• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ایک صحافی اور کرونا وائرس کی ملاقات کا احوال۔۔ڈاکٹر محمد شافع صابر

ایک صحافی اور کرونا وائرس کی ملاقات کا احوال۔۔ڈاکٹر محمد شافع صابر

ایک معروف صحافتی ادارے کے غیر معروف صحافی جو کہ آج کل بیروزگار ہیں۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے گھر میں قید تھے، بوریت دور کرنے کے لئے باہر چل دئیے۔ ابھی گلی میں داخل ہی ہوئے تھے تو دیکھا کہ سارا محلہ ککڑوں کی لڑائی دیکھنے میں مگن تھا، اسی بھیڑ میں انکی نظر کرونا وائرس پر پڑی، انکے دماغ میں آیا کہ اگر میں کرونا وائرس سے ملاقات کر کے، اسکا احوال لکھ کر اپنے ادارے کو بھیجوں،تو ادارے کی ریٹنگ بھی بڑھ جائے گی اور میری نوکری بھی بحال ہو جائے گی! انکی ملاقات کچھ یوں تھی!

صحافی! کرونا بھائی السلام عليكم
کرونا! (غصے سے)، ابے و جاہل انسان، مجھے کیوں بلایا؟؟ اندھے ہو کیا؟ دیکھ نہیں رہے کہ یہاں پورا محلہ جمع ہے، میں نے ان سب کا شکار کرنے کا پلان بنایا تھا، تم نے آواز دیکر سارا موڈ خراب کر دیا۔
صحافی! آپ مجھ سے ذرا تمیز سے بات کریں! میں ایک صحافی ہوں، صحافیوں کے ساتھ کوئی بدتمیزی نہیں کر سکتا۔
کرونا! جاؤ! جا کر منہ دھو کر آؤ! کیا صحافی تم جیسے ہوتے ہیں؟ صحافی تو سوٹ بوٹ پہن کر،ٹائم لیکر ملاقات کرنے آتے ہیں، تم ویسے ہی منہ اٹھا کر آ گئے ہو۔
صحافی! دیکھو! میں صحافی ہوں، آج کل میڈیا کی آزادی اور اشتہارات دونوں پر پابندی ہے، تو اسی لیے میڈیا ہاؤسز خسارے میں جا رہے ہیں، تنخواہ نہ  ملنے کی وجہ سے میں نے نوکری چھوڑ دی، اب ویہلا ٹامک ٹوئیاں مارتا رہتا ہوں۔
کرونا۔ اچھا بھائی! اب رونا مت شروع کر دینا، آج کل زیادہ تر صحافی روتے ہی نظر آتے ہیں، ٹویٹر تو ان کے لئے موت سے کم نہیں! اچھا بتاؤ! مجھ سے کیا چاہتے ہو؟
صحافی! میں چاہتا ہوں، آپ سے بات چیت کروں، پھر اسکا احوال اپنے اخبار میں لکھوں، آجکل آپ ہاٹ ٹاپک ہیں، آپ سے ملاقات میرے اخبار کو آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دے گی، شاید میرا ادارہ مجھے واپس نوکری پر بھی رکھ لے!
کرونا! (دو منٹ) سوچ کر، ویسے تو میں نے پوری دینا میں تہلکہ مچا رکھا ہے، لوگوں کے گھر، کاروبار سب کچھ اجاڑ کر رکھ دیا ہے، اگر میری وجہ سے تمہاری نوکری بحال ہوتی ہے تو میں راضی ہوں۔
صحافی! بہت بہت شکریہ کرونا بھائی جان
کرونا! زیادہ مکھن لگانے کی ضرورت نہیں، سیدھا مدعے پر آؤ!
صحافی! آپ اپنے بارے میں بتائیے!
کرونا! (دانت پسیتے ہوئے)، میں وائرس ہوں،مجھے 1930 کے  لگ بھگ دریافت کیا گیا۔
صحافی! لیکن تمہیں بیماری پھیلانے کا خیال، اپنی دریافت کے سو سال بعد ہی کیوں آیا؟
کرونا! (مسکراتے ہوئے)،بس تمہارے بھائی کو سب ایزی لے رہے تھے، تو بھائی نے سوچا کیوں نا دھماکہ کیا جائے، تو بھائی نے کر دیا دھماکہ۔
صحافی! آپ کو نہیں لگتا کہ آپ کا یہ دھماکہ کچھ زیادہ ہی خطرناک ہے؟
کرونا! دیکھو، میرا کام دھندہ ہی یہی ہے۔ میں تو شروع سے ہی بیماری پھیلا رہا تھا، لیکن تم انسانوں کے اندر جوقدرتی قوت مدافعت ہوتی ہے نا، وہ مجھے اور میرے حملے کو ناکارہ بنا دیتی تھی، تو اسی لیے تم انسان مجھے سیریس نہیں لیتے تھے، اسی وجہ سے میرے خلاف کوئی ویکسین بنی نہ  ہی دوا۔ تو یہ تم انسانوں  کی غلطی ہے کہ تم مجھے لائٹ لیتے رہے، اب بھگتو۔
صحافی! مانا کہ ہم تمہارے خلاف ویکسین نہیں بنا پائے جو سراسر ہماری نااہلی ہے، لیکن تم خود ہی خدا کا خوف کرو، کیوں پوری دنیا کے انسانوں کے خون کے پیاسے ہو گئے ہو؟
کرونا! (قہقہہ لگاتے ہوئے ) یہ تو ہو گا۔۔۔یہ تو ہو گا! میں بڑا بے رحم ہوں، مجھے انسانوں کو مارنا اچھا لگتا ہے۔
صحافی! کیا تم میں دل نہیں؟؟ انسانیت نام کی بھی کوئی چیز ہے
کرونا! تم مجھے زیادہ انسانیت کے بھاشن مت دو، جو کرتوت تم انسان کرتے ہو، اسکا کیا؟ تم معصوم جانوروں کو نہیں مارتے؟ ان پر ظلم نہیں کرتے؟ تم دوسرے فرقے کے لوگوں کو بخشتے ہو؟؟ جانور تو بہت دور، آج کے انسان سے دوسرا محفوظ نہیں، اور مجھے تم انسانیت کے سبق سکھا  رہے ہو۔
صحافی! جو تم نے اٹلی، ایران، چائنہ میں ہزاروں افراد ہلاک کر دئیے، ان کا کیا؟
کرونا! جب میں تباہی پھیلا رہا تھا، مجھے روک لیتے
صحافی! کیسے روکتے؟ تم تو بے قابو تھے!
کرونا! تو حکومت اور ڈاکٹروں کی ہدایت پر عمل کرتے
صحافی! تم کسی کو چھوڑ دو، کسی مذہب کے لوگوں کو تو چھوڑ دو!
کرونا! میں سیکولر ہوں، میرے لیے کوئی مذہب معنی نہیں رکھتا
صحافی! کیا ایران، اٹلی میں خون کی ندیاں بہا کر تمہیں چین نہیں آیا تھا جو تم منہ اٹھائے پاکستان بھی چلے آئے؟
کرونا! پاکستان تو میرے دل کے بہت قریب ہے، جب میں نے تمہارے دوست چین کو نہیں چھوڑا، میں تو تم دونوں دوست ملکوں کی دوستی کو دیکھ کر ووہان سے سیدھا پاکستان آ گیا۔
صحافی! ہم پاکستانیوں سے دشمنی کیا ہے تمہاری؟
کرونا! دیکھو! میری پاکستان سے کوئی دشمنی نہیں، تم لوگوں کا خود کا قصور ہے، جو میں ادھر آیا
صحافی! میں سمجھا نہیں، کھل کر بتاؤ
کرونا!دیکھو! میں ابھی چین میں ہی تھا، ڈاکٹروں کی تنظیموں نے حکومت کو خط لکھے کہ کرونا کا پاکستان میں خطرہ ہے، حفاظتی انتظامات کر لیں، لیکن تمہاری حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی،
صحافی! تو حکومت کیا کرتی؟
کرونا! حکومت سکریننگ ٹیسٹ کا انتظام کرتی، کرونا کٹس کا انتظام کرتی، کرونا کے خلاف آگاہی پھیلاتی، قرنطینہ سنٹرز قائم کرتی، اور بھی بہت کچھ کر سکتی تھی
صحافی! حکومت یہ سب کچھ کر تو رہی ہے
کرونا! ہاں کر تو رہی ہے، لیکن ابھی بھی مزید بہتری کی گنجائش ہے۔
صحافی! ہم ترقی پذیر ملک ہیں، ہمارے ہاں اتنے انتظامات بھی غنیمت ہیں
کرونا! تمہاری بات سے میں اتفاق کرتا ہوں، لیکن ان انتظامات کے ساتھ میں قابو میں آنے والا نہیں۔
صحافی! بیرون ممالک سے امدادی سامان آرہا ہے، بہتری کی امید ہے
کرونا! (طنزیہ مسکراتے ہوئے) زیادہ فلمیں نہیں، جو سامان آیا اسکا کیا کیا؟ ڈاکٹرز کے لئے جو N95 ماسک آئے، وہ ڈاکٹروں کی بجائے وزراء اور بیوروکریٹس کودے دئیے گے!
صحافی! تم تو کھراسچ بولتے ہو!
کرونا! تو میں اور کیا کروں؟ میں نے جس ملک میں بھی تباہی مچائی، وہاں کی حکومتوں نے سب سے پہلے ڈاکٹرز کو ماسک اور حفاظتی سامان دیا تاکہ وہ میرے خلاف بنا خوف کے کام کر سکیں، لیکن پاکستان میں گنگا الٹی بہہ رہی ہے، ڈاکٹرز بیچارے بنا حفاظتی انتظامات کے میرے شکار مریضوں کوچیک کر رہے ہیں، بجائے بیماری کو روکنے کے، وہ خود اس کا شکار ہو رہے ہیں اور پھیلاؤ کا سبب بن رہے ہیں۔ابھی کل ہی ڈیرہ غازی خان میں 14 ڈاکٹرزبھی اسی غفلت کی وجہ سے میرا شکار ہو گئے! اب بتاؤ قصور زیادہ کس کا ہے؟؟
صحافی! تم اس صورتحال کا ذمہ دار تم کسے ٹھہراتے ہو؟
کرونا! عوام کی جان و مال کی محافظ ریاست ہوتی ہے، حکومت پاکستان اس معاملہ میں ناکام ہوئی ہے، حکومت کرونا سے بچاؤ کے لئے انتظامات کرنے سے ناکام رہی، اور میں پورے ملک میں پھیل گیا، اب انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ کیاکیا جائے!
صحافی! پاکستان کی عوام کے کرونا کے خلاف انتظامات کیسے ہیں؟؟
کرونا! (اونچی آواز میں قہقہ لگا کر بولا) بس کرو! جتنانان سریس مجھے پاکستانیوں نے لیا ہے، اتناکسی اور ملک نے نہیں لیا! لاک ڈاؤن پر یہ عمل کر نہیں رہے، کرفیو حکومت نافذ کر نہیں رہی، ساری زندگی چھٹیاں مانگتے رہے، اب ملی ہیں تو سمجھ نہیں رہے کہ ان چھٹیوں کا کیا جائے؟ گھروں میں بیٹھ نے سکتے، بھیڑ بنائے بنا رہ نہیں سکتے! تو یہ سب کچھ کریں گے تو میں تو پھیلو ں گا ہی!
صحافی! تم پاک ایران بارڈر پر کچھ بتاؤ!
کرونا! اگر حکومت قرنطینہ سنٹر بنا کر، مجھے وہاں روک لیتی تو یہ مسئلہ ہونا ہی نہیں تھا۔
صحافی! کیا میڈیا نے اپنی ذمہ داری ادا کی؟
کرونا! اسی میڈیا کی وجہ سے پاکستان میں لاتعداد کرونا ماہرین پیدا ہو گئے، اور کیا چاہیے؟؟؟
صحافی! علماء کرام کے بارے میں کیا خیال ہے؟
کرونا! اگر میں کچھ بولوں گا تو کفر کا فتویٰ لگ جائے گا
صحافی! کچھ لوگ کہتے ہیں کہ تم عذاب ہو؟
کرونا! میں عذاب نہیں، تم لوگوں کے کرتوتوں کی سزا ہوں، 10 والا ماسک 200 میں، 60 روپے کلو چینی 90 روپے بیچو گے تو مجھ سے جیسے عذاب ہی آئیں گے!
صحافی! اگر عوام ایسے ہی لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرتی رہی تو کیا ہو گا؟
کرونا! وہی ہو گا جو اٹلی میں ہو رہا، تمہاری حکومت کے بقول، 25 اپریل تک کرونا کے مریضوں کی تعداد پچاس ہزار سے بڑھ جائے گی، تم خود ہی حساب لگا لو!
صحافی! حل بھی تم خود ہی بتا دو!
کرونا! لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل کرایا جائے، اگر نہیں مانتے تو کرفیو نافذ کیا جائے، بھیڑ بنانے والوں سے آہنی ہاتھوں سے پنٹا جائے، تو میرے مزید پھیلاؤ کو روکا کا سکتا ہے!
صحافی! تمہارا علاج کیا ہے؟
کرونا! فی الحال تو میرا کوئی علاج دریافت نہیں ہوا، ہاں بس اپنے ڈاکٹرز کی نصیحت پر سختی سے عمل کریں!
صحافی! اگر تم کرونا نا ہوتے، بلکہ حکومت میں ہوتے تو تم اس سے کیسے نمٹتے؟
کرونا! میں سب سے پہلے پورے ملک کے ڈاکٹرز کو ماسک اور کٹس کی فراہمی کو بلاتعطل ممکن بناتا۔ ڈاکٹرز کو فری ہینڈ دیتا، قرنطینہ سنٹرز میں ساری سہولیات فراہم کرتا۔ میں مخیر حضرات اور اداروں سے مل کر مستحق لوگوں کی مدد کو یقینی بناتا۔ میں بتاتا جاؤں، جب تک کرونا کے خلاف ڈاکٹرز بلا خوف کام نہیں کریں گے، اس وبا کو کنٹرول کرنا ناممکن ہے۔
صحافی! حکومت کے لئے کوئی پیغام؟
کرونا! خدارا! اب بھی وقت ہے، مجھے سیریس لیں، لاک ڈاؤن اور کرفیو پر سختی سے عمل کریں، سیاست دانوں کو ماسک دینے کی بجائے ڈاکٹرز کو دیں، مستحق افراد کی مدد کو ممکن بنائیں، صوبوں سے مل کر قومی پالیسی تشکیل دیں، حکومت اور اپوزیشن مل بیٹھ کر کوئی فیصلہ کریں، عوام کو گھروں پر رہنے کی تلقین کریں۔ اگر حکومت یہ اقدمات نہیں اٹھائے گی تو مجھے روکنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔
صحافی! (آخر میں کچھ پرسنل سوال) تم مسلمان ہو کہ نہیں؟
کرونا! پتا نہیں
صحافی! تم فرقہ دیکھ کر شکار کرتے ہو؟
کرونا! کر دی نا چھوٹی بات!! میں بنا رنگ، نسل زات اور مذہب کے لوگوں کو نشانہ بناتا ہوں
صحافی! یہ تو بڑی اچھی بات ہے
کرونا! بس دیکھ لو! کبھی غرور نہیں کیا۔
صحافی! کرونا بھائی، آپکے وقت کا بہت شکریہ
کرونا! میں دعا گو ہوں، اس ملاقات کی بدولت تمھاری نوکری بچ جائے!!

ملاقات کرنے کے بعد، صحافی گھر کی طرف چل دیا، جب کہ کرونا مسکراتے ہوئے، ککڑوں کی لڑائی دیکھتے لوگوں کی طرف چل دیا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *