حسین رضی اللہ عنہ سب کے۔۔۔ نعیم الدین

کل اسلامی نئے سال 1439 کے پہلے مہینے محرم الحرام پہلی تاریخ تھی، محرم الحرام آتے ہی طرح طرح کی باتیں شروع ہوجاتی ہیں، بھانت بھانت کی بولیاں سننے کو ملتی ہیں، فیس بک پر ہر کوئی اپنی دانشوری جھاڑتا نظر آتا، اندر کا بغض ظاہر کرتا ہے، بعض لوگ ان دنوں ذرا زیادہ دانشوری کرکے امت میں تفریق کا سبب بنتے ہیں۔اس مہینے کے اندر دو عظیم شخصیات کی شہادت ہے، انہیں جتنا خراج عقیدت پیش کیا جائے کم ہے، ان کی سیرت پر جتنی گفتگو کی جائے ان کا حق ادا نہیں کیا جاسکتا۔حضرت عمر رضہ اللہ عنہ کے حوالے سے کل میں نے مکالمہ پر تحریر لکھی تھی، آج شہید کربلا امام حسین رضہ اللہ عنہ پر کچھ لکھنے کا ارادہ ہے۔
آپ کا نام حسین، کنیت ابو عبداللہ، لقب سید شباب اہل الجنہ اور ریحانہ النبی تھا، شیر خدا علی المرتضیٰ آپ کے والد اقدس اور سیدہ بتول جگر گوشہ رسول فاطمۃ الزہراء آپ کی والدہ تھیں، آپ کی ذات گرامی قریش کا خلاصہ اور بنی ہاشم کا عطر تھی۔ابھی آپ شکم مادر میں ہی تھے کہ حضرت حارث رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی نے خواب دیکھا کہ کسی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کے جسم اطہر کا ایک ٹکڑا کاٹ کر ان کی گود میں رکھ دیا ہے، انہوں نے وہ خواب آپ علیہ السلام سے ذکر کیا، اور تعبیر پوچھی، آپ نے فرمایا، نہایت مبارک خواب ہے، فاطمہ کے ہاں لڑکا پیدا ہوگا، تم اسے گود لوگی، کچھ دنوں بعد اس خواب کی تعبیر ملی، یوں ریاض نبوی میں وہ پھول کھلا کہ جس کی مہک، حق وصداقت، جرات و بسالت، عزم و استقلال، ایمان و عمل اور ایثار و قربانی کی وادیوں کو ہمیشہ بساتی رہے گی یوں شعبان چار ہجری میں علی رضی اللہ عنہ کے کاشانہ میں حسین رضی اللہ عنہ کی پیدائش ہوئی۔
ولادت با سعادت کی خبر سن کر آپ علیہ السلام فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے اور حسین نام تجویز فرمایا، کان مبارک میں اذان دی، یوں پہلی مرتبہ خود زبان وحی و الہام کے ذریعے آپ کے کانوں میں توحید کا صور پھونکا گیا، آپ کے بچپنے کی تربیت خود مربی اعظم، آقائے نامدار نے کی، آپ علیہ السلام حضرت حسین سے بڑی محبت فرماتے تھے، ہر روز سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے جاتے اور ان کی خبر گیری کرتے، نانا نواسہ ایک دوسرے سے بہت مانوس تھے، آپ نماز پڑھتے تو جنت کے یہ پھول آپ کی پیٹھ پر سوار ہوجاتے، آپ ان کی وجہ سے سجدہ طویل فرمادیتے، کبھی ریش مبارک سے کھیلتے، آپ شفقت سے اپنے کندھوں پر سوار فرماتے، نیز پیار و محبت کی وجہ سے آپ ان کی طفلانہ شوخیوں کو برداشت کرتے، کبھی جھڑکا تک نہیں. آپﷺ نے فرمایا کہ حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس بندے سے محبت کرتا ہے جو حسین سے محبت کرے گا، آپﷺ نے فرمایا حسین جنت کا پھول، اور جنت کے جوانوں کا سردار ہے، حضرت فاطمۃ الزہراء فرماتی ہیں، ایک مربتہ میں نے آپ علیہ السلام کو دیکھا کہ آپ فرما رہے تھے ”ھیّ حسین “ جلدی آؤ، میں نے دریافت کیا کہ آپ کیا فرما رہے ہیں، آپﷺ نے جواب دیا کہ جبرئیل بھی فرما رہے ہیں ھیّ حسین، آپ ﷺ نے فرمایا، اے خدا !حسن و حسین میرے بیٹےہیں، میں ان سے محبت کرتا ہوں آپ بھی ان سے محبت کیجیے، لیکن آپ ﷺ کی محبت کا یہ سایہ دیر تک قائم نہ رہ سکا،حسین رض کی عمر چھ سال تھی جب آپ واصل بحق ہوئے۔
مختصر یہ ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد ان کے بیٹے یزید نے حکومت کی باگ ڈور سنبھالی، اور لوگوں سے بیعت لینا شروع کی، اکثر صحابہ نے بیعت ہونے سے انکار کردیا، حسین رضی اللہ عنہ بھی انھی میں سے تھے، اسی دوران کوفہ کے لوگوں نے آپ کو خطوط بھیجنے شروع کیے اور مطالبہ کیا کہ آپ کوفہ تشریف لائیں، ہم آپ کی بیعت کو تیار ہیں، جب آپ نے کوفہ کے لیے رخت سفر باندھا، اکابرین صحابہ بڑے پریشان ہوئے، آپ کے پاس آئے، اپنی محبت کا اظہار کیا اور فرمایا آپ کوفہ ہرگز نہ جائیں، کوفہ میں آپ کے والد محترم کو شہید کیا گیا، بھائی کو بےیار و مددگار چھوڑا گیا، وہ زخمی ہوئے، جان جاتے جاتے بچی، خدارا کوفہ کا قصد ترک کیجیے. یہ دردمندانہ مشورہ دینے والے صحابہ عبداللہ بن مطیع، عمرو بن عبد الرحمان، عبد اللہ بن عباس، عبداللہ ابن زبیر، عبداللہ ابن عمر، ابوبکر بن حارث تھے، آ پ نے فرمایا مجھے نانا نے خواب میں جس چیز کا حکم دیا ہے وہ میں کر گزروں گا، آپ اہل بیت کے ساتھ کوفہ تشریف لے گئے، صحابہ کو جس امر کی تشویش تھی وہ حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی، جس کی وجہ سے تاریخ کا وہ دلدوز اور خونچکاں واقعہ پیش آیا، عاشورہ کا دن ایک قیامت ڈھاگیا، یزید کا لاؤ لشکر ان مٹھی بھر جانثاران پر ٹوٹ پڑا، فدایان اہل بیت نے جرات و بہادری کی وہ مثالیں قائم کیں جو تاریخ کا ایک عظیم باب ہیں، لیکن ہزاروں کے لشکر کے سامنے یہ چند پروانے کیا کر سکتے تھے، ایک ایک کرکے جام شہادت نوش فرماگئے، یوں تاریخ نواسہ رسول، ریحانہ النبی، اور اہل بیت کی شہادت سے خون آلود ہوئی، لشکر حسینی نے اسوہ نبوی ﷺ کو زندہ کر کے امت مسلمہ کو حق و صداقت ،عزم، واستقلال کا عظیم درس دیا، ظالم کےخلاف کلمہ حق کہنےکی عملی مشق کروائی، ع :
صدق خلیل بھی ہے عشق
صبر حسین بھی ہے عشق
معرکہ وجود میں
بدر وحنین بھی ہے عشق

حقیقت ابدی ہے قیام شبیری
بدلتے رہتے ہیں انداز کوفی و شامی.

بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے بغض میں مخالف کی اچھی بات کو بھی غلط رنگ دے دیتے ہیں، اپنے من چاہے مطلب برآمد کرلیتے ہیں، بات کو مرچ مصالحہ لگا کر کیا سے کیا بنا دیتے ہیں.
شہید کربلا امام حسین رضہ اللہ عنہ نے اسلام کے لیے جو قربانی دی ہے وہ ہمارے لیے مشعل راہ ہے.
محرم الحرام آتے ہی حسین رضی اللہ  عنہ پر گروپ بندی ہوجاتی ہے، کوئی کہتا ہے حسین ہمارا، کوئی کہتا ہے حسین ہمارا.
حسین رضی اللہ سب کا ہے،
بلکہ کہوں،
حسینیت نام ہے دین پر مرمٹنے کا،
حسینیت نام ہے وقت کے یزیدوں کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کا،
حسینیت نام ہے اسلام کے نام پر قربان ہونے کا،
حسینیت نام ہے دین سے محبت کا،
حسینت نام ہے دین پر عمل کرنے کا،
حسینیت نام ہے جذبہ عبادت کا،
حسینیت نام ہے سنت رسول پر عمل کرنے کا،
حسینت نام ہے خلوص کا،
حسینیت نام ہے ایثار کا،
حسینیت نام ہے صبر کا،
حسینیت نام ہے بھائی چارگی کا،
حسینیت نام ہے ایک دوسرے سے محبت کا،
حسینیت نام ہے نفرت سے دوری کا،
حسینیت نام ہے حق کی آواز بلند کرنے کا،
حسینیت نام ہے سچ کا،
حسینیت نام ہے عہد وفا کا،
حسینیت نام ہے اسلام کی پیروی کا ہے،
حسینیت نام ہے اسلام کو سمجھنے کا،
حسینیت نام ہے علم وفکر کا،
حسینیت نام  ہےآگاہی کا،
حیسنیت نام  ہےاہل بیت کی مقصد زندگی کا،
حسینیت نام ہے دین و ایمان کا،
جو حسین رضی اللہ عنہ کو اپنا کہنا چاہتا ہے اسے حسینی درس کی یہ ساری چیزیں اپنانی ہوںگی، حسین رضی اللہ کی ساری سنتوں کو عمل میں لانا ہوگا، ورنہ حسینی بننے کے یہ لفظی دعوے کسی کام کے نہیں!!
سب کہو حسین رب کا، حسین سب کا۔

Avatar
نعیم الدین
لکھنے پڑہنے والا ایک ادنی طالب علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *