• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • لاہور میں کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے والے میڈیکل اور پیرا میڈیکل سٹاف کی زبوں حالی۔۔ غیور شاہ ترمذی

لاہور میں کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے والے میڈیکل اور پیرا میڈیکل سٹاف کی زبوں حالی۔۔ غیور شاہ ترمذی

دنیا بھر میں کورونا وائرس کا سارا بوجھ اکیلے صحت عامہ کے کارکن اٹھا رہے ہیں جنہیں ہماری حکومتوں اور اداروں نے واقعی تنہا چھوڑ رکھا ہے۔ پاکستان میں صورتحال دنیا بھر سے الگ نہیں ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ انسانی تاریخ کے اس بڑے المیہ کے دوران ہمارے یہاں کے کاروباری طبقات اور انسانیت کو کچل کر منافع کمانے والوں کی چاندی ہو چکی ہے۔ پاکستان میں قائم نجی شعبہ کی تمام میڈیکل یونیورسٹیز میں طلبہ و طالبات سے پورے سال کی فیس ایڈوانس میں وصول کر لی جاتی ہے جو ہزاروں میں نہیں بلکہ لاکھوں میں ہوتی ہے۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں حکومت نے ان تمام نجی میڈیکل یونیورسٹیوں کو پابند کیا ہے کہ وہ اپنے یہاں کورونا وائرس مریضوں کے علاج کے لئے آئیسولیشن وارڈ بنائیں گے۔ اس آئیسولیشن وارڈ کے لئے تمام ہسپتال وینٹی لیٹرز، میڈیکل اور پیرا میڈیکل سٹاف کے لئے حفاظتی کٹس، ادویات وغیرہ کی خریداری کر رہے ہیں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ان تمام اخراجات کو یہ نجی میڈیکل یونیورسٹیز اپنے ذاتی اخراجات سے پورا کرتیں مگر ہوا یہ ہے کہ ان میں سے کئی ایک نے ان اخراجات کو پورا کرنے کے لئے میڈیکل سٹاف اور پیرا میڈیکل سٹاف کی تنخواہوں میں کٹوتی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

Lahore Medical & dental College University Roaster
Personal Protection Equipment Kit (PPE Kit)
تھری پلائی ماسک
سنگل پلائی ماسک
N 95 Mask for Medical & paramedical staff

پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں معروف ترین نجی یونیورسٹیز راشد لطیف میڈیکل کالج، عذرا ناہید میڈیکل کالج، ریڈ کریسنٹ میڈیکل & ڈینٹل کالج لاہور، اختر سعید میڈیکل & ڈینٹل کالج لاہور اور لاہور میڈیکل & ڈینٹل کالج یونیورسٹی سمیت دوسرے اداروں میں کورونا وائرس سے لڑنے والے میڈیکل اور پیرا میڈیکل سٹاف کو مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ میڈیکل پریکٹیشنرز کے قوانین کے برعکس غیر معیاری حفاظتی کٹس استعمال کریں۔ حتیٰ کہ ڈسپوزیبل کٹس کو استعمال کر کے پھینک دینے کی بجائے انہیں مسلسل 3 دن تک پہنے رکھیں۔ بین الاقوامی اصولوں کے مطابق میڈیکل اور پیرا میڈیکل سٹاف کے لئے لازمی ہے کہ کورونا وائرس کی ٹریٹمنٹ کے دوران وہ N-95 طرز کے ماسک استعمال کریں مگر لاہور کی نجی میڈیکل یونیورسٹیز میں میڈیکل اور پیرا میڈیکل سٹاف کو عام حالات میں استعمال ہونے والا سنگل layer سرجیکل ماسک استعمال کرنے کے لئے مجبور کیا جا رہا ہے۔ اس طرح کے ماسک ہرگز بھی میڈیکل اور پیرا میڈیکل سٹاف کے لئے موزوں نہیں ہیں بلکہ سچ یہ ہے کہ عام آدمی کے لئے بھی یہ ماسک اس موذی کورونا وائرس میں ہرگز موزوں نہیں ہیں۔ انہیں بھی کم از کم 3 پلائی ڈسپوزیبل ماسک استعمال کرنے چاہئیں۔ لاہور میڈیکل کالج یونیورسٹی بھی اُن یونیورسٹیز میں شامل ہے جن کو حکومت نے میڈیکل اور پیرا میڈیکل سٹاف کے استعمال کے لئے N-95 طرز کے ماسک بالکل مفت مہیا کئے مگر یہ ماسک میڈیکل اور پیرا میڈیکل سٹاف کو دینے کی بجائے ایڈمنسٹریشن اور اُن کے چہیتوں میں تقسیم کر دئیے گئے ہیں۔ صورتحال اس قدر تشویش ناک ہے کہ لاہور میڈیکل & ڈینٹل کالج یونیورسٹی اور دوسرے ہسپتالوں کے میڈیکل سٹاف نے چندہ جمع کر کے اپنے لئے کچھ حفاظتی کٹس (kits) کا خود بندوبست کیا ہے۔ان ہسپتالوں میں سے کئی ایک کی انتظامیہ نے کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے دنوں میں ہی بیس سے پچیس افراد کو فارغ کیا گیا ہے، جنہیں یہ بہانہ کرکے گھر بٹھا دیاگیا کہ کورونا کے خطرے کے باعث گھر بیٹھو جب ضرورت ہوگی بلالیں گے۔ متاثرہ ملازمین کا کہنا ہے کہ ایسا ہونا نہیں ہے۔فارغ کئے گئے افراد میں ایڈمنسٹریشن کے شعبے سے لے کر میڈیکل، پیرا میڈیکل اور دیگر شعبوں کے ملازمین بھی شامل ہیں۔لاہور میڈیکل کالج کی تاریخ میں پہلی دفعہ ملازمین کی سیلیری لیٹ ہوئی ہے اور انتظامیہ کی طرف سے ملازمین سے کہا جا رہا ہے کہ وہ لکھ کر دیں کہ انتظامیہ 3 مہینوں تک اُن کی تنخواہوں میں کٹوتی کرنے کی مجاز ہے۔ سب سے خطرناک امر یہ ہے کہ لاہور میڈیکل کالج یونیورسٹی کی انتطامیہ نے ایمرجنسی وارڈ کے جونئیر میڈیکل سٹاف کو پابند کیا ہے کہ وہ کورونا وائرس آئیسولیشن وارڈ میں بھی ڈبل ڈیوٹی دیں گے۔ اس کالم کے ساتھ منسلک روسٹر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ 8 اپریل سے 28 اپریل تک کے 21 دنوں میں تمام داکٹرز 24 گھنٹوں میں 16 گھنٹوں کی ڈیوٹی ادا کریں گے۔

کورونا وائرس کے آغاز سے ہی ہماری حکومت کو اس سے نمٹنے کے لئے مناسب حکمت عملی بنا لینی چاہیے تھی مگر وہ آج تک بھی اس میں بری طرح ناکام ہی ہیں۔ پوری ذمہ داری اور گارنٹی سے کوئی نہیں بتا سکتا کہ پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریض اصل میں کتنے ہیں؟۔ کیونکہ ہمارے پاس کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کو ٹیسٹ کرنے کی سہولتیں ہی مہیا نہیں ہیں۔ یہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ جیسے ترقی یافتہ اور سپر پاور ملک کے پاس بھی کورونا وائرس کے تمام مشتبہ مریضوں کو ٹیسٹ کرنے کے لئے ٹیسٹ کٹس موجود نہیں ہیں۔ ہماری حکومت اور نجی ہسپتالوں کے مالکان اور انتظامیہ کو سمجھنا ہو گا کہ کورونا وائرس سے لڑنے کے لئے سب سے ضروری ہے کہ ہم اپنے میڈیکل اور پیرا میڈیکل سٹاف کو محفوظ کریں۔ جب سے کورونا وائرس کی شروعات ہوئی ہے، تب سے ڈاکٹرز اور طبی عملہ مسلسل حکومت کو خبردار کر رہا ہے کہ اس وباء سے نمٹنے کے لئے انہیں پرسنل پروٹیکشن ایکویپمنٹ (Personal Protection Equipment) فراہم کئے جائیں۔ مگر ہماری صورتحال یہ ہے کہ جیسے جیسے کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ویسے ویسے ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکس سمیت سرکاری ہسپتالوں میں کام کرنے والے ملازمین کی بے چینی اور اضطراب میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کی بنیادی وجہ حکومت اور بیوروکریسی کی بے حسی اور نا اہلی ہے۔ حکومت تاحال کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے والے ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرامیڈیکس کو حفاظتی سامان فراہم کرنے میں ناکام ہے جس کی وجہ سے مریضوں کے ساتھ ساتھ ان سب کا کورونا سے متاثر ہونے کا شدید خطرہ موجود ہے۔

اپنے ارباب اختیار کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ مؤرخہ 5 اپریل بروز اتوار کی دوپہر ایک بجے تک دنیا بھر میں 12 لاکھ سے زیادہ لوگ کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جن میں سے 65 ہزار کے لگ بھگ لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ اس تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ ابھی تک ان ممالک کا ڈیٹا آنا اس میں باقی ہے جن میں ابتدائی حملے کے تقرییاً دو ہفتوں بعد یہ موذی وائرس اچانک بہت سے لوگوں میں بیک وقت ظاہر ہو جاتا ہے۔ انسانی جسم میں خفیہ طور پر رہتے ہوئے جب یہ ظاہر ہوتا ہے تو اس کے شکار کئی مریضوں کی حالت اچانک اس قدر بگڑ چکی ہوتی ہے کہ انہیں فورا‘ً وینٹی لیٹر پر منتقل کرنا پڑتا ہے۔ امریکہ جیسے ترقی یافتہ اور سپر پاور ملک میں بھی جب وینٹی لیٹرز کی شدید کمی ہے تو اندازہ لگا لیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ بین القوامی اداروں کی رپورٹس کے مطابق آج کی تاریخ تک پاکستان میں کورونا سے متاثر مریضوں کی تعداد 3 ہزار کے لگ بھگ اور اس کے نتیجہ میں مرنے والے مریضوں کی تعداد 45 ہے جبکہ 18 مریض ایسے ہیں جن کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے۔ یاد رہے کہ اب تک کورونا وائرس کے جان لیوا حملہ کا پہلا فیز مکمل نہیں ہوا۔ صحت عامہ کے کارکنان توقع کر رہے ہیں کہ یہ فیز اس آنے والے ہفتے اور اُس سے اگلے ہفتے تک مکمل ہو گا اور پھر پتہ چلے کا کہ پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثر مریضوں کی اصلی تعداد کتنی ہے؟۔ وفاقی وزیر سائینس فواد چوہدری نے کہا ہے کہ چونکہ چین سے ملنے والی ٹیسٹنگ کٹس غیر معیاری ثابت ہوئیں اس لئے وہ مقامی طور پر ان ٹیسٹنگ کٹس کو تیار کروا رہے ہیں۔ مقامی صنعتی اداروں سے تیار شدہ ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ ٹیسٹنگ کٹس بھی 15 اپریل یعنی اب سے 10 دنوں تک ہسپتالوں کو مہیا کی جائیں گی جس کے بعد ہی اصلی ٹیسٹ ہوں گے اور مریضوں کی اصلی تعداد پتہ چل سکے گی۔

بدقسمتی سے اب تک ہسپتالوں کی نجکاری کرنے میں پیش پیش وزیر اعظم عمران خاں کے فرسٹ کزن نوشیروان برکی اور شوکت خانم ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر فیصل سلطان جیسے افراد اس بحران میں غائب ہیں۔ چین سے ملنے والے تمام وینٹی لیٹرز پنجاب میں کسی ہسپتال کو اب تک فراہم نہیں کئے گئے بلکہ یہ سب شوکت خانم ہسپتال پہنچا دئیے گئے ہیں۔ الزام لگ رہا ہے کہ جیسے ہی کورونا وائرس کی وبا کا خاتمہ ہوا تو یہ تمام وینٹی لیٹرز شوکت خانم کی ملکیت بن جائیں گے جبکہ دوسرے تمام ادارے اس سے محروم رہ جائیں گے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس نازک مرحلہ میں بلا تاخیر پورے پاکستان میں سرکاری اور نجی ہسپتالوں کے تمام ہیلتھ ملازمین کو حفاظتی سامان فراہم کرے تاکہ وہ پوری توجہ اور ذمہ داری کے ساتھ مریضوں کا علاج کرسکیں۔ شوکت خانم ہسپتال میں پہنچائے گئے تمام وینٹی لیٹرز دوسرے ہسپتالوں کو بھی فراہم کئے جائیں۔ عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کے مطابق بڑے ہوٹلوں، خالی پڑے عالیشان بنگلوں، ہاسٹلوں اور دیگر جگہوں کو ریاستی تحویل میں لیتے ہوئے قرنطینہ مراکز بنائے جائیں۔ عملے کی کمی پوری کرنے کے لیے فوری نئے ڈاکٹر، نرسیں اور پیرامیڈیکس بھرتی کئے جائیں۔ کورونا وائرس سے متاثرہ مشکوک مریضوں کی فوری طور پر بڑے پیمانے پر مفت ٹیسٹنگ شروع کی جائے اور اس استعداد کار کو کم ازکم 20ہزار ٹیسٹ فی دن تک بڑھایا جائے۔ استعداد کار بڑھانے کے لئے نجی ہسپتالوں اور لیبارٹریوں کو پابند کیا جائے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر کتنے مریضوں کے مفت ٹیسٹ انجام دیں گے؟۔

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر ا ڈاکٹر سلمان نے اس صورتحال کو انتہائی تشویش ناک قرار دیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں میں میڈیکل اور پیرا میڈیکل سٹاف کئی کئی گھنٹوں تک مریضوں کا چیک اپ کر رہے ہیں۔ اس وباء کے دوران تمام میڈیکل اور پیرا میڈیکل سٹاف اپنے فرائض کے مقررہ اوقات سے کہیں زیادہ دیر تک مریضوں کا معائنہ کرتے ہیں اور تھکاوٹ سے نڈھال ہونے کے باوجود کام جاری رکھتے ہیں۔ اس شدید ایمرجنسی کے دوران اگر میڈیکل اور پیرا میڈیکل سٹاف کو بین الاقوامی معیار کے مطابق پرسنل پروٹیکشن ایکویپمنٹ (Personal Protection Equipment) مہیا نہیں کئے جائیں گے تو وہ اپنی ڈیوٹی کیسے انجام دیں گے؟۔ لاہور کے کئی نجی ہسپتالوں میں میڈیکل اور پیرا میڈیکل سٹاف کی  تنخواہیں روکے جانے اور اُن کی تنخواہوں میں زبردستی کتوتی کرنے کے فیصلوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے کورونا وائرس سے جنگ کرنے والے صف اول کے سپاہیوں میں شدید بے چینی پھیل رہی ہے۔ انہوں نے حکومت کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ کورونا جیسی خوفناک بیماری کا سامنا اگر کوئی لوگ کر رہے ہیں تو وہ یہی طبی عملہ ہے اور یہ ہی ہماری فرسٹ لائن آف ڈیفنس ہیں۔ ان کو بھی اس نہ سمجھ آنے والی کورونا کی عالمی وبا سے اتنا ہی خطرہ ہے جتنا عام لوگوں کو۔ لیکن وہ سب خطرات بھول کر اگلی صف میں کھڑے اس لئے لڑ رہے ہیں کہ عوام صحت یاب رہیں۔ یہ بہت تشویش ناک بات ہے کہ نیا سٹاف بھرتی کرنے کی بجائے نجی میڈیکل کالج اور ہسپتال اپنے میڈیکل اور پیرا میڈیکل سٹاف کو اُن کی استعداد سے کئی گنا زیادہ کام لینے کے لئے مجبور کر رہے ہیں۔ بین الاقوامی قوانین کے مطابق اس طرح کی سخت ڈیوٹی سے پرفارمنس سخت متاثر ہوتی ہے جو کورونا وائرس کے مرض سے نمٹنے میں بذات خود ایک نئی اور بڑی مشکل ثابت ہو گی۔

اختتام کے طور پر عرض یہ ہے کہ جان لیوا کورونا وائرس سے جنگ کرنے کے دوران دنیا بھر میں میڈیکل اور پیرا میڈیکل سٹاف کے سینکڑوں لوگ اس موذی وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں اور کئی ایک تو اِس سے لڑتے لڑتے جان بھی دے چکے ہیں۔ چین میں تو وہ ڈاکٹر بھی ہلاک ہو گیا جس نے سب سے پہلے اس منحوس وائرس کے متعلق بتایا تھا۔ پوری دنیا میں، بشمول پاکستان میں طبی عملہ دن رات مریضوں کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔ اُن مریضوں کی دیکھ بھال جن سے انھیں خطرہ بھی ہے کہ وہ ڈاکٹر اسامہ اور برطانیہ میں خدمات سر انجام دینے والی پاکستانی نرس اریما نسرین کی طرح اُن کی بھی موت کی وجہ بن سکتے ہیں۔ جان سے گزر جانے والی قربانیوں کے بدلہ میں اگر لاہور میڈیکل & ڈینٹل کالج یونیورسٹی کی طرح ہمارے نجی ہسپتال اپنے میڈیکل اور پیرا میڈیکل سٹاف کی تنخواہوں میں کٹوتی کریں، اُن کو بین الاقوامی معیار کے مطابق پرسنل پروٹیکشن ایکویپمنٹ (Personal Protection Equipment) مہیا نہ کریں یا اُن سے اُن کی استعداد کار سے کئی گنا زیادہ ڈیوٹی لیں تو یہ اُن کا حوصلہ توڑنے کے مترادف ہو گا اور اُن کی قربانیوں پر طمانچہ لگانے کے مترادف ہو گا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *