کرونا کا مسلک کیا ہے؟۔۔۔ انعام رانا

پانچ سال قبل جب مجھے ڈیننگ سے جدا ہونا پڑا تو یہ طے کر لیا تھا کہ اب کوئی جانور نہیں پالوں گا۔ اولاد کی طرح کسی کو پال کر خود سے جدا کرنا آسان نہیں ہوتا۔ آج بھی اگر کبھی ڈیننگ کی تصویر سامنے آ جائے تو کئی گھنٹے کیلئیے ڈپریشن میں چلا جاتا ہوں۔
پڑھئیے:میرا ڈیننگ

ایک ماہ قبل مگر نجانے کیسے دل اس بات پہ مصر ہو گیا کہ میں پھر ایک کتا گھر لے آؤں۔ میری بیوی جو دبی دبی زبان میں یہ خواہش کئی بار ظاہر کر چکی تھی یکدم میرے خود سے اس اظہار پہ اتنی ہی حیران اور خوش ہوئی جتنا ایک دن میرے پرپوز کرنے پر ہوئی تھی۔ کتا یا کوئی بھی جانور لینے کا اصول یہ ہے کہ جب آپ جائیں تو جو بھی آپ کے دل سے جڑ جائے۔ دراصل آپ پپی (پلّا) نہیں چنتے بلکہ پپی آپ کو چنتا ہے۔ ایسے ہی کئی بریڈرز کے پاس پھرنے کے بعد ہم نے، یا ایک پپی نے ہم کو چن لیا۔ مگر ساتھ اسکا بھائی بھی تھا جو اکیلا رہ جاتا اور جذبات میں آ کر ہم دونوں کو گھر لے آئے۔ اک کا نام رسٹی رکھا اور دوجے کا چارلی گو میں انکو کالو اور بھورا پکارنے لگا۔(ناموں میں نسلی تعصب کی بو کی بنا پر یہ نام سرعام نہیں لئیے جا سکتے)۔ اب ایک انکشاف مزید ہوا کہ کبھی ایک ہی لٹر (ایک زچگی میں پیدا ہونے والے پلّے) سے دو پپی نہیں لینا چاہیے کیونکہ ان میں ایک حسد اور مقابلے کا جذبہ ہوتا ہے، مالک کی مکمل توجہ حاصل کرنے کیلئیے، چنانچہ وہ ایک دوسرے سے مکمل تناو کی حالت میں رہتے ہیں۔ انسانوں نے بھی برادران یوسف جیسی اصطلاحات بنا رکھی ہیں، شاید کتوں کی زبان میں بھی اس جذبے بارے کوئی محاورہ موجود ہو۔ ایک ہفتے بعد ہی ہم میاں بیوی یہ طے کر چکے تھے کہ ہمارے لئیے اور کالو، بھورے کیلئیے بہتر ہے کہ ہم کوئی ایک رکھ لیں۔ خوش قسمتی سے اک دوست نے بھورے کو پسند کر لیا اور ہم اک دن بیوی کی روتی آنکھوں کے ساتھ چارلی کو میرے دوست کے گھر چھوڑ آئے۔ خوشی ہے کہ وہ وہاں بہت خوش ہے۔

رسٹی (کالو) اب ہماری تمام تر توجہ کا مرکز تھا۔ ابھی کچھ ہی دن گزرے تھے کہ انگلینڈ کو کرونا وبا نے لاک ڈاؤن پہ مجبور کر دیا۔ آجکل گھروں پہ مقید ہیں اور کرنے کو کچھ نہیں سوائے مستقبل میں آنے والے معاشی بحران کا سوچ کر خوفزدہ ہونے کے۔ سو ایسے میں کالو کی موجودگی اک نعمت ثابت ہوئی۔ ہم میاں بیوی سویرے ہی اٹھ جاتے ہیں اور تمام دن بس کالو کو کھلاتے، کھیلاتے اور سلاتے گزر جاتا ہے۔ جرمن شیفرڈ کا سب سے بڑا مسلئہ ہے کہ یہ دل میں گھر کر جاتا ہے۔ بیک وقت ذہین ترین اور بچوں جیسا معصوم کتا ایسی ایسی حرکتیں کرتا ہے کہ آپ مرد بھی ہوں تو مامتا جاگ جاتی ہے۔

کتے سے محبت کے باوجود اپنی پرورش سے وابستہ ٹیبوز کی وجہ سے کتے کو “نجس” البتہ میں خیال کرتا ہوں۔ سو سوائے مخصوص کپڑے پہنے اس سے زیادہ “فرینک” نہیں ہوتا کیونکہ اسکا تو دل کرتا ہے کہ ہر وقت بس آپکی گود ہی چڑھا رہے۔ ابھی کچھ ہی دن کا واقعہ ہے کہ میں نہا کر نکلا فقط تولئے میں ملفوف۔ کوشش یہ تھی کہ کہیں کالو مجھ سے مس نا ہو جائے کہ دوبارہ نہانا پڑے گا۔ مگر مجھے آتا دیکھ کر اس کے تمام تر لاڈ جاگ اٹھے۔ اب میں اسے چھو چھو، نو نو کر کے اپنے پاس آنے سے روک رہا تھا، بیگم “رسٹی کم،کم” کہہ کر پکار رہی تھی مگر وہ تھا کہ میری جانب ہی چلا آتا تھا۔ میں نے سوچا کہ بھاگ کر سیڑھیاں چڑھ جاؤں کہ کپڑے پہن لوں گا مگر اس نے میرے بھاگنے کو بھی کوئی کھیل سمجھا۔ اب صورت یہ تھی کہ میں آگے آگے اور میرے پیچھے رسٹی بھاگ رہا تھا اور اسکے پیچھے اسے روکتی میری بیوی۔ یکدم نجانے اسے کیا سوجھی کہ میرا لہراتا ہوا تولیہ منہ میں لے لیا اور میرے بھاگنے کے مومنٹم میں وہ تولیہ یوں ہی کھلا جیسے کرونا کے دنوں میں گھر میں قید میاں بیوی کی باہمی محبت کھلتی جا رہی ہے۔ اب سین بدل چکا تھا اور رسٹی میرا تولیہ لئیے آگے آگے بھاگ رہا تھا اور میں اسکے پیچھے اسے مختارے سے منسوب تمام تر گالیاں نکالتا ہوا اور میری بیوی ہم دونوں کے پیچھے۔ کبھی وہ کھانے کی میز کے نیچے چلا جاتا تھا تو کبھی صوفے کے نیچے۔ اس مادر زار لباس میں میری اس میراتھن نے میری بیوی پہ ہنسی کا وہ دورہ شروع کرایا کہ وہ ہنستے ہنستے فرش پہ گر گئی اور میں شرمندہ ہو کر کمرے کی جانب بھاگ گیا یہ کہتے ہوے کہ یہ تولیہ اب اسی کو دے دینا۔

یہ واقعہ کچھ یوں یاد آیا کہ کرونا پاکستان پہنچا تو کچھ ایسی ہی صورتحال ہوئی ہے۔ پاکستان میں کرونا کی خبریں پھیلیں تو انگلیاں فورا ایران سے آنے والے زائرین پہ اٹھیں۔ مسلکی تعصب میں ڈوبے الزامات کے ساتھ الزامات یوں لگائے گئے جیسے کرونا کوئی شیعہ سازش ہے یا زیارتوں پہ کرونا تبرک میں بانٹا جا رہا تھا۔ خدا مگر بے نیاز ہے اور اسکی مخلوق یہ کرونا وائرس بھی۔ بلکہ کرونا تو مجھے کوفی شغلی بھی لگتا ہے۔ جلد ہی کرونا نے تنلیغی جماعت کا تولیہ کھینچ لیا اور اب وہ آگے آگے تھا اور تبلیغی پیچھے اور شیعہ زمین پہ گرے الزامات لگاتے ہوے ہنس رہے تھے۔ جو الزامات کل تک شیعہ پر تھے وہ اب تبلیغیوں پر اور جو صفائیاں کل تک شیعہ حضرات دیتے تھے اب وہ تبلیغی بھائی اور انکے ہمدرد دیتے ہیں۔ ایسے میں کرونا کا حال شاید میری بیگم جیسا ہے جو اس صورتحال پہ ہنستے ہنستے زمین پہ گر کر بے حال ہو چکا ہے۔

صاحبو سچ تو یہ ہے کہ ہم بطور سماج اس تمام قضئیے میں بہت کمتر نکلے ہیں۔ وہ وبا جو ہمیں باقی دنیا کی مانند ایک بنا کر مشترکہ نادیدہ دشمن سے لڑنے کا جذبہ دیتی، ہمیں شیعہ سنی، مذہبی غیر مذہبی جیسے گھٹیا خانوں میں بانٹ گئی ہے۔ ہم انسان بننے میں ناکام ثابت ہوے ہیں اور دلیل سے مکمل عاری۔ اگر ہم دلیل پہ سوچیں تو قصوروار نا شیعہ زائرین تھے نا تبلیغی نا کوئی اور۔ شیعہ زائرین پاکستانی ہیں، ایرانی حکومت نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا اور پھر ان زائرین کو واپس پاکستان لوٹایا گیا۔ یاد رہے کہ “کافر برطانیہ” نے ہر ویزے میں اکتیس مئی تک ایکسٹینشن کر دی ہے تاکہ کسی کو سفر نا کرنا پڑے اور پھیلاؤ رکے۔ ایسے میں ایران نے ان زائرین کو واپس دھکیلا۔ بلکہ کئی دوستو کی گواہی ہے کہ پاکستانی زائرین ایران میں رل گئے۔ تو پھر وہ اپنے گھر نا آتے تو کہاں جاتے؟ اگر آپ تبلیغی جماعت سے وابستہ دوستو کی سوچیں تو انکے بڑوں کی مجرمانہ غفلت کہ بروقت درست فیصلہ نا کر سکے، اجتماع بھی کر لیا اور جماعتیں پہلے سے موجود پلان کے مطابق ملک بھر میں پھیل گئیں۔ اب یکدم کرونا ہنگامہ میں وہ بے آسرا ٹھہرے۔ سوچیئے وہ چھپ چھپا کر گھروں کو واپس آنے کی کوشش نا کریں تو کیا کریں؟ سچ تو یہ ہے کہ اگر کوئی قصوروار ہے تو وہ حکومت ہے۔ یہ حکومت کا فرض تھا کہ وہ فورا کوئی فیصلہ لیتی اور ایس او پیز طے کرتی۔ حکومت نے درست فیصلہ کیا کہ چین سے کسی کو واپس نا لیا اور پھیلاؤ کو تعطل کا شکار بنا لیا۔ مگر ایران کے زائرین، عمرہ سے واپس آنے والوں، یورپ و دیگر ممالک سے آنے والوں یا تبلیغی جماعت سے متعلق درست اور بروقت اقدامات اٹھانے سے وہ کوتاہی کا شکار ہوئی۔ اگر مناسب وقت پر درست اور واضح فیصلے کر لئیے جاتے اور ان پہ سختی سے عمل درآمد ہوتا تو شاید نا تو یہ بدمزگی پیدا ہوتی اور نا ہی کرونا پاکستان میں یوں پھیلتا۔
اب صورتحال البتہ یہ ہے کہ کرونا ہمارا تولیہ لے کر بھاگ کھڑا ہوا ہے اور ہم بطور قوم اپنے تعصبات کی برہنگی کے ساتھ شرمندہ کھڑے ہیں۔

Avatar
انعام رانا
انعام رانا کو خواب دیکھنے کی عادت اور مکالمہ انعام کے خواب کی تعبیر ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”کرونا کا مسلک کیا ہے؟۔۔۔ انعام رانا

  1. اگرچہ وائرس ہمیں اکیسویں صدی کا لگا ہے، لیکن تعصبات میں ہم ابھی سترھویں صدی کے قریب ہیں۔ واقعی بطورسماج اس قضئے میں بہت کمتر نکلے ہم

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *