چل میلے نوں چلیے۔۔۔ محمد اسلم خان کھچی ایڈووکیٹ

زندگی کے میلے یوں ہی رواں دواں رہتے ہیں‘ لوگ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں لیکن یہ گرمئی بازار یوں ہی رہتی ہے۔ ہمارے گاؤں میں مذہبی تہواروں کے علاوہ جس چیز کا ہمیں شدت سے انتظار ہوتا تھا‘ وہ گاؤں کا میلہ تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ٹیلی ویژن اور موبائل فون ہمارے زندگیوں کا حصہ نہیں بنے تھے۔ زندگی خاموش، کھوئی کھوئی سی لیکن بے حد خوب صورت ہوا کرتی تھی۔ ہمارے گاؤں سے تین چار کلومیٹر دور ایک دربار “پیر جہانیاں ” ہے ۔ اس گاؤں کی وجۂ شہرت یہاں کا میلہ تھا۔
اب میں آنکھیں بند کروں تو اس میلے کے کئی منظر آنکھوں میں روشن ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک منظر والد صاحب کے ساتھ میلے میں جانے کا ہے۔ جب وہ مجھے کندھوں پر بٹھا کر میلے کا آدھا راستہ طے کرتے اور پھر باقی آدھا راستہ میں گاؤں کے بچوں کے ساتھ دوڑتے ہوئے طے کرتا۔ اس کچے راستے پر ایک جگہ پر پودوں کے ارد گرد لپٹی ہوئی زرد رنگ کی آکاس بیل ہوتی تھی۔ ہر بار میرے پوچھنے پر والد صاحب بتاتے کہ آکاس بیل کیا ہے اور کیسے یہ پودوں سے لپٹ کر ان کا رس چوستی ہے۔ بڑے ہو کر مجھے پتہ چلا کہ صرف بیلیں ہی نہیں بعض لوگوں کے گروہ اور ممالک بھی Parasites ہوتے ہیں۔
جب تھوڑا شعور آیا تو سوچا کیوں نہ تجربہ کیا جائے کہ آکاس بیل کیسے درختوں کا رس چوس کے ان کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔
پرائمری سکول پیدل جانا پڑتا تھا،میٹل روڈ کے ساتھ ساتھ گھنے درخت ہوا کرتے تھے۔ ایک دن 2 دوستوں کےساتھ مل کے آکاس بیل کی کارکردگی جاننے کی ٹھان لی۔ ہم نے زرد رنگ کی آکاس بیل کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے توڑے ( تقریباً 4 یا 5 فٹ ہو سکتے ہیں) اور تین درختوں کی ٹہنیوں کے ساتھ لپیٹ دیئے۔
اب انتظار شروع ہو گیا۔۔سکول میں آدھا گھنٹہ تفریح کے دوران ہم بھاگ کے ان درختوں کے پاس آتے اور بیٹھ کہ اپنا لنچ کرتے۔۔۔ لنچ کیا ہوتا تھا۔۔۔۔ کسی کے پاس پراٹھے تو کسی کے پاس گڑ تو کسی کے پاس مرچیں پیاز۔۔۔۔ خیر وہ میری زندگی کا لذیذ ترین لنچ ہوا کرتا تھا۔ لنچ کے ساتھ ساتھ یہ مباحثہ جاری رہتا کہ درخت تو ویسے کے ویسے کھڑے ہیں۔۔۔ بس شدت کا انتظار تھا کہ کب یہ آکاس بیل پورے درختوں کو اپنی لپیٹ میں لے گی۔۔۔ کچھ اندازہ نہیں، کتنا وقت گزرا کہ اچانک آکاس بیل بڑھنا شروع ہو گئی اور دنوں میں درختوں کو لپیٹ میں لے لیا۔ والد صاحب کی بات سچ ثابت ہوئی۔۔۔ آکاس بیل نے درختوں کا رس چوسنا شروع کیا اور چند ماہ میں درخت سوکھ گئے۔۔۔ افسوس تو بہت ہوا لیکن یہ بات بچپن کی اور شرارتوں کی طرح ماضی کی بھول بھلیوں میں گم ہو گئی۔۔۔
ایسی ہی ایک آکاس بیل ہمارے ملک پہ 70 کی دہائی میں لپیٹی گئی۔
پانچ سو روپے قرض لے کر لوہے کا کاروبار شروع کرنے والے ایک لوہار نے کچھ ہی سالوں میں ایک فونڈری لگا لی۔۔ شومئی قسمت کہ بھٹو کے آرڈر پہ تمام صنعتیں قومیا لی گئیں اور یہ خاندان راتوں رات قلاش ہو گیا۔ بزنس مین کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ یہ انتہائی شاطر اور کرپٹ ہوتا ہے۔۔۔
شریف لوہار جو اب میاں شریف صاحب کی شکل اختیار کر چکے تھے۔سب کچھ کھو جانے کے بعد احساس ہوا کہ اگر بزنس کرنا ہے تو پھر سیاست میں آنا ہو گا۔۔۔ اثر رسوخ استعمال کیا اور جنرل جیلانی تک پہنچ گئے۔ نوازشریف چونکہ بزنس معاملات میں بلکل کورے تھے تو قرعہ فال بھی انہی کے نام نکلا۔۔۔
یوں 1980 میں یہ آکاس بیل ایک چھوٹے سے ملکی درخت (وزارتِ خزانہ) پہ لپیٹ دی گئی۔ جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک کو لپیٹ میں لے لیا۔۔۔ کھلاڑی شامل ہوتے گئے۔۔۔ آکاس بیل بڑھتی گئی۔۔۔ درخت سوکھتے گئے۔۔۔۔ 1947 سے 1970 تک بہت تیزی سے ترقی کرنے والا ملک تیزی سے زوال پذیر ہونا شروع ہوا۔ ۔۔ بھٹو خاندان اور شریف خاندان کی انتھک محنت کے بعد قرضے دینے والا ملک قرضے لینے والوں کی صف میں شامل ہو گیا۔۔2013 تک ان لوگوں نے ہم بیچاروں پہ ترس کھا کے پوری دنیا سے قرض مانگا۔۔۔ در در پھرے۔۔۔۔ تب جا کے31000,000000000 روپے
اکٹھے ہوئے۔۔۔اس کے علاوہ امداد الگ تھی۔۔۔ پہلے تو قوم بہت خوش تھی کہ ہمارے فخر پاکستان قوم کا درد رکھتے ہیں۔۔۔۔
بیڑہ غرق ہو۔۔۔ پانامہ والوں کا۔۔۔ سارا بھانڈا ہی پھوڑ دیا۔ تب جا کے پتہ چلا حضور یہ وہ ذرائع۔۔۔ جن سے ہم نے پوری دنیا میں محل بنائے۔۔ ۔۔۔
لیکن بہت دیر ہو چکی تھی ۔ 35 سالہ بزنس رولنگ سسٹم نے پورے ملک کو کرپٹ کر دیا تھا۔۔۔ رشوت کو محنت کی کمائی سمجھا جانے لگا۔۔۔ اور یہی ایک وجہ تھی کہ ادارے مٹی کا ڈھیر ثابت ہوئے اور یہ بڑے کروفر کے ساتھ اس ملک کے اداروں پہ تھوکتے ہوئے اپنے محلات میں منتقل ہو گئے۔۔۔۔
پورا سسٹم اپنی پوری قوت کے ساتھ انکا کچھ نہیں بگاڑ سکا۔۔۔
اس ملک پہ لپیٹی گئی یہ آکاس بیل پوری قوت سے اس ملک کو جکڑ چکی ہے۔۔۔
اس وقت سسلین مافیا لوٹ مار کے پیسوں سے خریدے گئے محلات میں بیٹھ کے بچےکھچے درختوں پہ آکاس بیل لپیٹنے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔۔۔3 سال بعد وہ بڑی شان سے اس ملک میں میلہ دیکھنے آئیں گے اور اسی میلے میں ہی ہم خود بندر بن کے ناچ ناچ کے انکے چہروں پہ مسکراہٹ لائیں گے اور اگر یہ تکبرانہ مزاج سے نکل کے تھوڑا مسکرا بیٹھے تو سامنے ناچنے والے بندر خوشی سے بے حال ہو جائیں گے
خواجہ آصف صاحب کی پنجابی مجھے بہت اچھی لگتی ہے۔۔۔
3 سال بعد وہ نواز شریف صاحب کو کہ رہے ہوں گے
چل یار ۔۔۔ہن میلے نوں چلیے ۔۔۔
اللہ رب العزت آپکو خوشیاں عطا فرمائے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *