بیل گری- بیل پتھر۔۔۔ثنااللہ خان احسن

جوڑوں گھٹنوں کے درد کا علاج بیل پتھر
بیل پتھر کیا ہے اور کہاں سے ملے گا؟

وکالت کے دور میں ایک مسئلہ در پیش ہوا،کہ میری والدہ کو جوڑوں خصوصاً  گھٹنوں میں درد شروع ہوا وہ بہت تکلیف میں تھیں، تمام ڈاکٹرز سے مشورے  کے بعد ان کو صرف pain killer دیے گئے۔اور جب میں نے مختلف ڈاکٹرز سے اس سلسلے میں گفتگو کی تو پتہ چلا کہ یہ arthritis ہے اور اس کا سوائے درد ختم کرنے والے کیپسولز کے کو ئی علاج نہیں ہے بہت پریشانی ہوئی ۔اور ایک موقع ایسا آیا کہ درد کی گولیوں کا اثر ختم ہو گیا۔میں والدہ صاحبہ کے درد کی وجہ سے بہت پریشان تھا کہ ایک دن والدہ صاحبہ نے مجھے کہا کہ اب میں اٹھ کر کھڑی بھی نہیں ہوسکتی اور زیادہ پریشانی  ہوئی اور میں اسی پریشانی میں کچہری جا رہا تھا کہ مجھے راستے میں ریلوے کا ایک ملازم ملا جو ہمارے گھر سے تھوڑے فاصلے پر رہتا تھا علیک سلیک ہوئی تو مجھے کہنے لگا آپ مجھے پریشان لگ رہے ہیں میں نے اسے والدہ کے گھٹنوں کے درد کے بارے بتایا اس نے مجھے کہا کہ یہ مرض مجھے بھی ہے مگر میں نے اس پر قابو پا لیا ہے، اور یہ کہا کہ شام کو وہ ایک فروٹ لا کر دے گا اور طریقہ بھی بتائے گا۔اس روز شام کو وہ مالٹے سے تھوڑے بڑے سائز کے چھ سات دانے ایک پھل کے لے آیا جو میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔اس نے اس کا نام بیل پتھر بتایا اور استعمال کا طریقہ یہ بتایا کہ اس کو دھوپ میں رکھ دیں اور جب یہ سوکھ کر ہلکے ہو جائیں تو ان کو گرائنڈ کرکے سوجی اور گھی ملا کر ان کا حلوہ بنانا ہے، اور رات کو صرف ایک چمچ کھا کر سو جانا ہے ۔ہم نے اس کی ہدایات پر عمل کیا اور والدہ صاحبہ نے رات کو ایک چمچ حلوہ پانی کے ساتھ لیا اور جب صبح اٹھی تو بڑے آرام سے چل پھر رہی تھی اور درد بھی غائب تھا اس کے بعد ہمارے گھر سے کبھی وہ حلوہ ختم نہیں ہوا جب تک والدہ صاحبہ زندہ رہیں ان کو درد بھی نہیں ہوا۔جوڈیشل سروس کے دوران میری پوسٹنگ سرگودھا ہوئی تو میرے ایک دوست جو کہ محکمہ زراعت میں ڈپٹی ڈائریکٹر تھے کی والدہ کا یہی مسئلہ پتہ چلا تو میں نے اسے فروٹ کا بتایا ۔اس کی فرمائش پر میں نے اپنے شہر سے وہ فروٹ منگوایا کیونکہ ہمارے شہر بھکر میں وہ صرف دو جگہ درخت لگا ہوا ہے۔اس کا حلوہ بنا کر اس دوست کی والدہ کو دیا تو وہ جو ہر روز درد کا ٹیکا لگواتی تھی ٹھیک ہو گئی صرف اس دوائی سے جو میں نے گھر سے بنوا کر دی تھی۔اس کے بعد اس دوست نے بتایا کہ اس فروٹ کو بل کہتے ہیں ۔یہ پرانے ریسٹ ہاؤسز میں کوئی نہ کوئی درخت مل جاتا ہے۔خان پور تبادلہ ہوا تو ایک سرکاری وکیل کے والد صاحب کا علاج بھی اسی حلوے والی دوائی سے کیا تو وہ بھی ٹھیک ہو گیا حالانکہ انہوں نے آغا خان ہسپتال سے گھٹنے تبدیل کرانے کے لیے وقت بھی لے لیا تھا مگر اس دوا سے وہ ٹھیک ہو گئے۔تو دوستو، اس فروٹ کا نام بل ہے ۔گھٹنوں کے درد کی بیماری بھی عام ہو گئی ہے، شاید اس پوسٹ سے کئی لوگوں کا بھلا ہو جائے۔یہ فروٹ مالٹے یعنی اورنج سے تھوڑا سا بڑا اور بھاری ہوتا ہے ۔مگر Arthritis یعنی گھٹنوں کے درد کا واحد علاج ہے۔ ,
ماخوذ قلم محترم ڈسڑک اینڑ سیشن جج (ر) ثناءاللہ خان نیازی صاحب

اب جانیے  بیل پتھر کے بارے میں
اوپر جو تحریر بیان کی گئی  ہے جس کے راوی ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ و سیشن جج جناب ثنااللہ خان نیازی صاحب ہیں کا نسخہ جوڑوں کے درد کے لئے ضرور آزمانا چاہیے، لیکن اس کو پڑھنے والے اکثر لوگ نہ تو اس پھل کے بارے میں زیادہ جانتے ہیں اور نہ ہی یہ درخت پاکستان میں عام ہے،تو پھر یہ نسخہ کیسے بنایا جائے- اس کے لئے مندرجہ ذیل تحریر پڑھیے۔

پاکستان میں بیل پتھر کا درخت زیادہ عام نہیں ہے لیکن انڈیا میں یہ بے شمار ہوتا ہے۔ہماری والدہ محترمہ ہم کو بتایا کرتی تھیں کہ رامپور میں اس کے درخت عام گلی کوچوں اور سڑکوں کنارے لگے ہوا کرتے تھے۔ اس کا چھلکا اس قدر سخت اور موٹا ہوا کرتا ہے کہ اس پھل کو چھری چاقو سے کاٹنا ناممکن ہوتا ہے۔ یا تو اس کو زور زور سے زمین پر پٹخیں یا پھر کسی بھاری چیز سے ضرب لگائیں تو یہ کھلتا ہے، اسی لئے اس کو بیل پتھر کہا جاتا ہے، اندر گہرا زرد تیز ھیک والا گودا اور بے شمار بیج گڈ مڈ ہوتے ہیں،ہم کو بچپن میں یہ پھل دیکھنے اور چکھنے کا بڑا اشتیاق رہا،سن 80 کی دھائی  میں ہماری نانی امی انڈیا سا پاکستان آئیں تو ہم نے ان سے فرمائش کرکے چند پھل بیل پتھر کے منگوائے، اللہ جھوٹ نہ بلوائے جو وہ انڈیا سے بیل پتھر لائیں وہ تو پپیتے کے سائز کے تھے،ان کے گودے کا ذائقہ ہم کو تیز ھیک کی وجہ سے قطعی پسند نہیں آیا- پھر کوئی  نوے کی دہائی  میں ہم نے کراچی یوپی موڑ پر واقع ایک گھر میں اس کا درخت دیکھا جس میں بڑے مالٹے کے سائز کے سبز رنگ کے پھل لگے تھے، پتہ چلا کہ یہ بیل پتھر ہے، اس کے بعد کبھی کبھار یہ کراچی کے ہفتہ بازاروں میں بھی نظر آنے لگا، کراچی میں گرومندر پر جمشید روڈ والی سائیڈ پر ایک بہت ہی پرانی پھلوں کی دکان ہے جہاں آپ کو ہر قسم کے ملکی پھلوں کے علاوہ غیر ملکی پھل بھی ملتے ہیں اور بھارتی و بنگلہ دیشی پھل بھی، وہاں یہ بیل پتھر بھی ملتا ہے لیکن پاکستان میں اس کا سائز ایک بڑے مالٹے یا گریپ فروٹ جتنا ہوتا ہے۔
‎بیل گری برصغیر کے بہت سے خطوں میں مشہور ہے۔ اس کی لکڑی گو مضبوط ہوتی
‎ ہے مگر اس پر کیڑے مکوڑے زیادہ حملہ آور ہوتے ہیں۔ اس کی تازہ لکڑی کو چیرنے سے بہت تیز خوشبو نکلتی ہے۔ بیل کا پھل جسے بیل گری کہتے ہیں۔ بہت بڑا ہوتا ہے‘ خوب پکے ہوئے بیل کا مغز نہایت سرخ‘ خوشبودار اور شیریں ہوتا ہے۔ اطباء اسے کثرت سے ادویات میں استعمال کرتےہیں اس کا مربہ بھی بہت عمدہ بنتا ہے۔یہ خاصیت میں گرمے سے مشابہ ہوتا ہے اس کاباہر کا خول بے حد سخت جبکہ اس کا گودا بے حد نرم اور کھانے میں لذیذ ہوتا ہے۔ اس کے مغز کے چھلکے سکھالیتے ہیں اسے خشک بیل گری کہتے ہیں۔
‎بیل گری ایک ایسا غیر معمولی پھل ہے جس کےاستعمال سے ان گنت فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں،اردو میں اسے بیل پتھر بھی کہتے ہیں جب کہ انگریزی میںBeal Fruit اور Wood Appleپنجابی میں بل ، سندھی میں کاٹھوری ، بنگلہ اور سنسکرت میں اسے بلوا کہتے ہیں۔
‎یہ درخت پچیس سے تیس فٹ اونچاہوتاہے شاخوں پر موٹے کانٹے چھال موٹی اور سفیدی مائل سے  پتے تین تین اکٹھ ہوتے ہیں۔موسم خزاں میں پتے جھڑ کر پھاگن چیت میں نئے پتے نکل آتے ہیں۔نئے پتوں کے ساتھ ہی سبزی مائل سفید پھول جس کی چار انچ پنکھڑیاں ہوتی ہیں۔لمبائی ایک انچ اور ان میں تھوڑی خوشبو ہوتی ہے۔پھل جنگلی خودرودرختوں پرلیموں کے برابر سے لےکرگیند کے برابر ہوتے ہیں۔اور جو باغوں میں لگائے جاتے ہیں۔ان پر درمیانی گیند سے لے کر ایک کلو تک پھل لگتے ہیں جو پہلے سبز اور بعد میں سرخی مائل زرد ہو جاتے ہیں۔جن کے اوپر چھلکا سخت ہوتاہے۔اورپکنے پر اندر کا گودہ لیس دار شیریں اورخوش ذائقہ ہوتا ہے اس کے اندر سے چھوٹے سفید رنگ کے تخم بھر ے ہوتے ہیں۔

مقام پیدائش۔
‎پاکستان ہندوستان برما سری لنکا نیپال یوبی وسط و جنوبی ہند میں بکثرت ہوتا ہے۔
‎مزاج۔سرددوم اور خشک درجہ سوم۔
‎افعال۔
‎حابس الدم ،قابض ،مقوی معدہ مقوی دل وجگرمولد ریاح اس کے درخت کی جڑ کی چھال دافع بخار اور سانپ کے زہر کا تریاق بھی ہے۔
‎استعمال۔
‎بیل گری کا پھل پکنے پر میٹھا اورسرخی مائل زرد ہوجاتا ہے جس کے اندر میٹھا گودا ہوتا ہے۔اس کو لوغ مختلف اشکال میں بطور میوہ استعمال کرتے ہیں۔کوئی شربت بناکر پیتا ہے۔تو کوئی پھل کےطور پر اس کو گودا استعمال کرتا ہے۔
‎دہی اور چینی اور بیل گری گا گودا ملا کر صبح کو استعمال ہوتاہے۔بچوں کے اسہال و پیچش میں بہت فائدہ دیتا ہے۔اس کی چھال کو خفیف بخاروں میں بکثرت استعمال کرتے ہیں۔
‎یہ دشمول کا ایک جزو ہے طب جدید میں اس کا ایکسٹرکٹ دواًء مستعمل تھا لیکن وہ پیچش کا شافی علاج نہیں ۔اس لئے برٹش فارکوپیا سے اس کو خارج کردیاگیا ہے۔
‎اسکی چھال کا جوشاندہ سانپ کے زہر کو دورکرتاہے۔اور بخارسرمیں مفیدہے۔بیل گری کے پتوں کا رس نزلہ زکام اور انفلوئنزہ میں پلانا مفید ہے اور جڑ کا جوشاندہ مقوی قلب ہے پتوں کا رس پانچ تولہ نکال کر صبح نہارمنہ پلانا ذیابیطس کیلئے بہت مفید ہے ۔
‎بیل کا پھل جو ٹکڑے کرکے خشک کرلیاجاتا ہے جو کہ بیل گیری کے نام سے مشہور ہے۔
‎بیل گری کا استعمال برص، بواسیر،اسہال یا ڈائریا، ہیضہ ، السر ، سوزش،دل کی بیماریوں،نظام ہضم کی بحالی ،سانس لینے میں دشواری کے علاج سمیت دیگر بہت سی بیماریوں میں مفید ہے۔ اس پھل سے انیما، کان اور آنکھوں کی خرابی کا علاج بھی کیا جاتا ہے۔
‎بیل گری انسولین سے بھرپور ہے ،جو خون میں شکر کی سطح کو کنٹرول کرنے کے لئے ضروری ہے،یہ شوگر کے مریضوں کیلئے کسی بڑی نعمت سے کم نہیں۔اس پھل کا خشک پاؤڈر دائمی اسہال کےعلاج کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔
‎قدیم زمانے میں ،اس کے خشک پاؤڈر کو پتلی لکڑی کے ساتھ مخلوط کرکے اس سے فریکچر کا علاج کرنے کے لئے ٹوٹی ہوئی ہڈیوں پر لگا دیا جاتا تھا ۔
‎بیل گری عمل تکسید کو روکنے کا عامل ہے جو گیسٹرک السرکو روکتا ہے خاص طور پر معدے میں غیر معمولی تیزابیت جو السر کا اصل سبب بنتا ہے اس کو بننے سے روکتا ہے ۔
‎ماہرین نے تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ بیل گری سے حاصل اینٹی مائیکروبیل جو اینٹی وائرل ،اوراینٹی فنگل کی خاصیت رکھتا ہے جسم میں مختلف بیماریوں کے علاج میں مدد گار بنتا ہے اور متعدد وبائی امراض سے محفوظ رکھتا ہے۔
‎جسم میں وٹامن سی کی کمی کے باعث کمزوری،تھکاوٹ،ہاتھ ،پائوں میں زخم بننا،خون میں سرخ خلیوں کی کمی،مسوڑھوں کی بیماریوں اور اسکن سے خون کا اخراج ان تمام خرابیوں کو جس بیماری کا نام دیا جاتا ہے اسے Scurvy کہتے ہیں بیل گری میں ایسے وٹامن کی وافر مقدار موجود ہے جو ان تمام خرابیوں کو دور کرتا ہے۔
‎بیل گری سے حاصل روغن کے استعمال سے سانس لینے کی دشواریوں اور خرابیوں جیسے دمہ کے علاج کے لئے استعمال کیا جا تا ہے،شدید نزلہ زکام میں جب ناک اور کان بند ہوجائیں اس کے روغن کو سر پر لگانے سے فائدہ لیا جاتا ہے,اس کا استعمال انفیکشن کا جلد علاج ہے۔
‎بیل گری کا استعمال سوزش میں بھی انتہائی مفید ہے،جسم میں کسی جگہ سوزش کی شکایت کی صورت میں اسے متاثرہ جگہ پر لگانے سے سوزش دور ہو سکتی ہے۔
‎بیل گری کے پھل کا جوس اور اس کو گھی کی نسبتاً کم مقدار کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر بطور غذا میں شامل رکھنا دل کی بیماریوں کو روکتا ہے، یہ ایک پرانا روایتی طریقہ ہے جس کے استعمال سے دل پر حملہ آور بیماریوں جس میں دل کا دورہ بھی شامل ہے اس سے بچنے کا امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔
‎کہا جاتا ہے کہ بیل گری کا استعمال قبض کشااور اس کی بہترین قدرتی دوا ہے،اس کے گودے میں چھوٹی کالی مرچ اور نمک کو شامل کرکے کھانے سے آنتوں میں بننے والے زہریلے مادے کو ختم کردیتا ہے.بیل گری کا شربت بھی قبض کے خاتمے کا سبب بنتا ہے۔
‎بیل گری کا استعمال خون میں کولیسٹرول کی مقدار کو قابو رکھنے میں بہت مفید ہے ،اس کا باقاعدہ استعمال خون میں کولیسٹرول کی درست مقدار کو برقرار رکھنے کا مکمل علاج ہے ۔
‎صحت تندرستی میں اضافہ کیلئے بیل گری کی چائے کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ معدہ صاف رہے اور آپ کا نظام ہاضمہ مضبوط ہوجائے تو آپ بھی بیل گری کی چائے استعمال کرسکتے ہیں۔ خشک بیل گری کسی بھی پنسار سٹور سے بآسانی حاصل کی جاسکتی ہے۔ یہ معدےو جگر پر اچھے اثرات مرتب کرتا ہے۔ آنتوں کے امراض میں مبتلا افراد کو بیل گری ضرور کھانی چاہیے کیونکہ یہ آنتوں کو صاف کرتا ہے اور ان میں قدرتی لچک کو بحال کرتا ہے۔ پیچش یا اسہال کی صورت میں بیل گری کا گودا اپنے نرم و کثیف اثرات کے باعث فائدہ مند ہے۔ پکے ہوئے گودے کے کھانے سے ورم حلق میں فائدہ ہوتا ہے۔ جن افراد کو دست آنے کی شکایت ہو ان کو بیل گری کا شربت تیس گرام پلانے سے یا بیل گری کا پاؤڈر ایک ایک گرام روز کھانے سے آرام آجاتا ہے۔ اس کےپتوں کا رس کھانسی‘ زکام‘ انفلوئنزا اور ورم کو تحلیل کرتا ہے۔ بیل گری کی جڑ کی چھال سے ایک خاص جوشاندہ تیار کیا جاتا ہےجس کے پینے سے دل کی دھڑکن کی تیزی میں اور نوبتی بخار میں افاقہ ہوتا ہے۔ بیل گری کے تازہ پتوں کو کشید کرنے سے ایک زردی مائل تیل حاصل ہوتا ہے یہ طبی ادویہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ بیل گری کا پکا ہوا گودا جگر و معدےکوقوت دیتا ہے۔
‎یرقان کیلئے: یرقان کےمرض میں بیل گری کا پاؤڈر ایک گرام کالی مرچ ملا کر پانی کے ہمراہ چند روز کھلانے سے مرض کی زیادتی ختم ہوجاتی ہے۔
‎اسہال کیلئے: بچوں یا بڑوں کو اگر پیچش یا دست کی تکلیف ہو تو یہ نسخہ استعمال کریں۔ یہ پھل چونکہ قابض ہوتا ہے اسی لیے بچوں کو دو سے چار رتی تک بیل گری کا پاؤڈر ایک دو رتی کتھے میں ملا کر پانی کے ساتھ کھلاتے ہیں۔ اس سے دستوں میں افاقہ ہوتا ہے اور آنتوں کی بے قاعدگی بھی درست ہوتی ہے۔ بڑوں کو یہ مقدار دو گنا کرکےدی جاسکتی ہے۔
‎بخار کیلئے: گرمی یا سردی کے باعث جن افراد کو بخار ہوجائے وہ اس نسخے سے فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔ بیل کے پتوں کا رس ہموزن شہد یا پانی میں ملا کرمریض کو پلائیں۔ اس سے بخار کا زور ٹوٹ جاتا ہے اور طبیعت میں سکون پیدا ہوتا ہے۔
‎شربت بیل گری: اس کا شربت بنانے کی ترکیب بے حد آسان ہےآپ خود گھر میں اسے تیار کرسکتے ہیں۔ اس کیلئے سوگرام بیل گری لیں‘ اسے ایک لیٹر پانی میں ڈال کر آگ پر چڑھادیں۔ اسے خوب پکنے دیں جب پانی کی مقدار تقریباً اڑھائی گرام رہ جائے تو اسے اتار کر ململ کے کپڑے سے چھان لیں پھر اس پانی میں ساٹھ گرام چینی ملا کر دوبارہ آگ پر رکھ دیں۔ جب گاڑھا سا قوام تیار ہوجائے تو اتار لیں۔ یہ شربت بیل گری تیار ہے۔
‎بندش پیشاب کیلئے: پیشاب کی بندش‘ پیشاب کے رک رک کر آنے‘ دوبارہ پیشاب کرنے کے بعد حاجت ہونے اس نسخہ کا استعمال بے حد مؤثر پایا گیا ہے۔ بیل کے تازہ پختہ پکے ہوئے پھلوں کا گودا لیں۔ اسے کسی برتن میں ڈال کر سردائی کی طرح خوب گھوٹیں۔ جب پتلا اوریکجان ہوجائے تواس میں دودھ ڈال کر ایک مرتبہ پھر گھوٹیں۔ اس کے بعد اسے چھان کر محفوظ کرلیں وقت ضرورت اسے مریض کو بارہ گرام سے چھتیس گرام کی مقدارمیں تین وقت پلائیں۔
‎بیل گری کی چائے: صحت تندرستی میں اضافہ کیلئے بیل گری کی چائے کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کامعدہ صاف رہے اور آپ کا نظام ہاضمہ مضبوط ہوجائے تو آپ بھی بیل گری کی چائے استعمال کرسکتے ہیں۔

بیل گری کا حصول
اوپر جو تحریر بیان کی گئ ہے جس کے راوی ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ و سیشن جج جناب ثنااللہ خان نیازی صاحب ہیں کا نسخہ جوڑوں کے درد کے لئے ضرور آزمانا چاہئے لیکن اس کو پڑھنے والے اکثر لوگ نہ تو اس پھل کے بارے میں زیادہ جانتے ہیں اور نہ ہی یہ درخت پاکستان میں عام ہے۔ تو پھر یہ نسخہ کیسے بنایا جائے- تو اتنا بتادوں کہ جج صاحب کے نسخے میں بیل کا خشک شدہ گودا استعمال کیا گیا ہے جس کا حصول پاکستان میں کچھ مشکل نہیں- یہ خشک شدہ گودا عام پنساریوں کے پاس بیل گری کے نام سے دستیاب ہوتا ہے- حسب ضرورت لیجئے اور استعمال کیجیے۔
آپ کو بیل کا ایک خاص فائدہ یہ بھی بتادوں کہ اس کے تازہ گودے کا ملک شیک ایچ پائلوری کا بھی خاتمہ کردیتا ہے۔ اگر تازہ بیل کا گودا دستیاب نہ ہو تو پھر  خشک بیل گری کسی بھی پنسار سٹور سے بآسانی حاصل کی جاسکتی ہے۔ سب سے پہلے آپ چار سے چھ ٹکڑے خشک بیل گری کے اور چار سے چھ ٹیبل سپون شکر لے لیں۔ چار سو ملی لیٹر پانی کو چائے کے برتن میں ابالیں۔ چند منٹ بعد اس میں بیل گری کے ٹکڑے ڈال دیں۔ پندرہ منٹ تک اسے پکنے دیں۔ اس کے بعد اس میں شکر شامل کردیں۔ اگر آپ اسے ٹھنڈے مشروب کے طور پر پیناچاہتے ہیں تو فریج میں ٹھنڈا کرکےاس میں برف کا چورا شامل کردیں۔

گھٹنوں کے درد کے لئے بیلگری سے فائدہ اٹھانے کی ایک بہت ہی آسان ترکیب شیئر کرتا ہوں۔
بیلگری خشک شدہ ہر پنساری کے پاس با آسانی مل جاتی ہے۔ بس دیکھ کر لیجیے کہ صاف ستھری ہو۔ آدھا کلو بیلگری لے کر اچھی طرح صاف پانی سے دھو کر دھوپ میں اچھی طرح خشک کرکے کسی جار میں محفوظ رکھیے۔ روزانہ رات کو دس گرام کا ایک ٹکڑا صاف پینے والے ایک گلاس پانی میں ڈال دیجئے۔ صبح نہار منہ چمچے کی مدد سے گودا کھالیجئے اور پانی پی لیجیے۔ آدھے گھنٹے بعد ناشتہ کرلیجیے۔ چند دنوں میں آپ کو واضح طور پر گھٹنوں اور جوڑوں کے درد میں افاقہ محسوس ہوگا۔

کوشش کیجیے کہ اس پھل کے بیج کی مدد سے زیادہ سے زیادہ یہ درخت پاکستان میں عام کریں کیونکہ یہ درخت باآسانی ہر جگہ ہوجاتا ہے- لیکن اس معاملے میں ہم پاکستانی بلا کے سست اور کاھل ہیں-
نوٹ: اس مضمون کی تیاری میں مختلف طبی ویب سائٹس اور بلاگز سے مدد لی گئی ہے-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *