پاکستانی عورتوں کے تین گروپ۔۔اسحاق تیمور

1۔ بشیراں، نزیراں گروپ:
یہ عورتیں چٹی اَن پڑھ سے لے کر پانچ چھ جماعت پاس ہوتی ہیں ۔ انہیں دنیا کے حالات اور کرونا، شرونا کچھ معلوم نہیں ہوتا ان کی دنیا شوہر بچے اور گھر ہوتا ہے۔ یہ اپنی زندگی چولہے، نلکے،کھیت  اور گھر کے کورنٹائین میں بتا دیتی ہیں ۔ ان کی سب سے بڑی عیاشی میکے جانا ہوتا ہے۔ ان کے بچے موٹے دماغ کے لیکن بہادر اور زندگی کی اونچ نیچ سے آشنا ہو تے ہیں۔ ان کے شوہر اکثر آخری عمر میں حج و عمرہ بھی کر لیتے ہیں اور حاجی صاحب کہلوانا پسند کرتے ہیں۔ اپنی زوجہ کا ذکر تریمت، زنانی، یا فقیرنی کہہ کر کرتے ہیں۔

2۔ نسرین، پروین گروپ :
یہ گروپ آٹھویں جماعت سے لے کر میٹرک, ایف اے پاس یا فیل تک ہوتا ہے یہ عورتوں کا سب سے خطرناک گروپ ہے۔ اس گروپ کی عورتیں اگر پڑوس میں کوئی نئے ڈیزائن کا فریج، کپڑے یا فرنیچردیکھ لیں تو یہ اپنے شوہر سے لڑ جھگڑ کر وہ چیز خرید لاتی ہیں۔ انکے شوہر کی آدھی تنخواہ کمیٹیوں کی نظر ہو جاتی ہے۔ موبائل کمپنیوں کے سارے پیکجز ان کو معلوم ہوتے ہیں۔ ٹی وی کے ہفتہ وار ڈرامے اور کردار ان کو اَزبر ہوتے ہیں، شوہر پرائم ٹائم میں جب ٹاک شو دیکھنے کے چکر میں ہوتا ہے لیکن اسے بچوں اور بیگم کے اس ایک فقرے پہ پسپا ہونا پڑتا ہے کہ” یہ ڈرامہ اچھا ہے”۔ ایسی عورت ٹی وی ریموٹ اور شوہر کے موبائل کو اپنی  سوکن سمجھتی ہے ۔ ان کے شوہر کی ساری زندگی بیوی کی فرمائشیں پوری کرتے گزر جاتی ہے ۔ ایسے شوہروں کا اخروی زندگی اور جنت، جہنم کا تصور بہت واضح ہوتا ہے۔ ان کے شوہر کی تفریح کا واحد وقت مسجد میں نماز پڑھنے کا ہوتا ہے، اکثر لمبے لمبے نوافل پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ ان کے بچے جب مسجد جاتے ہیں تو شلوار قمیص اور باقی وقت میں پینٹ شرٹ پہنے رکھتے ہیں۔ یہ اپنی بیوی کو دوسروں کے سامنے، بیگم، ہوم منسٹر یا جان کہہ کر پکارتے ہیں، اکثر رات کو اٹھ کر بچے کا فیڈر بھی تازہ کر رہے ہوتے ہیں۔ رات کے اس سمے ان کے ہاتھ سے اکثر برتن بھی ٹوٹ رہے ہوتے ہیں، جن کو یہ اونچی آواز میں کھانس کر دبا جاتے ہیں۔ دودھ والے سے دودھ لینا اور گرم کرنا انکے فرائض منصبی میں شامل ہوتا ہے۔ ان کے سامنے چولہے پہ چڑھا دودھ عین اس وقت ابل پڑتا ہے، جب ان کی نظریں فیسبک یا واٹس ایپ پر گڑی ہوتی ہیں۔ یہ اپنی ملازمت کے دوران ہی ایک آدھ سوزوکی کار کے مالک بھی بن جاتے ہیں اور گہرے رنگ کا چشمہ پہن کر چشم تصور میں جی ایل آئی چلاتے نظر آتے ہیں۔ اس دوران اگر کوئی تیز رفتار لگژری  گاڑی ان کے پاس سے شوں کرکے گزرے تو یہ صرف آہ بھر کر رہ جاتے ہیں۔ ایسے شوہروں کی اپنے بہن بھائیوں میں کوئی عزت نہیں ہوتی اور سسرال میں یہ سونے کی چڑیا سمجھے جاتے ہیں۔

3۔ نتاشا گروپ:
اس کو آپ عورتوں کا ایلیٹ گروپ کہہ سکتے ہیں۔ اس گروپ کی عورتیں بی اے سے لیکر پوسٹ گریجویٹ اور آگے تک پڑھ لکھ جاتی ہیں ۔ شادی کی عمر تک پہنچتے پہنچتے ان کی زندگی میں ٹھہراؤ سا آ جاتا ہے۔ یہ اکثر ورکنگ وومن ہوتی ہیں۔ ان کے شوہروں کو اکثر آپ نے دودھ ،دہی اور روٹی کی دکانوں پر پریشان حال دیکھا ہو گا۔ ایسی عورتیں بہت کم گو ہوتی ہیں۔ انکے شوہر آرام سے موبائل پہ اپنا وقت گزار سکتے ہیں اور اکثر زنانہ آئی ڈیز کی سیر کرتے نظر آتے ہیں۔یہ اپنی بیوی کو بیگم، یا میڈم کہہ رہے ہوتے ہیں۔ ایک آدھ اچھی سیکنڈ ہینڈ کار کے بھی مالک ہوتے ہیں۔ یہ دونوں میاں بیوی زندگی کے ہر معاملے میں حساس اور احتیاط پسند ہوتے ہیں۔ سالوں بعد اپنے آبائی گاؤں کا چکر لگاتے ہیں۔ اس گروپ کی عورتیں اکثر برانڈڈ گلاسز پہنے رکھتی ہیں اور ہر ایک سے اردو یا انگریزی میں بات کرتی ہیں۔ اور غریب طبقے کو بیچارہ سمجھتی ہیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”پاکستانی عورتوں کے تین گروپ۔۔اسحاق تیمور

  1. اس تحریر کے بغور مطالعہ سے اندازا لگایا جا سکتا ہے کے لکھنے والے کو کسی اچھے ماہر نفسیات کی ضرورت ہے ۔۔۔ اگر بروقت یہ ضرورت پوری نہ کی گئی تو اردگرد کے لوگ اسی طرح متاثر ہوںگے جس طرح عورت مارچ کی خواتین سے متاثر ہے ۔۔۔۔۔ پتہ نہیں کہا سے ایسی فضول تفریق کرنے والی سوچ ہمارے معاشرے میں آگئی۔ ۔۔ بندر کے ہاتھ میں ماچس ہو یا جاھل کے پاس زبان ۔۔ آگ تو دونوں طرف لگتی ہے۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *