• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • مکالمہ خصوصی: طورخم بارڈر افغانستان میں پھنسے پاکستانیوں کی حکومت سے اپیل

مکالمہ خصوصی: طورخم بارڈر افغانستان میں پھنسے پاکستانیوں کی حکومت سے اپیل

مکالمہ کو باوثوق ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ طورخم بارڈر پر جہاں ایک جانب بین الاقوامی نیوز چینلز کے مطابق افغانیوں کو پاکستانداخلے کی اجازت دی جارہی ہے وہیں بارڈر کے افغان جانب لگ بھگ دو سو کے قریب پاکستانی مرد، خواتین اور بچے کھلے آسمانتلے محصور رہنے پر مجبور ہیں۔ ان لاچار پاکستانیوں کو کرونا لاک ڈاؤن کے پیش نظر ایک جانب اپنی ہی حکومت اپنے ہی وطن میںداخل ہونے سے روک رہی ہے جبکہ دوسری جانب افغانی حکومت انہیں واپس جلال آباد اور کابل کا رخ کرنے کی اجازت نہیںدے رہی۔

مکالمہ ٹیم کو اس سلسلے میں محترم خرم ارشاد عباسی کی جانب سے ویڈیوز موصول ہوئی ہیں جس میں واضح طور پر اپنے ان پاکستانیبھائیوں کو دوچار اذیت اور لاچاری دیکھی جا سکتی ہے۔ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ افغان بارڈر پر کھلے آسمان تلے محصورہوجانے والے ان پاکستانیوں کا تعلق خیبر پختونخواہ، پنجاب اور سندھ سے ہے۔

طورخم بارڈر پر پھنسے ان پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد ۱۸ دن تک سے یہاں رہنے پر مجبور ہے۔ ان میں سے اکثریت کے پاس پیسےختم ہوچکے ہیں جبکہ یہاں کھانے پینے کی سہولیات بھی ناپید ہیں۔ افغان سیکیورٹی ادارے کسی قسم کی ویڈیو بنانے پر موبائل توڑ دیتےہیں۔ یہ ویڈیوز بنانے کے لیے بھی خرم ارشاد بھٹی کو کسی اہلکار کی غیر موجودگی کا انتظار کرنا پڑا۔



اس ضمن میں ایک منفی نوعیت کا واقعہ تب پیش آیا جب بارڈر پر افغان فورسز نے دوسری جانب پاکستانی فوج کے سامنے بارڈر کی اپنی جانب پاکستانیوں کو مارا پیٹا اور زد و کوب کرتے رہے تاہم پاکستانی حکام بشمول فوجی افسران کی جانب سے کوئی قدم نہ اٹھایا گیا۔
اہلیانِ مکالمہ اپنے پلیٹ فارم کے توسط سے حکام بالا سے اپیل کرتے ہیں کہ ان پاکستانیوں کی داد رسی کی جائے اور انہیں اپنے وطن آنے کی اجازت دے کر ان کی موجودہ مشکل آسان کی جائے۔ یہ تمام افراد وطن واپسی پر قرنطینہ کو تیار ہیں تاہم از وقت جلد سے جلد اپنے وطن واپس آنا چاہتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *