آئیے آپ کو مہر ساجد شاد سے ملواتے ہیں۔۔۔سلیم مرزا

یہ عموماًنہیں ملتے ۔سردیوں میں تو خاص کر ان دنوں تک ملاقات نہیں کرتے جب تک دھوپ کھل کر نہ نکلے اور کنو میٹھا نہ ہو جائے ۔ پھر جب کنوں نمک لگائے بغیر کھایا جانے لگے، سمجھ لیں شاد جی قرب و جوار میں ہوں گے ۔ اب یہ آپ کی ہمت ہے کہ آپ انہیں سڑک پہ روک لیں۔
ان کے پاس کرولا الٹس ہے ۔مجھے بتا رہے تھے کہ کار کو آوارہ گردی کی عادت ہے ۔میں اسے پنجاب دکھا رہا ہوں ۔ پتہ نہیں کہاں سے شریف آدمیوں کو ایسی بدمعاش گاڑیاں مل جاتی ہیں ۔اپنے ابن فاضل کے پاس بھی ایک ایسی ہی ہنڈا ہے ، وہ بھی انہیں “اگے لائے “پھرتی ہے ۔
پچھلے دنوں رنگے ہاتھوں اس کے ساتھ سیالکوٹ دیکھے گئے ہیں۔ساجد بھائی صبح نک سک تیار ہوکر گھر میں یہ کہہ کر نکلتے ہیں کہ آفس جارہا ہوں ۔پھر گاڑی کا دروازہ وہ ساری دعائیں پڑھ کر کھولتے ہیں جو چنیوٹئے شیخ دکان کا شٹر اوپر کرنے سے پہلے پڑھتے ہیں ۔
لہذا آپ پنجاب میں کہیں بھی رہتے ہوں، ساجد آپ کو شاداں و فرحاں روڈ پہ ہی ملیں گے ۔بھابھی کو شک ہے وہ کریم چلاتے ہیں ۔اور مجھے ان کی سفید رنگت دیکھ کریقین ہے وہ کوئی کریم لگاتے ہیں ۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب کرونا وائرس نہیں ہوتا تھا ۔
میں جی ٹی روڈ سے گزرتے فیس بک والے دوستوں کو ایسے روک لیتا تھا جیسے پرانے زمانے میں ضلع ٹیکس والے ولائتی ٹی وی روک لیتے تھے ۔
انہی دنوں ساجد بھائی کا فون آیا ۔
“آپ کی فیس بک پروفائل سے پتہ چلا آپ پرانے پینٹر ہو “؟
پوچھنے کا انداز ایسا تھا جیسے پرانے پاپی کا پوچھ رہے ہوں، کہا
“جی تھا ۔اب تائب ہوچکا ہوں ”
انہوں نے کہا.”انہوں نے بتایا کہ میں بھی کیلیگرافر آرٹسٹ ہوں ،اس وقت جہاں ہو ں،وہیں رکو، میں آرہا ہوں”
کامونکی پہنچ کر مجھے پہلے گاڑی دکھائی،
“اس کے ایک طرف ملنگنی داتا دی لکھنا ہے ”
میں نے بتایا وہ تو پرانا فیشن ہے ۔پھر کہنے لگے پچھلے بمپر پہ دو شعر لکھ دو۔
ایک شیشی اور گلاب والا
اور دوسرا
موت سے بچ کر جیل والا
میں نے بتایاکہ ابھی رنگ اور برش پاس نہیں دوبارہ گزر ہو تو بندہ حاضر خدمت ہے
سزا کے طور پہ مجھے گاڑی میں بٹھا کر، پہلے پچاس کلومیٹر جنوب کی طرف گئے ۔پھر پچاس کلومیٹر مغرب کی طرف ۔
جہاں لیدر ٹینریز دیکھتے گھس جاتے ۔
سڑک کنارے جاتی بھینسوں کی قطار میں سے ایک کو ہاتھ پھیر کر دیکھا تو میں نے پوچھ ہی لیا
“سرکار گجر ہو “؟
“نہیں کمیکل انجینئر ہوں ۔اور لیدرانڈسٹری کو کمیکل سپلائی کرتا ہوں ۔”
۔وہ ہر طرح کی کونسلنگ کے ماہر ہیں ۔
کسی کھسرے کو دلیل سے سمجھائیں تو وہ کچے کے علاقے سے پکا ڈاکو بن کر نکلے ۔
اور اگر ڈاکو کو سمجھائیں۔۔۔؟
فیملی کونسلنگ کرکے بہت سے گھر ٹوٹنے سے بچا چکے ہیں ۔عمران خاں کی موجودہ شادی کے استحکام میں بھی انہی کا ہاتھ لگتا ہے ۔
مکالمہ پہ لکھتے ہیں اور بہترین سماجی، سیاسی معاشی تجزیہ نگار ہیں ۔
اتنی سنجیدہ گفتگو کرتے ہیں مجھے ان کی بات کبھی سمجھ نہیں آتی اور اگر میں کچھ کہوں تو مجھے غور سے سنتے اور دیکھتے ہیں ۔
لگتا ہے دل ہی دل میں پروردگار سے پوچھ رہے ہیں کہ
“اے اللہ اسے کیوں بنایا، اور اگر بنا ہی لیا تو ہمیں کیوں ملایا “؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *