گوادرکا شاہی بازار (1)۔۔۔۔سلیمان ہاشم

ہم اس انتظار میں تھے کہ 85 سالہ بزرگ محکمہ تعلیم سے ریٹائرڈ ایجوکیشن سپرنٹنڈنٹ, ماسٹر امام بخش صاحب سے ہماری ملاقات ہو، موصوف جو اب اپنی اسٹیشنری کی دکان کھول چکے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آج سے بیس سال پہلے وہ ایجوکیشن ڈیپاٹمنٹ میں سپر وائزر تھے اور اب بھی اسٹیشنری اور رجسٹروں کے درمیان میں بیٹھے ہوئے ایسے لگتے ہیں کہ جیسے وہ اب بھی جوان اور محکمہ تعلیم سے ہی وابستہ ہیں۔
گزشتہ دنوں ایک عزیز کی شادی پر وہ مجھے ملے تو میں نے ان سے درخواست کی سر آپ سلطنت عمان کا زمانہ اور دوربھی دیکھ چکے ہیں، خصوصاً گوادر شاہی کا بازار مسقط عمان کے دور میں کیسا تھا اور اب پاکستان کے موجودہ دور میں آپ اس کو کیسے دیکھ رہے ہیں۔
تو انہوں نے وعدہ کیا کہ تم شام کو میری دکان پر آ جانا سب کچھ بتا دوں گا۔ شام کو ان کی دکان ملا فاضل چوک پر پہنچا تو کچھ گاہگ وہاں پر موجود تھے۔ ان سے دوسرے روز 10 بجے کا وقت لے کر پہنچا تو وہ فارغ بیٹھے تھے۔

علیک سلیک کے بعد میرا پہلا سوال تھا کہ گوادر کے شاہی بازار کی تاریخ کیا ہے؟ اور یہ کب بنا تھا؟ انہوں نے کہا کہ شاہی بازار تو اس کا نام 70 کی دہائی میں پڑا لیکن اس بازار کی تاریخ تو بہت پرانی ہے۔ بلوچستان کی تاریخ تو یہ بتاتی ہے کہ پہلی بار اس بازار کو میر حمل کلمتی سالار ساحل کے دور میں 15 ویں صدی میں پرتگیزیوں نے بلوچ سالار ساحل میر حمل کلمتی سے شکست کا بدلہ لینے کے لیے پسنی اور گوادر کے بازار کو جلا کر خاکستر کر دیا تھا۔ پھر سترویں اور اٹھارویں صدی میں اسی جگہ پر سلطنت آف عمان کے دور میں اس کو دوبارہ تعمیر کیا گیا تھا اور پھر یہ سلطان سعید بن تیمور کے دور میں یہ تیسری مرتبہ تعمیر کیا گیا تھا۔ سلطنت آف عمان کا زمانہ گوادر کے عروج کا دور شمار کیا جاتا ہے۔

گوادر ایک تاریخی اور قدرتی محفوظ بندرگاہ سمجھا جاتا تھا۔ گوادر کا یہ بازار تنگ گلیوں پر مشتمل ضرور تھا لیکن اس کی بڑی اہمیت تھی۔ اس زمانے میں گاڑیاں نہیں ہوتی تھیں اور نہ لمبی چوڑی اور کشادہ سڑکوں کی ضرورت تھی۔ مال برداری کے لیے اونٹ, گدھے، خچر اور گھوڑے استعمال ہوتے تھے جو بآسانی اس بازار میں آجا سکتے تھے ۔ ایک تنگ و تاریک بازار لیکن دنیا کے تمام ممالک کی اشیا خورونوش اور دیگر اسباب سے لبالب بھرا تھا۔ کسی چیز کی کمی نہیں تھی۔ یہ ایک فری پورٹ تھی۔ جس طرح مسقط عمان کی طرح بازار اور افریقہ کے ایک ملک تنزانیہ کی زنزبار (زنجبار سلطنت عمان) کے بازار بالکل اسی طرح کی طرز تعمیر کا بہترین شاہکار سمجھے جاتے ہیں۔ جو سلطنت آف عمان نے ایک ہی طرز پر بنائے تھے اور ان تینوں ممالک پر سلطنت آف عمان کی حکمرانی تھی۔
اس دور میں اس کو شاہی بازار نہیں۔کہتے تھے بلکہ یہ گوادری بازار کے نام تک محدود تھا اور شاید اس کلومیٹر لمبے تنگ و تاریک بازار میں دنیا کی ہر شے دستیاب تھی۔
سوئی سے لیکر دھاگہ, راشن سے لے کر لکڑی اور ماہی گیری کے آلات سے لے کر بلوچی ادویات تک اور اس کی گلیوں میں بڑی بڑی مارکیٹیں ہوا کرتی تھیں جن میں (گلگ یا نیادی) اور دیمی زر کے قریب کئی مچھلی مارکیٹ اور کسٹم (پردو) واقع تھے۔ تو اسماعیلی فرقہ کے کھوجا اور ہندوٶں کی ایک بڑی تعداد تجارت کے پیشے سے وابستہ تھے۔ سلطنت کے دور حکمرانی میں ہی یہ اقلیتی برادری ایک خاص علاقے میں محدود تھے جس کمپاونڈ میں یہ رہتے تھے اس میں دو قلعے تھے۔
ایک مٹی کا بنا ہوا تھا، جو وقت کے تھپیڑے بر داشت نہ کرسکا اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا، دوسرا قلعہ جو 18ویں صدی میں تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کے پتھروں کو نفاست سے تراش کر بہترین طریقے سے پتھروں اور چونے کی لپائی سے تعمیر کیا گیا تھا جو اب بھی کسی حد تک سالم ضرور ہے لیکن کہیں کہیں اس کا پلستر کچھ جگہوں پر اکھڑا ہوا ہے۔ اس پر آثار قدیمہ کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
لیکن گوادر میں یہ محکمہ سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ اس جانب یہ محکمہ خواب غفلت کا شکار ہے۔ کئی ایسے ماضی کے درخشان شاہکاروں پر اوس پڑی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب شاہی بازار کی دکانوں اور شاہکار عمارتوں کی اس خستہ حالت میں دیکھتا ہوں تو سخت افسوس اور رنجیدہ ہوتا ہوں۔ روز بروز شاہی بازار کی دکانیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر گر رہی ہیں۔ مجھے یہ خدشہ ہے کہ جیسے سلطنت دور کے دوسری کئی خوبصورت عمارتیں گر گئیں یا باہر کے غیر مقامی لوگوں نے ان جگہوں پر قبضہ کیا۔ اسی طرح یہ بازار بھی
صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا۔
جاری ہے

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *