عطائیت کے حوالے سے عوام کی غلط فہمیاں۔۔آصف خان

کراچی کے علاقے پنجاب کالونی میں  ایک شخص عطائیت کی بھینٹ چڑھ گیا جب عطائی ڈاکٹر نے اسے کرونا کا مریض قراردے دیا تھا ،جس پر اس شخص نے اپنے خاندان کو بچانے کی  خاطر خودکشی کرلی لیکن اب تک اس عطائی ڈاکٹر کا کوئی اتا پتہ نہیں ہے۔

کچھ عرصے پہلے چیف جسٹس آف پاکستان نے پنجاب پولیس کو ایک حکم دیا تھا کہ وہ صوبے بھر کے تمام عطائی ڈاکٹروں کو ایک ہفتے میں گرفتار کر کے رپورٹ پیش کریں ۔ اس حکم کے ساتھ ہی پنجاب پولیس حرکت میں آتی ہے اور صوبہ بھر میں عطائی ڈاکٹرز  کے ٹھکانوں پر  چھاپوں کا سلسلہ شروع کر تی ہے میڈیا کے اعداد وشمار کے مطابق کافی گرفتاریاں عمل میں آئی تھیں  ،جب بھی ملک میں عطائیت کے خلاف مہم شروع کی جاتی ہے عموماً  عوامی اور میڈیاکی سطح پر تاثر دیاجاتاہے کہ ایم بی بی ایس صرف ڈاکٹرز ہیں ،ان کے علاوہ تمام عطائی ہیں ، جوکہ سراسر ایک غلط تاثر ہے، میڈیا کے لوگوں کو بھی اپنا کونسیپٹ کلیئر کرنا ہوگا۔ اگر ہم عطائیت کی تعریف کو پریکھیں ، تو پتہ چلے  گا کہ عطائی کی تعریف کچھ اس طرح سے ہے ” ہروہ شخص جوبغیر کسی مستند سرکاری ادارے کی ڈگری ، سرٹیفکیٹ یا سند کے علاج معالجے کی خدمات سرانجام دے رہا ہے تو اس کا شمار عطائی میں ہوگا”اس کے علاوہ ہر وہ شخص جو اپنے متعین کرد ہ اختیارات جو قانون کے مطابق اسے حاصل ہیں سے تجاوز کرے گا وہ بھی عطائیت کے زمرے میں ہی آئے گا۔ مختلف شعبہ جات میں خدمات سرانجام دینے والے معالجین جو کسی مستند سند یا ڈگری کے حامل یافتہ ہیں اور اپنے شعبے میں اور جو ان کی باؤنڈری ہے یا جو ان کی  حدود ہے علاج کے لیے ان میں رہ کر علاج کریں۔ وہ عطائیت کے زمرے میں نہیں آتے ،مثال کے طور پر ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر جسے آپریشن کی اجازت نہیں ہے وہ جنرل پریکٹس تو کرسکتا ہے لیکن آپریشن نہیں ،اگر وہ آپریشن کرتا ہے تو وہ بھی عطائی ڈاکٹر کہلائے گا ،اس کے پاس ڈگری  تو ہے  لیکن وہ اپنی حدود سے تجاوز کر رہاہے ،جو ایک عطائیت کا فعل ہے جو کہ ایک جرم کے زمرے میں آتا  ہے ،اسی طرح بیچلر کی ڈگری رکھنے والے میل اور فیمیل نرس جو پاکستان نرسنگ کونسل سے رجسٹرڈ ہوں، اسی طرح ڈی ایچ ایم ایس ڈپلومہ کے ہولڈر ہومیو ڈاکٹر حضرات ، نیشنل کونسل فار طب کے چار سالہ طبیب جنہوں نے فاضل طب والجراحت ایف ٹی جے کے ڈپلومے کر رکھے ہیں اگر کوئی نرس فرسٹ ایڈ سے زیادہ علاج کریں، کوئی ہومیو پیتھک ڈاکٹر انگریزی ادویات ،حکیم ، ہومیو پیتھک ادویات یا پھر ایم بی بی ایس ڈاکٹرز ہومیو پیتھک و یونانی ادویات اپنے مریضوں کو استعمال کروائے یا تجویز کرے تو وہ بھی عطائی شمار ہو گا۔

مشاہدے  میں یہ آیا ہے کہ عموما ً ایم بی بی ایس ڈاکٹرز حضرات میں یونانی اور ہومیو پیتھک ادویات استعمال کروانے کا رجحان عام ہوتا جا رہا ہےجوکہ غیر قانونی ہے ۔اسی طرح جن ڈاکٹر   حضرات نے بغیر کسی مستند ڈگری کے اپنے سپیشلسٹ ہونے کے بڑے بڑے بورڈ آویزاں کر رکھے ہوتے ہیں جن میں بچوں کے  سپیشلسٹ  سکن  سپیشلسٹ اور ایسے بے شمار ڈاکٹرز گاؤں دیہات کے ساتھ شہر میں بھی عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں وہ بھی عطائیت کے زمرے میں آتے ہیں۔ بغیر فارماسسٹ ، ڈرگ سیل لائسنس ، کوالیفائیڈ سٹاف کے ادویات فروخت کرنے والے ڈاکٹر ز حضرات بھی ان اقدامات کے قانوناً مجاز نہیں، جبکہ ان کے پاس مختلف شعبوں میں کام کرنے والے افراد کا سرکاری اسناد و ڈپلومہ جات کے ساتھ کوالیفائیڈ ہونا ضروری ہے ۔ اگر ایسا نہیں تو یہ ہسپتال و ڈاکٹرز بھی اسی زمرے میں آئیں گے اور سربراہ ادارہ عطائیت کے فروغ کا باعث بن رہا ہوگا۔ اگر اس کی سادہ سی تشریح کر دی  جائے تو پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی ہدایات پر جو ہسپتال پورے  نہیں اُترتے ان کے پاس کوالیفائیڈ سٹاف و دیگر سہولیات نہیں ،وہ عطائیت کی نرسریاں کہلائیں گی۔ اسی طرح سرکاری فیکلٹیوں کے ڈگری اور ڈپلومہ ہولڈر ، ٹیکنیشنز جن میں ڈسپنسرز دو سالہ کورس کی حامل لیڈی ہیلتھ وزٹر ، لیبارٹری ، ایکسرے، ای سی جی ، ڈینٹل ٹیکنیشنز ، کوالیفائیڈکہلائیں گے ان کی تشریح بھی عطائیت کے تناظر میں نہیں کی جاسکتی کیونکہ یہی ڈگری ہولڈر نرس اور ڈپلوما ہولڈر نرس اور ٹیکنیشنز بنیاد ی مراکز صحت ،رولر ڈسپنسریوں ، امن فاؤنڈشن کی ایمبولنسز شہر کے بڑے بڑے ہسپتالوں میں انتہائی نگہداشت کے وارڈوں میں مریضوں کی جان بچاتے نظر آتے ہیں ،اس کے ساتھ ساتھ پنجاب میں 1122 ریسکیو سروسز ، تمام قسم کے ڈیزاسڑ، جلسے جلوسوں ، رمضان بازاروں ، ہنگامی کیمپس میں بطور انچارج علاج معالجہ و ایمرجنسی کی سہولیات دیتے نظرآتے ہیں۔ اسی طرح صحت کی خدمات میں انجیکشن سے لے کر مرہم پٹی ، ادویات کی فراہمی و تجویز ، آپریشن تھیٹر چھوٹی موٹی ں سرجری تک میں یہی  سٹاف خدمات سرانجام دیتا ہے۔ان ہی ٹیکنیکل افراد کو سرکاری حکم ناموں کے تحت ایسی خدمات و سروسز فراہم کرنے کے اختیارات سونپے گئے ہیں ۔اعلی عدلیہ متعدد بار ان کو پریکٹس پرمٹ کے اجراءکے حکم نامے جاری کرچکے ہیں۔ ان تمام افراد کے لیے ہیلتھ کونسل تشکیل دے کر پرائیویٹ شعبہ میں فرسٹ ایڈ پریکٹس اور ہیلتھ سروسز فراہم کرنے کے متعلق قانون سازی کی بھی ضرورت ہے کیونکہ ان لوگوں کی سروسز کو اگر سرکاری اور نیم سرکاری و غیر سرکاری اداروں سے نکال دیا جائے تو ملک میں صحت عامہ اور علاج معالجے کی سہولیات ناپیدہو کر رہ جائیں ۔ بنیادی مراکز صحت کے نرسز ڈسپنسرز ،لیڈی ہیلتھ وزٹرز ہیلتھ ورکروں کو ٹریننگ فراہم کرتے ہیں اور ان کے لیے استاد کا کردار ادا کرتے ہیں۔ حکومتی اداروں کی دہری پالیسی ہے کہ سالوں کی ٹریننگ و اسناد کے حامل سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کرنے والے کوالیفائیڈ نرسز اور ٹیکنیشنز حضرات کو پرائیویٹ شعبہ میں آزادانہ فرسٹ ایڈ سہولیات فراہم کرنے پر پریشان کیا جاتا ہے اور انہیں قانونی کاروائیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جبکہ دوسری صورت لاکھوں کی تعداد میں ملک کے گلی کوچوںمیں قائم ہیلتھ ہاؤسز جن کی انچارج ہیلتھ ورکرز ایل ایچ وی کو بنایا گیا ہے جن کی تعلیمی قابلیت اکثریت کی میٹرک بھی نہیں ہوتی ہے ان کو ہر ہر قسم کی ادویات ، بلڈ پریشر سیٹ ، تھرما میٹر ، ویٹ مشین ، فراہم کی گئیں ہیں تاکہ وہ عوام کو علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کر سکیں اس سلسلہ میں سرکاری سطح پر میڈیا پر باقاعدہ مہم چلائی جاتی ہے کہ ان ہیلتھ ورکروں سے اپنا علاج معالجہ کروائیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *