• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • نواز شریف ہم سب کے دلوں کی دھڑکن ہے۔۔محمد اسلم خان کھچی ایڈووکیٹ

نواز شریف ہم سب کے دلوں کی دھڑکن ہے۔۔محمد اسلم خان کھچی ایڈووکیٹ

1996 سے شروع ہونے والی 24 سالہ جدوجہد اپنے انجام کی طرف گامزن ہے۔ تاریخ لکھی جائے گی کہ ایک شخص اٹھا اس نے ایک شاہانہ طرز زندگی ٹھکرا کے قوم کو ایک عظیم قوم بنانے کی کوشش کی۔
ملک کو ایک عظیم ملک بنانے کی کوشش کی, لیکن جب ثمر کا وقت آیا تو قوم نے ساتھ چھوڑ دیا۔

اس سے بڑی بدقسمتی اس قوم کی اور کیا ہو سکتی ہے کہ یہ اپنے ہی چوروں کو چھڑوانے کیلئے سسٹم سے ٹکرا جانے کو تیار رہتی ہے، ہم اپنے ہی آئین کو آئین نہیں مانتے ۔کوئی بڑا چور پکڑا جائے تو ہم اپنے اداروں سے ثبوت مانگتے ہیں۔۔ چاہیے  تو یہ کہ ہم سخت سے سخت سزا کا مطالبہ کریں  لیکن  ہم ان لٹیروں کو چھوڑنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
ایک سزا یافتہ مجرم ڈنکے کی چوٹ پہ ہمارے ملکی قانون کو روندتا ہوا, دندناتا ہوا ملک سے باہر چلا جاتا ہے اور ہم بھیجنے والے اداروں کا گریبان پکڑنے کی بجائے اس مجرم کے جانے پہ مٹھائیاں بانٹتے ہیں۔۔۔
( کہیں ہم خود بھی چور تو نہیں)
بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی
ہم تو وہ قوم ہیں جو مسجد سے ٹونٹیاں چوری کرتے ہیں
گلاس کو زنجیر سے باندھنا پڑتا ہے
اے ٹی ایم سے سینی ٹائزر چوری کرتے ہیں
کیسی عجیب قوم ہیں۔۔ ہم!

ہم ان لوگوں کو اَن داتا مانتے ہیں جنہوں نے ملک کے معصوم بچوں کا خون پیا۔ بھوک اور افلاس کی زندگی دی لیکن ہم پھر بھی خوش ہیں۔۔۔
بھٹو زندہ آباد ۔۔۔بھٹو زندہ ہے۔۔۔۔ جیے بھٹو
ہمارے سب کے دِلوں کی دھڑکن ہے نوازشریف
تھر میں بچے بھوک سے مر جائیں۔۔۔ کوئی پرواہ نہیں
قوم کا بچہ بچہ مقروض ہو جائے۔۔۔ ذلت کی زندگی گزارے۔۔ کوئی پرواہ نہیں
بس بھٹو نہیں مرنا چاہیے، نوازشریف کی بادشاہت نسل در نسل چلتی رہنی چاہیے ۔
آنکھوں پہ پردہ پڑ چکا ہے ہم صحیح اورغلط کی پہچان سےعاری ہو چکے ہیں
ہم ایک سزایافتہ مجرم کو اس ملک کا نجات دہندہ کہتے ہیں
زرداری کو ایمانداری کا سرٹیفیکیٹ دیتے ہیں۔

عمران خان کی نفرت میں ہم اتنے اندھے ہو چکے ہیں کہ ہم کسی بھی مجرم ڈاکو لٹیرے کو سر آنکھوں پہ بٹھانے کو تیار ہیں لیکن عمران خان کو قبول کرنے پہ راضی نہیں۔حالت یہ ہوگئی ہے کہ اگر کوئی مجرم ہمارے سامنے بھی اپنے گناہوں کا اعتراف کرے تو بھی ہم اس کا اعتراف ماننے کو تیار نہیں۔
(کتنے گر گئے ہیں ہم ایک شخص کو گرانے کیلئے )
نہ ہمیں اپنے بچوں کے مستقبل کی فکر ہے نہ ملک کی فکر ہے نہ ملکی سلامتی کی فکر ہے ۔آپ چھوڑیے عمران خان کو , وہ اچھا حکمران نہیں ہو گا لیکن کم از کم اپنے گھر میں ڈاکہ پڑنے کا حساب تو مانگیں ،آپ کا ملک لْٹا ہے آپ کا گھر لْٹا ہے،پتہ تو کیجیے۔۔ کْھرا کدھر جاتا ہے؟
کیا آپ کو یہ ڈر ہے کہ کْھرا کہیں ہمارے بتوں کے گھر کی طرف نہ چلا جائے جن کی ہم پوجا کرتے ہیں ؟
یقین کیجیے۔۔۔ ہم شخصیت پرستی سے بت برستی کی طرف گامزن ہیں۔

اس وقت قوم کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ ملک گہرے کھڈے میں گرتا ہے یا آنے والی نسل بھوک یا بیماریوں سے مرتی ہے۔قوم کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، بس ہم غلام ابن ِ غلام رہنے کو فخر سمجھتے ہیں۔ہمارا کام بس ڈگڈگی پہ ناچنا ہے ، ہم اور ہماری آنے والی نسلیں بھی اس ڈگڈگی پہ ناچتی رہیں گی۔
جب ناچنا ہی مقدر بنا لیا تم نے ۔۔۔ تو پھر چیخ و پکار کیوں ؟
اسٹیبلشمنٹ کو گالیاں کیوں ؟
پھر یہ ڈیموکریسی کا ڈرامہ کیوں ؟
عمران خان کو لوگ پاگل انسان کہتے ہیں۔۔۔ شاید ٹھیک ہی کہتے ہیں
کوئی پاگل ہی الیکشن سے چند دن پہلے اپنے 20 ایم پی ایز کو پارٹی سے نکالنے کا رسک لے سکتا ہے اور آج کل جب گورنمنٹ مکمل کرائسس میں جا رہی ہے۔ اچانک شوگر اور آٹا سکینڈل رپورٹ کو پبلش کر دینا،جبکہ پتہ ہے کہ اس سے گورنمنٹ بھی جا سکتی ہے۔۔۔ ایسا کوئی ذی شعور تو نہیں کر سکتا،جبکہ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ سیاست کے ڈبل شاہ جب چاہیں اس حکومت کو گرا سکتے ہیں۔۔۔ جہانگیر ترین بھی بہت طاقت رکھتا ہے،جب چاہے حکومت گرا سکتا ہے۔۔۔اومنی گروپ بھی اس کارخیر میں حصہ ڈال سکتا ہے، شریف برادرز تو پہلے ہی تیار بیٹھے ہیں،خسرو بختیار جنوبی صوبہ محاذ کا سربراہ ہے، کچھ بھی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے
کرپشن کرنے پر شیر پاؤ سے اتحاد توڑا
جماعت اسلامی کے وزیروں کو نکالا۔
ووٹ فروخت کرنے پر KP سے MNAs کے گروپ کو نکالا
بلیک میل کرنے پر فوزیہ قصوری کو پارٹی سے نکالا
اب چینی بحران پر پارٹی کے رہنماؤں پر رپورٹ جاری کر دی-
پورا ایک کارِٹل ہے جو کسی بھی حکومت کو گرا سکتا ہے۔
لیکن وہ پھر بھی نہیں رکا۔۔

واقعی پاگل ہے۔۔ آرام سے سب کو ساتھ ملاتا،اربوں روپے اکٹھے کرتا( کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے ) کے منشور پہ عمل کرتا۔۔ 5 سال حکومت کرتا،پروٹوکول انجوائے کرتا، تین تین ہیلی کاپٹرز میں سفر کرتا، نوازشریف کی طرح بادشاہ بن کے زندگی گزارتا،ایم این ایز کی تضحیک کرتا،لوگ غلاموں کی طرح ہاتھ باندھ کے لائن میں لگے ہوتے ۔
نقارچی بادشاہ وقت کے آنے کی آواز لگاتے،شہنشاہ معظم تشریف لا رہے ہیں۔۔۔ لوگ دم سادھ لیتے، سانسوں کی آواز تک نہ آتی اور یقین کیجیے یہی قوم جو اسے آج گالیاں دے رہی ہے۔ اسکے نام کی مالا جپ رہی ہوتی۔
لیکن اس نے مشکل راستہ چنا۔۔۔ اس قوم کیلئے،بچوں کیلئے، ملک کیلئے ڈٹا رہا ،جھکا نہیں۔۔انکوائری روکنے کیلئے کیسی کیسی دھمکیاں دی گئیں،رپورٹ پبلش سے رکوانے کیلئے بڑی دھمکیاں دی گئیں
لیکن وہ نہیں رکا۔وعدے پہ قائم رہا کہ حکومت جاتی ہے تو جائے لیکن کمپرومائز نہیں کروں گا  اور ایسا کر کے دکھایا،ایسے انسان کو پاگل ہی کہا جا سکتا ہے ،لیکن ہماری قوم بہت عقل مند ہے۔ دیکھیے گا۔
کل تک اس میں سے بھی ضرور عمران خان کی بدنیتی کی کوئی نہ کوئی “لاجک”نکال لے گی۔
میں نے پچھلے کالم میں بھی عرض کیا تھا کہ عمران خان اس وقت شدید غصے میں ہے اور تمام طاقتوں سے ٹکرانے کے موڈ میں ہے،نتائج کی پرواہ کیے بغیر،زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا، حکومت چلی جائے گی۔دن بدن تیزی سے بدلتے حالات اور قوم کا عمومی رویہ پاکستان کو دوبارہ اندھیروں کی طرف دھکیل رہا ہے۔لیکن یہ قوم بہت پچھتائے گی۔ابھی بھی وقت ہے ۔سنبھل جائیے ، وگرنہ پچھتاوا مقدر بن جائے گا۔
اللہ رب العزت آپکو اور آپکے اہل خانہ کو آسانیاں عطا فرمائے!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *