• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کورونا وائرس اور تفرقہ بازی۔۔ محمد اسلم خان کھچی ایڈووکیٹ

کورونا وائرس اور تفرقہ بازی۔۔ محمد اسلم خان کھچی ایڈووکیٹ

اللہ کے فضل و کرم اور ریاست کے بہترین انتظامات کی وجہ سے ہم اس آسمانی آفت سے لڑتے ہوئے بخیر و خوبی اپنا سفر طے کرتے جارہے ہیں اور انشاللہ رب العزت کی  رحمت سے ہم اس خطرناک فیز سے نکلنے میں ضرور کامیاب ہو جائیں گے۔ کرونا وائرس کی تباہ کاریوں سے پوری دنیا اس وقت خوف و ہراس کا شکار ہو چکی ہے لیکن ہم بحیثیت مسلمان اس بات پہ یقین رکھتے ہیں کہ اللہ رب العزت نے ہمارے ایک ایک سیکنڈ کا حساب رکھا ہوا ہے،اور اس سیکنڈ کو نہ کوئی حادثہ کم کر سکتا ہے اور نہ کوئی وبا۔۔ لیکن ہم نبی اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ کی روشنی میں اسباب کے محتاج بھی ہیں،اور یہی وجہ ہے کہ ہم توکل اور اسباب کے ساتھ ابھی تک اس وبا سے محفوظ ہیں۔ہم بحیثیت مسلمان اپنے توکل کو جتنا بھی کمزور کر لیں لیکن ہماری باطنی ایمانی طاقت ہمیشہ ہمیں طاقتور رکھتی ہے۔خوف موت کا دوسرا نام ہے جب ہم کسی بھی بات کا خوف دل میں بٹھا لیتے ہیں تو مقابل طاقت سے مقابلہ کرنے کی استطاعت سے محروم ہونے لگتے ہیں ، لیکن مسلمان جتنا بھی کمزور ہو, موت سے نہیں ڈرتا۔۔ اسے اللہ پاک کی رحمت پہ بھروسہ ہے کہ وہ اگر مر بھی گیا تو جنت الفردوس میں جگہ پائے گا  اور اس میں کوئی شک بھی نہیں۔ میرا ایمان ہے اللہ پاک کی ذات اتنی کریم ہے کہ وہ آپ کے گمان پہ آپکی آخرت کا فیصلہ کرتی ہے،جو جس گمان پہ اس دنیا سے جائے گا اسی گمان پہ ہی اس کا فیصلہ ہو گا۔اور یہی طاقت مسلمان میں جذبہ ایمانی پیدا کر کے خوف سے آزاد کرتی ہوئی کرونا وائرس کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔۔

اب اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔۔
کچھ دوست موضوع کی طوالت کا شکوہ کرتے ہیں۔ آج کوشش کروں گا کہ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے بات کو مختصر کروں۔

پہلے میں مسلمان کے ایمان اور توکل کی بات کر چکا ہوں،اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمان کے پاس ایمان اور مسجد کے علاوہ کوئی  جائے پناہ نہیں، لیکن اس کورونا وائرس کے دوران کچھ کم عقل لوگ سوشل میڈیا پہ مذہب ،مزاروں, درباروں, کو تضحیک کا نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ یہ سب کچھ کس کی  ایما پر  ہو رہا ہے۔۔ فیس بک پہ کچھ عجیب سی پوسٹ دیکھنے کو ملتی ہیں۔
کہ درباروں پہ شفا ہوتی تو بند نہ ہوتے۔۔۔۔
داتا صرف اللہ کی ذات ہے ۔۔ مقصد داتا صاحب کو نشانہ بنانا
اب مزار والے کہاں چلے گئے۔۔ صاحب مزار کی تضحیک
مشکل کشا صرف اللہ کی ذات ہے۔۔۔ حضرت علی کرم اللہ کی ذات گرامی پہ انگلی اٹھانا!

ایک طوفان ِ بدتمیزی برپا ہے ،جو لوگوں کو مغالطے میں ڈال کے ایمان  کمزور کرنے کی سازش کر رہا ہے اور جہاں تک میرا تجزیہ   ہے۔۔ کچھ لوگ ان باتوں کا اثر بھی لے رہے ہیں۔میرا ان تمام بھائیوں سے سوال  ہے کہ کب, کس وقت, کس کتاب میں کسی بزرگ ,کسی فقیر, کسی ولی اللہ نے دعویٰ کیا   کہ وہ اللہ کی تقدیر سے لڑنے کی طاقت رکھتا ہے؟۔
اگر ایسا ہوتا تو واقعہ کربلا نہ ہوتا
معصوم، پتے صحراؤں میں دربدر نہ پھرتے
فرات کے کنارے رہتے ہوئے پیاس کی شدت سے بے حال نہ ہوتے
اور 6 ماہ کے معصوم اور 18 سالہ کڑیل جوان شہید نہ ہوتے
لیکن تسلیم و رضا کی طاقت کا کمال تھا کہ سب اللہ کی تقدیر پہ راضی ہو کے اپنا سر کٹاتے چلے گئے۔۔
بات ساری تسلیم و رضا کی ہے۔ لیکن،ہمارا من حیث القوم  مسئلہ یہ  ہے کہ علم سے عاری لوگ ہیں۔قصوں, کہانیوں , پہ یقین رکھتے ہیں،اولیاء کرام کے بارے میں ہم کتابیں پڑھتے ہیں ان کی کرامات کا ذکر پڑھنے کے بعد ہم یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ولی اللہ ( نعوذ باللہ) ہر چیز پر قادر ہیں،وہ جو چاہیں  کر لیں۔
جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔اللہ کے یہ دوست تو ایک عام آدمی سے بھی زیادہ مجبور ہیں کیونکہ ان پر قانون زیادہ لاگو ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ  ان کی ذرا سی غلطی پر انہیں جھٹکا دیتا ہے کہ ان کا پاؤں زیادہ نہ پھسلنے پائے۔
قضا و قدر کے معاملات میں اولیاء اللہ کبھی دخل انداز نہیں ہوتے۔ اگر ایسا ہوتا تو کبھی انکی اولاد ان سے جدا نہ ہوتی۔۔ اولیاء اللہ اور خود پیغمبروں کی اولاد کم عمری میں بیماری کی وجہ سے ان سے رخصت ہوتی رہی۔ قضا و قدر میں کبھی ولی اللہ دخل نہیں دیتا۔ وہ بس تسلیم و رضا کا پابند ہے۔ اسی طرح ولی اللہ کبھی کسی بات کا دعویٰ نہیں کرسکتاگر وہ کوئی ایسا دعویٰ کر بھی بیٹھتا ہے تو اگلے ہی لمحے رب تعالیٰ اسے جھوٹا ثابت کر دیتا ہے۔

اسی طرح جو ولی اللہ دنیا سے چلا گیا دنیا کے روز و شب سے اسکا تعلق اور تصرف ختم ہو گیا۔۔ انتقال کے بعد وہ اس بات پہ بھی قادر نہیں کہ وہ اپنے نامہ اعمال میں اضافہ کر سکے۔ وہ اب ثواب کیلئے زندہ لوگوں کا محتاج ہو گیا کہ وہ نفلی عبادات , تلاوت کلام پاک ,فاتحہ خوانی اور صدقہ و خیرات کر کے اس کے نامہ اعمال میں درج کرا دیں۔ جو ولی اللہ وفات پا گیا اس کے دربار میں اگر کوئی شخص بیٹھا چرس پی رہا ہے تو صاحب دربار اس بات پہ قادر نہیں کہ وہ ہاتھ اٹھا کر اس شخص کو وہاں سے اٹھا دے۔
ہم کتابوں میں ان کی کرامات پڑھ کے ان کو مافوق الفطرت انسان سمجھ بیٹھتے ہیں ،ہم سمجھتے ہیں کہ چونکہ وہ ولایت کے بلند مرتبہ پہ فائز ہیں ،اس لئے ہر بات پہ قادر ہیں۔

یہ Misconception ہے۔۔ہم اگر داتا صاحب کے مزار پہ روحانی و دنیاوی فیض کے حصول کیلئے جاتے ہیں ۔وہ فیض ہمیں داتا صاحب سے نہیں،اللہ رب العزت کی طرف سے ملتا ہے۔۔
داتا صاحب کے مزار پہ کی جانے والی دعا اگرچہ رب تعالیٰ سے ہی کی جاتی ہے لیکن اس میں دو چیزیں ہمیں اضافی ملتی ہیں
ہم وہاں جاکر سلام پیش کرتے ہیں اور فاتحہ خوانی کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ جو کلام پاک میں نے تلاوت کیا ہے اسے تیرے اور تیرے حبیب صلی اللہ و علیہ و سلم کے حضور بطور نذرانہ پیش کیا۔۔ تُو اس کو قبول فرمالے اور اس کا ثواب داتا صاحب کی روح کو بخش دے۔۔اب اللہ تعالیٰ  نے اس کا ثواب ہمارے نامہ اعمال کے ساتھ ساتھ داتا صاحب کے نامہ اعمال میں بھی لکھ دیا۔ اس سے داتا صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی روح خوش ہو جاتی ہے۔ چونکہ نیک آدمی وفات کے بعد اپنے نامہ اعمال میں اپنے طور پہ کوئی کمی بیشی نہیں کر سکتا ۔جب کوئی زندہ شخص مرحوم کی روح کو ایصال ثواب کرتا ہے تو اس کی روح خوش ہو کر اللہ کی بارگاہ میں عرض کرتی ہے کہ یا اللہ ! جس شخص نے میرے نامہ اعمال میں اضافہ کیا ہے تُو اس کی بھی جائز خواہشات پوری فرمادےاور مشکلات آسان فرما۔۔ اللہ تعالیٰ چونکہ بہت حیا والا ہے اس لئے وہ اپنے بندوں کی دعائیں رَد نہیں فرماتا۔

مزار پر دعا کرنے کا دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ چونکہ جہاں رب کا ذکر ہوتا ہے وہاں ہر وقت رحمتوں کا نزول ہوتا ہے اور فرشتے اُترتے ہیں۔۔ کثرت ذکر الہی اور تلاوت سے رحمتوں کی برسات ہوتی ہے۔۔ جس طرح بارش میں لوگ سیراب ہوتے ہیں اس طرح وہاں حاضری دینے والے بھی اللہ کی رحمتوں کی بارش میں بھیگ جاتے ہیں۔۔ وہ جب وہاں دعا کرتے ہیں تو فرشتے بھی آمین کہتے ہیں۔۔
داتا صاحب کے مزار پہ جب حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ نے  چلہ کاٹا تو تب انہیں ادراک ہوا کہ داتا صاحب کا مقام بہت بلند ہے۔اسی لئے انہوں نے فرمایا۔۔
گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا
ناقصاں راپیر کامل کاملاں را راہنما
اگر آپ درباروں پہ جاتے ہیں تو کبھی محسوس کرنے کی کوشش کیجیے  کہ وہاں دو تین گھنٹے گزارنے کے بعد آپ کی روحانی زندگی پہ کیا اثر پڑا۔۔جب آپ غور کریں گے تو آپ کو ضرور محسوس ہو گا کہ آپکی روح بڑی لطیف ہو گئی۔ آپ کی بیقراری طمانیت میں تبدیل ہو گئی ہے۔ بدی نیکی میں تبدیلی ہونے لگتی ہے۔ آپ کو نماز میں سکون ملنے لگتا ہے۔کبھی بیٹھ کے فرقہ واریت سے ہٹ کے سوچیے گا ضرور۔۔کہ وہ کونسی ایسی طاقت تھی جو آپ میں تبدیلی لائی ؟
جبکہ عبادت تو آپ گھر میں بھی کرتے ہیں تو آخر اتنا فرق کیوں؟۔

آخر میں عرض کروں گا کہ داتا صاحب سے یا درباروں پہ روحانی فیض بھی ملتا ہے۔ کیوں اور کیسے؟ پھر کبھی عرض کروں گا۔

بس اتنی التجا کرتا ہوں۔ ہمارے بزرگان دین نے اسلام کی سر بلندی کیلئے بہت قربانیاں دیں۔۔ گرمی سردی بھوک پیاس برداشت کی ,بیوی بچے گھر چھوڑ کے ہزاروں میل کا سفر کرتے ہوئے یہاں آباد ہوئے۔۔ اپنی محبت اور روحانیت سے ہمارے بزرگوں کے دلوں کو منور کرتے ہوئے اسلام کی دولت سے سرفراز کیا۔ورنہ آج ہم کسی گرجا گھر, مندر یا گوردوارہ میں بیٹھ کے پوجا کر رہے ہوتے۔
خدارا! ان کی تضحیک مت کیجیے اور نہ ہی کسی ایسی پوسٹ کو فارورڈ کیجیے جس میں رتی برابر بھی کسی کی تضحیک کا عنصر شامل ہو۔اللہ رب العزت آپ کو اور آپ کے اہل خانہ کو پنی حفاظت میں رکھے۔ آمین!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *