• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کرونا ڈائریز:کراچی،کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(اٹھارہواں دن)۔۔گوتم حیات

کرونا ڈائریز:کراچی،کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(اٹھارہواں دن)۔۔گوتم حیات

میں اپنے کمرے میں لیٹا ہوا سامنے کی دیوار پر بنی کھڑکی کے بند شیشوں سے آتی ہوئی روشنی میں “کرونا ڈائریز” کی قسط نمبر “اٹھارہ” لکھ رہا ہوں۔ باہر تیز دھوپ ہے، گلی سے دو چار لوگوں کے بولنے کی ہلکی ہلکی سی آوازیں بھی آرہی ہیں، ابھی ابھی ایک  سکوٹر بھی گزری ہے، یقیناً اس پر کوئی شخص بیٹھا ہوا ہو گا، خالی  سکوٹر خود بخود چلنے سے تو رہی۔
اس وقت سہ پہر کے ساڑھے تین بج چکے ہیں۔ باہر گلی سے کوئی فقیر گزر رہا ہے۔ وہ تیز دلخراش آواز میں صدائیں لگاتا ہوا گلی کو کراس کر کے آگے بڑھ چکا ہے، لیکن اس کی صدائیں ابھی تک گلی میں گونج رہی ہیں۔۔
“اللہ تعالیٰ ہم سب کی مرادیں پوری کر دے۔۔۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی۔۔۔۔”،شاید پڑوس میں سے اس کو کسی نے کچھ نہیں دیا، میں نے بھی اس فقیر کو کچھ نہیں دیا، میں تو بس اپنے کمرے میں لیٹا ہوا اس کی صدائیں ہی سنتا رہا۔ وہ بیچارہ اب بہت دور جا چکا۔۔سبزی والے کی آواز نے اب اس فقیر کی صداؤں کی گونج کو ختم کر دیا ہے۔ سبزی والا آرام آرام سے اپنا ٹھیلا آگے کی طرف دھکیلتے ہوئے،اونچی آواز میں گاہکوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہوا گزر رہا ہے۔
برابر والے کمرے سے پنکھا چلنے کی تیز آواز آرہی ہے۔ میں اپنے کمرے کی چھت پر لگے ہوئے خاموش سے پنکھے کو دیکھتا ہوں۔ یہ پنکھا گزشتہ ڈیڑھ دو سال سے خاموش ہے، بند ہے، کیونکہ یہ پنکھا خراب ہے۔ اتنا وقت گزر گیا اور لاک ڈاؤن کے بیس، اکیس دن بھی میں نے اسی طرح، پنکھا ٹھیک کروائے بنا گرمی میں گزار دیے ہیں۔ ہر روز امّی مجھے آوازیں دے کر کہتی ہیں کہ
“عاطف۔۔۔۔ عاطف، نیچے آجاؤ۔۔۔۔ کیوں تم اس سڑی گرمی میں اکیلے بیٹھے ہو، گرمی سے طبیعت خراب ہو جائے گی۔۔۔یا تو تم اپنا پنکھا ٹھیک کرواؤ، یا نیچے آکر بیٹھ جاؤ۔۔۔ تم سُنتے کیوں نہیں۔۔؟” اور میں اُن سے کہتا ہوں؛
“امّی میں اپنی ڈائری کی قسط لکھ رہا ہوں، ہاں گرمی لگ تو رہی ہے مجھے، لیکن خیر ہے کچھ نہیں ہوتا، آپ کیوں اتنی تیز آواز میں چیخ چیخ کر اپنا گلا خراب کر رہی ہیں، مجھے آوازیں نہیں دیں، میں کام کر رہا ہوں”، گزشتہ بیس بائیس دنوں سے یہی معمول چل رہا ہے۔۔۔ امّی کا تھوڑی تھوڑی دیر بعد مجھے آوازیں دینا، اور میرا اُن کو کہنا کہ میں کام کر رہا ہوں امّی۔۔ یوں آوازیں تو نہ دیں آپ۔
گزشتہ ڈیڑھ دو سال سے میں بس رات کے چار، پانچ گھنٹے ہی بسر کرنے کے لیے گھر پر آیا کرتا تھا۔ صبح بغیر ناشتے کے گھر سے نکلنا اور پھر رات گئے تقریباً ایک، دو بجے یا کبھی کبھی تو تین بجے گھر پہنچتا تھا، نہا دھو کر اپنے کمرے میں جا کر سوجاتا، اس عرصے کے دوران میں نے پنکھے کی ضرورت کو بھی محسوس نہیں کیا۔۔۔۔ رات کے چار، پانچ گھنٹے ختم ہوتے اور میں دوبارہ صبح ہوتے ہی نہا کر باہر نکل جاتا۔۔۔
اب جو میں اس لاک ڈاؤن کی مہربانی سے گھر پر قید ہوا ہوں تو مجھے اپنے کمرے کا پنکھا ٹھیک کروانے کی ضرورت محسوس ہونے لگی ہے۔ یہ بیس، بائیس دن تو بیت گئے کیا آنے والے بیس، بائیس دن بھی اسی طرح لاک ڈاؤن میں بیت جائیں گے۔۔۔۔؟ مجھے یہ بات سوچتے ہوئے ہی وحشت ہو رہی ہے۔ کیا واقعی میں ہم آنے والے بیس، بائیس دن بھی کرونا سے ڈر کر گھر کی چار دیواری میں محبوس رہیں گے؟؟
میں گھر سے باہر نہیں جا سکتا لیکن گھر سے باہر گزارے ہوئے سہانے دنوں کو یاد تو کر سکتا ہوں۔ آج صبح سے بار بار مجھے کراچی لٹریچر فیسٹیول دو ہزار بیس کا ایک سیشن یاد آ رہا ہے۔ میں یوٹیوب پر اُس سیشن کو سرچ کرتا ہوں اور ناکام ہو کر یُوٹیوب پر ہی ایک گیت “ہمسائی ماں جئی” سننے لگتا ہوں جس کی بنیاد پر یہ سیشن منعقد کیا گیا تھا۔ امن کا یہ سہانا گیت دو بہنوں نے مل کر گایا۔ اس شاہکار گیت کو تخلیق کیا ان ہی کی ایک بہن نیلم احمد بشیر نے، یہ گیت یوٹیوب پر ریلیز ہو کر ایسا وائرل ہوا کہ پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کو پار کرتا ہوا ہمسایہ ملک ہندوستان کے طول و عرض میں پھیل گیا اور پھر دنیا کے کونے کونے میں جہاں پر پاکستانی و ہندوستانی رہتے ہیں وہاں وہاں یہ گیت سنا گیا، پسند کیا گیا اور اس گیت کو بھرپور طریقے سے سیلیبریٹ کیا گیا۔ امن کا یہ گیت کروڑوں دلوں کو ابھی بھی جھنجوڑ رہا ہے۔ انہیں اپنا سانجھا ہزاروں سالوں پر محیط تشخص یاد دلا رہا ہے جس کو گاندھی، جناح کی خونی سیاست نے 1947 میں تار تار کر دیا تھا۔
آج آزادی کے 70 سالوں بعد بھی ہم پاکستانی و ہندوستانی عوام ایک دوسرے کے لیے اپنے دلوں میں محبتوں کے دیپوں کو خونِ جگر سے جلائے اس انتظار میں اپنی زندگی کی گھڑیاں گزار رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں ایک دوسرے سے مل سکیں گے۔ ایک دوسرے کے گھروں کی چھتوں پر جا کر عید کا چاند دیکھ سکیں، دیوالی کے دیوں کو جلا کر اور ہولی کے رنگوں کو بکھیر کر حقیقی خوشیاں سمیٹ سکیں۔
ساتھیو میں اب آپ کو اُس تاریخی سیشن کی روداد سناتا ہوں۔
وہ مارچ کا مہینہ تھا۔ اُس دن بیچ لگژری ہوٹل کے گارڈن میں لوگوں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔ دن کے وقت سیشن کا آغاز ہوا اور اس کی میزبانی کے فرائض سرانجام دیے پاکستان کے باکمال ڈرامہ رائٹر “فصیح باری خان” نے۔
فصیح سے میری قربت تو فیس بُک کے ذریعے عرصے سے ہی ہے۔ اس دوران وہ کئی بار کراچی آیا لیکن بدقسمتی سے ہماری ملاقات نہیں ہو سکی۔ اس بار جب کراچی لٹریچر فیسٹیول کا شیڈیول میرے پاس آیا تو فصیح کا سیشن اٹینڈ کرنے کے لیے میں نے پہلے سے ہی تیاری کر لی تھی۔
لٹریچر فیسٹیول 2020 میں فصیح کے دو سیشن تھے، ایک میں وہ موڈیریٹر تھا اور ایک میں وہ مہمان کی حیثیت سے شرکت کر رہا تھا۔ فلم انڈسٹری پر مہمان کی حیثیت سے اُس نے جو گفتگو کرنی تھی وہ مجھے پہلے سے ہی معلوم تھی کیونکہ ہم دوست ہیں اور فلم انڈسٹری کے بارے میں فصیح کے اعلیٰ خیالات سے میری شناسائی ہے۔ اس لیے میں نے فصیح کی میزبانی میں انڈوپاک امن پر ہونے والے سیشن کو ترجیح دی۔ اس سیشن میں چاروں بہنوں (سُنبل شاہد، اسما عباس، بُشریٰ بشیر اور نیلم احمد بشیر) کے خیالات اور ان سے فصیح کے سوالات ہم سننے اور دیکھنے والوں کو جھنجوڑنے کے لیے کافی تھے۔
سیشن کی شروعات میں مجھے اگلی نشست پر باوجود کوشش کے جگہ نہیں مل سکی اور میں مجبوراً دوسری قطار کی نشست پر بیٹھ کر سیشن کی کاروائی دیکھتا رہا۔
میں نے کچھ تصاویر بھی اپنے موبائل سے بنائیں۔ جب سیشن کے اختتام پر فیض کا گیت “ہم دیکھیں گے” کو پیش کیا جا رہا تھا تو مجھے اگلی نشست پر جگہ مل چکی تھی اور میں نے وہ گیت اپنے موبائل پر ریکارڈ بھی کیا۔
امن کی ہم سب کو کتنی اشد ضرورت ہے اور ہم وہ پنچھی ہیں جو ہر بار جنگ کے بہکاوے میں لائے گئے ہیں۔ بارہا ہم لوگوں کو جنگ کے نام پر قتل کیا گیا، اپنے ہی جیسے دوسرے انسانوں سے نفرت کرنے پر مجبور کیا گیا۔
قومیتوں، زبانوں اور مذہبی بنیادوں پر تفریق کر کے ہمیں جنگ پرستی پر اُکسایا گیا لیکن کراچی لٹریچر فیسٹیول میں ہونے والا وہ سیشن اس بات کی ضمانت تھا کہ یہاں لوگوں کی کثیر تعداد جنگ سے نفرت اور امن سے محبت کرتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اس سیشن میں شرکت کرنے والوں کی تعداد قلیل ہوتی۔
سیشن کے دوران پاک و ہند تعلقات پر ہونے والی گفتگو سنتے ہوئے میری آنکھیں اشکبار ہوئیں، بہت سے لوگوں کی یہی کیفیت تھی۔ ہم جو امن کے طلب گار ہیں اور امن کا حصول ہی ہماری اولین خواہش ہے۔ مجھے کامل یقین ہے کہ ایک دن ہم امن کو حاصل کر کے رہیں گے۔
فصیح باری خان میں آج اپنی ڈائری کی یہ اٹھارویں قسط تمہارے “سیشن” کے نام کر رہا ہوں، اس امید کے ساتھ کہ تم دو ہزار اکیس کے کراچی لٹریچر فیسٹیول میں پاک و ہند امن پر ایک اور سیشن کا انعقاد کرو گے اور نیلم صاحبہ کو اس بات پر قائل کرو گے کہ وہ باہمی امن کے فروغ کے لیے نیا گیت لکھ کر پاک و ہند عوام کو مزید قریب لے آئیں۔ میری یہ بھی خواہش ہے کہ نئے تخلیق ہونے والے گیت کو بُشریٰ بشیر، اسما عباس کے علاوہ ہندوستان سے بھی گلوکارائیں مشترکہ طور پر گائیں، اس کی دُھن بھی پاک و ہند کے موسیقار مل کر ترتیب دیں اور گیت کی ویڈیو ہندوستان، پاکستان کے گلی کوچوں میں عکس بند کی جائے!!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *