کرونا کا پیچھا مت کریں۔۔۔ طاہر یاسین طاہر

افسردگی اور پژمردگی کا عالم ہے ،انسان ایک وائرس کے سامنے لاچار ہے۔یہ بحث فضول ہے کہ سائنس کے سارے فارمولے ایک نا دیدہ وائرس نے فیل کر دیے۔ یہ بات بھی موضوع محل نہیں کہ کعبہ، مسجد نبوی، نجف اشرف، کربلائے معلیٰ،سمیت اہم مقدس مقامات بند کر دیے گئے ہیں ۔ مسلم ممالک میں نماز جمعہ کے اجتماعات مختصر ترین کرنے کے احکامات جاری کیے جا چکے ہیں، مساجد میں صرف اذان ہو، اور زیادہ سے زیادہ پانچ افراد مناسب فاصلہ رکھ کر با جماعت نماز ادا کر سکتے ہیں۔یہ اخبار نویس کچھ زاتی مصروفیات کی بنا پر تین ہفتوں سے کوئی کالم نہیں لکھ پایا ، نہ ہی مکمل یکسوئی سے اس عالمی وبا کے خطرات سمیت اس پر ہونے والی پیش رفت، اس وائرس کو تباہ کرنے کے لیے تیار کی جانے والی ویکسین کی خبروںاور عالمی براداری پر اس کے تباہ کن اثرات پر غور و فکر نہیں کر سکا۔
اس وقت افواہوں کی گرد ہے۔یہ گرد جب بیٹھ جائے گی تو دنیا کے سنجیدہ دماغ جو عالم انسانیت کو اس وبا سے بچانے میں مصروف عمل ہیں، ضرور اپنی تحقیق و ایجادات کے ثمرات پر بات کریں گے۔گزشتہ برس جب چین کے شہر ووہان سے اس وبا نے سر اٹھایاتوچین نے اس وبا سے نمٹنے کے لیے سخت ترین اقدامات اٹھائے ۔دنیا کو اسی وقت اس وبا کی تباہی کا اندازہ ہو گیا تھا۔ اگرچہ نام نہاد موم بتی مافیاز کی آنٹیوں نے انسانی حقوق کا رونا رویا،پاکستانی حکومت پر بھی دبائو بڑھایا گیا کہ ووہان میں پھنسے پاکستانی طلبا و طالبات کو واپس لایا جائے۔لیکن حکومت نے جو فیصلہ اس وقت کیا تھا وہ بالکل درست اور زمینی حقائق سے ہم آہنگ تھا۔اس فیصلے کےمثبت نتائج اب سمجھ آ رہے ہیں۔

اگر اس وقت حکومت دبائو میں آ کر پاکستانی طلبا و طالبات کو وطن واپس لے آتی تو اس وقت پاکستان میں کرونا وبا اپنی تباہی کے بد ترین اثرات دکھا چکی ہوتی۔حکومت کے اس فیصلے کو ایران سے آنے والے زائرین کے ساتھ بھی منسلک کر کے دیکھا جا رہا ہے جو کہ بالکل غلط ہے۔ چین معاشی،اور ٹیکنالوجی کے اعتبار سے دنیا کی غیر اعلانیہ سپر پاور ہے۔ چین نے ووہان میں پھنسے اپنے شہریوں اور پاکستانیوں کے لیے رہائش، حفظان صحت ،اور کھانے پینے کے جیسے عمدہ انتظامات کیے ایران اس کا عشر عشیر کرنے کی اہلیت بھی نہیں رکھتا۔ایران خود عالمی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے۔جب ایران میں کرونا وبا کے پھیلنے کی خبریں عام ہوئیں تو پاکستانی زائرین کوئٹہ والے راستے پاکستان واپس آنے لگے۔ ان زائرین کو تفتان بارڈر پر قرنطینہ کیا جانے لگا۔یہاں کچھ تنظیموں نے احتجاج کیا ، کیونکہ تفتان بارڈر پر بنائے گئے قرنطینہ سینٹر میں سارے زائرین کو ایک ہی جگہ رکھا جا رہا تھا جبکہ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ کچھ زائرین پیسے دے کر قرنطینہ سینٹرز سے نکل آئے تھے۔بالکل ایسے ہی جیسے اسلام آباد و لاہور ایئر پورٹ پر باہر سے آنے والے پاکستانی پیسے دے کر ایئر پورٹ سے باہر نکل آئے اور اپنے اپنے شہروں، گائوں کو سدھار گئے۔
اسی طرح تبلیغی جماعت کے اجتماعات کے ذریعے بھی اس وائرس کے پھیلنے کی مستند خبریں سامنے آ چکی ہیں۔ جن میں بہارہ کہو کا کیس بہ طور مثال پیش کیا جارہا ہے۔یہ امر البتہ واقعی ہے کہ کسی بھی بیماری،وبا یا آفت کا نہ کوئی دین ہوتا ہے نہ دھرم، نہ مذہب ہوتا ہے نہ مسلک۔ اس لیے اس عالمی وبا کو اس کے حقیقی محرکات کے ساتھ دیکھنے کے ضرورت ہے نہ کہ اسے اپنی اپنی مسلکی ، علاقائی و لسانی تعصب کی عینک سے دیکھا جائے۔پاکستان میں کرونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری کو سامنے آیا اور پہلی ہلاکت مردان کے ایک گائوں میں اس شخص کی ہوئی جو عمرہ کر کے آیا تھا۔میری دانست میں کرونا وبا سے نمٹنے کے لیے اپنے کم تر وسائل کے باوجود سندھ حکومت نےعمدہ اور بر وقت اقدامات اٹھائے ہیں۔

سندھ کرونا مریضوں کی تعداد کے حوالے سے ہفتہ عشرہ سب سے آگے تھا، مگر اب پنجاب سندھ سے نمبر لے گیا ہے۔جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں تو اس وقت ملک میں کرونا سے کنفرم متاثرہ افراد کی تعداد4194 ہو چکی ہے۔ جبکہ 60 افراد اس وبا کے باعث جاں بحق ہو چکے ہیں۔اس وقت سندھ میں کرونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 1036 جبکہ پنجاب میں2108 ہو چکی ہے۔کے پی کے 527، بلوچستان210،گلگت بلتستان 211،آزاد کشمیر 19 جبکہ اسلام آباد میں کرونا کے کنفرم مریضوں کی تعداد 83 ہے۔ یہاں قابل ذکر بات یہی ہے کہ اموات اور صحت یابی کا تناسب حوصلہ افزا ہے۔ اب تک 60 اموات کے مقابلے میں467 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔
ہمارا مسئلہ مگر دوسرا ہے اور وہ ہے سماجی رحجان۔ اہم اپنے سماجی رویوں میں جارحیت پسند ہیں۔ہمارے علمائے کرام بھی اس ابتلا کے لمحہ میں یکجا و یکساں نہیں ہیں۔علما بالخصوص دیہی علاقوں میں مدارس و مساجد کے علما لوگوں کو زیادہ سے زیادہ مساجد میں آنے کی تلقین کر رہے ہیں ، اس امر کو فراموش کیے بغیر کہ کعبۃ اللہ اور مسجد نبویﷺ میں جب باجماعت نماز میں نمازیوں کی تعداد مختصر کر دی گئی ہے تو پھر یہ کم فہم جذباتی علما لوگوں کی زندگیوں کو خطرات میں کیوں ڈالنے پر تلے ہوئے ہیں؟اس وقت سندھ میں لاک ڈائون کی صورتحال اور اس پرعمل در آمد کا مجھے درست اندازہ نہیں کیونکہ افواہوں کی گرد آسمان کو چھو رہی ہے۔

اسی طرح پنجاب میں لاک ڈائون تو ہے مگر اس لاک ڈائون پر اس طرح عمل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا جیسا کہ ہونا چاہیے۔لاہور اور گجرات میں ممکن ہے سختی ہو،لیکن میرے اپنے شہر کلر سیداں میں، جہاں میں آج کل خود قرنطینہ کیے ہوئے ہوں،لاک ڈائون کے باوجود لوگ بلا وجہ موٹر سائیکلوں پر بازار کا رخ کرتے ہیں اور سرِ شام کرکٹ گرائونڈز یا والی بال گراونڈز کا۔کلر سیداں کے نواحی قصبہ سے برطانیہ پلٹ ایک بزرگ شخص کا کرونا ٹیسٹ پازیٹو آیا ہے، اور ستم ظریفی یہ کہ وہ شخص کم و بیش 80 افراد سے ملا ہے اپنی آمد کے بعد، اندازہ کیجیے کہ جن افراد سے متاثرہ شخص ملا ہے وہ آگے کتنے لوگوں سے ملے ہوں گے؟اسی بنا پر ” اے سی” کلر سیداں نے کلر سیداں میں داخلے کے راستے سیل کروا دیے ہیں جبکہ پولیس ،انتظامیہ کے دیگر اداروں کے ساتھ مل کر متاثرہ شخص کا گائوں سیل کر چکی ہے اور وہاں سے لوگوں کے خون کے نمونے لیے جا رہے ہیں۔

اگر خدانخواستہ ا تحصیل کلر سیداں کے اس گائوں جسے ہردو پنڈوڑہ کہا جاتا ہے، میں سے دس پندرہ کیس بھی پازیٹو نکل آئے تو تحصیل کلر سیداں کے ہسپتال میں نہ اتنا عملہ ہے نہ اس قدر سہولیات کہ انھیں قرنطینہ کیا جا سکے ۔ میرےمشاہدے میں آیا ہے کہ لوگوں کو جونہی قرنطینہ کرنے کا کہا جاتا ہے تو وہ ہسپتال سے بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں،یہ گنوار، توہم پرست اور ہیجان انگیز قوم کا رویہ ہے۔اٹلی کے لوگوں کو جب گھروں میں رہنے کا کہا گیا تو انھوں نے اسے اتنا سنجیدہ نہیں لیا،شاید انھیں اپنے ترقی یافتہ ہونےاور اپنے محکمہ صحت کی صلاحیتوں پر حد سے زیادہ اعتماد تھا۔ یہی حد سے بڑھا ہوا اعتماد اٹلی، سپین، فرانس، برطانیہ اور امریکہ کو لے ڈوبا۔
پاکستان معاشی، تکنیکی اور اخلاقی اعتبار سے بہت کمزور ملک ہے۔جس رفتار سے کرونا وائرس کےکیسز بڑھ رہے ہیں خدانخواستہ ہم اپنے پیاروں کی قبروں کے نشان تک بھی نہ پا سکیں گے۔بہترین عمل یہی ہے کہ محکمہ صحت پاکستان، صوبائی محکمہ صحت،اور عالمی ادارہ صحت کی ہدایات پر عمل کریں۔یہ بات لغو ہے کہ ہمارا یمان مضبوط ہے لہٰذا ہمیں کرونا کچھ نہیں کہے گا۔جنھیں اپنے ایمان کی طاقت پر بہت ناز ہے وہ تاریخ کا مطالعہ کریں اور دیکھیں کہ وبا کس وحشت اور بلا کا نام ہے۔آپ اس وقت تک محفوظ ہیں جب تک آپ اپنے گھروں کے اندر ہیں۔آپ کا گھر سے باہر جانا اس امر کی نشاندہی ہے کہ آپ دہی لینے نہیں بلکہ کرونا کا کوئی وائرس لینے جا رہے ہیں۔بخدا ہمارا ملک،اپنی معیشت، نا تدبیری اور ہیجان سازی کے باعث اس وبا کا مقابلہ چین کی طرح کبھی بھی نہیں کر پائے گا۔لاک ڈائون کو ڈاکٹروں، اورصحت کے عالمی ماہرین کی رائے کے مطابق بڑھا دیا جائے جبکہ دیہاڑی داروں کو ان کا حق دینے کے لیے ریاست اپنے وضع کردہ ” ٹائیگرز نظام” پر مزیدغور و فکر کرے۔

طاہر یاسین طاہر
طاہر یاسین طاہر
صحافی،کالم نگار،تجزیہ نگار،شاعر،اسلام آباد سے تعلق

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *