• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • جہانگیر ترین بمقابلہ عمران خان۔ اقتدار کے سنگھاسن پر قبضہ کے لئے فائنل راؤنڈ کی تیاری۔۔ غیور شاہ ترمذی

جہانگیر ترین بمقابلہ عمران خان۔ اقتدار کے سنگھاسن پر قبضہ کے لئے فائنل راؤنڈ کی تیاری۔۔ غیور شاہ ترمذی

اسلام آباد کی غلام گردشوں میں زوردار افواہ  گردش کر  رہی ہے کہ اپوزیشن جماعتوں اور جہانگیر ترین کی جانب سے شامل کروائے ہوئے تحریک انصاف کے ناراض اراکین کی ایک قابل ذکر تعداد کی طرف سے ممکنہ تحریک عدم اعتماد کا راستہ روکنے کے لئے وزیراعظم عمران خاں نے اسمبلیاں توڑنے کا   مشورہ  صدر مملکت عارف علوی کے پاس پہلے ہی جمع کروا دیا  ہے- واضح رہے کہ اگر وزیر اعظم تحریک عدم اعتماد پیش کرنے سے پہلے ہی اسمبلیاں توڑنے کی سفارش صدر مملکت کو بھجوا دے تو تحریک عدم اعتماد غیر مؤثر ہو جاتی ہے- بتایا گیا ہے کہ عمران خان نے اسمبلیاں توڑنے کی ایڈوائس اس شرط کے ساتھ صدر مملکت کو بھیجی ہے کہ اگر اپوزیشن جماعتوں اور تحریک انصاف کے ناراض اراکین کی طرف سے ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جائے تو صدر مملکت اپنے پاس پہلے سے موجود وزیر اعظم کی ایڈوائس پر اسمبلیاں توڑنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیں- یہ تو آئینی ماہرین ہی بتا سکتے ہیں کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ صدر مملکت کے پاس یہ اختیار ہو کہ وہ وزیر اعظم کی بھیجی اسمبلیاں توڑنے کی ایڈوائس کو اپنے پاس بطور ایک ہتھیار کے اس وقت تک محفوظ رکھ سکے جب تک اپوزیشن کی طرف سے تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی کے سپیکر کے پاس جمع کروانے کی کوشش نہ کی جائے اور جیسے ہی یہ کوشش ہو، اس سے پہلے ہی اسمبلیاں توڑنے کے نوٹیفکیشن پر صدر مملکت دستخط کر دیں- کیا وزیر اعظم کی اس ایڈوائیس پر فوری عمل کرنا ضروری ہوتا ہے یا اس ایڈوائیس کو بطور ایک حفاظتی ٹول کے استعمال کرنے کی آئینی گنجائیش موجود ہے۔اس ضمن میں باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اسمبلیاں توڑنے کے لئے وزیر اعظم کی ایڈوائیس یقیناً  صدر مملکت کے پاس موجود ہے مگر اس پر نہ تو کوئی تاریخ درج ہے اور نہ ہی صدارتی دفتر میں اس کی وصولی کا ریفرینس نمبر اور وصولی کی تاریخ جاری کی گئی ہے۔ اپوزیشن کی طرف سے جیسے ہی تحریک عدم اعتماد سپیکر قومی اسمبلی اور سیکریٹری قومی اسمبلی کے پاس جائے گی تو اُسے وصول کرنے میں تب تک تاخیری حربے استعمال کیے جائیں گے جب تک وزیراعظم زبانی احکامات پر صدارتی دفتر کو اسمبلیاں توڑنے کی ایڈوائیس پر عمل درآمد شروع نہیں کروا دیتے۔ دوسری طرف اپوزیشن راہنماؤں کی طرف سے کاؤنٹر سٹریٹیجی کے طور پر وزیراعظم کی ایڈوائیس پر اسمبلیاں توڑنے کے خلاف سپریم کورٹ میں رٹ پٹیشن داخل کر دی جائے گی جہاں سے فیصلہ اگر اپوزیشن کے حق میں آتا ہے تو اسمبلیاں بحال ہو جائیں گی اور وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد منظور کروا لی جائے گی۔

کالم نگار:غیور شاہ ترمذی

عمران خاں اور جہانگیر ترین میں سپریم کورٹ سے مؤخرالذکر کی تاحیات نااہلی کے بعد پیدا ہونے والی مایوسی سے شروع ہونے والی رنجش اور مایوسی کو تقریباً 3 مہینے پہلے اُس وقت تیز ایندھن میسر ہوا جب وزیراعظم عمران خاں کی موجودگی میں اُن کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خاں نے جہانگیر ترین کی طرف سے بیوروکریسی کی کچھ اہم پوسٹنگ میں نوٹیفکیشن جاری کرنے سے انکار کرتے ہوئے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ ایک وقت میں دو وزیراعظم نہیں ہو سکتے۔ وہ عمران خاں کی موجودگی میں خود ساختہ متوازی وزیراعظم (جہانگیر ترین) کے احکامات اور سفارشات نہیں مانیں گے۔ البتہ اگر خود عمران خاں ان پوسٹنگز کے لئے انہیں آرڈر کردیں تو وہ ابھی نوٹیفکیشن جاری کر دیتے ہیں۔ جہانگیر ترین کو اعظم خاں کی طرف سے عمران خاں کی موجودگی میں اس طرح کے جواب کی خواب میں بھی توقع نہیں تھی۔ عمران خاں اس موقع پر خاموش تھے اور انہوں نے یہ کہہ کر بات ٹال دی کہ وہ اس موضوع پر بعد میں بات کریں گے جو کبھی نہ ہو سکی۔ واقفانِ حال کہتے ہیں کہ عمران خاں کو یہ احساس ہو چکا تھا یا کروا دیا گیا تھا کہ جہانگیر ترین کو تحریک انصاف میں شامل کروائے اُن 60% ممبران قومی اسمبلی اور ممبران پنجاب اسمبلی سے اپنے تعلقات کا بہت زعم ہے جو صرف جہانگیر ترین کی کوششوں کی وجہ سے تحریک انصاف میں شامل ہوئے اور جو اُن کے کہنے پر کچھ بھی کر گزرنے کو تیار ہو جائیں گے۔ اعظم خاں کے ان کمنٹس کے بعد جہانگیر ترین کو یہ محسوس ہوا کہ عمران خاں اب اپنے دوسرےسابقہ ساتھیوں اکبر ایس بابر، صحافی ہارون الرشید، امان اللہ پراچہ کی طرح اُن سے اپنا پنڈ چھڑوانے کے چکر میں ہیں۔

وزیراعظم عمران خاں کو جہانگیر ترین کے علاوہ گجرات کے چوہدری برادران سے بھی بہت زیادہ شکوہ شکایات ہیں اور خصوصا‘‘ وہ چوہدری پرویز الہی کو سخت ناپسند کرتے ہیں جنہوں نے مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنے کے دوران یہ انکشافات کیے کہ مولانا کے دھرنے کو اسلام آباد سے واپس بھجوانے کے لئے کچھ وعدے وعید کیے گئے ہیں جن کو مناسب وقت پر پورا کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ چوہدری پرویز الہیٰ نے یہ بھی کہا کہ تحریک انصاف کے ممبران پارلیمنٹ میں 60% اراکین پارلیمنٹ اُن سیاسی خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں جو مسلم لیگ قاف کا حصہ رہے مگر آئی ایس آئی چیف جنرل شجاع پاشا نے انہیں بزور تحریک انصاف میں شامل کروایا۔ دوسری طرف چوہدری برادران کا کہنا ہے کہ جب گزشتہ انتخابات سے پہلے حکومت بنانے کے لئے چیئرمین تحریک انصاف عمران خاں اور مسلم لیگ قاف کے چوہدری شجاعت، چوہدری پرویز الہیٰ میں جہانگیر ترین نے اسلام آباد میں واقع اپنے گھر میں مذاکرات کروائے تھے تو جن وزارتوں کا وعدہ کیا گیا تھا، وعدہ کے مطابق انہیں یہ وزارتیں نہیں دی گئیں بلکہ عمران خاں نے چوہدری برادران کے اصرار کے باوجود بھی چوہدری مونس الہی کو وزارت دینے سے انکار کرتے ہوئے چوہدری شجاعت کے بیٹے کو وزارت کی پیش کش کی اور کہا کہ وہ چوہدری مونس الہٰی کو اس لئے وزیر نہیں بنانا چاہتے کیونکہ اُن پر کرپشن کے بہت زیادہ الزامات ہیں جبکہ چوہدری شجاعت کے فرزند کا ریکارڈ اس حوالہ سے ٹھیک ہے۔ اس کے علاوہ پچھلے سال چوہدری شجاعت کی صحت بہت خراب ہوئی اور وہ علاج کے لئے جرمنی چلے گئے۔ وطن واپسی اور جرمنی قیام کے دوران پاکستان کے تمام سیاستدانوں نے اُن کی عیادت کی یا اُن سے فون پر رابطے رکھے۔ صرف ایک سیاستدان جس نے فون پر بھی چوہدری شجاعت کی عیادت کرنی مناسب نہیں سمجھی وہ وزیر اعظم عمران خاں تھے۔ چوہدری برادران مرنجاں مرنج شخصیت ہیں اور وہ کبھی بھی سیاسی اختلافات کو ذاتی اختلافات بنانا مناسب نہیں سمجھتے۔ اپنے شدید سیاسی مخالفین کے ساتھ بھی وہ مناسب حد تک رواداری کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خاں کی جانب سے چوہدری شجاعت کی بیماری میں عیادت نہ کرنے کو چوہدری برادران نے انتہائی برا محسوس کیا اور اس کا شکوہ وہ کئی دفعہ جہانگیر ترین سے کرتے رہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خاں کو سرکاری ایجنسیوں نے اس بات کی رپورٹ پہنچائی ہے کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ چوہدری پرویز الہیٰ کو نہ دئیے جانے کے خلاف پیدا ہونے والی رنجش کی وجہ سے چوہدری برادران نے مولانا فضل الرحمنٰ کے احتجاجی مارچ اور دھرنے کو خفیہ طور پر آرگنائز کروایا۔ اگرچہ چوہدری برادران اس الزام کی صحت سے انکار کرتے ہیں مگر وزیراعظم عمران خاں خفیہ اداروں کی طرف سے ملی رپورٹوں کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔ چوہدری برادران اور وزیراعظم عمران خاں کے درمیان جاری ان جیسی رنجشوں کے عین بیچ جہانگیر ترین کے خلاف حالیہ شوگر سکینڈل تحقیقات میں جب چوہدری مونس الہیٰ کا نام بھی آیا تو اسے بھی چوہدری برادران نے انتقامی کارروائی اور خود پر ذاتی حملہ قرار دیا۔ اپنے اوپر لگے الزام کا جواب دیتے ہوئے چوہدری مونس الٰہی نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ میرا رحیم یار خان شوگر مل کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں، صرف بالواسطہ شیئر ہے جبکہ چینی کی قومی برآمدات میں رحیم یار خان شوگر مل کا حصہ صرف 3.14 فیصد ہے۔ آج سے تقریباً  3 مہینے پہلے چوہدری مونس الہیٰ میڈیا میں انٹرویو دے چکے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات میں انہیں ایسا لگا کہ شاید وہ انہیں پسند نہیں کرتے، اس لئے وہ کابینہ میں شامل نہیں ہونا چاہتے۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی کے بیٹے مونس الہی کا کہنا تھا کہ ق لیگ تب تک تحریک انصاف سے اتحادختم نہیں کرے گی جب تک پی ٹی آئی والے ق لیگ کو دھکے مار کر الگ نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان سے یکم جنوری کو ہونے والی ملاقات میں کہہ دیا تھا کہ وہ وفاقی وزارت میں دلچسپی  نہیں رکھتے کیونکہ اس بات کی کوئی تُک ہی نہیں بنتی کہ وہ ایک ایسی ٹیم کا رکن بن جائیں جس کا لیڈر اُن سے سے مطمئن نہیں ہو۔

وزیر اعظم عمران خاں کو مائینس کر کے ایک متفقہ قومی حکومت بنانے کے اس سارے سنسنی خیز ڈرامہ میں نئی جان اس وقت پیدا ہوئی جب اپوزیشن لیڈر شہباز شریف وطن واپس آئے- ان کی واپسی کے وقت تک تحریک انصاف کے بڑوں میں آپس میں اختیار اور کرسی کے لئے ناقابل عبور خلیج حائل ہو چکی تھی۔ چوہدری برادران کو کئی سیاسی حلقوں کی طرف سے یہ حمایت حاصل ہے کہ اگر وہ پنجاب کی وزارت اعلی میں تبدیلی کے لئے ان ہاؤس تحریک لائیں تو انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا- چوہدری برادران کی ان کوششوں میں تحریک انصاف کے ناراض اراکین بشمول جہانگیر ترین اور ان کا گروپ بھی شامل ہیں- جہانگیر ترین کے گروپ میں پاکستانی سیاست کے تقریباً  اُن 200 سیاستدان فیملیز کے ایسے ممبران پارلیمنٹ شامل ہیں جو ہر دور میں آنے والی حکومت کا حصہ بنتے رہتے ہیں۔ ہر حکومت میں ان سیاستدانوں کے شامل ہونے کے مقاصد میں اقتدار کے مزے لوٹنے کے علاوہ پچھلے دور اقتدار کے دوران کی گئی اپنی مبینہ بدعنوانی پر پردہ ڈالنے کے مقاصد بھی شامل ہوتے ہیں۔

زیادہ دور نہیں جاتے مگر سنہ 2002 ء کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے 140 اراکین اسمبلی ایسے تھے جنہوں نے اپنی مبینہ بدعنوانیوں کو پردہ غیب میں رکھنے کے لئے مسلم لیگ (ق) میں شمولیت اختیار کر لی۔ اس دوران جنرل پرویز مشرف کی حکومت تھی اور انہوں نے قومی ادارہ احتساب (نیب) کا سارا استعمال پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے خلاف ضرور کیا مگر اپنی صفوں میں شامل ہونے والے 140 اراکین کے معاملات پر کسی نے انکوائری اور تفتیش تک بھی نہیں کی۔اسی طرح سنہ 2008 ء میں بھی فصلی بٹیروں کی ایک کثیر تعداد یعنی 89 اراکین اسمبلی نے مسلم لیگ (ق) کو چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ پیپلز پارٹی حکومت کا یہ دور اس حوالہ سے منفرد رہا کہ اس دوران وہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے طویل ایکسٹرا جوڈیشل ایکٹوازم کا شکار رہے اور حکومت نے اپوزیشن کے خلاف انتقامی کارروائیوں اور بدعنوانی کے الزامات کی تفتیش کو شہہ نہیں دی۔ ان فائدہ اٹھانے والوں میں وہ 89 اراکین اسمبلی بھی شامل تھے جو حکومت کے ساتھ اُس وقت شامل ہوئے تھے۔ سنہ 2013 ء کے انتخابات میں 121 سیاستدانوں کے ایک بڑے گروپ نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ق) کو خیر آباد کہا اور اکثریت نے دوبارہ مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کر لی جبکہ ایک قابل ذکر تعداد نے اقتدار کے ایوانوں میں نئی جگہ بنانے والی تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ آخری الیکشن یعنی سنہ 2018 ء کے انتخابات بھی سیاسی وفاداریاں بدلنے کے حوالہ سے محفوظ نہیں رہ سکے اور تحریک انصاف کے دامن میں اب اُن سیاستدانوں کے مشہور ٹولے  کی واضح اکثریت موجود ہے جو ہر دور میں حکومت کا حصہ رہی ہے۔ ان سیاستدانوں کو تحریک انصاف میں شامل کروانے کے لئے جہانگیر ترین کا اہم ترین کردار ہے اور اس کا وہ اکثر و بیشر اظہار بھی کرتے رہتے ہیں۔

تحریک انصاف کے ذرائع کہتے ہیں کہ اپوزیشن جماعتوں، جہانگیر ترین گروپ اور مسلم لیگ ق کی موجودہ حکومت کو ڈی سٹیبلائز کرنے کی ان کوششوں کو کامیابی نہیں ملے گی کیونکہ وہ خود بھی ایک پیج پر اکٹھے نہیں ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اگر وزیراعظم عمران خاں یا وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو ہٹانے کی کوئی کوشش کی گئی تو تحریک انصاف اپنے پتے میدان میں لے آئے گی جن میں بڑی اپوزیشن پارٹیوں کے اُن ممبران پارلیمنٹ کے فارورڈ بلاک بھی شامل ہیں جن کا سیاسی پنڈت سوچ بھی نہیں سکیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پچھلی دفعہ جب متحدہ قومی موومنٹ کے وزیراعظم عمران خاں سے اختلافات ہوئے تو وزیر اعظم کراچی کے دورہ کے دوران اُن سے ملے بھی نہیں بلکہ اسی دوران جب وہ لاہور آئے تو انہوں نے چوہدرہی برادران سے بھی ملاقا ت نہیں کی۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے جب کراچی میں ناراض متحدہ قومی موومنٹ کے دفتر میں اُن سے ملاقات کی تو اگلے ہی دن پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے ساتھ مسلم لیگ نون کے 20/22 ممبران صوبائی اسمبلی کی ملاقات کروا کے نون لیگی قیادت کے مریم نواز دھڑے کو واضح پیغام دے دیا گیا کہ ایسی کوئی بھی کوشش اس لئے ناکام ہو گی کہ تحریک انصاف کے پاس اپنے نمبرز اپوزیشن جماعتوں میں ممکنہ فارورڈ بلاک کی صورت میں مکمل ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وزیراعظم عمران خاں اور تحریک انساف کو اپوزیشن جماعتوں اور جہانگیر ترین کی ناراضگی سے کچھ فرق نہیں پڑے گا۔

اس ساری صورتحال پر نظر دوڑانے سے یہ بات عیاں ہے کہ کورونا وائرس سے ہونے والی اس عالمی جنگ کے دوران بھی اسلام آباد کی غلام گردشوں میں کوششیں لوگوں کی جانیں بچانے کی بجائے اقتدار کے سنگھاسن پر قبضہ جمائے رکھنے پر زیادہ مرکوز ہیں۔ اس موذی بیماری سے لڑنے کے لئے عوام کو تنہا چھوڑ دیا گیا ہے اور لاک ڈاؤن کے ذریعہ اگر عامۃ الناس قدرت کی مہربانی سے خود ہی بچ گئی تو ٹھیک وگرنہ جو قدرت کی مرضی کہہ کر اپنی ذمہ داریوں سے جان چھڑوا لی جائے گی۔ ساری دنیا میں حکومتیں اور اپوزیشن جماعتیں اپنے لوگوں کی جان بچانے پر صرف کر رہی ہیں جبکہ ہمارے یہاں آج بھی لوگ نہیں بلکہ کرسی اور سیاست اہم ہے۔ ان ظالم حکمرانوں سے کوئی تو ہو جو جا کر کہے کہ لوگ بچیں گے تو تم حکومت کر سکو گے۔ اگر لوگ ہی نہ رہے تو یہ حکومت اور اقتدار کس پر کرو گے؟۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”جہانگیر ترین بمقابلہ عمران خان۔ اقتدار کے سنگھاسن پر قبضہ کے لئے فائنل راؤنڈ کی تیاری۔۔ غیور شاہ ترمذی

  1. شاہ جی آپ کے کالم کا لب لباب یہ سمجھ آیا ہے کہ پاکستان کی 20، 22 کروڑ عوام کے ساتھ کھلواڑ اصل میں جہانگیرترین نے کیا ہے، عمران خان کے لیے دھرنے اور جوڑ توڑ کی خریدوفروخت کر کے

  2. جی ملک صاحب ،،، میرے کالم میں جو بیان کیا گیا ہے وہ خود جہانگیر ترین کے دعوؤں اور عمران خاں کی طرف سے ان خدمات کے اعتراف کی روشنی میں ہی عرض کیا ہے ۔۔۔۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *