• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • رازنوچینستی اورسوشل ڈیمو کریسی کے پیش رو (بالشویک انقلاب میں ادب کا کردار) ۔۔۔تیسرا حصہ/مشتاق علی شان

رازنوچینستی اورسوشل ڈیمو کریسی کے پیش رو (بالشویک انقلاب میں ادب کا کردار) ۔۔۔تیسرا حصہ/مشتاق علی شان

دسمبری تحریک کے کچلے جانے کے بعد سماجی تبدیلیوں کے لیے کی جانے کوششیں ماند نہیں پڑ گئیں بلکہ اس نظام کے خلاف روس کے سیاسی مساعی پسند اور اہلِ دانش مسلسل جدوجہد کرتے رہے ۔ انیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں کے زار شاہی روس میں سماجی تبدیلیوں کی جدوجہدمیں مصروف انقلابی قوتوں کے بارے میں کامریڈ لینن نے کہا تھا کہ ” روسی انقلاب میں تین نسلیں، تین طبقات سرگرم عمل رہے ہیں۔ ان میں پہلے امرا اور زمیندار ،دسمبری اور ہرتسن تھے۔ ان انقلابیوں کا ایک چھوٹا سا حلقہ تھا ،وہ عوام سے بالکل کٹے ہوئے تھے لیکن ان کی کوششیں رائیگاں نہیں گئیں۔ دسمبریوں نے ہرتسن کو بیدار اور ہرتسن نے انقلابی پروپیگنڈے کی ابتدا کی۔ “ (11)

الیگزینڈر پوشکن اور دسمبری تحریک(بالشویک انقلاب میں ادب کا کردار )۔۔۔دوسرا حصہ/مشتاق علی شان

آئیے دسمبری تحریک کے بعد روس میں انقلابی نظریات کی تشہیر کرنے والے عہد سازادیب ،نقاداور دانشور الیگزنڈرہرتسن (1812-1870)سے ملتے ہیں ۔ روس کے اشرافیہ طبقے میں پیدا ہونے والا ہرتسن اس جابرانہ اور رجعتی نظام کی جگہ خرد افروزی ، سائنٹفک سوچ انفرادی واجتماعی آزادی اورسماجی ومعاشی ڈھانچے میں تبدیلی کا متمنی تھا ۔وہ روسی نوجوانوں کے ایک خفیہ انقلابی حلقے کا رکن تھا جس کی پاداش میں1834میں اسے چھ سال کے لیے جلاوطنی کی سزا دی گئی۔ جلاوطنی سے واپسی کے بعد اس نے فلسفیانہ موضوعات پر اپنی تحریریں قلم بند کیں اور ”قصور کس کا ہے ؟“ اور ”ڈاکٹر کروپوف“ کے نام سے دو ناول لکھے۔ اپنے انقلابی اور شاہ مخالف خیالات کے باعث ہرتسن کو 1847میں روس کو خیر باد کہنا پڑا وہ فرانس اور اٹلی سے ہوتا ہوا لندن چلا گیا جہاں اس نے پہلا آزاد روسی پریس قائم کیا اور ”پولیارنایا زویزدا“ کے نام سے ”دسمبری“ انقلابی روایات پر مبنی اخبار جاری کیا۔
ہرتسن نے1868میں نکولائی اوگاروف (1813-1877) جواپنی نظموں کے ذریعے روسی سماج کو ترقی پسند افکار سے روشناس کرنے والا انقلابی شاعر تھا،کے ساتھ مل کر ”کلوکول“ یعنی گھنٹی کے نام سے سیاسی رسالہ جاری کیا ۔یہ رسالہ کافی عرصے تک زار شاہی کے مذموم اقدامات، روسی نوکر شاہی کی رشوت خوری ،وحشت اور درندگی اور زمینداروں کے ہاتھوں کسانوں کی بیدردانہ لوٹ کھسوٹ اور مظالم کا پردہ چاک کرتا رہا۔
لینن نے ”کلوکول “کو پرولتاری جمہوری یا سوشل ڈیمو کریسی کا پیشرو قرار دیا تھا ۔ ہرتسن کی صد سالہ سالگرہ پر لکھے گئے مضمون میں لینن نے روس سے باہر قائم کردہ آزاد پریس کواس کی عظیم خدمت قرار دیتے ہوئے لکھا تھا کہ ”کلوکول نے بڑے زور وشور کے ساتھ کسانوں کی نجات کی حمایت کی اورغلامانہ خاموشی کو توڑ ا۔“ لینن کے بقول ”انیسویں صدی کی پانچویں دہائی کے جاگیردارانہ روس میںانھوں نے اتنی بلندی حاصل کی کہ اپنے زمانے کے عظیم ترین مفکرین میں شمار ہونے لگے۔انھوں نے ہیگل کی جدلیات ذہن نشین کی اور محسوس کیا کہ وہ ”انقلاب کا الجبرا “ ہے ۔فیور باخ کے فلسفہ ءمادیت کو قبول کر کے وہ ہیگل سے آگے بڑھ گئے ۔وہ جدلیاتی مادیت تک پہنچ گئے تھے لیکن تاریخی مادیت تک آتے آتے رک گئے تھے ۔“لینن نے اپنی تحریر میں جہاں ہرتسن کی نظریاتی خامیوں پر گرفت کی وہاں اس کی جدوجہد ، جمہوریت پسندی اور عوام دوستی کو بھی سراہا ۔لینن کے بقول ” جس طرح ”دسمبریوں “ نے ہرتسن کو بیدار کیا تھا اسی طرح ہرتسن اور ان کے رسالے ”کلوکول“ نے ”رازنوچینستی “ کو بیدار کرنے میں مدد دی ۔“ (12)

رازنو چینستی انیسویں صدی کے روس کا ایک انقلابی رحجان تھا۔یہ روسی سماج کے وہ پڑھے لکھے نمائندے تھے جن کا تعلق روسی اشرافیہ کی بجائے متوسط شہری طبقات ، دانشوروں،صحافیوں، چھوٹے تاجروں اور کسانوں سے تھا ۔یہ سیاسی وسماجی مسائل کے حل کے لیے جذبات کی بجائے علم و سائنس کو مشعلِ راہ سمجھتے تھے ۔ اسی رازنو چینستی سے بعد ازاں نہلزم کا ظہور ہوا۔یہ انقلابی ، فرسودہ رسم ورواج ،دھرم، نام نہاد اخلاقیات اور قدامت پسند معاشرتی نظام کے باغی تھے ۔اس تحریک سے وابستہ دانشوروں، شاعروں ، ادیبوں اور مساعی پسندوں نے جانبازی اور سرفروشی کی اعلیٰ مثالیں قائم کیں اور روسی نوجوانوں کو جبر اور استحصال پر مبنی نظام کے خلاف جدوجہد کے لیے ابھارا ۔یہی نہلزم تھا جس کے بطن سے ”نرودازم“ (پاپولسٹ)کسان اشتراکیت پر مبنی انقلابی تحریک کا آغاز ہوا اوربعد میں اس کا ایک حصہ دہشت پسندی کی راہ پر چل نکلا ۔

رازنو چینستی تحریک کا پیشرو ، اس کا روحِ رواں ویسارین بیلنسکی (1811-1848) تھا۔ وہ ہرتسن کا ہم عصر ، اس کا دوست، روس کا معروف دانشور،ادیب، فیلسوف، نقاد اور صحافی تھا جس نے محض بیس ،بائیس سال کی عمر میں زرعی غلاموںکی حمایت میں پرجوش ڈرامے اور دیگر تحریریں قلم بند کیں ۔وہ روس میں خفیہ انقلابی سرگرمیوں سے بھی منسلک رہا ۔بیلنسکی کو روسی دانشوروں کا باوا آدم بھی کہا جاتا ہے جس نے نکراسوف ،گوگول اور دوستو فسکی سمیت اس زمانے کے کئی ایک نوجون انقلابی لکھاریوں کے حلقے تیار کیے ۔اسے روس کے پہلے ایسے دانشور کا بھی اعزاز حاصل ہے جس نے روس کے ترقی پسند اذہان کو سب سے زیادہ متاثر کیا۔ اس کی تحریروں بالخصوص خطوط اور تنقیدی نوٹس نے روس کے کتنے ہی انقلابی لکھاریوں کو متاثر کیا ۔اس نے ”دی ٹیلی اسکوپ “نامی نیم ادبی رسالہ اور پھر ”ماسکو مشاہدہ“ کے نام سے رسالہ نکالااور ان میں اپنے خیالات کاا ظہار کیا۔ یہ دونوں رسالے پابندی کا شکار ہوئے۔

لینن نے بیلنسکی کے متعلق لکھا کہ ”کسان غلامی کے ختم ہونے سے قبل ہی بیلنسکی رازنو چینستی کے پیشرو بن گئے تھے جنھوں نے امرا کوہماری تحریک ِ آزادی سے بالکل خارج کر دیا ۔وہ مشہور ”گوگول کے نام خط“ جس میں بیلنسکی کی ادبی سرگرمیوں کا خلاصہ ہے ،غیر قانونی جمہوری پریس کا ایک بہترین نمونہ ہے اور آج تک اس کی عظیم توانا اہمیت میں کسی قسم کی کمی نہیں ہوئی ہے ۔کسان غلامی کے خاتمے نے رازنو چینستی کو عام طور پر تحریکِ آزادی میں اور خاص طور پر جمہوری غیر قانونی پریس میں شامل لوگوں میں سے خاص سرگرم قوت کی حیثیت سے ابھارا ۔ رازنو چینستی کے نقطہ ءنظر کا اظہار نرود ازم کی شکل میں ہوا اور وہ اپنے زمانے کا غالب رحجان بن گیا ۔“ (13)

عظیم اکتوبر انقلاب کے بعداور آج بھی بیلنسکی کو علم و ادب کی شاہراہ پر سنگِ میل کا درجہ حاصل ہے۔’ مختصر تاریخِ عالم“ کے مصنف فیدورکرووکن نے اس دور میں سماجی تبدیلی کے ان سرگرم پرچارکوں اور مساعی پسندوں کے متعلق لکھا کہ ” دسمبری تحریک کے کچلے جانے کے بعدروسی انقلابی از سرِ نو منظم ہوکر قوت حاصل کر رہے تھے۔ہرتسن ،نکولائی اوگاروف اور بیلنسکی لاکھوں غریبوںاور استحصال زدہ انسانوں کی آوازیں بن کر ابھرے ۔یہ کئی ایک انقلابیوں کے برعکس عوام کی براہِ راست حمایت پر یقین رکھتے تھے ۔نئے خیالات کی تشہیر میں سب سے اہم کردار بیلنسکی نے ادا کیا جو عوام کا ایک پرجوش مبصر، ترقی پسند نسل کا ہیرو اور متوسط طبقے کی انقلابی پرت کا ہر اول کارکن تھا۔
ہرتسن ،اوگاروف اور بیلنسکی یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے صرف زرعی غلامی کے خاتمے کا ہی مطالبہ نہیں کیا بلکہ انھوں نے اس معاشرے کے قیام کی بات کی جس میں انسان کے ہاتھوں انسان کا استحصال نہیں ہو گا ۔لیکن یہ لوگ ان سائنسی طریقوں سے آگاہ نہیں تھے جنھیں بنیاد بناتے ہوئے استحصال سے پاک معاشرے کا قیام ممکن تھا ۔چنانچہ انھیں خیالی سوشلسٹ کہا جاتا ہے۔“ (14)

بیلنسکی نے روس کے جن انقلابی شعرا وادبا کی ذہنی پرداخت میں کلیدی کردار ادا کیا ان میں نکولس نکراسوف(1831-1877) ایک بڑا نام ہے ۔وہ روس کے ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والا عوامی شاعر تھا ۔زندگی کا زیادہ تر حصہ غربت اور فاقہ کشی میں گزارنے والے نکراسوف نے اپنی شاعری میں روسی دیہاتوں کے کسانوںکی مجبوریوں ، بھوک ،بیماری اور بدحالی کے ساتھ ساتھ شہری عوام کے مصائب اور صحت وتعلیم سمیت دیگر محرومیوں کواپنی نظموں کا موضوع بنایا ۔عوام کی ترجمانی پر مبنی اس کی شاعری نہ صرف روس کے پڑھے لکھے شہری انقلابی حلقوں اور عوام میں مشہور تھی بلکہ روس کے دور دراز دیہاتوں تک میںاس کی نظمیں گائی جاتی تھیں ۔اس نے دسمبری تحریک کے جلاوطن انقلابیوں کے بارے میں بھی نظمیں کہیں۔اپنی مشہور طویل نظم ”روس میں کون چین سے رہتا ہے ؟“میں نکراسوف نے روس کے دردناک حالات بیان کیے ہیں ۔
تو مفلس ہے پھر بھی مالا مال ہے
تُو طاقتور ہے پھر بھی بے بس ہے
اے مادرِ وطن روس!
رازنو چینستی افکار کا حامل نکراسوف1861تک روسی کمیروں اور کسانوں کی آزادی کی تحریک سے وابستہ رہا لیکن ہمیشہ روزی روٹی کے لیے سرگرداں اور پریشان رہا ۔ اس نے ایک بار کہا تھا کہ ”پیٹ پالنے کی دشواری نے میری شاعری کھوٹی کر دی اور شاعری نے مجھے آزادی کا مجاہد نہیں بننے دیا۔“ (15 )

نکراسوف کے ساتھ مل کر شاہی استبداد کے خلاف جدوجہد کرنے والے شاعروں، ادیبوں میں میخائل سالتیکوف (1826-1889)کو ممتاز مقام حاصل ہے ۔اپنے عہد کا یہ معروف شاعراور ادیب ”شیڈرن“ کے قلمی نام سے شاعری کرتا تھا ۔اس کا تعلق روس کے اشرافیہ طبقے سے تھا ۔ نہلسٹ تحریک کے قیام کے ابتدائی زمانے میںسالتیکوف نے ڈپٹی گورنر کے عہدے کو لات ماری اور زار کی بدعنوان اور عوام دشمن نوکر شاہی ،نوابوں ، جاگیرداروں ، نام نہاد مذہبی شخصیات اور نودولتیوں کی ہوس کاری کو اپنی تحریروں کا نشانہ بنانے والے انقلابی قلم کاروں کی صف میں جا کھڑا ہوا۔اس نے نکرا سوف کے ساتھ مل کر شاہی استبداد کے خلاف جدوجہد کی اور ایک رسالہ بھی نکالا۔
نکراسوف اور سالتیکوف کے بارے میں لینن نے کہا تھا کہ ” انھوں نے اپنے عہد میں روسی معاشرے کو جاگیردارانہ تعلیم کے رنگ وروغن میں پنہاں اس کے استحصالی مفادات کے اندر جھانکنا سکھایا اور ایسے کرداروں کی منافقت اور ظلم وجبر سے نفرت کرنا سکھایا ۔“ (16)

بیلنسکی کے تربیت یافتہ ادیبوں میں فیودور دوستوفسکی (1821-1881) روس کا وہ عظیم ناول نگار، افسانہ نگار اورفلسفی تھا جس نے بین الاقوامی شہرت حاصل کی۔عالمی ادب کا شاید ہی کوئی شائق ہو جس نے اس کے شاندار ناولوں ”برادرکرامازوف“،”ایڈیٹ“ ،”جرم وسزا “ ،” ذلتوں کے مارے لوگ“ اور ”جواری“ کا مطالعہ نہ کیاہو ۔عسکری تعلیم حاصل کرنے والے دوستوفسکی نے 23سال کی عمر میں زار کی فوج میں سب لیفٹیننٹ کے عہدے سے مستعفی ہوتے ہوئے کل وقتی ادیب بننے کا فیصلہ کیا ۔اس نے عمر بھر انتہائی غربت اور مرگی کی شدید بیماری میں گزاری۔ متصوفانہ جمہوری خیالات کا حامل دوستوفسکی روس کی خفیہ انقلابی انجمن سے وابستہ رہا جو زار کی سنسر شپ کے انتہائی خلاف تھی اور روسی کمیروں، کسانوں اور عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد میں مصروف تھی ۔ اس انجمن کی خفیہ سرگرمیوںکی پاداش میں اپریل 1849میں دوستوفسکی کو اس کے پندرہ ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا گیا ۔ ان پر زار کے خلاف سازش کے الزامات کے تحت پیٹرپال کے قلعے میں مقدمہ چلایا گیا اور انھیں سزائے موت سنائی گئی جسے عمل درآمد کے آخری لمحات میں سائبیریا کی سات سالہ جلاوطنی میں تبدیل کر دیا گیا۔
سزائے موت کے ان لمحات کو یاد کرتے ہوئے دوستو فسکی نے جلاطنی سے اپنے بھائی کے نام ارسال کیے گئے ایک خط میں لکھا کہ ” یہ22دسمبر کی بات ہے ۔ہمیں گولی مارنے کے لیے احاطے میں لے جایا گیا اور ہمیں پھانسی کا حکم نامہ پڑھ کر سنایا گیا ۔ہمیں آخری بار صلیب چومنے کی اجازت ملی ۔سفید کپڑے پہنائے گئے ،چہرے پر کالے نقاب چڑھائے گئے ،مجھے چھ کی قطار میں کھڑا کیا گیا ۔مجھے اس وقت سب بہن بھائی یاد آئے۔مجھے تم سب سے زیادہ یادآئے اسی لمحے مجھے احساس ہوا کہ میںتم سے کتنا پیار کرتا ہوں اور پھر اچانک تنی ہوئی بندوقیںنیچے جھک گئیں اور ہمیں ایک حکم نامہ پڑھ کر سنایا گیا کہ ظلِ سبحانی نے ہماری پھانسی سات سالہ قید میں بدل دی ہے۔“ (17)

دوستوفسکی نے اپنی تحریروں میں روسی زندگی کے تاریک پہلوؤں اور پسے ہوئے طبقات کے مصائب کو اجاگر کیا۔اس کا زاویہءفکر مابعدالطبعیاتی مگر عوام دوست ہے اور اسی میں اس کی عظمت پنہاں ہے ۔دوستوفسکی کے مشہور ناول Possessdکا ہیرو بھی سماج کا باغی نہلسٹ ہے۔

انیسویں صدی کے وسط میں جن اہلِ قلم نے اپنی تحریروں کے ذریعے روسی محنت کاروںکی نمائندگی کرتے ہوئے ایک متبادل نظام کے خاکے پیش کیے ان میں بیلنسکی کا ہم عصر ،روس کاممتاز ڈرامہ نگار استروفسکی (1823-1886)ایک بلند مقام پر متمکن ہے ۔وہ پیشے کے اعتبار سے ماسکو کے کورٹ کا کلرک تھا جس نے اپنے ڈراموں میں عام لوگوں سے تاجروں کے غیر انسانی برتاو ¿، خصیص ذہنیت ،پیٹی بورژوا رویوں، بدمزاجی اور ظالمانہ طرز ِ عمل کو موضوع بنایا ۔استروفسکی نے اپنے طنزیہ اور مزاحیہ ڈراموں کے ذریعے زار شاہی، اس کی نوکر شاہی اور عوام دشمن کردار پر ضرب کاری کی۔اس کے متعدد ڈراموں پر پابندی عائد کی گئی لیکن وہ1850اور60کی دہائی کا مشہور ڈرامہ نگار تھا جس نے بین الاقوامی طور پر بھی اپنے فن کا لوہامنوایا۔غریب وامیر میں واضح تفریق کرنے اور عوام کی طرفداری کرنے والا استروفسکی سوویت دور میں بھی عوامی مقبولیت کی بلندیوں پر رہا ماسکو سمیت پورے سوویت یونین میں اس کے ڈرامے اسٹیج ہوتے تھے ۔بلاشبہ وہ روس کا عظیم عوام دوست ڈرامہ نگار تھا جس نے محنت کار عوام کی نمائندگی کی ۔

ایوان ترگنیف (1818-1883)کا شمار بھی انیسویں صدی کے عظیم روسی ڈرامہ نویسوں ، ناول نگاروں اور افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے جس کی تحریروں میں روس کے محنت کار عوام بولتے نظر آتے ہیں ۔ایک متمول گھرانے میں پیدا ہونے والا ترگنیف غلام داری نظام کے انتہائی خلاف تھا ،اس کی والدہ کے پانچ سو غلام تھے جنھیں وہ ان کی زندگی میں تو آزاد نہ کرسکا لیکن والدہ کے وفات پاتے ہی پہلا کام ان غلاموں کو آزاد کرنے کا کیا ۔اس نے زیادہ تر وقت یورپی ممالک میں گزارا لیکن اس کی تحریریں روسی سماج کا آئینہ ہیں۔ ترگنیف نے اپنا مشہور ناول ”کھلاڑی کے خاکے“ 1852میں شایع کیاجس میں اس نے روسی کمیروں کے دکھوں اور مصائب کو بیان کیا ۔ ترگنیف کے اس ناول کو رعیتی غلامی کے خاتمے اور مزارعین کی آزادی کا اولین محرک قرار دیاجاتاہے ۔اسی سال ترگنیف نے گوگول کے بارے میں ایک مضمون لکھا جسے بنیاد بناتے ہوئے زار شاہی نے اس کے خلاف اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ۔ اس تحریر کی پاداش میں اسے قید اور دو سال نظر بندی کی سزا دی گئی ۔اس کی تحریریں نہ صرف روسی عوام میں مقبول تھیں بلکہ اس کی تحریروں سے روس کے بڑے بڑے دانشور اور ادیب متاثر ہوئے اور وہ مغربی یورپ میں بھی کافی مقبول رہا ۔ترگنیف کے دو نسلوں کے درمیان مکالمے پر مبنی مشہور ناول ” باپ اور بیٹے“ کا ہیرو بازاروف ایک عدمیت پسند ہے جو ہر قسم کے جبر استحصال ،دقیانوسی عقائد اور فرسودہ باتوں کو رد کرتا ہے ۔
(جاری ہے )

حوالہ جات
(11)لینن ، ادبی مسائل ،دارالاشاعت ترقی، ماسکو ،1974،ص؛62
(12)ایضاََ،ص؛45
(13) ایضاََ، ص؛46
Fyodor korovoki, Short History of the World ,P.No 287 (14)
(15)محمد مجیب ، ،روسی ادب ، حصہ اول،، مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ ،نئی دہلی،2011 ص؛229
(16) لینن ، مجموعہ تصانیف، جلد 13،ص؛54,55
(17)احمدعقیل روبی ، علم ودانش کے معمار ،نیشنل بک فاؤنڈیشن ، اسلام آباد ،،2014 ص ؛442

مشتاق علی شان
مشتاق علی شان
کامریڈ مشتاق علی شان مارکس کی ان تعلیمات کو بھولے نہیں جو آج بھی پسماندہ طبقات کیلیے باعث نجات ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *