سوچ زار(افسانے)مریم مجید ڈار۔۔۔۔تبصرہ:مہرساجد شاہ

یہ کتاب پڑھ کر یقین ہو گیا کہ اسکی مصنفہ کا نام مریم ہی ہو نا چاہیے تھا کوئی اور نام اس شخصیت کی نمائندگی نہیں کر سکتا تھا۔ مریم وہ ہستی تھیں جنہیں اللہ نے منفرد معجزانہ کاموں کیلئے چنا، انہوں نے عجیب اور انواع و اقسام کے تجربات دیکھے، خالق کائنات نے نوع انسانی میں آدم کو بغیر ماں باپ کے پیدا کیا تو عیسی علیہ السلام کو بغیر باپ کے مریم کے بطن سے حیات بخشی، انکی ساری زندگی ہی حیرت انگیز معجزوں سے بھری پڑی ہے۔

ہماری مریم شاعری سے پیار کرتی ہے گداز دل جو رکھتی ہے، فلمیں دیکھتی ہے آخر کہانی کار جو ٹھہری ، موسیقی کو سنتی نہیں گھونٹ گھونٹ چسکیاں لے کر پیتی ہے اور اس میں یوں ڈوبتی ہے کہ روح پر چھائے بادل بوجھل ہو کر آنکھوں سے برس پڑتے ہیں۔ جامنی رنگ کے عشق کو نشہ بنائے یہ سب رنگوں کو اقبال بانٹتی ہے لیکن عظمت اسی جامنی کا مقدر ہے۔

اصل تعارف یہ ہے کہ   مریم لکھتی ہے، آنکھ بند کر کے خواب دیکھتی ہے اور کسی دوسری دنیا کے نظارے دیکھتی ہے، آنکھ کھول کر دیکھتی ہے تو کچھ بھی لکھ سکتی ہے چاہے تو ناشتے پر قارئین کا مجمع لگا لے، بہار کے مناظر ہوں یا خزاں کے رنگ ،اسکے الفاظ کاغذ کو کینوس بنا دیتے ہیں۔ چٹختی کلی، نرم نوزائیدہ سبز پتہ، پتے پر چلتی رنگوں میں سجی سنڈی، رنگ بدلتے قالین کی مانند مڑ کر زندگی کا سفر لپیٹتے پتے، خزاں سے گرے زرد رنگ پتوں کے بنے قالین پر چلنے سے پیدا ہونے والی مسحور کن موسیقی، دھوپ میں لہلہاتے کھیت، ان کھیتوں میں گرے فصل کے دانوں پر نظر جمائے چھوٹے بڑے رنگ برنگے پھدکتے اُڑتے خوبصورت پرندے، کہاں کہاں اس کا مشاہدہ اپنی طاقت دکھاتا ہے۔ الفاظ لغت سے نکل کر قطار در قطار اس کے سامنے ہاتھ باندھے حاضر ہو جاتے ہیں کہ ہمیں اپنی لڑی میں پرو دو کہ ہم موتی کہلائیں ۔

زمین کی آلودگی اسے اپنے جسم کی گندگی کی طرح پریشان کرتی ہے۔ خوش امید ایسی کہ بچوں کی شرارتوں کو زندگی کی رعنائیوں کی امید مانتی ہے۔ وہ ہر کردار کو اس کے اندر اُتر کر لکھتی ہے، کردار خواہ پانچ ستارہ ہوٹلوں کے پُر تعیش کمروں میں غیر ملکی خوراکیں کھاتا ہوا ، ادا و انداز سے بدیسی بولی بولتا دیسی باشندہ ہو یا کچرے کے ڈھیر پر کتوں کیساتھ باسی کھانا چن کر کھاتا کوئی انسان۔

اس کے شب و روز چرخ کہن سے پھسلے جاتے ہیں، خیال یار کی شعائیں اسے راستہ دکھاتی ہیں اور یہ بادل ، پہاڑ ، دریا ، صحرا ، سمندر ہر جگہ خوشبو مانند جا پہنچتی ہے۔ پودوں کی افزائش اور مالیکیولر جینیٹکس اس قدر پڑھ چکی ہے کہ اب یہ سائنس اسے دان ہو چکی، لیکن یہ سائنس دان قدرت کی رعنائیوں سے ادب تراشتی ہے، رنگ بکھیرتی ہے سحر طاری کر دیتی ہے۔

کتاب کا کیا ذکر کریں ایک ایک کہانی ایک داستان ہے، اس کتاب کو پڑھنے میں ہفتوں لگے۔ آپ ایک کہانی پڑھ کر اسکی گرفت سے نکل نہیں پاتے دوسری کہانی کیسے پڑھیں۔آدم و حوا کی کہانی لکھی تو سماں باندھ دیا، قاری کو یقین ہو گیا وہ ہی آدم ہے جسے فرشتوں نے کہا”دیکھو دیکھو یہ ہیں نافرمان” حوا کی ندامت اس ندامت کے معانی سمجھاتی ہے۔
انمول آنسوؤں کی کہانی “چاند کے آنسو “ میں لکھ ڈالی۔
“بکھی “معاشرے  کا وہ کڑوا سچ ہے جسے پردے ڈال کر ڈھک رکھا ہے۔
“کال کلیچاں “شکاری کے ہنر و ارادہ کا فلسفہ ہے باقی شکار کی کیا مجال کہ شکار بننے سے انکار کرے۔
“کنکھجورا “ پالنے کیلئے نہیں ہوتا جیسے زندگی کی تجربہ گاہ میں طوائف وہ عورت ہوتی ہے جو صرف مشاہدے تجربے اور ہاتھ دھو کر باہر نکل آنے تک محدود رہتی ہے۔
یہ قیامت کا منظر ہے جب اپنا ذاتی ہاتھ “پرایا ہاتھ” بنے گا، بولے گا، اگر اس زندگی میں ایسا ہو جائے تو زندگی قیامت بن جائے۔
بچوں کی زندگیوں پر آسیب بن کر چھائی انسانی نحوست، جو ان کے جسموں کو ایک جنسی کھلونا بنائے ہوئے ہے “چھوٹا گوشت” کا موضوع ہے اور اس پر کیا لکھا ہے بتایا نہیں جا سکتا اسے پڑھنا پڑے گا۔
کیا کیا بتائیں ۔۔ سرخ مسیحا، مکڑی صفت عورت،آوارہ عورت، دو بوند انقلاب، حرامی، پیٹ اور اپنی اپنی جہنم سب اپنا مقام رکھتے ہیں۔
بٹن اور حرافہ بھی زندہ کہانیاں ہیں ان سے انکار ممکن نہیں۔ مریم کو پڑھ کر یقین ہو جاتاہے کہ اردو ادب میں افسانہ نگاری کا مستقبل بہت روشن ہے، آنے والے وقت میں اردو افسانہ نگاری میں بڑے اور مستند لکھاریوں کی صف مریم مجید ڈار کے بغیر نامکمل ہو گی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *