نسلِ نو میں عدم برداشت۔۔قاضی شیراز احمد ایڈووکیٹ

قوموں کی ترقی اور تنزلی میں نوجوان نسل کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔اور دنیا کی ترقی یافتہ قومیں اور معاشرے اپنی نوجوان نسل کی تعلیم پر جہاں بے شمار سرمایہ خرچ کرتے ہیں وہاں ان کی تربیت کے حوالے سے بھی کوچنگ سینٹر قائم کرتے ہیں۔جہاں پر نوجوان نسل کی اخلاقی اور معاشرتی تربیت کی غرض سے باقاعدہ تربیتی نشستیں ہوتی ہیں اور مختلف اصلاحی کام کروائے جاتے ہیں وہ نسل نو جس نے آگے جاکر اس ریاست،معاشرے اور قوم کا نمائندہ بننا ہے وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت یافتہ بھی ہوں۔مگر چونکہ ہماری ریاست اور معاشرہ ابھی ترقی کی جانب رواں دواں ہے اس لیے ہمارے ہاں تربیت تو بعد کی بات ہے تعلیم کے میدان میں بھی ہم بہت پیچھے ہیں۔

ہماری درس گاہیں وہ انسان تیار نہیں کر پا رہی جن انسانوں نے آگے جاکر اس قوم و ملت کی باگ دوڑ سنبھالنی ہے،اور اس معاشرے کا نمائندہ بننا ہے۔ہمارے اکثر اساتذہ اپنے پیشے سے مخلص نہیں اور نہ وہ اس پیشے اور ذمہ داری کے بنیادی اور اخلاقی اصولوں سے واقف ہیں،نہ  ہی وہ خود کو معمارِ  قوم گردانتے ہیں کہ ان کے ذمہ اس قوم کا مستقبل ہے۔ہمارے اکثر اساتذہ معلمی کے پیشے کو اس لیے اختیار کرتے ہیں کہ یہ ایک سرکاری ملازمت ہے جس میں ان کو تنخواہ اور بعد ازاں پینشن وصول ہوگی۔ان کے ہاں نسلوں کی اصلاح اور ان کی ذہنی اور اخلاقی تربیت کوئی معنی نہیں رکھتی۔

اساتذہ کے بعد والدین کی باری آتی ہے تو میرے وطن ِ عزیز میں روز گار کا حصول ہی اتنا مشکل ہے کہ والدین بچوں کی تربیت کے لیے وقت ہی نکال نہیں سکتے،اور جو والدین معاشی اعتبار سے خوشحال ہیں وہ دنیا کی دیگر رنگینیوں میں اتنے محو ہیں کہ ان کے پاس بھی اپنی نسلِ  نوء  کے لیے وقت کا فقدان ہے۔اور نہ ہی والدین میں اتنا شعور و آگہی ہے کہ ان کو اس مقدس ذمہ داری کا احساس ہو  کہ وہ اپنی نسل ِ نو ء کی تربیت میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اس کے بعد ہمارا معاشرہ  بھی نسل نو کی تربیت کا ذمہ دار ہے۔مگر ہمارے معاشرے کا حال نا قابلِ بیاں ہے۔ہم معاشرتی تنزلی میں اس قدر گر چکے ہیں کہ گزشتہ   کچھ  عرصے میں معصوم بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں کے بعد قتل کرنے تک کہ قبیح فعل تک جا پہنچے ہیں ،تو اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہم نسل ِ نوء  کے  کس قدر ہمدرد اور ان کی تربیت اور خیر خواہی میں کتنے سنجیدہ ہیں۔اس کے بعد اگر دیکھا جائے تو ہمارا مذہبی نظریہ اور مذہبی تربیت بھی انسانی زندگی پر اہم اثرات مرتب کرتی ہے۔ہمارے ہاں مذہب کے نام پر جو جنونیت اور اندھی تقلید کا دور دورہ ہے وہ بھی کسی ذی شعور نگاہ سے پوشیدہ نہیں۔ہمارے چند مذہبی ٹھیکے دار ہماری نسل ِ نو ء کو مذہبی جنونی بنانے میں اپنا کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں،اور نوجوانوں کو مذہب کے نام پر فرقہ واریت میں مبتلا کررہے ہیں۔ہر گلی محلے میں نیا فرقہ،نئی جماعت اس انتظار میں بیٹھی ہے کہ کب کوئی جوان خون ان کی جانب راغب ہو اور کب وہ اس کو مذہبی جنونی بناکر اپنے مقاصد حاصل کریں۔وہ اصل دین جو فرقہ واریت اور مذہبی منافرت سے یکسر پاک تھا ۔۔جس میں انسانیت کا درجہ سب سے اوپر تھا۔جہاں وحدانیت کی دعوت سب سے مقدم تھی اور عشق رسول ﷺ  کا جذبہ سب سے مقدس تھا ،وہ دین مقدس ان جماعتوں اور فرقوں میں بٹ کر رہ گیا۔ہم ملت بننے کے بجائے فرقے اور جماعتیں بن گئے۔الگ نظریے،مختلف جھنڈے اور اپنے اپنے پیشوا بنا لیے اور اس طرح ہماری نسل ِ نوء  باہم دست و گریباں ہوئی اور عدم برداشت کا شکار ہوتی چلی گئی۔

جو کچھ رہی سہی کسر بچی وہ ہمارے سوشل میڈیا نے پوری کردی۔سوشل میڈیا نے ہماری نسل ِ نو ء کو بے اعتدالی،بے رغبتی،بے راہ روی اور عدم برداشت کا شکار کر دیا۔سوشل میڈیا کے جہاں بے شمار مثبت پہلو ہیں وہاں اس نے انسانی اقدار اور نسل نو کی عدم برداشت میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔سوشل میڈیا کے بے تحاشا اور ہمہ وقت استعمال نے انسان کی اخلاقی تربیت کو بری طرح متاثر کیا۔اور مثبت رویوں کے بجائے منفی رویہ زیادہ تیزی سے غالب آئے۔
نسل نو میں عدم برداشت کے سب سے بڑے ذمہ دار ہمارے والدین،ہمارا معاشرہ،ہمارے مذہبی ٹھیکے دار،ہمارے اساتذہ اور ہماری درس گاہیں ہیں۔جہاں تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کو یکسر نظر انداز کیا جاتا ہے۔اور سوشل میڈیا کا بے جا استعمال بھی نسل نو کی عدم برداشت والے رویوں کا پورا پورا ذمہ دار ہے۔
تہذیب سکھا دیتی ہے جینے کا سلیقہ،
تعلیم سے جاہل کی جہالت نہیں جاتی!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *