• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • شہید ہیموں کالانی: سندھو کا بھگت سنگھ ( ایک تحقیق) ۔۔۔مشتاق علی شان

شہید ہیموں کالانی: سندھو کا بھگت سنگھ ( ایک تحقیق) ۔۔۔مشتاق علی شان

یہ 21جنوری 1943 کی صبح تھی جب سکھر سینٹرل جیل کا پھانسی گھاٹ ” انقلاب زندہ باد “اور ”گورو! ہندوستان چھوڑ دو “ کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھا اور پھر کچھ دیر بعد ایک، انیس، بیس سالہ جوان رعنا ان نعروں کی گونج میں پھانسی پھندا چوم کر سندھ اور ہند کی تاریخ میں امر ہو گیا۔یہ ہیموں کالانی تھا ،سندھ کا نوجوان انقلابی سپوت۔وہی ہیموں کالانی جو لڑکپن میں ہی پنجاب کے جواں مرگ بانکے انقلابی بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں سے متاثر ہوا۔وہ اکثر بھگت سنگھ کی یاد میں کہاگیا گیت ” پھانسی پھندا جھول گیا مستانہ بھگت سنگھ “ گنگنایا کرتا تھا اور آج بھگت سنگھ کی طرح سندھو کا یہ بانکا انقلابی بیٹا بھی بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں کی منتخب کردہ راہوں سے ہوتا ہوا ،برطانوی سامراج کے کانوں میں انقلابی دھماکوں کی گونج چھوڑتا ہوا مستانہ وار پھانسی پھندا جھول گیا۔لیکن ظلم واستبداد کی یہ داستان برطانوی سامراج کی رخصتی کے ساتھ ہی ختم نہیں ہو گئی۔شہید کرتار سنگھ سرابھا ، شہیدادھم سنگھ ،غدر پارٹی کے بے شمار انقلابی شہیدوں، اشفاق اللہ خاں ، رام پرساد بسمل،چندر شیکھر آزاد،بھگت سنگھ ، راج گرو ، سکھ دیو ، سبھاش چندر بوس ،کامریڈ میر داد ، شہیدصبغت اللہ شاہ پگاڑا (سورھیہ بادشاہ )،ہری کرشن ، عبدالرشید ، خان چند اور بے شمار انقلابی شہیدوں کی انقلابی آتماؤں کے بین میں برطانوی سامراج جاتے جاتے ایسی لکیریں چھوڑ گیا جس کے دونوں اطراف لاکھوں بے گناہ انسانوں کے خون سے دین ودھرم کے نام پر رنگین ہوئے۔اتنا ہی نہیں بلکہ اس خونی تقسیم کے جلو میں بھگت سنگھ ، ہیموں کالانی،ہری کرشن اورکامریڈ میر داد کا وطن برطانوی سامراج کے بعد امریکی شہنشائیت کی جدید نوآبادی میں تبدیل ہو گیا۔سرحد کے دونوں طرف اس خواب، اس آدرش کو خون نہلا دیا گیا جس کی راہ تکتے تکتے ہمارے دھرتی زادے انقلاب زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے زینتِ دار بنے۔کالا پانی،پھانسی گھاٹ اور توپ دم کرنااگر انگلشیہ سرکار کا آزمودہ نسخہ تھا جسے محکوم ومظلوم ہندوسندھ کے انقلابی سپوتوں کے خلاف آزمایا گیا تو اس کے جانشینوں نے ان انقلابی شہدا ءکی یاد کو دھرتی کے باشندوں کے اذہان سے محو کرنے ، ان کی یاد کے ہر نقش مٹانے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔انگریز قبضہ گیروں نے اگر انقلابیوں کو توپ دم کرنے،پھانسی گھاٹ اور کالا پانی روانہ کرنے کی روش اپنائی تھی تو ان کے تربیت یافتہ غلاموں نے تختِ اقتدار پر متمکن ہوتے ہی لائل پور کے بھگت سنگھ ، سکھر کے ہیموں کالانی اور غلہ ڈھیر( مردان )کے ہری کرشن جیسے شہیدوں کی یاد کو سولی پر لٹکا دیا ، ان کی یادگاریں تو خیر کیا قائم ہوتیں ، ان کی جانبازی اور سرفروشی ، ان کی بیش بہا قربانیاں نئی نسل کے نصاب کا حصہ کیا بنتی ، الٹا ان ناموں کو ہی دیس نکالا ملا۔ان کی یادوں کو تاریخ کے کالے پانی کی نذر کرنے کی شعوری کوششیں آج بھی جاری ہیں جس کی تازہ مثال سندھ اسمبلی کی پاس کردہ وہ قرار داد ہے جس میں ہندو ،مسلم اتحاد کے داعی ،وطن پرست شہیدصبغت اللہ شاہ پگاڑاکی سامراج مخالف جدوجہد اور کر دار کو یہ کہہ کر مسخ کرنے کی کوشش کی گئی ”یہ اسمبلی شہیدِ اسلام پیر صبغت اللہ شاہ کو سلام پیش کرتی ہے جنھوں نے اپنی زندگی مسلمانوں کی آزادی کے لیے قربان کی۔“جی ہاں یہ اس سورھیہ بادشاہ کو محض ایک ”مردِ مجاہد“ اور” شہیدِ اسلام“بنانے کی بھونڈی کوشش ہے جس کی سامراج مخالف مسلح جدوجہد کا نعرہ ہی ”وطن یا کفن“ اور ”آزادی یا موت“ تھا۔جس نے ہندو مسلم اتحاد کے لیے، سندھ میں بسنے والے ہندو باشندوں کے مذہبی اعتقادات کے احترام کے لیےاپنے زیر اثر علاقوں میں گائے ذبح کرنے تک پر پابندی عائد کر دی تھی۔تصوف کی بشر دوست اور انقلابی روایات کا وہ نمائندہ جو برسرِ عام کہتا تھا کہ ” میں تب ہی خوش ہوں گا جب مسجد اور مندر کی بیچ والی دیوار ایک ہو۔ہر کوئی اپنی اپنی بندگی میں مشغول ہو۔ اچھا تب ہوگا جب وحدت کی روح کو سمجھاجائے گا۔“(1)
ایک طرف وہ ہندو،سکھ یا دیگر گھرانوں میں پیدا ہونے والے انقلابی ہیں جن کا نام ہی حرفِ غلط کی طرح مٹانے کے مذموم ہتھکنڈےاپنائےگئے تو دوسری جانب سورھیہ بادشاہ جیسی شخصیات کو اس روپ میں پیش کرنے کی کوششیں ہیں جو تاریخ سے سنگین مذاق ہے۔بہرکیف ستر سال سے زیادہ عرصے سے جاری اس کھیل کے باوجودمحنت کار عوام نے ، خطے کی مظلوم اقوام نے دار ورسن کی آزمائشوں میں سرخ رو ہونے والے انقلابیوں کی یادوں کو سینہ بہ سینہ زندہ رکھا۔
بلاشبہ شہید ہیموں کالانی ایک ایسا ہی نام ہے جس کی یاد ، جس کے بلیدان کو سندھی عوام نے ،یہاں کے صاحبانِ فکر ونظر نے زندہ وتابندہ رکھا اورمذہب کے نام پر جبری ہجرت کے دوش پر سوار کیے گئے سندھ کے فرزندوں (جن میں ہیموں کالانی کا خاندان بھی شامل تھا) نے ہند میں بھی اس کی یادوں کے چراغ بجھنے نہ دیے۔ آج اس کا یومِ شہادت سندھ وہند میں منایا جاتا ہے۔بلاشبہ یہ سند ھ کے شعرا ،ادبااور دانشور ہی تھے جنھوں نے اپنی تحریروں،عوامی تخلیقات میں اسے زندہ رکھا۔سندھ میں پہلی بار شیخ ایاز نے اپنی ایک نظم میں اسے یوں یاد کیا:
سترلاکھ سپوتو! ہوشو ، ہیموں بن جاو !
ہر اک گویا ، دودو ، دولا دریا خان
سندھو دیش مہان
سندھ کے مختلف شہروں ،گوٹھوں میں سندھی عوام نے اسے اپنا ہیرو بناتے ہوئے اپنے طور پر اس وطن پرست انقلابی شہید کی یاد میں کئی ایک چوراہوں اور مقامات کو اس کے نام سے موسوم کیا ہے ہاں البتہ سرکار کی جانب سے شہید ہیموں کالانی کے شہر سکھر میں انگریز قبضہ گیروں کا قائم کردہ ”لیوکس پارک“ اس کے نام سے نہیں بلکہ ایک بیرونی عرب حملہ آور محمد بن قاسم کے نام سے موسوم ہے۔ جہاں بیرونی تجاوزکاروں کے خلاف اپنے وطن کا دفاع کرتے ہوئے جان کا نذرانہ دینے والا راجہ داہر ”تاریخ“ کی سڑاند سے بھری کتابوں میں ولن اور یہاں کے وسائل لوٹنے والا،یہاں کے نہتے اور پرامن باشندوں کا قتال کرنے والا،عزتوں کے نیلام گھر سجانے والا ڈاکو محمد بن قاسم ہیرو ٹھہرے وہاں حکمران طبقات سے یہ شکوہ کرنا ہی عبث وبیکار ٹھہرتا ہے کہ ان کے سرپرستوں کے ہاتھوں شہید کیے جانے والے انقلابیوں کے نقوش زندہ رکھے جائیں۔
ہیموں کالانی کی پھانسی کے پانچویں روز26جنوری 1943کو جواہر لعل نہرو نے لکھا تھا کہ ”میرا ذہن سندھ چلا گیا جہاں چند روز قبل ایک 20 سالہ نوجوان ہیموں کو ریلوے کی پٹڑیاں اکھاڑنے یا اس کی کوشش کرنے کی پاداش میں مارشل لاءکورٹ نے موت کی سزا سنائی۔ مجھے اس امرنے ششدر کردیا ۔اس کی پھانسی کے یہاں بھارت ، خصوصاََ نوجوانوں پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے ۔ہیموں کالانی اور دیگر کے خون کی گواہی تادیر قائم رہے گی۔“(2)صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ہیموں کالانی کی پھانسی کے دو سال بعد 1945میں جب نہرو کراچی آئے تو اس کی والدہ سے ملنے خصوصی طور پر سکھر گئے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ہیموں کالانی کے خون کی گواہی برصغیر کی تقسیم کے بعد نہرو کو بھی یاد نہ رہی اورہندوستان میں بھی طویل عرصے تک ہیموں کالانی کو نظر انداز کیا گیا۔تقسیم کے بعد سندھ سے ہجرت پر مجبور کیے جانے والے سندھ کے چوٹی کے مارکسی دانشور ،بائیں بازو کے سیاسی مساعی پسند اور سندھ میں ترقی پسند تحریک کے اولین بنیاد گزاروں میں سے ایک اے،جی اتم نے ہندوستان میں ہیموں کالانی کی یاد کو زندہ رکھنے کی کوششوں کا تذکرہ کرتے ہوئے اس زمانے کے ہندوستان میں بیٹھ کر تلخی سے لکھا کہ ”ہمارے سندھ اور ہند کے حاکموں نے گویا ہیموں کالانی کو بھلا دیا ہے۔“(3)
بہرحال مدتوں کی کوششوں کے بعد ہیموں کالانی کو ہندوستان میں قومی ہیرو کا درجہ حاصل ہوا۔ اندرا گاندھی نے ہیموں کالانی کی والدہ جیتی بائی سے ملاقات کی ، انھیں طلائی تمغہ دیا گیا اور جس طرح بھگت سنگھ کی والدہ کو ”پنجاب ماتا“ کا خطاب دیا گیا تھا اسی طرح ہیموں کالانی کی والدہ کو ”سندھو ماتا “ کا خطاب دیا گیا جبکہ 1983 میں ہیموں کالانی یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا گیا۔ 1980کی دہائی میں ہند سرکار نے بمبئی کے علاقے ”چمبر“ میں ”امر شہید ہیموں کالانی میموریل بلڈنگ “ کے لیے اراضی فراہم کی۔ آج اس چھ منزلہ عمارت میں”ہیموں کالانی جونیئر کالج“ کے علاوہ ایک ٹیکنالوجی اور مینجمنٹ کالج قائم ہے۔اسی عمارت میں ہیموں کالانی کے دو بھائیوں اور ایک بہن کی اولاد بھی مقیم ہے۔(4)بمبئی ،احمد آباد، اجمیر ، اندور، جودھپور، کانپور اور دہلی سمیت ہندوستان کے کئی ایک شہروں میں آزادی کے اس متوالے کے تیس کے قریب مجسمے بنائے گئے جن میں سے ایک دس فٹ کا مجسمہ 21اگست2003کو بھارتی پارلیمنٹ کمپلیکس میں ڈپٹی اسپیکر کے چیمبرکے سامنے تعمیر کیا گیا۔بمبئی کی ایک مشہور شاہراہ ” ہیموں مارگ“ سمیت مختلف شہروں میں کئی ایک چوک ،شاہراہیں،پارک، اسکول اور عوامی مقامات اس کے نام سے موسوم ہیں۔بہرحال سندھ حکومت کی وزراتِ ثقافت وسیاحت کو کہیں 2009میں جاکر حیدر آباد میوزیم میں ہیموں کالانی کی تصویر قومی ہیروز کی قطار میں رکھنے کا خیال آیا۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ ہیموں کالانی کے ہم وطنوں کی کوششوں سے آج اس کے نام ، اس کی جدوجہد اور قربانی سے خطے کی دیگر مظلوم اقوام اور کچلے ہوئے طبقات بھی جدوجہد کا الہام پا رہے ہیں۔گزشتہ دنوں ممتاز پشتون دانشور جناب رشید یوسفزئی کی ہیموں کالانی سے متعلق تحریر دیکھ کر ہمیں خوشگوار حیرت ہوئی۔وہ اپنی تحریر کا آغاز شہید ہیموں کالانی کے شایانِ شان ان الفاظ سے کرتے ہیں کہ ”یہ تصویر وجد آور تاثیر رکھتی ہے۔اسے دیکھتا ہوں اور بے ساختہ اسے چومتا ہوں۔پھر ٹکٹکی باندھ کر اسے دیکھتا ہوں۔پھر اس سے ہم کلامی شروع کرتا ہوں۔۔۔۔میں فلسفہ و منطق کا بندہ ہوں۔آئیڈیل اور آئیکون پر یقین نہیں رکھتا…. لیکن یہ لڑکا میرا آئیڈیل بھی ہے اور آئیکون بھی!۔البرٹ کامیونے کہا تھا “میں بغاوت کرتا ہوں اس لیے میں ہوں۔بغاوت کی روح نہ ہو تو انسانی وجود گند کا ڈھیر ہے۔بغاوت کی روح ہی انسانی وجود کو تقدس عطا کرتی ہے۔یہ تصویر مقدس بغاوت کی تصویر ہے۔یہ تصویر مجسم بغاوت ہے اور بغاوت ہر جگہ قابل پرستش ہے۔“(5)
کیا عجب اتفاق ہے کہ شہیدبھگت سنگھ کی راہوں کے راہی ہیموں کالانی کا جنم صدیوں سے مزاحمت اور عدم جارحیت کی حامل کئی ایک نابغہ روزگار مزاحمت کاروں اور سرفروش انقلابیوں کی سرزمین سندھ کے شہر سکھر میں بھگت سنگھ کی پھانسی سے ٹھیک آٹھ سال قبل 23مارچ1923کو ہوا۔ہندوستان بھر کو جھنجھوڑ دینے والی بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں کی شہادت کا دن اس کا آٹھواں جنم دن تھا۔اس اتفاق میں بھی استحصالی ،جابر قوتوں کے لیے پیغام ہے کہ عین بھگت سنگھ کی شہادت کے روز ہیموں کالانی کا یومِ پیدائش تاریخ کا وہ جدلیاتی ربط پر مبنی ناگزیر سلسلہ ہے جو ایک انسان کے ہاتھوں دوسرے انسان کے استحصال اور ایک قوم کے دوسری اقوام کو غلام بنانے کی موت تک جاری و ساری رہے گا ،اس نظام کی موت تک دنیا بھر کے محنت کشوں ، مظلوموں اور محکوموں میں بھگت سنگھ اور ہیموں کالانی جیسے سورما جنم لیتے رہیں گے۔
ہیموں کالانی کون تھا ؟اس کی جدوجہد کا محور اور آدرش کیاتھا؟ اس پر کون سے الزامات وارد تھے ؟ اور وہ کون سے حالات تھے جن میں برطانوی سامراجیت اس کی موت سے کم پر راضی نہ تھی۔آئیے تاریخ کے اوراق میں اس جواں مرگ انقلابی کے نقوش ڈھونڈتے ہیں جنھیں یا تو دانستہ طور پر کھرچنے کی کوششیں کی گئیں یا پھر افسانہ طرازیوں نے اس کی جدوجہد اور آدرشوں کو دھندلا کر رکھ دیا۔پسومل کالانی کے گھر پیدا ہونے والے اس بچے کا نام رائے ہیمن رکھا گیا جسے اس کی والدہ کے لاڈ وپیار نے ہیموں میں تبدیل کر دیا۔اس نے ابتدائی تعلیم قدیم سکھر کے پرائمری اسکول میں حاصل کی اور بعد ازاں تلک میونسپل ہائی اسکول میں داخل ہو گیا۔یہ ستم ظریفی بھی ملاحظہ کیجیے کہ تقسیم کے بعد لوکمانیہ تلک مہاراج کے نام سے موسوم اس اسکول کا نام بدل کر گورنمنٹ ہائی اسکول رکھ دیا گیا۔شاید ہیموں کالانی کی طرح اس اسکول کا نام بھی حاکموں کے ”دو قومی نظریے“ سے میل نہیں کھاتا تھا۔ہیموں کالانی کے حوالے سے اکثر لکھاریوں نے اس کے چچا منگھا رام کالانی کے زیر اثر ”سوراج سینا منڈل“ نامی تنظیم کے پلیٹ فارم سے سامراج مخالف کارروائیوں کا ذکر کیا ہے۔مثال کے طور پر منصور قادر جونیجو لکھتے ہیں کہ ” ہیموں کالانی نے آزادی پسند انقلابی زندگی میں اپنے چچا منگھا رام کالانی کی قائم کردہ ”سوراج سینا منڈل“میں عملی طور پرایک متحرک وسرگرم کارکن کی حیثیت سے کام کیا جو انگریزوں کے خلاف جدوجہدِ آزادی میں عملی طور پر سرگرم تھی۔“(6)
اسی طرح تقسیم کے بعد سندھ سے ہندوستان چلے جانے والے ہیموں کالانی کے ایک ساتھی لچھمن داس کیسوانی نے اس کی شہادت کے کئی دھائیوں بعد سندھی زبان میں ” ہیموں کالانی اور اس کے چار ساتھی ،کُل سات وارداتیں“کے نام سے اپنی یاداشتیں قلم بند کیں جو اجمیر (راجستھان)سے شایع ہوئیں۔لچھمن داس کیسوانی کے بقول اول اول ہیموں کالانی ، لچھمن داس کیسوانی ،حشو سبانی، ہری لیلانی اور ٹیکم باٹیا نے از خود انگریزوں کے خلاف پہلی کارروائی سرانجام دی۔کیسوانی لکھتے ہیں کہ اتوار کے دن ہم نے ایک ترنگا جھنڈا لیا اور سکھر کے کلکٹر آفس پہنچ گئے۔اس وقت وہاں کوئی پہریدار نہیں تھا ،مجھے اپنے کاندھوں کے ذریعے ساتھیوں نے آفس کی چھت پر پہنچایا جہاں سے میں نے جھنڈا ( یونین جیک ، برطانوی پرچم) اتار کر ترنگا لہرا دیا۔اس وقت مجھ سے ہیموں نے ازرائے مذاق کہا کہ ”لچھمن جا چڑھ جا سولی ، رام بھلی کرے گا۔“۔۔۔اس کے بعد میں ساتھیوں کی مدد سے نیچے اترا اور پھر ہم سب وہاں سے رفو چکر ہو گئے۔یہ ہمارا پہلا انقلابی قدم تھا۔“(7)لچھمن داس کیسوانی کے بقول ہیموں نے اس کارروائی جس کے شہر میں چرچے تھے، کا ذکر اپنے چچا منگھا رام کالانی سے کیا اور بعد میں انھیں بھی اپنے چچا سے ملوایا۔یہ منگھا رام ہی تھا جس نے انھیں دوسری کارروائی کے لیے ایک بم فراہم کیا جس کے ذریعے سکھر ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع ایک پولیس چوکی کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس سے پولیس چوکی کی چھت اڑ گئی۔ تیسری کارروائی میں غریب آباد سکھر تھانے کی دو دیواروں کو بموں سے اڑایا گیا۔ان انقلابیوں کی چوتھی کارروائی پولیس تھانہ سکھر اور پانچویں کارروائی پولیس گھاٹ سکھر کو بموں کا نشانہ بنانا تھا۔یہ 1939کا واقعہ تھا۔ ان پے در پے دہشت ناک کارروائیوں میں اگرچہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا لیکن اس نے انگریز سامراج کی نیندیں ضرور حرام کر دیں۔پولیس اور CIDان کا کھوج لگانے میں مکمل طور پر ناکام رہی۔احتیاط کے طور پر ان نوجوانوں نے بھی اپنی سرگرمیاں کچھ عرصے کے لیے معطل کر دیں۔ 1940میں میٹرک کا امتحان دینے کے بعد انھوں نے سکھر کی عدالت میں بم رکھنے کا فیصلہ کیا اور اس پر عمل درآمد بھی کیا گیا لیکن تھیلے میں رکھا گیا بم ایک کلرک کی نظروں میں آ گیا جس کی پولیس کو اطلاع دی گئی اور یوں بم کو پھٹنے سے قبل ہی ناکارہ بنا دیا گیا۔
اپنی آخری کارروائی جس میں ہیموں کالانی گرفتار ہوئے اس حوالے سے کیسوانی لکھتے ہیں کہ ” 22اکتوبر1942کی صبح میں نے پرانے سکھر جا کر ہیموں ،ہری اور ٹیکم کو پکچر دیکھنے کے لیے کہا لیکن انھوں نے انکار کر دیا ،ہم ”پربات ٹاکیز“ فلم دیکھنے چلے گئے۔کچھ دیر بعد ہیموں کے چچا (منگھا رام کالانی) نے اسے بتایا کہ انگریز فوج کی ہتھیاروں سے بھری ایک ریل سکھر سے روہڑی ( جس کی منزل کوئٹہ تھی) جائے گی ،اسے گرانے کی کوشش کرو۔اس اطلاع پر ہیموں ،ہری اور ٹیکم فوری طور پر پربات ٹاکیز پہنچے۔انٹر ویل میں ہم باہر بیٹھے ہوئے تھے جب انھوں نے آکر ہمیں صورتحال سے آگاہ کیا۔میں نے ان سے کہا کہ جو وقت بتایا گیا ہے اس وقت اندھیرا ہو چکا ہو گا ،تم چاروں لینس ڈاؤن پل کے نیچے ذینوں پر بیٹھ کر انتظار کرو میں پٹریاں(پٹریاں جوڑنے والی fishplate) کھولنے کے لیے پانا لے کر تانگے پر آ جاؤں گا۔میں وہاں سے تانگہ لے کر معصوم شاہ کے مینار کے سامنے موجود دولت پلمبر کے پاس آیا جو وہاں اپنے اوزاروں کے ساتھ بیٹھا تھا ، میں نے اس سے کچھ دیر کے لیے پانا مانگا لیکن اس نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ میرے پاس کسی بھی وقت گاہک آ سکتا ہے اس لیے میں تمھیں پانا نہیں دے سکتا۔آخر منت سماجت کر کے میں نے اس سے پانا لیا اور پل کے پاس پہنچ گیا۔پل کے اوپر پہنچ کر پرانے سکھر دروازے سے ذرا پرے ہم نے بولٹ کھولنا شروع کیا۔پانا چھوٹا تھا س لیے وہ بار بار گھوم جاتا۔ہم پانچوں نے مل کر زور لگایا اور بمشکل نٹ کو گھما ہی سکے تھے کہ ایک ملٹری والے نے ٹارچ جلائی اور آواز دی ’کون ہے؟‘ اس کے ساتھ ہی وہ اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ ہماری جانب دوڑا ،میں ،ہری ، حشو اور ٹیکم ایک دم چھلانگ لگاکرریلوے لائن سے دور بھاگنے لگے۔ہم نے ہیموں سے بھی بھاگنے کا کہا لیکن معلوم نہیں وہ کیسے وہاں رہ گیا اور ان کی گرفت میں آ گیا۔“ (8)
ہیموں کالانی کی شہادت کے نصف صدی سے بھی زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد لکھی گئی لچھمن داس کیسوانی کی بیان کردہ اس روداد میں ہیموں کالانی کے نظریات اور تنظیمی معاملات سے متعلق کئی اہم پہلو مبہم اورتشنہ ہیں۔مثال کے طور پر کیسوانی کتاب کی ابتدا میں منگھا رام کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ اس نے پہلی بار ہمیں جو بم فراہم کیا تھا وہ معلوم نہیں اس نے کہاں سے حاصل کیا تھا ؟۔اس طرح اپنی کتاب میں وہ ان دیگر کارروائیوں کے متعلق ”سوراج سینا منڈل“ سمیت اس زمانے کی کسی خفیہ انقلابی تنظیم کے وجود کا سرے سے ذکرہی نہیں کرتے جس سے وہ منسلک تھے۔کتاب کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ کیسوانی خود کانگریس اور گاندھی جی کی اس زمانے میں کراچی کے ایک جلسے میں کی گئی تقریر سے متاثر ہوئے تھے لیکن ہیموں کالانی اور خود کیسوانی کا دیگر ساتھیوں سمیت جو متشدد انقلابی طریقہ کار تھا وہ گاندھی کے اہنسا واد سے کہیں میل نہیں کھاتا بلکہ یہ نیتا جی ( سبھاش چندر بوس) اور بھگت سنگھ اور ان کے انقلابی ساتھیوں کے طریقہ کار کا تسلسل تھاجن کا کیسوانی کہیں ذکر نہیں کرتے۔
مزید برآں ڈاکٹر عامر عباس سومرو نے اپنی کتاب ” ہند جے سندھین جی کتھا “(ہند کے سندھیوں کی کتھا)میں لکھا ہے کہ جب وہ ہندوستان میں ہیموں کالانی کے خاندان کے لوگوں سے ملے تو ہیموں کالانی کے بھائی ٹیک چند کالانی نے انھیں بتایا کہ ہیموں کالانی نے کبھی اپنے گھر والوں کو یہ محسوس ہونے نہیں دیا کہ وہ آزادی کی تحریک میں شامل ہے۔وہ چپکے چپکے آزادی کے لیے نکلنے والے جلسے جلسوں میں شرکت کرتا تھا۔جب اسے یہ خبر ملی کہ سکھر سے گزرنے والی ریل جو اسلحے سے بھری ہوئی ہے اوریہ اسلحہ آزادی کے متوالوں کے خلاف استعمال ہو گا تو اس نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اس ٹرین کی پٹریاں اکھاڑنے کا فیصلہ کیا۔ (9)
البتہ ہیموں کالانی کے انقلابی آدرشوں اور اس کی تنظیمی وابستگی کے حوالے سے اسی کے شہر سے تعلق رکھنے والے اور اسی کے اسکول میں تعلیم حاصل کرنے والے سندھ کے ممتاز ترقی پسند شاعر، ادیب ،محقق ونقاد اور بائیں بازو کے سیاسی رہنما کامریڈ رشید بھٹی کئی ایک گوشوں کو عیاں کرتے ہیں جس سے سندھ کے اس عظیم انقلابی شہید کی تصویر واضح ہوتی ہے۔17جنوری 1986کوہیموں کالانی کی برسی کی مناسبت سے ڈسٹرکٹ کونسل ہال سکھر میں کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے فرنٹ ” ساتھی بارڑا سنگت“ کے زیر اہتمام ایک تقریب میں کی گئی صدارتی تقریب کے Transcroptمیں جو ”ہیموں اک حقیقت ،اک سچائی“کے نام سے شایع ہوا میں کہتے ہیں کہ ”سندھ کے انقلابی قافلے کو جلا بخشنے والے شہدا ءکی طرح ہیموں کو بھی ہمارے یہاں گم نامی کے غلاف میں لپیٹ دیا گیا ہے۔اس کے کارناموں ،گرفتاری اور مقدمے کے حوالے سے مختلف باتیں اور قصے بیان کیے جاتے ہیں جو سب گمراہ کن ہیں۔1983میں جب میں ہندوستان گیا تو وہاں ان قومی کارکنوں اور کامریڈوں سے ملنے اور بات چیت کا موقع ملا جن کا ہیموں کالانی اور اس کے واقعے سے گہرا تعلق تھا۔پرجو ودیارتی اور عینشی ودیارتی ہیموں کے ذہنی، فکری رہبر ورہنما تھے۔یہاں ہیموں اور اس کی بہادری کا سبب بننے والے واقعے کے متعلق سب نے انہی تحریروں اور باتوں کو دہرایا ہے جو بورژوا اور جاگیردار سیاست دانوں اور ان کے حواری لکھاریوں کی معرفت پہنچی ہیں۔۔۔۔۔حقیقت کیا ہے ؟ یہ میں آج آپ کو بتاتا ہوں۔یہ حقیقت کچھ تو میں نے بچپن میں سنی تھی جس کی زیادہ تر تصدیق ہندوستان میں ہیموں کے رفقا اور ساتھیوں نے کی تھی۔وہاں ہیموں اور سندھ کے دیگر آزادی کے سورماؤں پر کافی کام ہمارے ترقی پسند سندھی ادیب ، سیاست دان اور دانشور کر رہے ہیں۔“(10)کامریڈ رشید بھٹی اسی تلک میونسپل ہائی اسکول کا طالب علم تھاجہاں ہیموں کالانی آخری سال (میٹرک) کا طالب علم تھا۔رشید بھٹی اس اسکول کے وطن پرست اور سامراج مخالف اساتذہ خصوصاََ پرسرام مسند کا ذکر کرتے ہیں جو ایک استاد ہونے کے ساتھ ساتھ ” سندر شیوک سبھا“ نامی سماجی تنظیم کے بانی جنرل سیکریٹری اور سکھر شہر کی تاریخ اور سماجی،ثقافتی و معاشی زندگی پر مشتمل پہلی بنیادی کتاب ”سکھر سونھارو“ کے مصنف بھی تھے۔گو پرسرام مسند کانگریس سے وابستہ تھے لیکن وہ نیتا جی سبھاش چندر بوس کے زبردست حامی ومداح تھے۔اسی پرسرام مسند کے ہاں رشید بھٹی نے پہلی بار ہیموں کالانی کو دیکھا تھا جو انھیں نیتا جی کی ایک تقریر ( گرامو فون ریکارڈ) کے ہاتھ لگنے کی خبر دینے آیا تھا۔یہ پرسرام مسند ہی تھے جنھوں نے ان نوجوانوں کی ابتدائی ذہنی پرداخت ورحجانات پر گہرا اثر ڈالا۔
جن دنوں ہیموں کالانی نے اپنی خفیہ انقلابی سرگرمیوں کا آغاز کیا تھا وہ برصغیر میں زبردست سیاسی جدوجہد کا دور تھا۔ایک جانب گاندھی اور کانگریس کی عدم تشدد پر مبنی مصلحت پسندانہ طرزِ سیاست کے جلو میں Quit India ( ہندوستان چھوڑ دو)تحریک چل رہی تھی تو دوسری جانب برطانوی سامراج کے خلاف نیتا جی سبھاش چندر بوس مسلح جدوجہد کی راہ پر گامزن تھے۔خود سندھ کی سرزمین پر سورھیہ بادشاہ کی قیادت میں حروں کی گوریلا جنگ زوروں پر تھی جسے کچلنے کے لیے انگریزوں کو سندھ میں مارشل لاءتک لگانا پڑا۔ یہ تھے وہ حالات جن میں ہیموں کالانی تاریخ کے اسٹیج پر نمودار ہوتا ہے اور پھررشید بھٹی کے بقول ”وہ سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کی خالص قوم پرستی سے آگے بڑھ کر عوامی جمہوری انقلابی اور جدوجہدِ آزادی کا حصہ بن چکا تھا۔اس نے آزادی کی جنگ وطن، مظلوم اور استحصال کے شکار طبقات کی خاطر لڑی۔ اس کے تعلقات سکھر میں پارٹی ( کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا)کے کارکنوں سے قائم ہو چکے تھے جنھوں نے ینگ کمیونسٹ لیگ کے طرز پر نوجوانوں کی ایک تنظیم بنائی تھی ،اس کا نام ” سندھ یوتھ سرکل“ رکھا گیا آگے چل کر اس کا نام ” سندھ انقلابی پارٹی“ رکھا گیا۔یہ تنظیم سندھ کے ہندو اور مسلم نوجوانوں پر مشتمل تھی اور یہ برصغیر کی تقسیم تک سندھ میں زیر زمین کام کرتی رہی۔ہیموں کالانی کے ہم عصر نوجوانوں میں لاڑکانہ کے امیر خان رند اور نبی بخش کھڑو کافی سرگرم تھے۔اس تنظیم اور پارٹی کے فیصلے کے تحت ہی ہیموں کالانی نے اس ہتھیاروں اور بارودسے بھری ریل گاڑی کو گرانے کی کوشش کی تھی اور گرفتار ہوا تھا۔“(11)
سندھ کی معروف انقلابی شخصیت اور ”سندھ ہاری کمیٹی “ کے رہنما کامریڈ محمد امین کھوسو نے بھی اپنے ایک انٹرویو میں ہیموں کالانی کے متعلق بتایا تھا کہ اس کے کمیونسٹ پارٹی سے تعلقات تھے۔امین کھوسو کہتے ہیں کہ ”ہیموں کے ساتھ میرے قریبی تعلقات تھے۔کمیونسٹ پارٹی کی طرف سے سکھر میں منعقد کی گئی طالبعلموں کی ایک کانفرنس میں وہ میرے قریب آیا۔تقریر کے بعد وہ اور حشو کیولرامانی رات بھر میرے پاس رہے۔اس وقت میں نے ان کے سامنے گاندھی کا مبہم فلسفہ پیش کرنے کی بجائے سامراج کے ساتھ مقابلہ کرنے کا فلسفہ پیش کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کراچی جیل میں ہیموں نے مجھے بتایا کہ وہ موت سے خوفزدہ ہونے کی بجائے ایک بہادر انسان کی موت مرے گا۔اور واقعی اس نے یہ کر کے دکھایا۔“ (12)
ہیموں کالانی کے بارے میں امین کھوسو نے جو کچھ کہا سندھ کے ممتاز ترقی پسند دانشور نجم عباسی اپنی تحریر ”ہیموں کالانی“ میں اس کی تصدیق ان الفاظ میں کرتے ہیں کہ ” امین کھوسو کی تقریر سن کر ہیموں کالانی آزادی کے جذبوں سے ایسا سرشار ہوا کہ وہ اس کے پاس جاکر گھنٹوں سوال پر سوال کرتا۔اس نے مارکسزم اور انقلابی جنگ کی سائنس کے متعلق عملی تدبیروں کے متعلق زیادہ سے زیادہ جاننا چاہا۔“ (13)
ہیموں کالانی نے گرفتاری کے بعد انگریزعقوبت خانوں میں بدترین جبر وتشدد کا سامنا کیا لیکن وہ آخر دم تک سندھ کے اس انیس، بیس سالہ نوجوان سے اس کی خفیہ تنظیم اور ساتھیوں کے بارے میں ایک لفظ بھی نہ اگلوا سکے۔یہ اس کی نظریاتی کمٹمنٹ اور آدرشوں کی سچائی ہی تھی جس نے اسے پہاڑوں جیسا حوصلہ عطا کیا اورانگریز اپنے تمام تر تشدد اور دیگر حربوں سے اسے توڑ نہ سکے۔سندھ کے انگریز گورنر Hugh Dowنے ہیموں کالانی کے لیے عمر قید کی سزا تجویز کی جسے وائسرائے ہندLinlithgowنے سزائے موت میں بدل دیا۔کہا جاتا ہے کہ اپنے ساتھیوں کی نشاندہی اور معافی کی صورت میں اسے رہا کر دینے کی بھی پیشکش کی گئی جسے ہیموں کالانی نے یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا تھا کہ ”میں اپنے کیے گئے عمل پر بالکل بھی پشیمان نہیں ہوں اور میں نے جو کچھ کیا ہے بالکل درست کیا ہے۔میں نے جو کچھ بھی کیا ہے اپنے وطن، اس کی آزادی اور نجات کے لیے کیا ہے جس کا مجھے کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔میں نے کوئی جرم نہیں کیا ہے جس کی معافی مانگوں۔میں اگر معافی کی درخواست کرتا ہوں تو اس کا مطلب یہاں انگریزوں کے رہنے کی دستاویز پر دستخط کرنا ہے۔میرا مقصد انگریزوں کو یہاں سے نکالنا ہے اور میں جب تک زندہ رہوں گا اس مقصد کے لیے لڑتا رہوں گا۔“(14)یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ہیموں کالانی کی سزا معاف کروانے اور رہائی کے لیے اہلیان سکھر نے انگریز فوج کو ہیموں کے وزن کے برابر سونا دینے کی پیشکش کی تھی مگرہیموں کالانی آخر دم تک معافی سے انکاری رہا۔(15) 21جنوری1943کو مارشل لا کورٹ کے فیصلے کے مطابق سکھر جیل میں ہیموں کالانی کو پھانسی دے دی گئی۔
ہیموں کالانی کے متعلق جتنی دستاویزات، تحریریں اور یاداشتیں دستیاب ہیں ان سے کہیں یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس کی انقلابی کارروائیوں میں کسی کی جان گئی ،لیکن کم عمری کے باوجود اس کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا۔اس لیے کہ وہ ایک وطن پرست کمیونسٹ انقلابی تھا جس کا انقلابی آدرش سامراج کی موت کا پروانہ تھا۔برطانوی سامراج نہ تو کانگریس کی بورژوا قوم پرستی اور نہ ہی مسلم لیگ کی جاگیردارانہ نام نہاد مذہبی بنیادوں پر استوار قوم پرستی سے خائف تھا جنھوں نے آخری نتیجوں میں بارہا خود کو سامراج کا طفیلی ہی ثابت کیا۔
کامریڈ رشید بھٹی اس کا کیا ہی عمدہ تجزیہ پیش کرتے ہیں کہ ”سامراج بورژوا اور جاگیردارانہ قوم پرستی کے نظریے وتحریک سے نہیں ڈرتا۔یہ تو اس کے طفیلی ہوتے ہیں۔ وہ اصلاح پسند سوشلسٹوں سے بھی نہیں ڈرتا ،ان کی تو وہ پشت پناہی کرتا ہے۔وہ ڈرتا ہے تو انقلابی وطن دوست سے۔اس پر خوف طاری ہوتا تو صرف عوامی جمہوریت کے نعرے سے۔اس کی جان جاتی ہے سامراج مخالف جدوجہد سے۔کیوں کہ یہ اس کی بھیانک اور گندی صورت سے واقف ہوتے ہیں۔یہ اس کے ظلم واستحصال اور عوام اور قوم کا خون چوسنے والے کردار سے آگاہ ہوتے ہیں۔یہ سامراج دشمنی اور اس کی بیخ کنی کو اپنا آدرش بناتے ہیں۔اس لیے وطن دوست اور عوامی انقلابیوں کو سامراج کبھی معاف نہیں کرتا۔
ہیموں کالانی کے دور میں جاری جدوجہدِ آزادی پر ایک نظر ڈالنے سے سب کچھ واضح ہو جاتا ہے کہ اس اندولن میں چھوٹی بڑی ہر سیاسی جماعت شامل تھی ،عدم تشدد کی قائل بھی اور عسکری نوعیت کے تشدد میں یقین رکھنے والے بھی۔دہشت گردی اور تھوڑ پھوڑ سب کرتی تھیں۔کانگریس، مہا سبھا ،راشٹریہ سیوک سنگھ، جن سنگھ،اکالی دل، خاکسار ، احراری وغیرہ۔اس سلسلے میں ساری جماعتوں کے افراد پکڑے گئے ،جن کی سرگرمیوں کے نتیجے میں نقصانات بھی ہوئے لیکن کوئی بتائے گا کہ ان جماعتوں کے کون سے افراد کو پھانسیاں دی گئیں؟۔صرف بھگت سنگھ اور ہیموں کالانی کے نام قرعہ ءفال کیوں نکلا ؟۔اس لیے کہ یہ صرف آزادی کے نعرے نہیں لگا رہے تھے بلکہ انقلاب زندہ باد کے نعرے بھی لگا رہے تھے۔ وہ صرف انگریزسامراج کے ہی نہ دشمن نہ تھے بلکہ اس کے آلہ کار سرمایہ داروں، جاگیر داروں کے بھی دشمن تھے۔سوراج (آزادی) اور کرانتی (بغاوت) ان کی زندگی کے آدرش تھے۔ہندوستان میں بھگت سنگھ کی شخصیت ،زندگی اور کردار پر مکمل تحقیق کی گئی ہے اور یہ ثابت ہوچکا ہے کہ وہ ایک مارکس وادی، عظیم روسی انقلاب سے متاثر، لینن کا انقلابی مساعی پسند تھا۔یہی حیثیت اور صورتحال ہیموں کی بھی تھی۔سامراج ، سامراجی نوآبادیا ں اور جدید نوآبادیاں محض قوم پرستوں ، سماجی مصلحین ،اصلاح پسند سوشلسٹوں کو بھی برداشت کر سکتی ہیں ،وطن دوست اور عوام دوست قوتوں کے مقابلے اوران کی مخالفت میں ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انھیں امداد بھی فراہم کر سکتی ہیں لیکن خالص وطن دوست انقلابیوں اور عوام دوست جماعتوں کا وجود برداشت کرنے کے لیے یہ کبھی بھی تیار نہیں ہوتیں۔یہ ان کی آنکھوں میں خار بن کر چبھتے رہتے ہیں ،ہمارا ہیموں کالانی بھی بھگت سنگھ کی طرح ان کی آنکھوں کا خار تھا جسے انھوں نے بہرصورت نکالنا چاہا اور نکالا۔“ (16)
درج بالا تجزیہ نا صرف اُس وقت بلکہ آج تک کے حالات پر حرف بہ حرف پورا اترتا ہے۔برطانوی استعمار یہاں سے رخصت ہوا تو اس کے جانشین حکمرانوں نے کون سے ستم ہیں جو یہاں کی حقیقی انقلابی،سامراج مخالف،وطن پرست قوتوں پر نہیں ڈھائے۔بلوچستان پر فوج کشی سے لے کر آج تک وہاں جاری پانچواں فوجی آپریشن ،بلوچستان میں بالخصوص اور سندھ ، پختونخوا سے لیکر کشمیر وگلگت بلتستان تک میں بالعموم سیاسی کارکنوں کی جبری گمشدگیاں ، مسخ شدہ لاشے اس حقیقت کا بھیانک اظہار ہے۔کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان اور اس کی ذیلی تنظیموں پر پابندی ، اس کے مرکزی رہنماؤں کو پابندِ سلاسل کرنا ،لاہور کے شاہی قلعے میں کامریڈ حسن ناصر کی شہادت سے کراچی کی فوجی عقوبت گاہ میں کامریڈ نظیر عباسی کا قتل ، بلوچستان کی مچھ جیل میں حمید بلوچ کی پھانسی ، دیر(پختونخوا) میں اپنے پالتو مذہبی جنونیوں کے ہاتھوں کامریڈ ڈاکٹر تاج کا قتل اور اس جیسے بے شمار واقعات آج تک یہ ثابت کرتے ہیں کہ سامراج کی جدید نوآبادیاں بھی حقیقی انقلابیوں کے لیے ، حقیقی وطن پرست قوتوں کے خلاف وہ ہتھکنڈے استعمال کرتی ہیں جو اس کے آقاؤں کا وتیرہ رہا ہے۔سامراج کی ایک جدید نوآبادی جب اپنے جغرافیے میں بسنے والی مظلوم قوموں کے لیے سامراجیت کا روپ دھارتی ہے تو وہاں مصروفِ جہد حقیقی وطن پرست قوتوں کے خلاف قوم پرستی ہی کے نام پر ایک سے ایک، کہنے کو” قوم پرست“ لیکن اپنے جوہر اور کردار میں قوم دشمن ،وطن دشمن مسخروں کے پتلی تماشے لگتے ہیں۔وہاں لبرل بورژوا اوررجعتی فیوڈل شاہراہ گیروں کا تو ذکر ہی کیا کہ خود”سوشلزم “کے نام پر ایسے ایسے نظریاتی عجوبے تھوک ،پرچون کے حساب سے دستیاب ہوتے ہیں جوانقلابی اساتذہ کی تعلیمات کے نام پر ایک طرف محنت کش طبقے کی طبقاتی جدوجہد کو کند کرنے کا ہنر آزماتے ہیں تو دوسری طرف مظلوم قوموں کی جانب ان کا رویہ ،ان کا سارا زورِ قلم ، ان کا ہر ایک عمل جابر ، غاصب اور قبضہ گیر قوتوں کو توانائی فراہم کرتا ہے۔یہ دو قسم کے عناصرخواہ یہ خود کو کچھ بھی کہتے ہوں دراصل سامراجی، استحصالی قوتوں کے شامل باجے ہیں،ان کے انقلاب اور وطن پرستی کے،قوم اور عوام دوستی کے سارے دعوے اور نعرے جھوٹے ہیں اور ان کی نکیل قوت واقتدار کے ان اصل خداوندوں کے زیر پا ہے جن کا راج سنگھاسن محنت کش عوام اور مظلوم اقوام کی ہڈیوں پر جھول رہا ہے۔بھگت سنگھ اور ہیموں کالانی کی شہادت سے لے کر آج تک کے حالات کا یہ درس ہے کہ حقیقی انقلابی قوتوں اور حقیقی وطن پرست قوتوں یعنی محنت کش طبقے اور مظلوم اقوام کا اتحاد ہی وہ راستہ ہے جس پر چلتے ہوئے سرمایہ داری،سامراجیت اور جبر واستحصال کے سارے قلعے ڈھائے جا سکتے ہیں۔آج ہم تاریخ کے اسی دورائے پر 1903میں کامریڈ لینن کو درپیش اس سوال کے ساتھ کھڑے ہیں کہ ”کیا کِیا جائے؟“۔ اس سوال کا اپنے وقت میں جواب دینے والا بھگت سنگھ اور ہیموں کالانی سمیت دنیا بھر کے محنت کشوں ، مظلوموں، انقلابی جہد کاروں کا جانباز استادکامریڈ لینن ہم سے مخاطب ہے کہ ” دنیا بھر کے محنت کشو اور مظلوم قوموایک ہو جاو!۔“
حوالہ جات
(1) سہیل میمن،سندھ اسمبلی نے ایک انقلابی کو مذہبی مجاہد بنا دیا،https://dailyswail.or/2020/03/21/25034/
(2) Amar Shaheed Hemo Kaalaanni,http://iapi.glosbe.com/en/mis_snd/Hemo%20Kalani
(3) اے ،جی،اتم ،”سند ہند میں ہیموں کالانی جی یاد ، مشمولہ ،شہید ہیموں کالانی ( سندھی سرویچ) مرتب ، ڈاکٹر آزاد قاضی ،روشنی پبلیکیشن ، کنڈیارو ،سندھ ،2015،ص:188
(4) الطاف شیخ، مانڑھو منجھے دیس جا ،http://sindhitravelogues.blogspot.com/…/10/blog-post_24.html
(5) رشید یوسفزئی ، سندھی سرفروشوں کا سردار،https://sindhonnet.wordpress.com/2020/02/04/
(6) شہید ہیموں کالانی ،منصور قادر جونیجو ، مشمولہ ،شہید ہیموں کالانی ( سندھی سرویچ) مرتب ، ڈاکٹر آزاد قاضی ،روشنی پبلیکیشن ، کنڈیارو ،سندھ ،2015، ص: 118
(7) لچھمن داس کیسوانی،شہید ہیموں کالانی آءان جا چار ساتھی ( کُل ست وارداتوں)الفا کمپیوٹرز اینڈ پرنٹس،اجمیر ،راجستھان،2008،ص5,6
(8) ایضاََ، ص:24,25
(9) سارنگ منیر سومرو ، ہند جے سندھین جی کتھا،http://sindhicriticism.blogspot.com/2012/…/blog-post_17.html
(10) رشید بھٹی ،ہیموں اک حقیقت اک سچائی،مشمولہ ،شہید ہیموں کالانی ( سندھی سرویچ) مرتب ، ڈاکٹر آزاد قاضی ،روشنی پبلیکیشن ، کنڈیارو ،سندھ ،2015،ص:138
(11) ایضاََ،ص:139
(12)محمد امین کھوسو، انٹرویو،بحوالہ ،سندھ جا شہید ، مرتب لطیف سندھی،ص:31،https://sindhsalamat.com/threads/13354/
(13)نجم عباسی ،ہیموں کالانی، http://pakistanterroristcountry.blogspot.com/…/blog-post_60…
(14)ناز سنائی ، ہیموں کالانی ،مشمولہ,سندھ جا شہید ، مرتب لطیف سندھی،ص:30،https://sindhsalamat.com/threads/13354/
(15)نثار کھوکھر، بھارت میں ہیرو پاکستان میں گمنام سپاہی https://www.bbc.com/…/pri…/090122_heema_kalani_hero_rh.shtml
(16) رشید بھٹی ،ہیموں اک حقیقت اک سچائی،مشمولہ ،شہید ہیموں کالانی ( سندھی سرویچ) مرتب ، ڈاکٹر آزاد قاضی ،روشنی پبلیکیشن ، کنڈیارو ،سندھ ،2015،ص:

مشتاق علی شان
مشتاق علی شان
کامریڈ مشتاق علی شان مارکس کی ان تعلیمات کو بھولے نہیں جو آج بھی پسماندہ طبقات کیلیے باعث نجات ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *