غلام باغ۔۔۔ایک تاثر/داؤد ظفر ندیم

مرزا اطہر بیگ کا ناول غلام باغ ایک عجیب سی تکرار اور بعض جگہ ہذیان کے غیر ضروری بیان کے باوجود ایک زبردست ناول ہے اس ناول کو اردو کے شاہکار ناولوں میں جگہ نہ بھی دی جائے تو بھی یہ اردو کا ایک انتہائی عمدہ ناول ہے۔ اس نے مجھے کئی جگہ اپنا اسیر بنائے رکھا۔ کبیر مہدی کا لاابالی پن، دوسروں کو تنگ کرنے والی فقرے بازی اور لاپراہی، کے علاوہ اس کا ایک غیر معمولی ناول لکھنے کا عزم، کرائے کا ادیب، فرضی ناموں سے مختلف جگہوں پر مختلگ موضوعات پر متضاد نقطہ نظر سے لکھنا اور ہاف مین کا ایک عجیب سرشاری والا کردار زہرہ کا غیر معمولی کردار، یاور عطائی کا کردار اور مانگڑ جاتی کے بارے میں بیان، سدا کی ذلالت سے اوپر اٹھنے کی خواہش، اساطیر، آثار قدیمہ، نفسیاتی الجھنوں اور ماورائی چیزوں کو ملایا نہیں گیا بلکہ کہانی میں آٹے کی طرح باقاعدہ گوندھا گیا ہے۔

ایک طرف مردانہ پن اور بوڑھوں کی دوبارہ جوان ہونے کی خواہش، جوان ہونے کی ادویات استعمال کرنے والوں کا ایک باقاعدہ کلب اور ان کے سماجی رابطے۔ اور دوسری طرف آثار قدیمہ سے کچی بچی وابستگی، اس کی طرف سے بے توجہگی اور برباد ہوتے ہوئے آثار، نوادرات کی لوٹ مار، دوسری چٹا سائیں مقامی سطح پر روایات سازی کا کام، مدد علی اور پھر نفسیات وارڈ میں کام کرنے والوں کا نفسیاتی خبط میں متبلا ہونا، ایک نفسیاتی اور ذہنی مریض کیسے کہانی تشکیل دیتا ہے اور کیسے مختلف کہانیوں کو آپس میں مربوط کیا جاتا ہے۔

بلاشبہ غلام باغ میں ڈاکٹر ناصر کا کردار ایک مرکزی کردار کی حیثیث سے سامنے رہتا ہے زہرہ، کبیر اور بعض اوقات ہاف مین کے کردار کا زیادہ حاوی ہونے کے باوجود ڈاکٹر ناصر کا کردار بار بار سب سے اہم کردار بن کر ابھرتا ہے۔
نواب ثریا جنگ، امیر جان، نجم ثاقب اور امداد حسین، مختارہ نرس، عاشق علی بیرہ اور امداد حسین اور نورداد سب کردار اپنی جگہ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔
مگر آخر میں پھر وہی بات کہ کبیر مہدی سے جو ناطہ جڑتا ہے وہ ایک عجیب سا ناطہ ہے لغویات نگاری اور لغو گوئی بھی ایک فن ہے ہذیان، خبط اور ایک عجیب طرح کی سرشاری، کسی نشے کے بغیر ایک عجیب طرح کی مخموری،مجھے کئی دفعہ یوں لگتا ہے کہ انسان کسی فکشن کو پڑھتے ہوئے کسی کردار میں مقید ہو کر رہ جاتا ہے اور غلام باغ کو پڑھتے ہوئے میں کبیر بیدی میں مقید ہوگیا یا کبیر بیدی کہیں سے مجھ پر طاری ہوگیا، مجھے پتہ نہیں چل سکا۔

دائود ظفر ندیم
دائود ظفر ندیم
برداشت اور محبت میرا تعارف ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *