مجھے کرونا سے خوف کیوں نہیں آتا؟۔۔احمد صہیب اسلم

کرونا سے زندگی اور اس کی رنگینیاں بدل رہی ہیں، ہر طرف بے یقینی کی کیفیت ہے لیکن اس مشکل وقت نے گزر جانا ہے ۔ میرے لئے کرونا تھوڑی سی ہاتھ دھونے ، چہرے کو ٹچ نہ کرنے اور لوگوں سے ڈیڑھ میٹر کا فاصلہ رکھنے کی احتیاط ہے۔ کرونا احتیاط کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہے، باقی ڈر ہے۔ آخر کو منفی نیوز اور خوف زیادہ بہتر بکتا ہے۔ اسی لیے اللہ کی رحمت اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت پر یقین کے بعد مجھے کرونا سے اب خوف نہیں آتا کیونکہ میں۔۔

۱۔ بِلا  ضرورت گھر سے باہر نہیں نکلتا اور کسی سے حتی الامکان ہاتھ نہیں ملاتا اور اگر ہاتھ ملانا پڑ ہی جائے تو فوراً چہرے کو ٹَچ کرنے سے قبل ہی اپنے ہاتھ اور پانی کی ٹونٹی صابن سے دھو لیتا ہوں اور ملنے والے کو بھی دھلوا دیتا ہوں ۔

۲- جب گھر سے باہر جاؤں تو چہرے کو کسی صورت بھی خالی ہاتھ سے چھوتا نہیں  کرتا بلکہ چہرے کو چھونا  اگر ناگزیر ہو جائے تو ایک فریش ٹشو پیپر استعمال کرتا ہوں۔

۳۔ کوشش کرتا ہوں کہ کسی کے قریب سے گزرتے ہوئے بھی فاصلہ ڈیڑھ میٹر تک رکھوں اور کسی سے بات چیت بھی ڈیڑھ میٹر کے فاصلے سے ہی کرتا ہوں ۔ جب ڈیڑھ میٹر کے فاصلے کا اُصول کام نہ کر پائے تو جتنی جلدی ممکن ہو سکے ، میں پانی کی ٹونٹی کی طرف لوٹ کر آ جاتا ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ صابن سے ہاتھ دھونے کے ساتھ ساتھ وضو کے طریقے پر نیم گرم پانی سے ناک صاف کر لوں۔

۴۔ کسی دوست سے بھی ماسک پہننے کو نہیں کہہ رہا اور نہ اس کو ماسک پہناتے ہوئے “کرونا  سپیشل “ تصویر کھنچوا کر دوستی کی یادگار چھوڑ کر جا رہا ہوں ۔ یاد رہے کہ کچھ سادہ لوح پاکستانی اپنے دوستوں کو بُلا کر ماسک پہننے اور پہنانے کی تقریبات رکھ رہے ہیں ۔

۵۔ جہاں تک ممکن ہو، وہ سب احتیاطی تدابیر اختیار کر رہا ہوں جو نزلہ، زکام اور بخار سے بچنے کے لئے کی جاتی ہیں اور میں جانتا ہوں کہ نزلہ ، زُکام اور کھانسی کی صورت میں بھی اپنا علاج قیدِ تنہائی  کی صورت میں ہو گا اور ہیلتھ کیئر سسٹم میں اتنی صلاحیت نہیں ہے کہ وہ بیماری کی صورت میں مناسب علاج اور بہترین خدمات دے سکے ۔

۶۔ میڈیا پر بتائی جارہی  کرونا کی بڑھتی تعداد پر دی گئی سنسنی خیز خبروں اور نمبروں میں کانوں کے علاوہ دل و دماغ کی دلچسپی بھی چھوڑ چکا ہوں۔

۷۔ جانتا ہوں کہ کرونا وباء ہے اور مجھے کہیں بھی اس وباء میں ہجرت نہیں کرنی، وباء کے دن اپنی جگہ اور اپنے علاقے میں احتیاطی تدابیر کے ساتھ گزارنے ہیں ۔

نہ ہے دوستی، نہ اس سے لڑ رہا
میں تو فقط اس سے فاصلہ کر رہا!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *