• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کورونا وائرس کے خلاف موت اور زندگی کی عالمی جنگ کے عین بیچ جہانگیر ترین کا کورونا بدعنوانی ۔۔ غیور شاہ ترمذی

کورونا وائرس کے خلاف موت اور زندگی کی عالمی جنگ کے عین بیچ جہانگیر ترین کا کورونا بدعنوانی ۔۔ غیور شاہ ترمذی

دنیا بھر میں لوگ زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں اور ہمارے یہاں جہانگیر ترین اپنی بدعنوانی کی ایک بڑی کہانی کے مرکزی کردار  بن کر اُبھرے ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان سے تاحیات کسی بھی حکومتی عہدہ کے لئے ناہل قرار دئیے گئے جہانگیر ترین کو تحریک انصاف کی حکومت نے خود سے الگ کرتے ہوئے اُن پر لگے شوگر بدعنوانی کیس میں اس کا مقابلہ کرنے کے لئے انہیں تنہا چھوڑ دیا ہے۔ گزشتہ سال ملک میں پیدا ہونے والی آٹا اور چینی کی مصنوعی قلت اور اُس کے نتیجہ میں اِن کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافوں کے ذمہ داران کا تعین کرنے کے لئے وزیر اعظم عمران خان  کے حکم پر ایف آئی کے سربراہ واجد ضیاء کی سربراہی اور انٹیلی جنس بیورو، سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)، سٹیٹ بینک، ڈائریکٹوریٹ جنرل اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے نمائندے پر مشتمل 6 رکنی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ چینی کے بحران سے فائدہ اٹھانے والوں میں تحریک انصاف کے اہم رہنما جہانگیر ترین، وفاقی وزیر فوڈ سکیورٹی خسرو بختیار، ق لیگ کے رہنما مونس الٰہی کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنما شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چینی کی برآمد اور قیمت بڑھنے سے سب سے زیادہ فائدہ جہانگیر ترین کے گروپ کو ہوا جبکہ برآمد اور اس پر سبسڈی دینے سے ملک میں چینی کا بحران پیدا ہوا۔ رپورٹ کے مطابق رواں سال گنے کی پیداوار گزشتہ سال کے مقابلے میں درحقیقت ایک فیصد زیادہ ہوئی حالانکہ پچھلے سال کے مقابلے میں کم رقبے پر گنے کی کاشت کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا  کہ سیاسی شخصیات کا اثر و رسوخ اور فیصلہ سازی میں اہم کردار ہونے کی وجہ سے انھوں نے کم وقت میں زیادہ سبسڈی حاصل کی اور بہت ہی کم وقت میں زیادہ سے زیادہ منافع بھی یقینی بنایا۔ کمیشن رپورٹ کے مطابق سبسڈی اور برآمدات کی اجازت حاصل کرنے والی دیگر شوگر ملز میں ہنزہ شوگر ملز، انڈس شوگر ملز، فاطمہ شوگر ملز، حسین شوگر ملز، شیخو شوگر ملز، نون شوگر ملز، جوہر آباد شوگر ملز اور ہدیٰ شوگر ملز شامل ہیں۔

sugar mill subsidy

انکوائری رپورٹ میں پنجاب حکومت سے متعلق بتایا گیا کہ صوبائی حکومت نے دباؤ میں آ کر شوگر ملز کو سبسڈی دی اور اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے برآمدات کی اجازت دی۔ تاہم اس انکوائری میں یہ کہیں ذکر نہیں ہے کہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی حکومت نے کس کے دباؤ میں آ کر شوگر ملز کو سبسڈی اور برآمدات کی اجازت بھی دی۔ رپورٹ کے مطابق ان شوگر ملز کو سبسڈی ایک ایسے وقت پر دی گئی جب مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ رپورٹ کے مطابق شوگر ملز نے باقاعدہ منصوبے کے تحت ملز بند کرنے کا اعلان کیا اور بعد میں سستے داموں گنا خریدا مگر زیادہ منافع کی دوڑ میں اس کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچایا جا سکا۔

جہانگیر ترین پنجاب یونیورسٹی کے پبلک ایڈمنسٹریشن میں بطور لیکچرار اپنی خدمات سر انجام دیتے رہے۔ اس کے بعد تین سال تک کے عرصے کے لئے گرائنڈ لیز بینک میں خدمات سر انجام دیں۔ سنہ 1978ء میں بینک چھوڑنے کے بعد جہانگیر خان ترین نے اپنے خاندانی فارم پر کام شروع کیا، انہوں نے ایک قریبی بنجر زمین کو خرید کر اس پر محنت شروع کی اور 20 سال کی محنت سے اس کو فعال کیا۔ جہانگیر ترین اِس وقت آم، کپاس اور سبزیوں پر مشتمل 2،000 ایکڑ سے زائد رقبے پر کاشتکاری کے جدید طریقوں سے کاشتکاری کر رہے ہیں۔ اسی جدوجہد کے دوران جہانگیر ترین کے خالہ زاد بھائیوں اور مرحوم جنرل اختر عبدالرحمنٰ کے بیٹوں ہمایوں اختر خاں اور ہارون اختر خاں نے ان کی شادی رحیم یار خاں کے مخدوم خاندان کی چنچل خاتون مونی سے کروا دی۔ جہانگیر ترین کے سسر مخدوم حسن محمود ریاست بہاولپور کے وزیراعلیٰ بھی رہے تھے جبکہ جنرل ایوب خان کے الیکشن میں محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف انتخابی حکمت عملی بھی انہوں نے ہی ترتیب دی۔ نومبر 2011 میں قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفی دے کر پی ٹی آئی میں شامل ہوئےتھے ۔ یہی مخدوم خاندان آج کل پیپلز پارٹی پنجاب کا اہم حصہ ہےاور ان کی قریبی رشتہ داریاں ملتان کے گیلانی خاندان اور سندھ کے پیر پگاڑا خاندان سے بھی ہیں۔ جہانگیر ترین کو سیاست میں متعارف بھی ان کے سسرال نے ہی کروایا تھا کیونکہ جہانگیر ترین پہلی دفعہ سنہ 2002ء میں رحیم یار خان سے سسرالی نشست این اے 195 سے چوہدری شجاعت کی مسلم لیگ قاف کے ٹکٹ پر ایم این اے منتخب ہوئے۔ اگست 2004 ء میں وزیراعظم شوکت عزیز کی کابینہ میں وفاقی وزیر صنعت و پیدوار مقرر ہوئے۔ سنہ 2008ء کے انتخابات میں ایک مرتبہ پھر پی ایم ایل فنکشنل کے ٹکٹ پر این اے 195 سے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہو کر فنکشنل لیگ کے پارلیمانی لیڈر بنے۔ پھرنومبر 2011 ء میں قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفی دے کر پی ٹی آئی میں شامل ہوئے اور ابھی تک اُس سے ہی منسلک ہیں۔

کہتے ہیں کہ سنہ 90 کی دہائی تک جہانگیر ترین کے پاس کچھ نہیں تھا اور معاشی ترقی کے میدان میں جہانگیر ترین نے رحیم یار خان میں اپنی پہلی شوگر مل اپنے سسر مخدوم حسن محمود سے وراثت میں حاصل کی۔ جیسے ہی مونی مخدوم شادی کے بعد مونی ترین بن گئیں تو لیکچرار جہانگیر ترین پاکستان کی شوگر مافیا کا سب سے اہم پرزہ بن گئے جن کی شوگر ملوں سے اب 60ہزار ٹن شوگر (چینی) کی پیداوار ہوتی ہے۔ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی بیٹی مریم نواز شریف کے سمدھی چوہدری منیر چینی  سکینڈل میں براہ راست ملوث ہوئے اور اسلام آباد ائیر پورٹ پر ناقص تعمیرات اور کرپشن کے الزامات پر نیب کے شکنجےبھی جب اُن کی گردن پر کسا جانے لگا تو جہانگیر ترین نے چوہدری منیر سے شوگر ملز اونے پونے داموں میں حاصل کر کے انہیں نیب سے نجات دلوائی۔اس طرح ایک وقت وہ بھی آیا کہ جہانگیر ترین ملک میں چینی کی درآمد اور برآمد کی اجازت دینے والے ادارہ ٹریڈنگ کارپوریشن کے سب سے بڑے کنٹریکٹر بن گئے۔ جہانگیر ترین نے پرائیویٹ بجلی گھر بھی 15 ارب روپے کی سرمایہ کاری سےبنائے جو کماد (گنے) کی پھوک سے بنائی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جنرل مشرف کے دور حکومت میں جب جہانگیر ترین وزیر بنے تو انہوں نے اپنی دولت میں بے پناہ اضافہ کیا۔

جنرل مشرف کے دور میں جس طرح آٹے اور چینی کے بحران کے دوران چینی بلیک میں بھی 120 روپے کلو تک چار چار گھنٹوں تک قطاروں میں کھڑے ہو کر ملتی رہی تھی۔ میڈیا میں یہ سب شائع ہو چکا ہے کہ اس بحران کی بنیادی وجہ بھی شوگر ملز مالکان کی ذخیرہ اندوزی تھی جس کی وجہ سے چینی 20 روپے فی کلو سے 120 روپے کلو تک پہنچ گئی تھی۔ اُس دور میں شائع ہونے والی ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق جہانگیر ترین کی ملکیت جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز نے یہ مصنوعی قلت پیدا کرنے کے لئے 46،920 میٹرک ٹن چینی ذخیرہ کی تھی۔ جہانگیر ترین کے علاوہ موجودہ وفاقی وزیر حماد اظہر کے والد سابق گورنر پنجاب میاں اظہر مرحوم کی پتوکی شوگر ملز نے بھی 4،880 میٹرک ٹن چینی ذخیرہ کی تھی۔ جنرل مشرف دور میں پیدا ہونے والے بحران اور اُس سے کمائی گئی دولت کا اندازہ لگانے کے لئے ہمیں کچھ اعداد و شمار کو سمجھنا ہو گا۔ سنہ 2003ء اور سنہ 2004ء میں 53 ملین میٹرک ٹن گنا کاشت ہوا اور 4 ملین میٹرک ٹن چینی کی پیداوار ہوئی۔ سنہ 2004ء اور سنہ 2005 ء میں 47 ملین میٹرک ٹن گنا کاشت کیا گیا اور 3 اعشاریہ ایک ملین میٹرک ٹن چینی کی پیدوار ہوئی۔ سنہ 2005ء اور سنہ 2006ء میں 41 ملین میٹرک ٹن گنا کاشت کیا گیا جبکہ چینی کی پیدوار صرف 2 اعشاریہ 4 ملین ہوئی۔ اُس سال یعنی 2005ء اور سنہ 2006ء میں چینی کی مانگ 3 اعشاریہ 8 ملین تھی۔ اس طرح گنے کی کم کاشت کی وجہ سے چینی کی پیداوار میں 1 اعشاریہ م4 ملین ٹن کی کمی تھی۔ جبکہ سال 2004ء اور سنہ 2005 ء میں گنے کی کم کاشت کی وجہ سے چینی کی پیداوار میں اعشاریہ 7 ملین میٹرک ٹن کی کمی تھی۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لئے حکومت نے ٹریڈنگ  کارپوریشن کے رجسٹرڈ کنٹریکٹرز کو برازیل اور دوسرے ممالک سے چینی درآمد کرنے کی اجازت دی۔ یاد رہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں چینی کی قیمت پاکستان میں چینی کی قیمت سے کم ہوتی ہے اسی لئے شوگر ملز مافیا کے دباؤ کی وجہ سے حکومت عام حالات میں چینی درآمد کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ مسلسل 2 سالوں تک چینی کی کم پیداوار سے چینی کی قلت میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور شوگر ملز مافیا کی طرف سے چینی کی ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے ملک میں چینی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا۔ ایک میٹرک ٹن ایک ہزار کلوگرام کا ہوتا ہے اور محتاط ترین اندازہ کے مطابق اگر 21 روپے کلو گرام کی چینی 45 روپے بیچنے کا حساب لگایا جائے توجہانگیر ترین نے 46920 ٹن چینی اپنے گوداموں میں روک کر کوئی 941 کروڑ روپے جیب میں ڈال لئے تھے۔

جنرل مشرف کا دور اس لحاظ سے بھی جہانگیر ترین کے لئے بہت خوش قسمت رہا کہ سپیریئر ٹیکسٹائل مل کی مد میں حاصل کیا گیا انہیں اپنے اوپر واجب الادا 24 کروڑ 70 لاکھ روپے سے زیادہ کا قرض معاف کروانے کا موقع ملا۔ یہ وہ وقت تھا جب جنرل مشرف نے اکثریتی جماعت پیپلز پارٹی سے راؤ سکندر اقبال اور فیصل صالح حیات کی سرکردگی میں ایک گروپ توڑ لیا مگر پھر بھی جنرل مشرف کے نامزد کردہ وزیر اعظم ظفر اللہ جمالی کو حکومت بنانے کے لئے ایک ووٹ چاہیے تھا۔ اُس وقت ایک ایک ووٹ قیمتی تھا اور نومنتخب ممبران قومی اسمبلی کو لالچ دیا گیا کہ جو ممبر بھی جمالی صاحب کو ووٹ کاسٹ کرے گا، اُس کے قرضے معاف کیے جائیں گے۔ جہانگیر ترین نے اس موقع سے فائدہ اُٹھایا اور چوہدری برادران سے کامیاب مذاکرات کیے۔ وزیر اعظم ظفر اللہ جمالی کو ووٹ دینے کے کچھ عرصہ بعد حبیب بنک کی نجکاری ہوئی اور اسی دوران میں جہانگیر ترین نے اپنی 24 کروڑ 70 لاکھ روپے کی بیلنس شیٹ بھی کلیئر کروا لی۔جنرل مشرف کے دور میں ہی نیشنل رورل سپورٹ پروگرام کے تحت باہر سے کروڑوں ڈالر کی فنڈنگ آئی تھی تاکہ دیہی علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر اور دیگر سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔ ذرائع نے الزامات لگائے ہیں کہ اس فنڈ سے جہانگیر ترین نے اپنی شوگرملوں کی طرف جانے والی سڑکوں کو بنوایا۔ تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد جہانگیر ترین اس کے مرکزی جنرل سیکٹری منتخب ہو گئے۔ انہوں نے انٹرا پارٹی الیکشن میں خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کو شکست دی تھی۔ ان انتخابات پر پارٹی الیکشن کمیشن کے سربراہ جسٹس وجیہہ الدین نے جہانگیر ترین پر پارٹی الیکشن میں ووٹ ڈالنے کے لئے غریب عوام کو خرید نے کا الزام بھی لگایا تھا۔جسٹس وجیہ الدین کو بعد ازاں پارٹی ڈسپلن کی خلاف وزی کا بہانہ لگا کر رکنیت سے معطل کر دیاگیا تھا۔ سنہ 2014ء میں تحریک انصاف کے دھرنے میں کروڑوں روپے لگا کر انتظامات کروانے کی وجہ سے جہانگیر ترین کا نام گونجنے لگا۔ کہتے ہیں کہ سنہ 2013 ء اور سنہ 2018 ء کے انتخابات میں خیبر پختونخوا میں کامیابی کے بعد جہانگیر ترین کی تحریک انصاف کے لئے کی گئی سب انویسٹمنٹ کے بدلہ میں صوبہ کے کان کنی کے تمام ٹھیکے اُن کی جھولی میں آن گرے اور جہانگیر ترین اِس وقت خیبر ُختونخواہ میں ٹی سی پی کے سب سے بڑے ٹھیکیدار ہیں۔

اپنے اوپر لگے الزامات کا جواب دیتے ہوئے تحریک انصاف کے سینئر رہنما جہانگیر ترین نے چینی بحران پر ایف آئی اے کی رپورٹ کو سیاسی قرار دیتے ہوئے اسے اپنی ذات پر حملہ قرار دے دیا ہے۔صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں جہانگیرترین نے تحقیقاتی رپورٹ کو سیاسی قرار دیا اور کہا کہ یہ صرف میری ذات پر حملہ ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس کے پیچھے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری ہیں جنہوں نے مجھے ٹارگٹ بنانے کے لئے نامکمل رپورٹ کو جاری کروایا گیا۔پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے وزیراعظم عمران خان  کے گرد حصار قائم کر رکھا ہے جس کی بنیاد پر وہ اپنی مرضی کے فیصلے کر رہے ہیں اور مسلسل وزیراعظم کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اعظم خاں وزیراعظم سے ملنے والوں کا شیڈول تک خود بنا رہے ہیں۔ ترین کے مطابق اعظم خان سے اُن کے اختلافات 6 مہینے پہلے شروع ہوئے جن کی ایک لمبی کہانی ہے جو وہ ابھی بیان نہیں کر سکتے۔ اس موقع پر جہانگیر ترین نے اعتراف کیا کہ اب عمران خان کے ساتھ اُن کے تعلقات پہلے جیسے تعلقات نہیں رہے مگر میں پھر بھی وزیر اعظم کے ساتھ کھڑا ہوں اور ان سے رابطے میں ہوں ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کچھ عرصہ میں یہ تعلقات بہتر بھی ہوجائیں گے۔ اس موقع پر صحافی نے سوال کیا کہ شیخ رشید کہتے ہیں کہ مجھے شوگر مافیا نے دھمکیاں دیں تو اِس کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزیر ریلوے غلط بیانی کر رہے ہیں، ان کو کبھی دھمکی نہیں دی۔ جہانگیر ترین نے کہا کہ کمیٹی کو چینی مہنگی کرنے کی دھمکی دینے کی باتیں بھی جھوٹ ہیں۔ یوٹیلٹی سٹورز کو 20 ہزار ٹن چینی 67 روپے فی کلو پر فراہم کی۔ 67 روپے فی کلو چینی دے کر عوام کو 25 کروڑ کا فائدہ پہنچایا۔ 67 روپے فی کلو چینی نہ دیتا تو 25 کروڑ وزیراعظم کے کورونا فنڈ میں جمع کراتا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہمارا گروپ تحقیقاتی کمیٹی اور کمیشن کے ساتھ مکمل تعاون کر رہا ہے۔ کمیشن نے ذمہ دار ٹھہرایا تو چیلنج کریں گے۔ تحقیقاتی کمیٹی بنیادی سوالات کے جوابات دینے میں ناکام رہی۔ گنے کی سپورٹ پرائس بڑھنے سے چینی کی قیمت میں اضافہ ہوا۔ وزارت صنعت کے اعدادوشمار کے مطابق 180 روپے سپورٹ پرائس سے ایکس مل ریٹ 65 روپے بنتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ چینی برآمد کرنے کا فیصلہ اس صورت غلط ہوتا، جب چینی کا سٹاک نہ ہوتا۔ نومبر 2019ء میں چار لاکھ 57 ہزار ٹن چینی سرپلس تھی۔ سبسڈی کی رقم کسی کی جیب میں نہیں جاتی۔ حکومت عالمی مارکیٹ میں چینی کی قیمت پوری کرنے کے لئے ایکسپورٹ پر سبسڈی دیتی ہے۔ ایکسپورٹ بڑھنے سے ملکی برآمدات کو فائدہ ہوا۔ تین ارب سبسڈی کے عوض ملک میں 30 ارب روپے سے زائد کا فائدہ ہوا۔جہانگیر ترین کا کہنا تھا ایف آئی اے کی اس رپورٹ میں کچھ بھی نہیں ہے۔ چینی کی ایکسپورٹ کا فیصلہ ای سی سی نے سنہ 2018ء میں کیا۔ رپورٹ میں لکھا ہے 2 ملین ٹن کی ایکسپورٹ ہوئی۔ وزیراعظم کو سب کچھ آگاہ کیا گیا تھا۔ مجھے کوئی غیر معمولی فائدہ نہیں ہوا۔ اربوں روپے کمانے والی باتیں سب جھوٹ ہیں۔ ای سی سی کو اسد عمر چیئر کر رہے تھے، ان سے پوچھ لیا جائے اس وقت چینی کی کمی نہیں ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس سال 200 سے 250 ملین کی ایکسپورٹ ہوئی لیکن ملک میں چینی کی کی کوئی کمی نہیں ہوئی تھی۔ سبسڈی نئی بات نہیں، ہمیشہ سے دی جاتی ہے، ایکسپورٹ کے لئے سبسڈی دینا پڑتی ہے۔وزیر اعظم کی قائم کردہ زراعت ٹاسک فورس سے اپنی علیحدگی کی تردید کرتے ہوئے انہوں نے و اضح کیا کہ ’’برطرف کرنا عجیب سی بات ہے۔ میرے پاس کوئی عہدہ نہیں تھا اس لئے برطرف کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ میں ایگری کلچر پروگرام بنانے میں معاونت کرتا تھا۔ اگر میرے پاس کوئی عہدہ تھا تو کوئی نوٹیفکیشن تو دکھاؤ‘‘۔

غیر جانبدار مبصرین کے مطابق ایف آئی اے کی چینی  سکینڈل رپورٹ اور گندم  سکینڈل رپورٹ دونوں میں اس بات کا کہیں بھی ذکر موجود نہیں کہ کس نے جہانگیر ترین جیسے غیر منتخب شخص کو زرعی شعبے کا انچارج بنایا۔ اس رپورٹ میں اس حقیقت کو بھی نظرانداز کر دیا گیا ہے کہ جہانگیر ترین نے وزیراعظم آفس میں گندم اور زرعی شعبے کے حوالے سے ہونے والے اجلاسوں کی صدارت کی۔ ایف آئی اے کی رپورٹس میں یہ بات بھی شامل نہیں کہ جہانگیر ترین کو ایک سےزائدمرتبہ زرعی شعبے کے ماہر کے طور پر کابینہ کے اجلاس میں شرکت کے لئے بلایا گیا تھا۔ ایف آئی اے رپورٹس اس بات پر بھی خاموش ہیں کہ کس نے وفاقی کابینہ میں جہانگیر ترین کو مدعو کرکے اپنا زرعی ایمرجنسی پلان پیش کرنے کی اجازت دی؟۔ کس نے جہانگیر ترین کو طلب کرکے وزیراعظم آفس میں زرعی معاملات پر اجلاسوں کی صدارت کی اجازت دی؟ ۔ وفاق، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے زراعت کے شعبے سے جڑے تمام سیکریٹریز کی ان اجلاسوں میں شرکت یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کس نے بیوروکریسی کو ہدایت دی تھی کہ جہانگیر ترین کی بات ایسے سنی جائے جیسے کہ وہ وزیر زراعت ہوں؟۔

مسلم لیگ (ن)کے سینئر رہنما اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر عمر نے کہا ہے کہ پچھلے سال اُن کے بھائی سابق وزیر خزانہ اسد عمر کو جہانگیر ترین سے اختلافات کی بنیاد پر عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔ عدالت سے نااہل قرار دئیے گئے جہانگیر ترین شوگر کارٹل سمیت کئی بدعنوانیوں میں ملوث رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشیر خزانہ حفیظ شیخ اور گورنر سٹیٹ بنک باقر رضا دونوں جہانگیر ترین اور آئی ایم ایف کے نمائندے ہیں۔ جس روز بھی یہ دونوں حضرات عہدے سے الگ ہوئے تو اُسی روز پہلی فلائٹ سے بیرون ملک چلے جائیں گے۔ مسلم لیگ نون سے ایک اور اپوزیشن راہنما خرم دستگیر نے الزام لگایا ہے کہ حکومت کو رپورٹ 24 مارچ کو ہی موصول ہو گئی تھی لیکن حکومت نے رپورٹ دبا رکھی تھی۔ جب رپورٹ میڈیا پر لیک ہو گئی تو حکومت نے مجبورا‘‘ رپورٹ جاری کی اور کریڈٹ لینا شروع کر دیا۔ حکومت کا دعوٰی ہے کہ کمیشن کی یہ رپورٹ اُس نے خود عامۃ الناس کے سامنے پی آئی ڈی سی کی ویب سائیٹ پر شائع کی مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کا انکشاف معروف ٹی وی اینکر محمد مالک نے اپنے پروگرام میں کیا تو حکومت کے پاس کوئی چارہ نہیں رہا کہ اسے پبلک کر دیا جائے۔ اس سے پہلے خود وزیر عظم عمران خاں کہہ چکے ہیں کہ جہانگیر ترین کا چینی سکینڈل میں کوئی کردار نہیں ہے حالانکہ جب وہ یہ بیان دے رہے تھے تو ایف آئی اے کی رپورٹ اُن کی میز پر موجود تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بتایا جائے کہ چینی کی برآمدات پر کس نے سب سڈی کی اجازت دی جبکہ وفاقی حکومت تو انکار کرچکی تھی۔ پنجاب میں اگر وزیر اعلٰی عثمان بزدار نے سب سڈی کافیصلہ کیا تو پنجاب کی طرف سے شوگرایڈوائزری بورڈ میں ایکسپورٹ کرنےکی مخالفت کیوں کی گئی اور پھر کس نے یہ اجازت دی؟ ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *