“ایک دن کی بات “ عکسی مفتی۔۔۔۔مہرساجدشاد

ممتاز مفتی کے بیٹے کی حیثیت سے پہچان رکھنے والے عکسی مفتی ایک منفرد شخصیت ہیں، نفسیات پڑھی سی ایس ایس کیا اور سول سروس میں آ گئے آذربائجان سے پی ایچ ڈی کی، آرٹ اور کلچر سے عشق کیا تو یہی کام مل گیا ،شعبہ فن و ثقافت سے منسلک ہو گئے، شوق ہی روزگار بن جائے تو زندگی جنت بن جاتی ہے، یونیسکو کے کلچرل ونگ میں بھی کئی سال کام کیا۔
عکسی مفتی لوک ورثہ اور ہیریٹج میوزیم کے بانی ہیں، کئی سرکاری اور بین الاقوامی اعزازات ملے ،کئی کتابوں کے مصنف ہیں ، عکسی مفتی کی شخصیت ہمہ جہت ہے، یوں تو انہوں نے بہت سے کام کیے،چیدہ چیدہ کچھ یوں ہیں۔۔ آپ پروفیسر رہے،پاکستان ٹیلی ویژن کے ابتدائی دنوں میں لوک تماشا پروگرام کیا، طبلہ سیکھا اور کمال بجایا،فوٹو گرافی کا شوق بھی خوب پالا،لوک فنکاروں کی نایاب ریکارڈنگ کی، انہوں نے لوک ورثہ کو ایک سائنس بنا کر عروج بخشا۔لوک ورثہ کے زیرِاہتمام لاتعداد کتابیں شائع کیں۔تحقیق کرائی، لوک داستانیں جمع کیں، بولیاں، قصے، کہانیاں،گم نام لوک فنکار پوری دنیا میں متعارف کروائے۔ عکسی مفتی ثقافت کو روح کی طرح سمجھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ
“جسم کو بیماری لگ جائے تو ہم مارے مارے پھرتے ہیں اور ماہرڈاکٹر تک رسائی حاصل کرتے ہیں،لیکن ان دنوں ہماری روح کو روگ لگ گیا ہے اور اُس کے لیے ہم کچھ نہیں کررہے۔”
انہیں 2006ء میں ایشیاء پرائزفار کلچربھی ملا جو پاکستان میں اس سے پہلے نصرت فتح علی خان کو ملا تھا،بھارت کے پاس تو اس طرح کے کئی انعامات ہیں ہم نے عکسی مفتی کو ہی گمنام کر دیا ۔ستارہ امتیاز بھی انہیں مل چکا ہے۔ورثہ میوزم کے بھی وہ بانی ہیں اور لوک ورثہ بھی ان کی محنتوں کا نتیجہ ہے۔

یہ ان کی زندگی کی کہانی ہے لیکن بہت ہی منفرد انداز میں لکھی گئی ہے، چھوٹی چھوٹی باتوں سے سبق آموز یادیں جمع کر کے اپنی زندگی کی کتاب کھول کر قارئین کیلئے رکھ دی۔ اس کتاب سے چند اقتباسات حاضر ہیں

“ بڑی بڑی غلطیاں تو حادثہ ہو سکتی ہیں، انہیں تقدیر کا کھیل بھی کہا جاسکتا ہے، شاید ایسی غلطیوں اور تجربات پر ہمارا اختیار نہیں ہوتا۔ یہ تقدیر کا کھیل ہے جس میں تدبیر کا کردار کم ہوتا ہے۔
لیکن چھوٹی چھوٹی غلطیوں سے آپکی شخصیت جھانکتی ہے، ان چھوٹی چھوٹی لاپرواہیوں اور غفلتوں سے آپ کی خصلت معلوم ہوتی ہے۔ آپ کی کل شخصیت کا اظہار آپکی باتوں سے نہیں آپکی انہی روز مرہ کی لغزشوں ، غلطیوں اور غفلتوں سے ہوتا ہے۔
ممتاز مفتی بڑی بات کی معافی دیتے تھے لیکن چھوٹی سی بات پر پکڑ لیتے تھے۔”

“ازبکستان کے شہر شہر گھومتے اور پوچھتے پوچھتے میں آخر کار امیر تیمور کے روضے پر پہنچا۔ ایک ویران سی جگہ پر معمولی گنبد والا روضہ تھا جس کے باہر واحد عمر رسیدہ عورت بیٹھی تھی، میں اندر داخل ہوا تو وسط میں ایک بڑی سی لمبی قبر موجود تھی۔ اس پر سبز رنگ کی چادریں اور اگر بتیاں جل رہی تھیں۔ میں نے بڑی عقیدت سی فاتحہ پڑھی اور باہر آگیا۔ عمر رسیدہ عورت مجھے دیکھتی رہی جب میں جانے لگا تو بولی امیر تیمور کے محترم استاد کی قبر ہے تیمور کی نہیں۔
اُس کی اپنی وصیت کے مطابق تیمور کی قبر استاد کے قدموں میں بنائی گئی ہے۔ یہ جو چھوٹی سی قبر دیکھ رہے ہو یہ اصل قبر ہے تیمور کی۔ ۔۔ میں ایک شہنشاہ کا اپنے استاد سے حسن سلوک ، عقیدت اور لگاو کے اس انوکھے انداز کو دیکھ کر دنگ رہ گیا۔
میرے ملک کے بادشاہوں نے نہ ایسا سوچا نہ کیا، انہوں نے اپنی محبوبہ کیلئے تو مقبرے اور تاج محل تعمیر کیے مگر امیر تیمور جیسی سوچ نہ رکھی۔”

مجھے یاد پڑتا ہے ایک جاپانی سیاح نے پاکستان سے جاتے وقت یہ بیان دیا تھا۔
“پاکستان اکائی ٹیپ ریکارڈر، سونی ٹی وی، ٹیوٹا کار اور گداگروں کا ملک ہے”

ممتاز مفتی کا یار اسکا بیٹا بقول بانو قدسیہ اپنے باپ کو مات دے گیا کیونکہ اسکی تحریر میں ارتقا ہے اور یہی جینز کا سبقت لے جانا ہے۔
آپ اس کتاب میں جدید حکایات پڑھتے ہیں جو عکسی مفتی کی صوفی بزرگوں اولیائے اکرام سے محبت کا عکاس ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *