پیپسی یا کوک؟ ۔۔وہارا امباکر

دماغ یہ فیصلہ کیسے کرتا ہے کہ کونسا مشروب بہتر ہے؟ ہو سکتا ہے کہ کوئی سادہ لوح سائنسدان آپ کو بتائے کہ حسیات کے سگنل، جیسا کہ ذائقہ حسیات کے اعضاء سے دماغ کے اس حصے کا سفر کرتے ہیں جہاں پر اس کا تجزیہ کیا جاتا ہے اور طے ہوتا ہے کہ کس کا ذائقہ بہتر ہے۔ لیکن دماغ اتنا سادہ نہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ ایسے سائنسدانوں کے مقابلے میں مقبول سیاستدان، مشہور تجزیہ نگار، زیرک سیلزمین، مارکٹنگ کے شعبے سے تعلق رکھنے والے، گھاگ “ماہرین” اور دوسرے فنکار اپنی بات آپ سے آسانی سے منوا سکتے ہیں۔

مشروبات میں سب سے زیادہ پئے جانے والا مشروب کولا ڈرنک ہیں۔ اس مارکیٹ میں دنیا بھر میں دو ہی کمپنیوں کی اجارہ داری ہے اور تقریباً ہر ملک میں کوکا کولا کو اس میں برتری حاصل رہی ہے اور یہاں پر ایک دلچسپ تضاد دیکھنے کو ملتا ہے جس کو پیپسی پیراڈوکس کہا جاتا ہے جب بھی بلائنڈ ٹیسٹ کیا جاتا ہے، یعنی پینے والے کو یہ معلوم نہ ہو کہ اس کے گلاس میں کونسا مشروب ہے تو زیادہ تر لوگ پسندیدگی میں پیپسی کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن جب معلوم ہو کہ کونسا ڈرنک ہے تو اکثریت کی پسند کوکا کولا ہوتی ہے۔ اور مارکیٹ میں پچھلے سو سال میں ہونے والی اس کی فروخت اس کا ثبوت ہے۔

اس پیراڈوکس کا بہت عرصے سے علم ہے اور اس کی وضاحت کئی طریقے سے کی جاتی رہی ہے۔ لیکن 2007 میں ہونے والی سٹڈی نے اس پر ایک دلچسپ طریقے سے روشنی ڈالی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس بظاہر نظر آنے والے تضاد کا تجربہ پہلی بار 1957 میں کیا گیا۔ تین ڈیٹرجنٹ کے ڈبے لوگوں کو دئے گئے کہ انہیں استعمال کریں اور بعد میں سروے میں بتائیں کہ ان کا کپڑے دھونے کا تجربہ کیسا رہا۔ پہلا ڈیٹرجنٹ نیلے ڈبے میں تھا، دوسرے زرد ڈبے میں، تیسرا گرے ڈبے میں اور اس پر نیلے اور زرد ڈیزائن بنے تھے۔ شرکاء میں سے بھاری تعداد نے تیسرا ڈیٹرجنٹ پسند کیا کہ یہ بہترین ہے۔ نیلے کے بارے میں رائے تھی کہ یہ کپڑوں کو نقصان پہنچاتا ہے جبکہ زرد ڈبے والا داغ نہیں نکالتا۔ شرکاء کو یہ معلوم نہیں تھا کہ تینوں ڈبوں میں اصل میں ایک ہی ڈیٹرجنٹ ہے، صرف ڈبے کا فرق ہے۔ تجربہ ڈیٹرجنٹ پر نہیں، خود ان پر کیا جا رہا تھا۔

کسی نے بھی اپنی ترجیح میں یہ وجہ نہیں بتائی کہ اس کی ترجیح میں ڈبے کے فرق کا کوئی بھی کردار تھا۔ (اس لئے کہ اس کا ان کو خود بھی معلوم نہیں تھا)۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسی طرح کا تجربہ ریشمی جرابوں پر کیا گیا۔ کچھ پر بہت معمولی سے خوشبو لگائی گئی۔ خریداروں کو جرابیں دکھا کر پوچھا گیا کہ انہیں کونسی پسند ہے۔ زیادہ تر نے خوشبودار جرابیں پسند کیں۔ وجہ میں ان کا میٹیریل، ان کا زیادہ ملائم ہونا، دیرپا لگنا بتایا گیا۔ جب ان سے پوچھا کہ کیا انہیں اس میں خوشبو محسوس ہوئی تو 250 میں سے صرف 6 کو اس خوشبو کا شعوری طور پر احساس ہوا تھا۔ نہ صرف شرکاء کو معلوم نہیں تھا کہ ان کی ترجیح کس وجہ سے ہے بلکہ وہ اس وجہ کی موجودگی سے بھی لاعلم تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وکیل ٹی شرٹ کیوں نہیں پہنتے؟ ڈاکٹر لباس کا خیال کیوں کرتے ہیں؟ کسی بھی پروفیشنل کے لئے اچھا پیکج (یعنی کہ اس کا حلیہ) کامیابی میں مدد کرتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر آپ کا خیال ہے کہ ایسے حربے عام لوگوں پر چل سکتے ہیں، تربیت یافتہ لوگوں پر نہیں تو آپ کا خیال غلط ہو گا۔ پروفیشنل ذائقہ چکھنے والوں پر ایسا تجربہ کیا گیا۔ ایک گلاس میں مشروب انڈیلا گیا جس کی بوتل کے لیبل پر قیمت دس ڈالر لکھی نظر آ رہی تھی۔ دوسرے پر جس میں نوے ڈالر نظر آ رہی تھی۔ ان کو چکھنے والوں کا دوسرے گلاس کے مشروب پر ریویو بہت بہتر تھا۔ (جی، دونوں بوتلوں میں مشروب میں فرق نہیں تھا)۔

جب یہی تجربہ رضاکاروں کو فنکشنل ایم آر آئی کی مشین میں رکھ کر کیا گیا تو چکھنے سے پہلے ہی آنکھوں کے پیچھے دماغ کے ایک حصے، اوربیٹوفرنٹل کارٹیکس کی ایکٹیویٹی میں فرق تھا اور اس کا تعلق مسرت کے جذبے سے ہے۔ اگرچہ دونوں مشروب مختلف نہیں تھے لیکن ذائقے کے احساس میں فرق اصل تھا۔ اگرچہ ایک شخص کو خود علم نہیں تھا کہ ذائقے کے احساس میں نہ صرف کیمیکل کپموزیشن شامل تھی بلکہ قیمت بھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پیپسی اور کوک کی سٹڈی میں محققین نے اس کا ایک اور اہم علاقہ دریافت کیا کو وینٹرومیڈیل پری فرنٹل کورٹیکس ہے۔ مانوس شے کو دیکھنے سے خوش کن احساس پیدا ہوتا ہے، اس کا علم اس جگہ سے ہوتا ہے۔ 2007 کی سٹڈی میں سائنسدانوں نے ایسے شرکاء کو شامل کیا جن کے دماغی سکین میں اس حصے میں خرابی نظر آ رہی تھی۔ ایک گروپ ان لوگوں کا بنایا جبکہ دوسرا ان لوگوں کا جن کا یہ حصہ ٹھیک تھا۔

جب ان پر پیپسی یا کوک کا بلائنڈ ٹیسٹ کیا گیا تو نتیجہ حسبِ توقع رہا۔ پیپسی کو پسند کرنے والے زیادہ تھے۔ جب ان پر ڈرنک کا بتا کر ٹیسٹ کیا گیا تو حسبِ توقع صحت مند وینٹرومیڈیل پری فرنٹل کورٹیکس والے گروپ میں ترجیح تبدیل ہو گئی۔ لیکن جن میں اس حصے میں خرابی تھی، ان کی ترجیح کا تناسب ویسا ہی رہا۔ ان کو پیپسی یا کوک کا نام جاننے سے کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔

اگر برانڈ کے نام کی وجہ سے ہونے والا خوش کن احساس خراب ہو جائے تو پیپسی پیراڈوکس موجود نہیں ہے۔ (کوکا کولا کا برانڈ کس وجہ سے پیپسی کے برانڈ سے زیادہ مقبول ہے؟ یہ پھر ایک الگ سوال ہے)۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کا اصل سبق پیپسی یا کوک یا کسی بھی اور ٹیسٹ کا نہیں ہے۔ اہم چیز یہ ہے کہ ہم زندگی کے ہر پہلو کو اس طریقے سے محسوس کرتے ہیں۔ براہِ راست اثر انداز ہونے والے نمایاں پہلو (مشروب) اور چھپے ہوئے پہلو (قیمت، برانڈ) مل کر ذہنی تجربے (ذائقے) کی تخلیق کرتے ہیں۔ اور یہاں پر “تخلیق” اہم لفظ ہے۔ دماغ ذائقے یا کسی بھی اور تجربے کا ریکارڈر نہیں، تخلیق کار ہے۔

ہم اپنے بارے میں یہ گمان کرتے ہیں کہ جب ہم نے سٹور سے کھانے کی ایک چیز اٹھانا پسند کی تو اس کی وجہ ذائقہ، غذائیت، قیمت، اجزاء یا ایس دوسری بہت سی چیزیں تھیں جن کا ہمیں معلوم ہے۔ جب ہم نے لیپ ٹاپ کا انتخاب کیا، ملازمت چنی، موٹر سائکل پسند کی، دوست بنایا، کسی اجنبی کے بارے میں رائے قائم کی، کسی سے محبت میں گرفتار ہوئے، کسی کی کہی بات کو سچ جانا ۔۔۔ اس کی وجہ ہم جانتے ہیں۔ اکثر اوقات، ایسا حقیقت کے قریب قریب بھی نہیں۔

اور یہ وہ وجہ ہے کہ ہمارے خود اپنے بارے میں اور دوسروں کے بارے میں قائم کردہ بہت سے مفروضے غلط ہوتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: ساتھ لگی تصویر میں ان مشروبات کے کین کی تصویریں زیادہ خوش کن اس لئے نہیں لگائی گئیں کہ یہ مشروبات کو پینے کی ترغیب دینے کے لئے نہیں۔ اس مضمون کو کسی نے بھی سپانسر نہیں کیا۔ 🙁

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *