• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کرونا ڈائریز:کراچی،کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(سولہواں دن)۔۔گوتم حیات

کرونا ڈائریز:کراچی،کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(سولہواں دن)۔۔گوتم حیات

SHOPPING
SHOPPING

گزشتہ رات شہر “جھول” پر پندرھویں قسط کو شائع ہوئے ابھی کچھ ہی منٹ گزرے تھے کہ بلوچستان سے ایک دوست کی کال آگئی۔ اُس نے قسط پڑھ کر ہی مجھے فون کیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ “بالکل یہی صورتحال تو میرے علاقے کی بھی ہے، میں چاہتا ہوں کہ تم اگلی قسط میں تفصیل کے ساتھ پڑھنے والوں کو یہ بتاؤکہ اس کرونا کو لے کر ہمارے عام تصورات کیا ہیں”، میں نے کہا ہاں ٹھیک ہے تم مجھے اپنے علاقے کی موجودہ صورتحال کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کرو، میں ان ہی تفصیلات کی روشنی میں سولہویں قسط کو تحریر کروں گا۔ فون پر ہماری جو گفتگو ہوئی میں اس کو مندرجہ ذیل میں اختصار کے ساتھ پڑھنے والوں کی دلچسپی کے لیے بیان کر رہا ہوں۔

بلوچستان کے ڈسٹرکٹ خضدار کی تحصیل نال میں ایک گاؤں ہے “درنیلی”، سیاسی طور پر یہ حلقہ محترم سردار اختر مینگل صاحب کا ہے۔ یہاں معمول کے مطابق لوگ گھوم پھر رہے ہیں۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے اگر کوئی فرق آیا ہے تو وہ صرف مدرسوں اور  سکولوں کے طالبعلموں کی زندگیوں میں آیا ہے۔ چھٹیوں کی وجہ سے سارا سارا دن ان طالبعلموں کی ٹولیاں گھروں سے باہر کھیل کود میں مصروف رہتی ہیں۔ بیس بیس، پچیس پچیس افراد راتوں کو مجمع لگائے اپنی تفریحات میں مگن ہیں۔ گاؤں کے ہوٹلز بھی معمول کے مطابق کُھل رہے ہیں، دن بھر گاہکوں کا بھی رش لگا رہتا ہے۔ بہت سے لوگ کرونا کی وجہ سے ہونے والی چھٹیوں کو بھرپور طریقے سے منانے کے لیے ہر روز پکنک پر جارہے ہیں۔ کسان طبقہ بغیر کسی احتیاطی تدابیر کے کھیتوں میں گندم کی کٹائی میں مصروف ہے اور ان دنوں کپاس کی فصل بھی لگائی جا رہی ہے۔ اگر یہاں پر کسی بھی شخص سے کرونا کی وبا کے بارے میں بات کی جائے تو ان کا ایک ہی ردعمل ہوتا ہے کہ ہم مسلمان ہیں، ہمیں کرونا سے کچھ نہیں ہو سکتا۔ اگر کرونا ہے بھی تو وہ پنجاب کے علاقوں میں ہو گا، حکومت کو باہر کے ملکوں سے امداد لینی ہے، اس لیے یہ سب حکومت کا ڈرامہ ہے کہ لوگ کرونا کے نام سے خوفزدہ ہو کر گھروں میں بیٹھ جائیں اور مُلک بند ہو جائے۔ گاؤں میں تقریباً سب ہی لوگوں کے پاس اینڈرائیڈ فون اور سوشل میڈیا کی سہولت ہے لیکن خواندگی کی شرح کم ہونے کی وجہ سے ان میں سماجی شعور کا فقدان ہے۔ پاکستان میں کرونا کے مریضوں کے بارے میں ٹی وی پر چلنے والی خبروں کو بھی یہ لوگ من گھڑت قرار دے رہے ہیں۔ مساجد میں بھی ساری نمازیں باجماعت ادا کی جا ریی ہیں بلکہ ان دنوں نمازیوں کی صفوں میں بھی حیران کُن اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ نمازِ جمعہ کے اجتماع کے بارے میں بتاتے ہوئے اُس کا کہنا تھا؛
“لاک ڈاؤن کے دنوں میں جب پہلا جمعہ آیا تو نماز شروع ہونے سے کچھ دیر پہلے ہولیس اور ایف سی کے اہلکار آگئے اور انہوں نے مولوی صاحب کو کہا کہ آپ نماز جمعہ نہ پڑھائیں اور اعلان کریں کہ آج نمازِ جمعہ کے لیے کوئی نہ آئے۔ مولوی صاحب پولیس اور ایف سی کی یہ بات سُن کر شش و پنج میں مبتلا ہو گئے، انہوں نے صاف کہہ دیا کہ میں مسلمان ہوں، میں لوگوں کو نماز سے نہیں روک سکتا، میں مجبور ہوں، لوگ جب نماز پڑھنے آ رہے ہیں تو میں کیوں ان کو روکوں، اگر آپ مسلمان نہیں ہو تو آپ جا کر لوگوں کو منع کرو کہ وہ مسجد نہ آئیں۔ مولوی صاحب کی اس بات پر پولیس اور ایف سی کے اہلکاروں نے کہا کہ ہم خود بھی مسلمان ہیں، ہم بھی انہیں نماز پڑھنے سے نہیں روک سکتے، آپ نماز شروع کر دیں”، میرے دوست کا یہ بھی کہنا تھا اس بار نمازِ جمعہ کے لیے لوگوں کا غیر معمولی رش دیکھ کر مجھے خود بھی حیرت ہوئی۔ لاک ڈاؤن کے دوران ابھی تک دو جمعے آئے ہیں اور ان دونوں جمعوں میں کسی مسجد میں چھ سو لوگ جمع تھے، کسی مسجد میں تین سو اور کسی مسجد میں ڈیڑھ سو کے قریب لوگوں نے شرکت کی۔ اگر یہاں کسی مسجد کے اندر گنجائش کم پڑ جاتی تو لوگوں نے مسجد کے باہر چادریں اور دریاں بچھا کر نماز ادا کی ہے۔

میں نے اپنے دوست سے پوچھا کہ کیا تم نے مولوی صاحب یا پولیس اور ایف سی کے اہلکاروں سے اس بارے میں کوئی بات کی کہ حکومت کے احکامات کی خلاف ورزی کر کے یوں نماز ادا کرنا ایک جُرم ہے، وبا کے دنوں میں اس طرح کے اجتماعات سے کرونا اگر پھیل گیا تو اس کا ذمےدار کون ہو گا۔۔۔ مسجدوں کے مولوی یا قانون نافذ کرنے والے حکومتی اہلکار؟؟؟ میرے اس سوال پر اس کا کہنا تھا کہ۔۔
“ہاں میں نے اس بارے میں مولوی صاحب اور پولیس اہلکاروں سے بات کی تھی کہ اس وقت آپ لوگوں کی جو ذمےداری ہے وہ آپ کیوں نہیں نبھا رہے، اگر آپ لوگوں کو مسجد آنے سے منع کردیں تو اسی میں ہی آپ کی اور ہم سب کی نجات ہے۔۔۔ لیکن بدقسمتی سے اس بات چیت کے دوران مجھے احساس ہوا کہ میری ان توجیہات کو وہاں سمجھنے والا کوئی نہیں، وہ لوگ اُلٹا مذاق اُڑانے لگتے ہیں کہ یہ شہر سے نیا نیا پڑھ کر آیا ہے اس لیے ایسی باتیں کر رہا ہے۔”

میرے دوست کی کال ختم ہوئی تو میں اس سوچ میں پڑ گیا کہ آخر ہم مسلمانوں کی رگوں میں دوڑنے والا خون کیا واقعی میں اشرف المخلوقات کا ہی خون ہے۔ اجتماعی طور پر ہر قسم کی جدید سہولیات کے باوجود ہمارا ذہن پسماندگی کی دلدل میں کیوں دھنسا ہوا ہے۔۔۔ اس جدید سائنسی دور میں بھی ہم فکری طور پر کتنی پستیوں میں رہ رہے ہیں۔ ہمارے ہاتھوں میں موبائیل فون کی ٹیکنالوجی ہے، لمحہ بہ لمحہ دنیا بھر میں گزرتے ہوئے حالات کی حقیقی تصویر ہمارے پاس آرہی ہے لیکن ہم ان کو من گھڑت قرار دے رہے ہیں۔ کسی بھی سنگین بات کو تحمل سے سوچنے اور غور و فکر کرنے کی عادت اجتماعی طور پر ہمارے پاس سے رخصت ہو چکی ہے۔ یہ افسوسناک صورتحال کچھ اور مسلم ممالک میں بھی پائی جاتی ہے۔ کچھ ہی دن پہلے میں نے اپنے ایک بنگلہ دیشی دوست کو فون کیا، خیریت معلوم کرنے کے بعد جب میں نے اس سے کرونا کے بارے میں بنگلہ دیش کی صورتحال کے بارے میں دریافت کیا تو اس کا کہنا تھا کہ یہاں پر لاک ڈاؤن ہو چکا ہے لیکن لوگ بڑے فخر سے کہتے پھر رہے ہیں کہ ہم تو مسلمان ہیں، یہ کرونا کی بیماری تو غیر مسلموں کو لگتی ہے۔ ہمیں کرونا سے کچھ نہیں ہو سکتا۔ ان ہی فرسودہ قسم کی باتوں کی وجہ سے لوگ یہاں کرونا سے بچنے کی احتیاطی تدابیر بھی اختیار نہیں کر رہے۔ بہت سی جگہوں پر سیاسی جماعتوں کے نمائندے مضحکہ خیز بیانات دے رہے ہیں کہ”جس دیش میں حسینہ ہماری منسٹر ہیں وہاں کرونا نہیں ہو سکتا”۔ میرے دوست کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب ہماری سرکار نے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تو لوگ اگلے ہی دن اپنی اپنی فیملیز کو لے کر پکنک منانے کے لیے نکل پڑے، اور ان پکنک پر جانے والوں میں سب ہی طرح کے لوگ تھے، سرکاری ملازمین، نجی اداروں میں کام کرنے والے لوگ وغیرہ۔

SHOPPING

آج سات اپریل ہے۔ میری کرونا ڈائریز کی سولہویں قسط اب اپنے اختتامی مراحل میں ہے۔ آج ہی کے دن پاکستان میں کرونا سے متاثرہ افراد کی تعداد چار ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور کُل ملا کر “55مسلمان” کرونا کی وجہ سے جاں بحق ہو چکے ہیں، جی ہاں “55 مسلمان”۔ کچھ ایسی ہی صورتحال بنگلہ دیش کے مسلمانوں کو بھی درپیش ہو گی۔
کیا ہم اپنے آپ کو خود فریبی میں مبتلا کر کے اس بات سے انکار کر سکتے ہیں کہ۔۔
“کرونا کی  وجہ سے جن “55 لوگوں” کا پاکستان میں”انتقال” ہوا وہ “مسلمان” نہیں تھے؟

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *