خدارااپنی پالیسی واضح کریں۔۔۔ شہزاد سلیم عباسی

فہم و فراست تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں کہ ملی مسلم لیگ پانچ ہزار سے زائد ووٹ لے اڑے گی اور تحریک لبیک یارسول اللہ جو کبھی کہیں تھی ہی نہیں وہ سات ہزار ووٹ لے لے گی اوردونوں مل کر مسلم لیگ ن کی 30 ہزارکی عددی برتری کوصرف پندرہ ہزارووٹوں کی لیڈ تک محدود کردیں گی۔یہ احمق کھیل کراچی میں بھی پی پی پی اور جماعت اسلامی کو ختم کرنے کے لیے کھیلا گیاتھا اور بدلے میں ایم کیو ایم اور سپاہ صحابہ کو لایا گیا جس کالگا گہرا گھاؤ شاید ہی کبھی بھر پائے گا۔ حکومت ہاتھ پر ہاتھ  دھرے ہوئے ہے اورصرف بیانات کی حد تک محدود ہے جس سے پاکستان کو دہشت گردی سے زیادہ خمیازہ خراب معیشت اور قرضوں کے بوجھ کی شکل میں بھگتنا پڑ رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ عالمی ٹھیکیداروں کے طعنوں اور ان کے منافقانہ بیانیے کو نہ چاہتے ہوئے بھی سینے سے لگانا پڑتا ہے۔اسی معاملے پر تازہ دم لڑائی جناب چوہدری نثار اور خواجہ آصف کی ٹی وی چینلوں پر جاری ہے جس میں خواجہ آصف، چوہدری نثار کا نام لیے بغیران پر دہشت گردوں کے لیے نرم رویہ رکھنے اوران کے دور میں ہاؤس ان آرڈر نہ ہونے کا واویلامچارہے ہیں۔
جنگ صر ف مذکورہ بالا شخصیات کے درمیان نہیں ہے بلکہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے  کہ مسلم لیگ ن بڑے خطرناک اور مشکل ترین صورتحال سے دوچار ہے۔ پارٹی دھڑے بندی کا شکار ہے۔مسلم لیگ کے اب تین گروپ بن گئے ہیں گروپ نمبر 1میں بے چین روحیں در بدر بھٹک رہی ہیں جو کہ مک مکا کی صورت میں کرسیوں پر بیٹھنے کی خواہاں ہیں۔ دوسرا مفاہمتی گروپ جومسلم لیگ ن اور چوہدری نثار، عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان جاری کشیدہ صورتحال کا کوئی حل نکالنا چاہتا ہے۔ تیسرا اور اہم گروپ جس پر پوری مسلم لیگ ن کی بنیاد کھڑی ہے وہ ہے میاں نواز شریف اینڈ فیملی کا گروپ،جو کہ دفاعی انداز میں مریم نواز کی صورت میدان کارزار میں موجود ہے۔گروپ نمبر تین کسی صور ت بھی حصول اقتدار کی خاطر پیچھے ہٹنے اور اپنے محسن کو کرسی صدارت پر بٹھانے کو تیار نہیں۔ درپردہ چوہدری نثار، شہبازشریف، حمزہ شہباز اور پارٹی رہنماؤں کا ایک بڑا گروپ جس میں 40 سے 50تگڑے لوگ شامل ہیں وہ چوہدری نثار سے ہاتھ ملانے کو تیار ہیں۔وگرنہ جس طرح سے چوہدری نثار فرنٹ فٹ پر کھیل رہے ہیں اس سے ضروربو آتی ہے کہ اب بات اختلاف رائے سے بڑھ کر پارٹی سے اختلافات کی شدت تک آگئی ہے۔ عین ممکن ہے کہ چوہدری نثار اپنے ذاتی اور میاں نواز شریف اور شہباز کے درمیان معاملات طے نہ ہونے پر پارٹی کو خیر آباد کہہ دیں یا چھوٹے موٹے وزراء اور ایم این ایز کی طرف ان سے پارٹی چھوڑ دینے کا مطالبہ زور پکڑنے لگے۔
ایران گیس معائدہ، تاپی سارک اور برکس کانفرنس کا حال ہمارے سامنے ہے۔

بھارت، ایران اور شمالی کوریا سمیت کئی دوسرے ممالک ہیں جو اپنی اقتصادی اور دفاعی پوزیشن کو مضبو ط بنانے کے لیے امریکہ کی آشیرباد یا اسکےSo Called ورلڈ آرڈر کو کوئی وقعت نہیں دیتے۔ یورپی ممالک جن پر ہمارا پکا ٹھکا ایمان ہے ان کے وزرائے اعظم اور صدور ریل میں سفر، دو کمروں کے فلیٹ میں رہائش، اپنی ذاتی سواری بغیر پروٹوکول کے اور خود اٹھ کر چائے بنانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ جبکہ ہم 65سے 70 گاڑیوں کا، کانوائے لے کر نہ نکلیں تو شان میں گستاخی ہوتی ہے۔ ہمارے حالات بالکل مختلف ہیں کہ ہم اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لے بیرونی سہارے ڈھونڈ کر 18ء سے 2023ء تک کے سہانے سپنے سجانے لگتے ہیں۔
ہم وہ قوم ہیں جن کی فوج کا بجٹ بے تحاشا ہے لیکن اس کے فوجی سیاچن گلیشئیرپر گر کر مر جاتے ہیں اور کوئی پرسان حال نہیں لیکن اس کے برعکس افسران ایمانی جذبوں کا دلفریب نعرہ لگا کر عیاشیوں میں پڑے ہیں۔ اور ٹرمپ کے حالیہ بیانیے میں جس طرح سے ایران اور شمالی کوریا کو نشانہ بنایا گیا اور دہشت گردی کا رخ ایک بار مشرقی وسطیٰ، ایشائی ممالک، بالخصوص افغانستان اورپاکستان کی طرف موڑ دیا گیا اور براہ راست اسلام کو دہشت گردی سے نتھی کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اس کے قصورواربھی ہم خود ہیں۔ کیوں کہ ہم نے طےکر لیا ہے کہ ہم کبھی امریکہ کی غلامی سے نکل ہی نہیں سکتے!
ہماری اقتصادیات، اخلاقیات، فراہمی انصاف، انتظامی امور، داخلی اور خارجہ محاذ وغیرہ کی پالیسیاں آج تک کسی خاص نقطہ پرنہیں پہنچ سکیں اور کھری بات یہ ہے کہ ہم نے کبھی دنیا اور مسلم امہ کے سامنے خود کو شفاف پیش کرنے کی جرات ہی نہیں کی،کہ ہر بین الاقوامی فورم پر ہمارا سر جھکا ہوتا ہے۔ہر ملک کو علم ہے کہ پاکستانی نمائندہ اگر سچی بات بھی کریگا تووہ جھوٹی ہی تصور ہو گی کیونکہ ان کے حکمران اپنے ملک سے زیادہ اپنی ذات سے مخلص ہیں اس لیے دنیا کھل کر ہم سے ڈو مور  کامطالبہ کرتی ہے اور ہم اپنی جائیدادیں بنانے کے چکر میں خوب قرضے لے کر اس مطالبے کو عملاََ تقویت دیتے ہیں۔

 

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *