اے دلِ ناداں،آرزو کیا ہے۔۔۔۔رفعت علی خان

ہاں جوان، اب بتاؤ کہ تمہارا تعلق کہاں سے ہے، اور کس چیز کی  تلاش تمہیں سفر میں کھینچ لائی؟
میزبان نے پوچھا۔۔

مہمان نے لمبی سانس لی، اور یوں گویا ہوا۔۔
اے مرے محسن، قصّہ کچھ یوں ہے، کہ میرا نام رفعت علی خان، رہنے والا کراچی کا ہوں، اور تین  ماہ کی ایک شرط پوری کرنے نکلا ہوں ،سفر میں، کہ یہاں پہنچا۔ ابتدا ء کچھ یوں ہے، کہ میرے والد جب مجھے چھوڑ کر دنیا سے گئے تو میں بیس سال کا تھا، شادی کا ارادہ تھا، کہ ایک دن بیٹھے بیٹھے  یہ خیال آیا، جو شاید ہمیشہ سے دل میں تھا، کہ آبِ  حیات کہاں ہے، اور کس  طرح سے مل سکتا ہے، ہمیشہ زندہ کیسے رہا جا سکتا ہے؟ مال  و دولت کی کمی نہ تھی، بس ذہن میں آیا اور دھن میں تلاش میں جُٹ گیا، کہیں کوئی سُراغ نہ ملا، کتابیں چھانیں، گفتگو، محفل میں ہر جگہ تذکرے ہوئے، مسافر گردی کے بہتیرے شوقین، سوداگری قافلے بہت، مگر کہیں کوئی اشارہ تک نہ ملا۔ پس سفر کا ارادہ کیا، بہت مارا مارا پھرا، عبادت کا شوقین تھا، چنانچہ دُعائیں مانگتا پھرا، ایک ایسے مقام پر پہنچا جہاں سُنا تھا تمام دعائیں قبول ہو جاتی ہیں، سو میں نے بھی کئی دن جاگتے، دُعا مانگتے گزارے کہ کسی طرح مجھے کچھ پتہ ملے، ابدی زندگی کی کوئی کنجی ملے۔ ایک مسافر کے بتائے کچھ اشارے ، کچھ رستے معلوم ہوں،  اور وہاں سےبھی چلا اور ایک ویرانے میں ایک جسم پر بھبھوت ملے ملنگ تک پہنچا۔ بڑی مشکل سے وہ کچھ سننے پر آمادہ ہوا، وہ سنے اور ہنسے، پھر رُکے، پھر ہنسے، پھر روئے، میں یک ٹُک اسے دیکھتا رہا، اُس نے بھگانے کو ہاتھ دکھائے، پتھر اُٹھایا، میں نے کہا کہ جواب لئے بغیر نہیں جاتا، چاہے کچھ ہو جائے۔وہ بیٹھ گیا، کچھ بڑبڑاتا رہا، میں بھی قریب ایک بڑے پتھر پر ٹِک گیا۔ پورا دن گزر گیا، رات کے قریب کچھ لوگ آئے، کھانا اور پانی رکھ گئے، ملنگ نے کھایا، مجھے اشارہ کیا، میں نے انکار کیا، کہ جواب دے سوال کا، پھر کھاؤں گا۔ اُس نے گھنٹہ دو گھنٹے تک خاموشی اختیار کی، میں وہیں بیٹھا رہا۔

ملنگ نے   بالآخر مجھے اشارہ کیا، کہنے لگا، کیا کرے گا تُو آبِ حیات کا؟ دنیا دکھ سے بھری ہے، کوئی ایسی مصیبت آئے گی، کہ تُو مرنے کی خواہش کرے گا، مر نہ سکے گا۔ میں نے جواب دیا، کہ جب مجھے موت ہی نہ آئے گی تو مجھے کس بات کی پریشانی، ہر بات کے لئے آزادی، ہر ایک کی مدد کرتا پھروں گا، نیک کام کروں گا، عمر ایسے ہی بِتا دوں گا، اور کیا چاہیے انسان کو پھر، اگر عمرِ جاودانی مل جائے؟

ایسا نہیں ہے، ملنگ بولا، دنیا میں کوئی انسان ازل سے ابد تک نہیں آیا ،جسے کوئی دُکھ نہ ہو، غم نہ ہو، عام انسان سے لے کر اولیاء ، نبی، پیغمبر تک، ہر ایک کو اپنے حصّے کا دُکھ ملا۔ تُو اگر مجھے ایک ایسا انسان دکھا دے، جسے کوئی تکلیف، دُکھ نہ ہو، تو میں تجھے آبِ حیات کا پتہ بتا دوں گا۔

میں نے کہا، کہ یہ کون سے بڑی بات ہے، دو دن میں بتاتا ہوں ایسے شخص کا پتہ۔۔

ہنسا، بولا، دو دن کم ہیں ، جا ، تجھے، تین مہینے دیے، نوّے دن، جہاں کوئی ایسا بندہ مل جائے، آواز لگا دینا کہ، ملنگ مجھے وہ شخص مل گیا، میں خود ترے پاس پہنچوں گا، چاہے تُو کہیں بھی ہو! اب نکل ادھر سے تیرا وقت شروع ہو گا، جب تُو پہلے کسی شخص سے اِس نیت سے ملے گا، جا، تجھے بہت وقت دے دیا۔

بس، چند نوالے منہ میں ڈالے، ملنگ کو سلام کر، میں وہاں سے نکلا، اپنے قصبے پہنچا، جس کو ڈھونڈوں، جس کو ٹٹولوں، جس سے پوچھوں، کوئی نہ کوئی غم ۔۔ اولاد کا، بیوی کا، بچوں کا، ماں باپ کا، بھائی، بہن کا، محبت کے ملنے کا ، بےوفائی کا، نفرتوں کا، حسد، جلن، امارت کا غربت کا، سب سے بڑھ کر پیسے، دولت، جائیداد کی فکریں، کئی دن مارا مارا پھرتارہا، حتیٰ  کہ علاقے بھر میں مشہور ہو گیا، لوگ آتے مجھے پتہ بتاتے کہ فلاں ابنِ فلا ں کے پاس جاؤ، وہ تیری تلاش پر پورا اُترے گا، بھاگا بھاگا جاتا، ملتا، معلومات حاصل ہوتیں، ناکام لوٹتا۔ پھر وہیں کا وہیں۔ اب ایک اور فکر ستانے لگی، کہ دو گھنٹے کا دعویٰ کیا تھا، دو دن، پھر دو ہفتے گزر گئے، نا امیدی بڑھی، آس پاس کے قصبوں کی خبر لی، کوئی کامیابی نہیں، شہر وں میں ڈھونڈنے لگا، ملک چھوڑا، بصرہ سے گزرا، ایران، ہند و پاک تک پہنچا، کوئی بھی ایسا شخص نہ ملا جو یہ دعویٰ کر سکے کہ  وہ فکر و غم سے آزاد ہے، جب ڈھائی ماہ گزر گئے تو کسی نے پتہ بتایا کہ ایک ہی بندہ ءِ خُدا مدد کر سکتا ہے، اور پھر پتہ چلا کہ یہ تو وہی ملنگ ہے اُسی ملنگ کے پاس گیا، کہا کہ تری تو کوئی فکر، غم، مستقبل و ماضی کی کوئی خواہش نہ ارادہ، تُو ہی کیوں نہ ہو وہ شخص؟

وہ رویا کہ ایک ماں تھی جب وہ بیمار ہوئی تو وہ اپنی مصروفیات میں  اُس کی ایسی خدمت نہ کر سکا جیسی وہ حقدار تھی، فوت ہوئی تو ایسا صدمہ ہوا، کہ سب چھوڑ جنگل کی راہ لی اور ملنگ ہوا۔ یہ دُکھ اب زندگی کے ساتھ ہی رہے گا، بس اب تُو وقت ضائع نہ کر اور دفع ہو جا! کہہ کر مجھے دوڑایا۔

میں وہاں سے ناکام ہوا تو پتہ چلا کہ بغداد میں ایک ایسا امیر و کبیر و دانا شخص ہے جو اِس شرط پر پورا اترے تو ٹھیک، ورنہ تو ناکامی ہے ہی مقدّر میں، چنانچہ گھوڑے بھگاتا یہاں پہنچا۔ ایک دن پورا معلومات جاننے میں گزارا، دیکھا کہ اولاد خوبصورت و صحت مند آگے پیچھے گھومتی ہے، بیوی کی تیری تعریف سُنی، کہ وہ پری ایسی حسین کہ  بغداد چھوڑ ، معلوم دنیا میں کوئی ایسی حسیں   دیکھنے کو نہ  ملے، جائیداد اور دولت اتنی نظر آتی ہے کہ پشتیں بیٹھ کر کھائیں تو کم، محل، دکانیں، غلّہ و پارچہ جات اور جواہرات کا کاروبار، سب کچھ ترے پاس، تو ملنے کا قصد (ارادہ) کیا اور یوں تیرا مہمان ہوا ۔

اے مہربان و کرم فرما، اب میری مہلت میں بس آخری دن بچا، اور تیرے علاوہ پورے خطے میں ایسا کوئی نہ ملا، تو میں سوچتا ہوں کہ ملنگ کو آواز لگاؤں، بس تیری اجازت چاہیے۔

بس یہ سننا تھا، کہ میزبان کے آنسو بہنے لگے، بولا اے میرے نادان مہمان، یہ تُو نے میری دُکھتی رگ چھیڑ دی ہے، بھلا اِس دنیا میں مجھ سا بد قسمت کہاں ۔۔

سننے کی دیر تھی، کہ مہمان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔۔ اے مہرباں، وہ بولا، تجھ پر تو میری زندگی کی بازی لگ گئی ہے، اب اگر تُو بھی ایسا ہی کہے گا تو میں تو گیا کام سے !

میزبان آنسو بہاتا رہا، مہمان اُسے حیرت و سوالیہ نظروں سے دیکھتا رہا۔ کئی لمحے ایسے ہی گزرے، حتیٰ  کہ آنسو تھمے، بولا اے مہمان، مجھے معاف کر، کہ میں اِس قابل ہرگز نہیں۔۔۔

ہر طرف خاموشی چھا گئی، رات بھی کافی ہو چکی تھی، مہمان بولا: اگر تُو اپنی تکلیف بتائے ، تو میں شاید تیرا ساتھ دے سکوں، ہاتھ بٹا سکوں، کوئی حل بتا سکوں۔ تیرے سامنے میری زندگی اور اُس کی سب سے بڑی مشکل بھی بیاں ہو چُکی۔۔

میزبان نے نفی میں سر ہلایا۔ میری تکلیف کا کوئی حل نہیں، کوئی مداوا نہیں، کوئی دوا نہیں، کوئی ساتھ نہیں دے سکتا۔ اب تُو اتنی دور سے آیا، اتنے دن  تلاش میں گزارے، تو اگر تُو وعدہ کرے کہ دنیا میں کسی سے ایک لفظ منہ سے نہ نکالے، تو تجھے بتاؤں۔ میرا اثبات میں جواب دیکھا، تو وہ شروع ہوا:

کیا داستانِ غم شروع کروں، یہ سمجھ لے کہ میں اپنے بے تحاشا دولت مند ماں باپ کی اولاد  میں سب سے چھوٹا تھا ، ایک عمر کھیلا کودا، علم حاصل کرنے کو بغداد کے عالموں سے استفادہ کیا، اٹھارہ سال کا تھا کہ والد اور والدہ ایک ہی ماہ میں چل بسے، ابھی غم کم نہ ہوا تھا، کہ تجارتی قافلے پر ڈاکوؤں کے حملے میں بھائی مارے گئے، غم کی انتہا پر تھا، کہ کچھ عقل مند دوستوں نے، بھلا ہو اُن کا یہ صلاح و مشورہ کر کے مجھے راضی کیا، اور شہر سے باہر اگلے قافلے کے ساتھ مجھے لے کر نکلے، ایک سال گھومتا پھرتا رہا، تجارت میں انتہا کا فائدہ ہوا، سب دوستوں کو بخشا کہ مبارک ہو اُن کو، مرے پاس پشت در پشت ، کئی نسلوں کیلئے اتنی دولت تھی کہ کوئی حساب نہیں،ایک شہر سے گزرے، امیرِ شہر نے مہمان ٹھہرایا، قصّہ مرے غم کا سنا، دل اُسکا بھر آیا، اُس نے گھر میں بتایا۔ اُس کی ایک بیٹی نے سُنا، چھُپ کر اُس نے مجھے دیکھا اور ماں کو کہا، اور ماں نے امیرِ شہر کہ شوہر تھا، بتایا کہ ایسا نجیب الطرفین، نوجوان اور حسین، امیر و مالدار قسمت نے بھیجا ہمارےپاس، اس کے دوستوں کو مائل کرو کہ لڑکی کو دیکھے پسند آجائے تو بات آگے بڑھائیں۔ ایسا ہی ہوا، لڑکی کو دیکھا تو میں دنیا و ما فیہا سے بےخبر ہوا، اپنے دوستوں کے مشورے سے وہیں شادی و خانہ آبادی ہوئی۔ کچھ عرصے وہاں رکے پھر واپس آبائی وطن پہنچے اور گھر آباد کیا۔ اپنی قسمت پر رشک کیا، کہ بھلا ایسی زندگی کس کو ملی ہو گی، کہ سب کچھ خواب و کہانی والی زندگی لگے۔

میزبان رُکا، قہوے کی آمد ہوئی، پیالیوں میں قہوہ ڈالا، عود و عنبر کی خوشبوئیں خادمہ رکھ گئی، مہکتی رات کی مہکتے قہوے کے ساتھ میزبان نے بات پھر سے جاری کی:
بھائی، بیوی ایسی ملی، کہ جیسے نئی زندگی، بہار کی طرح، زندگی مکمل محسوس ہوئی اور محبت کی ایسی دیوانی کہ میرے بغیر اُسکو ایک پل سکون نہیں، مجھے اُس کے بغیر ایک پل چین نہیں ۔۔ دو ماہ گزرے کہ وہ بیمار پڑی، طبیب ایسے کہ شہر و عرب کے بہترین و با کمال، بے مثال، مگر ایک ہی ہفتے میں میری بیوی ہڈّیوں کا ڈھانچہ ہوئی، طبیب بدلے مگر کوئی فرق نہ پڑا، اور اُس کی سانسیں رُک رُک کر آنا شروع ہوئیں، مجھے غش آنے لگے ۔۔ اُس کے بغیر زندگی بے کار لگنے لگی، اُس کے کمرے کے باہر تخت لگوا کر پڑا رہتا۔ اب اُس دن کی سُنو، کہ طبیب گھبرایا ہوا باہر آیا، بولا سانس اُکھڑ رہی ہے، کچھ کہنا چاہ رہی ہے بات کر لو جلدی سے، میں گرتا پڑتا بھاگا، بیوی کو دیکھا تو رنگ سفید، ایک سانس آئے، ایک جائے کا سا حال، میں نے اُس کا ہاتھ پکڑا، آنسوؤں میں اُس کو پُوچھا، گال تھپتھپائے، تب اُس نے آنکھ کھولی،بولی کہ میرا آخری وقت ہے، تمھاری فکر کھائے جاتی ہے، دیکھو میرے بعد اکیلے نہ رہنا اور اپنی زندگی گزارنا، میری روح کو سکون جب ہی ملے گا، جب تُو خوش و خرّم ہو گا۔۔

میں نے جھڑکا، کہ کیا بات سُوجھی ہے وہ بھی بیماری کے اِس وقت، اب تُو ٹھیک ہو جا جلدی سے، ابھی ہم نے بچوں کی خوشیاں دیکھنی ہیں اور تُو مجھے دوسری شادی کی صلاح  دے رہی ہے۔۔۔

اُس نے بات کاٹی، بولی: زندگی بہت لمبی ہے ، تُو نازوں کا پلا، اکیلا نہیں رہنا۔۔

میں نے پھر کہا، ٹوکا، مگر وہ مجھے دیکھتی رہی۔۔۔

میں غصّہ میں بھنّا گیا، کہ انسان کی خواہش ہی تو سب کچھ نہیں، تُو نہیں تو کوئی اور نہیں۔۔

کھانسی ،ہچکیوں میں بولی، کوئی کبھی کسی سے ہمیشہ خوش نہیں رہتا، ساتھی چاہیے ہو گا تجھے؛ انسان ہے تُو، اور انسان خواہشوں کا پُتلا ۔۔

میں بحث کا قائل نہیں، اُٹھا، قریب رکھا پھلوں کی ٹوکری سے چاقو اُٹھایا، کہا کہ وہ عضو ہی نہیں رکھوں گا، کہ جس کی وجہ سے کسی اور کی خواہش ہو، اور ایک ہی جھٹکے میں اپنا عضوءِ خاص کاٹ کر پھینک دیا۔۔

اُس نے ایک چیخ ماری، میں نے جو اپنا خون بہتا دیکھا، تو میں بھی بے ہوش ہوا۔

دو دن بعد ہوش آیا، پٹیوں سے نچلا حصّہ جکڑا ہوا، طبیب پر نظر پڑی دائیں ہاتھ پر، بائیں پر نظر دوڑائی تو بیوی اُسی طرح بےحال و بے سُدھ پڑی تھی۔ بس سانس کی حرکت سے لگا کہ وہ زندہ ہے، طبیب نے دلاسا دیا، کہ بھروسہ رکھ زندگی کا،
عضو جو کھو چکا تھا، طبیب نے معذوری ظاہر کی کہ اب اُسکی کوئی تلافی نہیں ہو سکتی، وہ تو ضائع ہوا تو ضائع ہوا ۔۔۔

خیر، اب سُن کہ، ایک ہفتے میں میں تقریباً چلنے پھرنے کے قابل ہو گیا۔۔
اِس ایک ہفتے میں میری بیوی بھی ٹھیک ہونا شروع ہو گئی،

پندرہ دن بعد، میں صحت مند اور میری بیوی بھی چلنے پھرنے کے قابل ہوئی،

اب دیکھ چار سال ہو چکے اِس حماقت بھرے حادثے کو، اب میں ادھورا انسان ہوں، میری اگر مجبوری ہے ، تو قدرت کے کھیل نرالے، اب اس چار سال میں میری بیوی کے دو بچے ہو چکے، تیسرا ہونے کو ہے، سب دیکھتا ہوں، خون کے آنسو پیتا، غم کے گھونٹ لیتا ہوں، کچھ نہیں  کر سکتا ہوں، نہ روک ٹوک کام آ سکی، خواہشیں بھی قدرت کی دی ہوئیں ، مصیبت اپنے ہاتھ کی لائی ہوئی، نہ مرسکتا ہوں، نہ جینے کو کوئی خواہش، بس اپنی عمر گزارتا ہوں ۔۔ اے مرے مہمان، دیکھ تُو نے وعدہ کیا تھا کہ تو اِس آپ بیتی کا ایک لفظ زبان پر نہ لائے گا، اُس پر قائم رہیو! جب تک چاہے مہمان رہ، مگر تیری آرزو پوری ہونا محال ہے، دنیا میں کوئی ایسا انسان پیدا نہیں ہوا جسے کوئی غم نہ ہو، جسے کوئی دُکھ نہ ہو۔

دُور اذان کی آواز آئی تو احساس ہوا کہ ایک نئی صبح ہو چکی ہے۔ مگر دنیا وہی، اِس کے غم و الم البتہ ہر گزرتے لمحے، بڑھ بھی چکے ہیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *