اس کی ‘جھلاہٹ’ سے مسلمانوں کے خلاف نفرت کی بو آ رہی تھی۔اس کی باتوں سے یہ ظاہر ہو رہا تھا کہ اگر تبلیغی جماعت کے لوگوں نےدہلی میں اجتماع نہیں کیا ہوتا تو کورونا کے وائرس اب تک کنٹرول ہو گئے ہوتے۔

مگر وہ اصل باتوں پر بات نہیں کر رہا تھا۔ مثال کے طور پر لاک ڈاؤن کے اعلان ہونے سے پہلے بھی تو لوگوں کی بھیڑ اکٹھا ہوگئی تھی، پھر صرف تبلیغی جماعت کو   ہی کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے؟ حال کے دنوں میں ایودھیا میں اتر پریش کے وزیر علی یوگی ادیتیہ ناتھ بھی تو پوجا کرنے کے لیے گئے تھے اور وہاں بھیڑ جمع ہو گئی تھی۔تروپتی بالا جی مندر میں بھی تو عقیدت مندوں کی بڑی بھیڑ تھی۔ہوائی اڈے پر لوگوں کی آمد رفت حال کے دنوں تک جاری تھی اور کوئی احیتاط نہیں کی گئی   ۔خود وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے استقبال میں ہزاروں لاکھوں لوگوں کو گجرات کے ایک سٹیڈیم میں جمع کروایا تھا۔کیا ان سب واقعات سے ملک میں وائرس نہیں پھیلا ہوگا؟

المیہ دیکھیے کہ جب بی جے پی کی زیر قیادت میں مرکزی سرکار کو کورونا سے لڑنا چاہیے تھا، تب اس کی توانائی صوبائی مدھیہ پردیش کی کانگریس سرکار کو گرانے میں لگی ہوئی تھی۔اور جب بی جے پی کی نئی سرکار بن گئی، تو اس کا بڑا جشن منایا گیا۔جب لاک ڈاؤن کا علان ہوا، تو کیوں لوگوں کو صرف چار گھنٹے کا وقت ہی دیا گیا؟ اگر زیادہ وقت ہوتا تو لوگ آرام سے اپنے گھروں کو نکل جاتے اور لاکھوں لوگوں کو سڑکوں پر نہیں  آنا  پڑتا۔سرکار بھی تو اپنی غلطی قبول نہیں کرنا چاہتی کہ اس کے پاس غریب، بے بس اور مزدور کے کھانے پینے کا معقول انتظام نہیں ہے۔

بہت سارے سوال میرے دماغ میں اٹھ رہے تھے، مگر میں نے خاموش رہنا ہی بہتر سمجھا۔دکاندار بولتا رہا اور باقی سب سن رہے تھے۔ایسا محسوس ہوا کہ دکاندار کی جانکاری کا ایک اہم وسیلہ نیوز چینل تھا۔دکاندار نیوز اینکر کی باتوں کو بڑے غور سے سن رہا تھا اور پھر پاس کھڑے لوگوں کو سنا رہا تھا۔’دیکھیے تو ذرا تبلیغی لوگوں  کے نخرے،کھانے میں بریانی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔مارنا چاہیے ان کو پکڑ کر پکڑ کر۔۔۔’اس نے پاس میں کھڑے لوگوں کو یہ بات کہی۔سر ہلا کر کچھ نے اپنی رضامندی ظاہر کی۔

اس طرح کے تبلیغ اور مسلم مخالف پروپیگنڈے کی رفتار ۳۰ مارچ کے بعد اچانک سے تیز ہوئی ہے۔ اس دن دہلی میں واقع تبلیغی جماعت کے دفتر پر پولیس کا ریڈ پڑا تھا۔ پھر ایک نیا بیانیہ   دیا گیا کہ کورونا کو پھیلانے اورحالات کو خراب کرنے میں مسلمان، با لخصوص تبلیغی مسلمان کا ہاتھ ہے۔پھر پوری ڈیبیٹ صحت عامہ کی بے توجہی، مزدوروں کی  ہجرت، سرکار کا رفاہی کاموں کو انجام دینے میں ناکامی کے ایشوز سے دور ہو گئی۔غریب اور تارکین وطن مزدور کی فاقہ کشی سے دھیان ہٹ کر ‘تبلیغی وائرس’ پر چلا گیا۔ پھر نئی اصطلاحات گھڑی گئیں’تبلیغی جہالت’، ‘تبلیغی جہاد’، ‘انسانی بم’ وغیرہ۔علاوہ ازیں، مسلمانوں کو’ملک مخالف سرگرمیوں’ میں ملوث ہونے اور ‘دہشت گردوں’ سے جڑے ہونے کے بہانے گالیاں دی گئیں۔ایک مشہور ہندی نیوز چینل کے اینکر نے تبلیغی جماعت کو جانچ  کر ‘طالبانی’جماعت کہا۔ پھر علما اور مذہبی لیڈروں کو نشانہ بنایا گیا۔ان کو سائنس سے دور اور جہالت میں مبتلا ہونے کابے بنیاد الزام لگایا گیا۔ تبلیغی جماعت کے صدر کے خلاف کیس بھی درج ہوا ۔پھر تبلیغی جماعت بد عنوانی میں غرق ہونے کی خبر گشت کرنے لگی۔دکاندار انہیں نیانیہ کے اثر میں بول رہا تھا۔

قومی میڈیا، نیز ہندی نیوز چینل اور ہندی اخبارات، ہر روز صحافی معیار کو چوٹ پہنچا رہا ہے۔ ان کی پوری طاقت سرکار کی باتوں کو سچ ثابت کرنے میں لگ رہی ہے۔ سرکار کی بات کو میڈیا اپنے منہ سے پھیلا ر ہا ہے۔ کچھ مثالیں ملا حظہ ہوں ۔

خبر چھاپی گئی کہ ٹی وی نصب کرنے کی مانگ کو لے کر تبلیغی جماعت کے لوگوں نے انتظامیہ سے ہنگامہ کیا۔کچھ  روزناموں  میں تو یہ بھی خبر آئی ہے کہ تبلیغی جماعت کے لوگ مسالہ دار کھانے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔ اس سے ڈاکٹر بھی پریشان ہیں۔پھر یہ بھی لکھا جا رہا ہے کہ وہ صفائی ملازمین  کے ساتھ بدسلوکی کر رہے ہیں اور بیت الخلا کی جگہ کمرے سے باہر ہی پیشاب کر  رہے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی فیک نیوز پھیلائی جا رہی ہے کہ وہ ڈاکٹروں کے ساتھ مار پیٹ کر رہے ہیں، جس کی خود پولیس کے حکام تردید کر چکے ہیں۔روز بروز یہ کہا جا رہا ہے کہ کورونا متاثرین کی غالب اکثریت مسلمانوں کی ہے مگر  دانستہ طور پر یہ نہیں بتلایا جا رہا ہے کہ کتنے مسلمانوں اور کتنے غیر مسلمانوں کا ٹیسٹ کرایا جا رہا ہے۔ دہلی کی اقلیتی کمیشن نے اس بات پر اعتراض ظاہر کیا ہے کہ کیوں حکام کورونا مثبت لوگوں کی تعداد بیان کرنے میں تبلیغی مسلمان کا ایک الگ گروپ بنائے ہوئے ہیں۔دکاندار اپنی دکان پر وہی کر تا ہوا  نظر آیا جیسے کہ بہت سارے نیوز اینکر کر رہے ہیں۔

حالات اس قدر خراب ہو رہے ہیں کہ مسلمانوں کے خلاف تشدد کرنے کی وکالت کی جا رہی ہے۔ دہلی اقلیت کمیشن نے ایک ایسے ہی مسلم مخالف سوشل میڈیا پوسٹ پر اعتراض ظاہر کیا ہے، جس میں مسلمانوں کو گیس چیمبر میں ڈالنے کی بات کہی گئی ہے۔افسوس کی بات ہے کہ ایسی نفرت انگیز بات دہلی یونیورسٹی کے  ایک استاد نے کہی ہے۔کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے دہلی وائس چانسلر کو ایک نوٹس بھیج کر کہا ہے کہ اس معاملے کی جانچ کی جائے۔ابھی تک وائس چانسلر نے زہر افشانی کرنے والے ٹیچر کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی ہے۔اسی بیچ مہاراشٹر نو نرمان کے صدر راج ٹھاکرے نے انتہائی مذموم بیان جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ ‘مرکز جسے پروگرام میں شامل ہونے والوں کو گولی مارنی چاہیے’ اور یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ جو اس میں شامل ہو رہے ہیں ان کا علاج نہ کیا جائے۔

سرکار کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ نفرت انگیز سیاست کو ختم کرے اور کورونا کے مسئلے کو صحت عامہ،روزی روٹی اور عوام کی بھلائی سے جوڑ کر دیکھے۔کورونا سے لڑنے کے لیے لاک ڈاؤن  کارگر ہے، مگر اس کے علاوہ اور بھی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔نوبل انعام سے نوازے گئے ماہر اقتصادیات امرتیہ سین نے بھی حکومت کی ناکامی کی طرف اشارہ کیا ہے۔انگریزی کے مشہور اخبار ‘انڈین ایکسپریس’ (٨ اپریل) میں شائع شدہ ایک مضمون میں انہوں نے کہا ہے کہ دقت پیدا اس وجہ سے ہو رہی ہے کہ بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کی غرض سے ایک ہی طرح کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے، جو اس فرق کو مٹا دیتی ہے  کہ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے مختلف طریقے  اپنائے جا سکتے ہیں۔کچھ طریقے  ایسے ہیں جو کروڑوں غریب لوگوں کی زندگی میں تباہی لا سکتے ہیں، جبکہ دوسرے، جن میں ان کے لیے راحتی پیکج شامل ہیں، دشواریوں کو روک سکتے ہیں۔ پروفیسر سین نے بجا فرمایا ہے کہ لاک ڈاؤن کی حکمت عملی وبا کے خلاف کارگر ہو سکتی ہے، مگر یہ پالیسی بغیر غریبوں کے کھانے، پینے اور رہنے کے انتظام کیے بغیر نا کافی ہے۔

کیا سرکار ان نصیحتوں کو سننے کو تیار ہے؟ کیا سرکار نیوز چینل اور میڈیا پر لگام لگائے گی کہ آفت میں بھی فرقہ پرستی کی سیاست بند ہو؟ کیا سرکار سیکولر اور فرقہ وارنہ ہم آہنگی کی  اقدار پر کام کرےگی جس سے مذکورہ دکاندار جیسے لوگوں کی مسلمانوں کے تئیں غلط فہمیاں دور ہو سکیں ؟ دکھ ہوتا ہے کہ مسلم مخالف  پروپیگنڈے کے خلاف ابھی تک وزیر اعظم نریندر مودی نے کچھ نہیں بولا ہے۔یہ سب باتیں دلوں کے اندر مایوسی بھر دیتی ہیں۔ غم اس کا بھی ہے کہ اس سب سے سماج میں کشیدگی پھیل رہی ہے اور بھارت کی شبیہ دینا میں بگڑ رہی ہے۔اچھی بات ہے کہ جمعیت علما ہند نے اس معاملہ کو سپریم کورٹ تک پہنچایا ہے۔دیگر سیکولر، جمہوری اور انصاف پسند لوگوں کو بھی آگے آنا چاہیے۔
(مضمون نگار جے این یو سے پی ایچ ڈی ہیں۔)
debatingissues@gmail.com

Avatar
ابھے کمار
ابھے کمار جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی میں شعبہ تاریخ کے ریسرچ اسکالر ہیں۔ ان کی دلچسپی ہندوستانی مسلمان اور سماجی انصاف میں ہے۔ آپ کی دیگر تحریرabhaykumar.org پر پڑھ سکتے ہیں۔ ان کو آپ اپنے خط اور اپنی رائے debatingissues@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *