میری ڈائری کا بوجھ۔۔روبینہ فیصل

تمہاری سفری گٹھریوں کا سارا بوجھ
آنے کے سب رنگین پتوں میں ڈھکے مناظر
اور جاتے ہوئے موسم کے سب بے رنگ نصاب
صفحہ صفحہ یاد ہیں۔۔۔

صفحہ صفحہ اس ڈائری میں قید ہیں
بدلی محبت کے چہرے سے رِستے
خون کے سب قطرے ہیں کہ اس ڈائری میں قید ہیں،

سب آنسو ہیں کہ لفظوں کی صورت سمندر بنے کھڑے ہیں
آہیں ہیں کہ  جزیروں کی شکل ورق ورق پھیلی ہیں
یادیں ہیں کہ  ڈھیروں ڈھیر راکھ بنی کھڑی ہیں،
صدیوں کے ر تجگے ہیں کہ نقطوں میں جاگ رہے ہیں
پردہ ہٹتے ہی صبح کی پہلی کرنیں ہیں کہ تمہاری  تصویریں
جو اب ان سطروں میں چمک رہی ہیں
میری کچلی ہوئی  اَنا کی بوسیدہ لاش کی بُو
اور ذات کی تذلیل کی پوری داستان
اسی ڈائری میں میلوں میل پھیلی ہو ئی ہے۔۔

یہ آنسوؤں سے بھیگی ،فرقت میں دبی ڈائری کا بوجھ
سنا ہے بھیگی چیزوں کا بوجھ زیادہ بڑھ جا تا ہے
روزقیامت ۔۔۔۔میں نہیں۔۔۔یہ بھیگا ہوا بوجھ تم اٹھاؤ گے
لاکھوں لفظوں کی ساری لاشیں تمہی  ڈھوو گے

یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ۔۔
وہاں تمہاری دنیا نہیں ہوگی جہاں جھوٹ کے قلی
آکر تمہارا بوجھ اٹھا لیں گے
وہ میری دنیا ہو گی جہاں صرف سچ
کا وزن ایک تتلی برابر ہو گا
وہ تتلی جس کے سارے رنگ تم لے کے بھاگ گئے تھے
اس کا سامنا بھی کرنا ۔۔۔۔۔
میری ڈائری کا بوجھ بھی اٹھانا
اس دنیا کے سارے کھیل تمہارے
اُس دنیا کے  سارے رنگ میرے!

روبینہ فیصل
روبینہ فیصل
کالم نگار، مصنفہ،افسانہ نگار، اینکر ،پاکستان کی دبنگ آواز اٹھانے والی خاتون

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *