کرونا وائرس اور پاکستان کی موجودہ صورتحال۔۔ذیشان نور خلجی

ماضی کی روایات برقرار رکھتے ہوئے صوبہ پنجاب ایک دفعہ پھر بازی لے گیا لیکن مختلف انداز میں، اور وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ پنجاب میں کرونا وائرس سے متاثرین کی تعداد ملک بھر میں سب سے زیادہ ہوگئی اور اس میں صوبائی حکومت کا کلیدی کردار رہا۔ یہ تو آپ سب جانتے ہیں کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے میں سردار عثمان بزدار دراصل وزیراعظم کے ایک مہرے کے طور پر ہی کام کر رہے ہیں تو یہ تو ہونا تھا۔ دنیا بھر میں جب کہ ایمرجنسی جیسی صورتحال پیدا ہو چکی ہے اور یہاں ابھی تک ‘گھبرانا نہیں’ سے آگے ہی نہیں بڑھا جا رہا۔ لیکن ہمارا اقوام عالم سے کیسا موازنہ، کہ وہ ٹھہرے ترقی یافتہ ممالک اور ہم تیسری دنیا کے باسی۔ اور اگر باگ ڈور ایسے حکمرانوں کے ہاتھوں میں ہی رہی تو وہ دن دور نہیں جب ہم ترقی پذیر ممالک کی صف سے بھی نکل جائیں گے۔ لہذا اپنے ہی نسبتاً کم ترقی یافتہ صوبے سندھ سے  موازنہ کرتے ہیں۔

جیسے ہی وہاں کرونا کے بادل گہرے ہونا شروع ہوئے۔ سندھ کی صوبائی حکومت حرکت میں آگئی اور صوبے بھر میں لاک ڈاون لگانے کے ساتھ ساتھ ہنگامی بنیادوں پر کرونا کے خلاف اقدامات شروع کر دئیے۔ جب کہ پنجاب میں ابھی ایسی صورتحال پیش نہیں آئی تھی بس اکا دکا  کیس ہی سامنے آئے تھے۔ اس موقع پر اگر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جاتا تو بہت کچھ ممکن تھا۔ لیکن تب صرف بیان بازیوں پہ اکتفاء کیا گیا اور بعد اگر لاک ڈاون لگایا بھی گیا تو اس پر پوری طرح سے عمل درآمد نہ کروایا جا سکا جس باعث وہ فوائد حاصل نہ ہو سکے جو کہ ہونے چاہئیں تھے۔ لہذا متاثرین کی تعداد بھی باقی ملک کی نسبت زیادہ ہوگئی۔ اور اب صورتحال یہ ہے کہ پاکستان بھر میں کرونا کی وجہ سے سب سے زیادہ اموات بھی پنجاب میں ہی ریکارڈ ہوئی ہیں۔ اور حکومت کے غیر سنجیدہ رویے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ برتری برقرار رہے گی۔

اب کچھ اقوام عالم کے حالات پہ روشنی ڈالتے ہیں۔ قارئین ! آپ تو جانتے ہیں جب کرونا کی وباء چین میں پھیلی تو انہوں نے انتہائی دانشمندی سے اس کا مقابلہ کیا لیکن پھر بھی بہت سی انسانی جانوں کے ضیاع کے بعد ہی ان کی جان چھوٹی۔ اور شرح اموات دو فیصد جب کہ اٹھانوے فیصد لوگ صحت مند ہوئے۔ اور اب دوسرے ترقی یافتہ ممالک جن میں امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی وغیرہ شامل ہیں وائرس کی روک تھام کے لئے اربوں ڈالر صرف کر رہے ہیں لیکن وہاں بدستور کرونا متاثرین کی تعداد بڑھ رہی ہے اور لاک ڈاون پہ  سختی سے عمل درآمد کروانے کے باوجود ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ جب کہ پاکستان کی صورتحال یہ ہے کہ حکومت کلی طور پر لاک ڈاون بھی نہیں کروا پا رہی اور صحت کی سہولیات یہاں ویسے ہی اظہر من الشمس ہیں اور اس کے باوجود یہاں وائرس سے متاثرین کی شرح باقی دنیا کی نسبت انتہائی کم ہے۔ اور یہی وہ غلط فہمی ہے جو حکومت کو درپیش ہے۔ دراصل حقیقت یہ ہے کہ پاکستان ابھی کرونا کے اس پیریڈ میں پہنچا ہی نہیں کہ یہاں لاشوں کے ڈھیر لگنا شروع ہو جائیں۔ اللہ نہ کرے کہ ایسا ہو،  لیکن حقائق بتاتے ہیں کہ کرونا کے پہلے چند ہفتوں میں دوسرے ممالک میں یہ تعداد اتنی بھی نہ تھی کہ باقاعدہ جدول بنائے جاتے۔ جب کہ اس وقت پاکستان میں کرونا کے متاثرین میں سے ساٹھ فیصد مریض صحت یاب ہو چکے ہیں اور چالیس فیصد مر چکے ہیں۔ لیکن چونکہ یہاں متاثرین کی تعداد کم ہے اس لئے تشویش کی ایسی لہر نہیں دوڑ رہی جس سے دوسرے ترقی یافتہ ممالک دوچار ہیں۔

قارئین ! سوچئے کہ ہم لوگ یہاں لاک ڈاؤن کی پابندی بھی نہیں کر رہے اور پھر بھی یہاں کرونا کے مریضوں کی تعداد بہت کم ہے۔ تو وجہ سادہ سی ہے ہمارے پاس وہ سسٹم ہی نہیں جس میں لا کر عوام کو چیک کیا جاسکے اور اصل مریضوں کی تعداد سامنے لائی جاسکے۔ اور اس کے متاثرین کو بیماری کا ادارک اس لئے بھی نہیں ہو پا رہا کہ اس وائرس کے حملے کے کئی دنوں بعد ہی اس کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ اس لئے اس آفت کو اتنا بھی ہلکا لینے کی ضرورت نہیں بلکہ ہمیں آرام سے گھروں میں بیٹھنا ہوگا۔ اور اس معاملے میں حکومت سے خیر اور بہتری کی توقع نہیں رکھنی ہوگی کہ باقی
دنیا اس وقت وائرس سے لڑتے ہوئے ہلکان ہوئی جا رہی ہے اور ہمارے صاحبان اقتدار اچھا موقع دیکھتے ہوئے اپنا کاسہ اٹھانے کی تیاریوں میں ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *