• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • پاکستان، ایرک فرام اور پروفیسر خالد سعید صاحب(دوسرا،آخری حصّہ)۔۔ڈاکٹر اختر علی سید

پاکستان، ایرک فرام اور پروفیسر خالد سعید صاحب(دوسرا،آخری حصّہ)۔۔ڈاکٹر اختر علی سید

انیل اگروال نئی دلی کے مولانا آزاد میڈیکل کالج میں فرانزک میڈیسن کے استاد ہیں۔ 2009 میں یعنی DSM-5 کی اشاعت 2013 سے پہلے انہوں نے نیکروفیلیا کی ایک نئی درجہ بندی پیش کی۔ 2011 میں انہوں نے ایک جامع کتاب شائع کی یہ نیکروفیلیا کے موضوع پر شائع ہونے والی پہلی درسی کتاب Textbook ہے۔ اس کتاب میں نہ صرف ایک نئی درجہ بندی پیش کی گئی ہے بلکہ دنیا بھر سے رپورٹ ہونے والے نیکروفیلیا کے کیسز کا تجزیہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ انیل اگروال نے نیکروفیلیا کو دس مختلف صورتوں میں پیش کیا ہے۔ اس میں روسمین کی بیان کردہ درجہ بندی بھی موجود ہے۔ لیکن اگر آپ روسمین اور اگروال کی درجہ بندیوں کا بغور مطالعہ کریں تو آپ پر عیاں ہوگا کہ فرام نے نیکروفیلیا کی جو تشریح کی تھی اس کو یہ دونوں ماہرین اور محققین نہ صرف نظرانداز نہیں کر سکے بلکہ انہوں نے اس کو اپنی بیان کردہ درجہ بندیوں میں جگہ بھی دی ہے اور اس کے اثبات کے طور پر کلینکل مثالیں بھی پیش کی ہیں۔ اس قدرے تکنیکی گفتگو کا مقصد صرف اس اعتراض کا جواب عرض کرنا تھا جو نفسیات کے بعض مدرسین فرام پر کرتے ہیں کہ نیکروفیلیا کے تصور کو جو پھیلاؤ اس نے دیا ہے اس کا کوئی کلینکل اورمعروضی ثبوت موجود نہیں ہے۔

پاکستان، ایرک فرام اور پروفیسر خالد سعید صاحب(حصّہ اوّل)۔۔ڈاکٹر اختر علی سید

جیسا کہ بیان ہو چکا کہ زندگی کے فطری بہاؤ میں در آنے والی رکاوٹ نیکروفیلیا کا سبب بنتی ہے۔ آئیے اس بات پر غور کرتے ہیں کہ ایرک فرام نے فاشزم کے شکار معاشروں کا تجزیہ کرتے ہوئے نیکروفیلیا کے تصور کو کیوں استعمال کیا اور پھر خالد سعید صاحب نے کن ممکنہ وجوہات کی بنیاد پر اسی تصور کو پاکستان پر اطلاق کے لیے موزوں خیال کیا۔

خالد سعید صاحب نے اپنے مضمون میں انسان کی آزادی پر گفتگو چھیڑی ہے ایرک فرام نے آزادی کے اس تصور پر ایک اہم ترین کتاب Fear of Freedom تحریر کی ہے۔ خالد صاحب نے W H AUDEN کی مشہور زمانہ نظم The unknown citizen کا حوالہ بھی دیا ہے آگے بڑھنے سے پہلے ذرا یہ نظم دیکھئے۔
The Known Citizen
(This Marble Monument is erected by the State)
He was found by the Bureau of Statistics to be
One against whom there was no official complaint,
And all the reports on his conduct agree
That, in the modern sense of an old-fashioned word, he was a saint,
For in everything he did he served the Greater Community.
Except for the War till the day he retired
He worked in a factory and never got fired,
But satisfied his employers, Fudge Motors Inc.
Yet he wasn’t a scab or odd in his views,
For his Union reports that he paid his dues,
(Our report on his Union shows it was sound)
And our Social Psychology workers found
That he was popular with his mates and liked a drink.
The Press are convinced that he bought a paper every day
And that his reactions to advertisements were normal in every way.
Policies taken out in his name prove that he was fully insured,
And his Health-card shows he was once in hospital but left it cured.
Both Producers Research and High-Grade Living declare
He was fully sensible to the advantages of the Installment Plan
And had everything necessary to the Modern Man,
A phonograph, a radio, a car and a Frigidaire.
Our researchers into Public Opinion are content
That he held the proper opinions for the time of year;
When there was peace, he was for peace: when there was war, he went.
He was married and added five children to the population,
Which our Eugenicist says was the right number for a parent of his generation.
And our teachers report that he never interfered with their education.
Was he free? Was he happy? The question is absurd:
Had anything been wrong, we should certainly have heard.
اس میں ایک مثالی شہری کی بابت بتایا گیا ہے فراہم کے مطابق یہ وہ شہری ہے جسے آزادی سے خوف آتا ہے اور یہ آزادی سے فرار کے راستے ڈھونڈتا ہے۔ خالد صاحب نے فرام کی دی گئی فرار کی چار میکانیتیں بیان کی ہیں۔
1. سادیت Sadism
2. خود اذیتی Masochism
3. جیوویر Destructiveness
4. خود کار مفاہمت Automaton conformity
فسطائی نظام میں آزادی کس طرح ممکن ہے؟ اس نظام میں آزادی کی ممکنہ تعریف کیا ہو سکتی ہے؟ فرام نے آزادی کی تین اقسام بیان کی ہیں۔
1. ما قبل آزادی Pre-freedom
2. منفی آزادی Negative freedom
3. مثبت آزادی Positive freedom
آپ کے علم ہے کہ مختلف مفکرین اور فلسفیوں نے آزادی کے انداز میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ تھامس ہابس Thomas Hobbes نے فرد کےلئے رکاوٹوں کی غیر موجودگی کو آزادی کہا تھا۔ فرانسیسی مفکر ساختخ (سارتر) کے مطابق انسان کے پاس فقط “نہ” کہنے کی آزادی ہے۔ آپ اس بات سے اتفاق کریں گے کہ پاکستان جیسے معاشروں کے لیے آزادی کی ایک ممکنہ طور پر قابل قبول تعریف وہ ہے جس کو فرام میں بیان کیا ہے۔ خالد صاحب نے آزادی کے اس تصور کو اجمالاً بیان کیا ہے ذرا اس کی تفصیل دیکھیے۔ یہ تفصیل فرام کی کتاب Fear of Freedom میں موجود ہے۔
ما قبل آزادی کے تصور کی وضاحت کرتے ہوئے فرام نے ازمنہ وسطیٰ کے انسان کی مثال دی ہے جس کے شعور consciousness پر عقائد، التباسات اور ناپختہ خیالات کا غلبہ تھا۔ دنیا کی ہر شئے اور معاملے کو انہی تین عوامل کی عینک سے دیکھتا تھا۔ فرد کے لیے اپنے تعارف کے لئے اپنی نسل، معاشرے، خاندان اور ادارے سے وابستگی ضروری تھی۔اپنے گروہ سے علیحدگی فرد کی شعوری زندگی کی موت سمجھا جاتا تھا۔ ہمارے مخصوص سماجی حالات میں ایک سوال کثرت سے کیا جاتا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ اعلی تعلیم یافتہ افراد جاھل ترین سیاسی قائدین کی انتہائی جاہلانہ گفتگو کو کس طرح گھنٹوں خاموشی سے بیٹھ کر سنتے اور نوٹس لیتے نظر آتے ہیں۔ باشعور افراد سیاسی قائدین کی انتہائی سطحی گفتگو کا دفاع کرتے ہیں۔ پڑھے لکھے لوگ اپنے لیڈروں کو صحیح ثابت کرتے ہوئے کس طرح جذباتی ہوجاتے ہیں۔ مختلف مولویوں کے سامنے بیٹھے ہوئے، سیاسی قائدین کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے اور ٹیلی ویژن پر بیٹھ کر کلیشے بولتے ہوئے دانشوروں پر شاید آپ کو بھی تعجب ہوتا ہو۔ لیکن اگر گروہ سے وابستگی کو ان کی جذباتی مجبوری خیال کریں تو آپ کے لیے شاید ان کے طرز عمل کو سمجھنا ممکن ہے اور آسان ہوجائے۔ اسی طرح بسوں میں بھر بھر کے کے جلسوں میں لے جائے جانے والے، احتجاجی مظاہروں کی رونق بننے والے، نعرے لگانے والے، اور سیاسی جلسے جلوسوں میں شرکت کرنے والے بے تحاشا لوگ ہیں جو صرف ان سرگرمیوں میں اپنی گروہی وابستگی بحال رکھنے کے لئے حصہ لیتے ہیں۔

منفی آزادی پر فرام کے نظریات سمجھنے کے لیے ڈبلیو ایچ آدم کی نظم دوبارہ پڑھیے۔ ماقبل آزادی کی سٹیج سےنکل آنے والے کئی افراد نسبتاً زیادہ تعلیم یافتہ اور باشعور ہوتے ہیں اپنے مخصوص گروہوں کی خامیوں کو دیکھتے ہوئے یہ خود کو گروہوں سے الگ کرنے کے نتیجے میں شدید تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ لگی بندھی زندگی گزارنے والے افراد روایت اور مذاہب کی عمومی رسومات سے آزادی حاصل کرنے کے نتیجے میں خود کو تنہا اور غیر محفوظ سمجھتے ہیں اور زندگی کے بارے میں معنی اور مقاصد کو کھو بیٹھتے ہیں۔ فرام نے منفی آزادی کی تعریف کرتے ہوئے لکھا تھا
Unless his life had some meaning and direction, he would feel like a particle of dust and be overcome by his individual insignificance. He would not be able to relate himself to any system which would give meaning and direction to his life, he would be filled with doubt, and this doubt eventually would paralyse his ability to act. P. 17
آپ دیکھ سکتے ہیں کہ منفی آزادی کس طرح پڑھے لکھے افراد کی ایک بڑی تعداد میں ظہور پذیر ہوتی ہے۔ گھروں میں بیٹھے، خبریں دیکھتے، کڑھتے، غصہ کرتے، اپنے معاشرے کی جہالت پر ماتم کرتے یہ افراد خوف اور غصے کے شکار ہوکر فرام کے الفاظ میں مفلوج ہوکر معاشرے کے ہر سسٹم اور ادارے سے لاتعلق زندگی گزارتے ہیں۔
مثبت آزادی کی وضاحت کرتے ہوئے فرام نے لکھا تھا
An active solidarity with all men and his spontaneous activity would love and work, which unite him again with the world, as a free and independent individual.

آزادی سے فرار کی بیان کردہ پہلی دو حالتیں خالد سعید صاحب کی ترجمہ کردہ اصطلاح کے مطابق جیو ویر کی صورتحال پیدا کرتی ہیں۔ فرام نے ایک نفسیاتی پیچیدگی disorder کو ایک سماجی رویہ قرار دے کر اسے بے پناہ وسعت دی ہے۔ مردہ اشیاء سے پیار، مردوں کی اشیاء کو سینے سے لگانے کا رویہ بالآخر ہر شے کو موت کے منہ میں دھکیلنے کی شدید اور بے قابو خواہش پر منتج ہوتا ہے۔ “مارو یا مر جاؤ” جیسے نعرے نیکروفیلیا کا ہی نتیجہ ہوتے ہیں۔ خودکش بمبار، ماضی کا احیاء، اجداد کی سنت زندہ کرنے کا عزم، ماضی کے نظاموں کا اعادہ اور ان کو واپس لانے کے نعرے فراہم کی تعریف میں نیکروفیلیا کے سماجی پھیلاؤ کا مظہر ہیں۔ یہ نیکروفیلیا کا وہ درجہ ہے جہاں محبت کرنے کے لیے محبوب کا مردہ ہونا اس لیے ضروری ہوجاتا ہے کیونکہ زندہ محبوب مزاحمت بھی کرسکتا ہے اور انکار بھی۔۔ مردہ نظریات بھی اس لیے قابل قبول ٹھہرتے ہیں کیونکہ ان کی من مانی تشریح و تشکیل جدید پر کوئی ہاتھ نہیں پکڑتا یقین نہیں آتا تو یونیورسٹی آف نبراسکا میں لکھے جانے والے جہادی مینویل پڑھیے۔
نفسیات اور پروفیسر خالد سعید صاحب کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میں بجا طور پر محسوس کرتا ہوں فرام نے 1940 کی دہائی میں جو لکھا تھا وہ آج بھی صرف پاکستان ہی نہیں دنیا کے ان تمام معاشروں کا بہترین تجزیہ فراہم کرتا ہے جو موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کے زیر اثر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ فرام ہی تھا جس نے فسطائی نظام کے نئے چہرے شناخت کرنے کے بعد دنیا کے سامنے رکھے۔ فرام 1980میں دنیا سے گزر گیا اگر آج زندہ ہوتا تو موجودہ صورتحال کے بہت سے ایسے پہلو بھی ہمارے سامنے رکھتا جو ابھی ہماری سمجھ اور تجزیوں سے باہر ہیں۔ خالد سعید صاحب کا یہ تبصرہ بہت بجا ہے کہ اس طرح کا تجزیہ دنیا کے خاموش اور مصیبت سہتے لوگوں کے دکھوں کا مداوا نہیں کر سکتا۔ لیکن ایک عام آدمی کو اس کے اپنے طرز عمل اور طریقہ فکر کے بارے میں معلومات تو بہرحال فراہم کرتا ہے۔ اندرون اور بیرون میں کتنے ایسے ان دیکھے، انجانے اور نا معلوم دائرے ہیں جن سے باہر نکلتے ہوئے فرد ایک دم چونک کر اور ڈر کر احساس گناہ میں مبتلا ہونے کے بعد الٹے پیروں دائروں میں جا کر دم لیتا ہے۔ انہیں دائروں میں ٹی وی چلتا ہے۔ وعظ ملتا ہے، حوریں نظر آتی ہیں۔ نظریے ملتے ہیں اور ایک ایسا سکون ملتا ہے جو صرف آنکھ بند کرنے پر ہی نصیب ہوتا ہے۔ ایسے ہی کسی دائرے میں کوئی کہتا ملتا ہے کہ “سکون تو صرف قبر ھی میں ملے گا”۔ یہ سنتے ہی نیکروفیلیا کے پھیلاؤ پرخالد سعید صاحب کے فرمودات پڑھنے والے شاگردوں کے ذہن میں بے ساختہ ایرک فرام کے نظریات آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ جس طرح بندی خانے کے جغرافیائی حدود بتانے پر خالد سعید صاحب ایرک فرام کے ممنون ہیں اسی طرح بندی خانے کے جغرافیہ دان کا پتہ بتانے پر ہم خالد سعید صاحب کے شکرگزار ہیں۔

اختر علی سید
اختر علی سید
اپ معروف سائکالوجسٹ اور دانشور ہیں۔ آج کل آئر لینڈ میں مقیم اور معروف ماہرِ نفسیات ہیں ۔آپ ذہنو ں کی مسیحائی مسکان، کلام اور قلم سے کرتے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *