کائنات کا اصل دِل۔۔محسن علی خان

آج کل موسم بہت خوشگوار ہے، ایسا محسوس ہو رہا ہے  جیسے سارے موسم سمٹ کر ایک ہی دن میں سما گئے ہیں۔ رات میں خنکی اور ٹھنڈ کی آمیزش ہے، صبح بہار نو کی طرع سانس لیتی ہے، سورج چڑھتا ہے تو بہار مزید روشن ہو جاتی ہے۔ دوسرے پہر میں کچھ گرمی اپنا رنگ دِکھاتی ہے۔ چوتھے پہر میں خزاں کی طرع چلتی ہوا میں درختوں کے پتوں کی بجاۓ مختلف رنگوں کے پتنگ آسمان پر بکھرے ہوۓ ہیں۔ نیلے سائبان کے  نیچے یہ پتنگیں  زِگ زیگ بناتے اونچائی کی طرف رواں دواں، دلکش سماں باندھے ہوۓ ہیں۔ جیسے ہی سورج سارے دِن کی تھکان اتارنے کے لئے اپنے بستر پر جاتا ہے ساتھ ہی سہانی شام اپنا جلوہ دکھاتی ہے۔ شام کا جلوہ ختم کرنے کے لئے چاند میدان میں اُترتا ہے۔ اپنی چاندنی کے پر پھیلا کر اس زمین کے باسیوں کو اپنی آغوش میں لے لیتا ہے اور اپنی خوبصورتی دکھانے کے لئے اپنے اردگرد ایک روشنی کا ہالہ بھی بناتا ہے جس کو مُون رِنگ کہا جاتا ہے۔ کچھ اس کو مذہب سے جوڑتے کچھ سائنس سے، ہم اس کو چوکور کے عشق سے تشبیہ دے سکتے، جو چاندنی کی طلسماتی کشش کے سحر میں گرفتار ہو کر چاند کو حاصل کرنے کے لئے کبھی نہ ختم ہونے والی اُڑان بھرتا ہے۔

سات اور آٹھ اپریل کی شب کو تو سپر پِنک مُون کا نظارہ بھی دیکھنے کو ملا ہے۔ اپریل کا سپر پنک مون لاک ڈاؤن میں دنیا کے بڑے مذاہب سے خاص نسبت لے کر آیا ہے۔ اسلام“ شب برأت“ کی نسبت، کرسچین“ ایسٹر “کے تہوار کی نسبت، یہودی“ پاس اوور“ کی نسبت اور ہندوازم“ ہنومان کی پیدائش“ کے مذہبی تہوار منا رہے ہیں۔ سوشل ڈسٹنس کی زد میں آنے کی وجہ سے سب مذاہب کی عبادات بھی سمٹ کر گھروں تک محدود ہو چکی ہیں۔ آنے والے مہینوں میں اگر وائرس کا پھیلاؤ قابو میں نہ آسکا تو دنیا میں بسنے والے مسلمانوں کے لئے مذہبی نقطہ نظر سے زیادہ مشکل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ رمضان جیسے بابرکت مہینے میں مساجد میں تعداد زیادہ ہو جاتی اور تراویح یا عمرہ کی ادائیگی بھی متاثر ہو سکتی ہے ۔ خصوصاً دو بڑے عیدین کے تہوار اور حج جیسے مقدس عمل میں لاکھوں فرزندان اسلام کی شمولیت سے محرومی ایک بہت بڑی آزمائشی صورتحال ہو گی۔

لاک ڈاؤن میں پولیس کی مصروفیت سے فائدہ اٹھاتے ہوۓ ملک بھر میں آج کل پتنگ بازی اپنے عروج پر ہے۔ گھر میں محصور ہونے کی وجہ سے پچھلے بیس دن سے لگاتار عصر سے مغرب چھت پر گزارنے کا عمل جاری ہے۔ بچپن کے جوانی کے کچھ دنوں میں ایسے روز چھت کا چکر لگتا تھا۔ ہمساۓ میں نوجوان پتنگ اڑانے میں مصروف ہو گئے۔ سب سے پہلے کَنی دلانے کا عمل ہوا جو کہ نسبتاً ایک لمبے قد کے نوجوان کے حصہ میں آیا تاکہ پتنگ جلدی ہوا کی لہروں سے لپٹ جاۓ۔

یہ ایک نارنجی رنگ کا مناسب سائز کا پتنگ تھا جس کی دُم کا رنگ بنفشی تھا۔ جب پتنگ کافی بلندی تک پہنچ چکا تو سورج کی سنہری کرنیں بھی پتنگ کے رنگ کو مزید ابھار دے رہیں تھیں، ہو سکتا ہے اس بات کی بحث میں ہوں کہ کس کا رنگ زیادہ دیدہ زیب لگ رہا ہے۔ ایک تین رنگوں والے پتنگ سے مڈ بھیڑ بھی ہوئی جو کافی دیر تک جاری رہی۔ اس پتنگ میں دو حصے بالترتیب سفید اور نیلے رنگ کے تھے لیکن اوپر ترچھے انداز میں چی گویرا کی ٹوپی کے سٹائل میں کالا رنگ تھا۔لیکن وہ زیادہ مزاحمت نہیں کر سکا، اس لئے میں اس کو دیا گیا چی گویرا کیپ کا ٹائٹل واپس لے لیا۔

اسی طرع ایک سفید رنگ کا پتنگ بھی اس کے سامنے نہیں ٹھہر سکا۔ ہوا متوازن تھی اس لئے پتنگ ہوا میں معلق ہو کر اٹھکلیاں کر رہا تھا لیکن جس کے ہاتھ میں اس پتنگ کی ڈور تھی اس نے واپس اتارنا شروع کر دیا۔ میرے استسفار پر کہ پتنگ تو اپنے حریفوں کو آسمان سے زمین کی راہ دکھا رہا تھا پھر کیوں اس کو اتارا جا رہا  ہے تو پتہ چلا اس کا کنٹرول اور اعتدال ختم ہو رہا تھا اس کو اگر اتارا نہ گیا تو اس نے مسلسل ایک طرف جھکنے کی وجہ سے بے قابو ہو جانا ہے۔ اب اس کو اتار کر پہلے اس کا ویٹ بیلنس سیٹ کیا جاۓ گا پھر دوبارہ اس کو آسمان کی طرف رواں دواں کر دیا جاۓ گا۔

اب ہم اگر اپنے آپ کو بشمول اس پوری دنیا کے ایک پتنگ تصور کریں۔ ہم آسمان کی بلندیوں کو ترقی کے راستے چھو رہے تھے۔ راستے میں آنے والے بڑے سے بڑے ناممکن چیلنجز ہمارے ہاتھوں کٹ کر بکھر رہے تھے۔ ہم پہاڑوں سے ٹکرا کر ان کو سنگ ریزوں میں بدل رہے تھے، دریاؤں کے رُخ بدل رہے تھے، بادلوں کو دھکیل کر مصنوعی بارشیں برسانے کے کامیاب تجربات کی دہلیز پر کھڑے تھے۔ جس کی ہاتھ میں ہماری ڈور ہے، وہ اس ڈور کو ڈھیلا چھوڑی جا رہا تھا اور ہم اپنے مرکز سے جڑے رہنے کی بجاۓ بے قابو ہوتے جا رہے تھے۔ اب ڈور والے کی مرضی تھی کہ ہمیں اپنی جانب سرے سے کاٹ دے اور ہمیں آزاد ہو جانے دیتا، لیکن یہ آزادی بہت جلد اختتام سفر کی طرف لے جاتی۔ دوسرا یہ تھا کہ ہمیں بڑی نفاست سے واپس اُتار لیا جاتا، دوبارہ ہماری ڈھیلی تلاویں کو گانٹھ دی جاتی، ہماررا ویٹ بیلنس سیٹ کیا جاتا، کنی بیلنس کی جاتی، ہمیں تازہ دم کر کے دوبارہ آسمان کی بلندی ماپنے کے سفر پر روانہ کیا جاتا۔ کرونا وائرس کے پیش نظر جو تنہائی ملی ہے یہ دراصل ہمیں نفاست سے اتارا گیا ہے، ہمارے مالک نے ڈور کاٹی نہیں ہے، واپس زمین پر اتارا ہے تاکہ ہم دوبارہ وہی سوال کر سکیں جو علامہ محمد اقبال نے پیام مشرق میں کیے تھے۔

بہ بحر رَفتَم و گُفتَم بہ موجِ بیتابے
ہمیشہ در طَلَب استی چہ مشکلے داری؟
ہزار لُولُوے لالاست در گریبانَت
درونِ سینہ چو من گوھرِ دِلے داری؟
تَپید و از لَبِ ساحِل رَمید و ہیچ نَگُفت

سمندر کی بل کھاتی لہریں، آپس میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے میں الجھتی ہوئی، طلاطم خیزی اور بے تابی کو جب میں نے دیکھا تو اس سے پوچھا، اے بلند ہوتی لہر آخر تجھے کس منزل کی طلب ہے جو تو مشکل میں رہتی ہے۔ تیرا گریبان تو روشن ہے، تو اس میں ان گنت بیش قیمت موتی چھپاۓ ہوۓ ہے۔ ایک بات بتا، کیا تیرے گریبان میں وہ گوہر نایاب بھی ہے جو میرے گریبان میں ہے“ میرا دِل“ وہ تڑپ اٹھی، اس نے اپنی ہی لہروں سے اپنے ہونٹوں کو سی لیا، ساحل سے دُور ہوتی چلی گئی۔ اور کچھ نہ کہا۔

بہ کوہ رَفتَم و پُرسیدَم ایں چہ بیدردیست؟
رَسَد بگوشِ تو آہ و فغانِ غم زدئی؟
اگر بہ سنگِ تو لعلے ز قطرۂ خون است
یکے در آ بَسُخن با مَنِ ستم زدئی
بخود خَزید و نَفَس در کَشید و ہیچ نَگُفت

میں نے پہاڑ کی بلندی کو دیکھا اور اس سے پوچھا، تو اتنا بلند ہو چکا ہے کیا تو کسی کی سسکیاں، آہیں سن سکتا ہے، کسی کے غم کی داستان سن سکتا ہے۔ مجھے پتہ ہے تو اپنے اندر قیمتی پتھر چھپاۓ ہوۓ ہے، تیرے پاس زمرد، یاقوت سرخ، قرمز و قبود،عقیق، آنگشتر نقرہ اور فیروزہ ہیں۔ لیکن کیا تیرے پاس میرے دل جتنا قیمتی کوئی لعل بھی ہے۔ اگر ہے تو مجھ سے بات کر کیونکہ میں ستم زدہ ہوں۔
پہاڑ نے ایک لمبی گہری سانس لی اور اپنے آپ کو اپنی بلندی میں چھپا لیااور کچھ نہ کہا۔

رَہِ دَراز بَریدَم ز ماہ پُرسیدَم
سَفَر نصیب، نصیبِ تو منزلیست کہ نیست
جہاں ز پرتوِ سیماے تو سَمَن زارے
فروغِ داغِ تو از جلوۂ دلیست کہ نیست
سوئے ستارہ رقیبانہ دید و ہیچ نَگُفت

چاند سے پوچھنے کے لئے میں نے چوکور کی طرع لمبا سفر کیا اور اس سے کہا تو بھی ہر دم مسافر ہے، محو سفر رہتا ہے، کیا کسی منزل کی تلاش میں ہے، بتا تو سہی تیری کوئی منزل ہے بھی یا نہیں۔ تو نے اس پورے جہاں کو اپنی چاندنی سے حسین سمن زار بنایا ہوا ہے۔ یہ جو تیرے اندر ایک نشان ہے کیا یہ تیرا دل ہے۔
چاند نے رقیب کی نظروں سے ستارے کی طرف دیکھا اور کچھ نہ کہا۔

شُدَم بَحَضرَتِ یزداں گُذَشتَم از مہ و مہر
کہ در جہانِ تو یک ذرّہ آشنایَم نیست
جہاں تہی ز دِل و مُشتِ خاکِ من ہمہ دل
چَمَن خوش است ولے درخورِ نوایَم نیست
تَبَسّمے بَلَبِ اُو رَسید و ہیچ نَگُفت

چاند کے سفر کے بعد میں سورج سے بھی گزرا اور سیدھا اس کائنات کے مالک خدا کے حضور پہنچا۔ اے میرے خوبصورت مالک تیرا جہاں حسین ہے، میں سمندر، پہاڑوں اور چاند تک کا سفر کیا ہے۔ تیری کائنات کا ایک بھی ذرہ میرا آشنا نہیں تھا۔ تیرے جہاں میں دل نہیں ہے اور میں تو خاک ہوں لیکن میں پورے کا پورا دِل ہوں۔ تیری بنائی ہوئی دُنیا ایک رنگ و خوشبو سے بنا ہوا چمن بہت دلکش نظاروں سے بھرا ہوا ہے۔ لیکن یہ میری نوا کے لائق نہیں کیونکہ میرا تو کوئی اس کائنات میں ہم زباں نہیں ہے۔
پروردگار نے مسکرا کر مجھے دیکھا اور کچھ نہ کہا۔

لاک ڈاؤن کی تنہائی میں پھر ہم سب اگر یک زبان ہو کر کہیں کہ اے پروردگار، تیری دنیا ہے تو بہت ہی حسین لیکن اس کا اصل دل تو ہم انسان ہیں۔ اب اگر آپ دل کو ہی تنہا کر دیں گے تو باقی دنیا کا حسن بھی مانند پڑ جاۓ گا۔ ہو سکتا ہے کہ ہماری اس فریاد کا جواب آ جاۓ کہ ‏کچھ دن بعد ساری دنیا کھلی فضاوں میں ہو گی، ہر طرف بہار ہو گی اور یہ گلشن پھر مہکے گا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *