• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کرونا ڈائریز:کراچی،کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(تیرہواں دن)۔۔گوتم حیات

کرونا ڈائریز:کراچی،کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(تیرہواں دن)۔۔گوتم حیات

آج چار اپریل ہے۔۔۔ جب وہ اپنے اصولوں کی خاطر خوشی خوشی پھانسی کے پھندے میں جھول گیا تھا لیکن اس نے کسی سے رحم کی بھیک نہیں مانگی تھی۔ پھر دیکھنے والوں نے یہ بھی دیکھا کہ ہر گزرتا لمحہ اس کے نام اور مقام کو سربلند کر رہا ہے۔ اسی سربلندی کو دوبارہ سے نیست و نابود کرنے والوں نے پہلے اس کے دونوں بیٹوں کو باری باری فرعونیت کے نشے میں چور ہو کر زمین میں سُلایا اور پھر اُس کی بہادر بیٹی کو اُس وقت قتل کر دیا جب وہ کروڑوں لوگوں کو آزادی کی نوید سنا رہی تھی، انہیں فرعونیت کی پسلی سے بنے جرنیلی مشرف کا سفاک چہرہ دکھا رہی تھی۔ یہ بھی کیا ستم ظریفی ہے کہ ایک جرنیل ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم کو پھانسی پر چڑھاتا ہے اور پھر دہائیوں بعد اُسی کا جانشین، روشن خیالی کے لبادے میں ملبوس ہو کر، اپنے پالتو شدت پسندوں کے ہاتھوں پہلے منتخب وزیراعظم کی “بہادر بیٹی” کو بھرے مجمے میں قتل کروا کے سمجھتا ہے کہ اب خاندان کا ہمیشہ کے لیے صفایا ہو گیا۔ لیکن خوش فہمیوں کی جنّتوں میں رہنے والے یہ خاکی وردی کے لوگ ہمیشہ بھول جاتے ہیں کہ سربلندی جس کو ایک بار مل جائے تو وہ تا ابد قائم و دائم رہتی ہے۔ یہ تو وہ آبِ زم زم ہے جو ہمیشہ رواں رہنے کے لیے ہی زمین کی تہہ سے پھوٹا ہے۔ چاہے آپ قبیلے کے ایک ایک فرد کو چُن چُن کر قتل کر دیں لیکن وہ خونِ ناحق کسی اور کے بدن میں سرائیت کر کے اُس کی سر بلندی کو ہمیشہ کے لیے امر کر دیتا ہے۔
آج ہی کی تاریخ کو یعنی چار اپریل کو ایک اور شخص بھی قتل ہوا تھا۔
زوہیب کی چمکتی ہوئی سبز آنکھوں کو دیکھ کر کوئی بھی اس کا گرویدہ ہو سکتا تھا۔ میں ٹھرا حُسن پرست، خوبصورت اور دلکش چہروں کو نظر بھر دیکھنا میری زندگی کے اہم فرائض میں شامل تھا۔ چند سال پہلے شہر کی ایک علمی و ادبی نشست میں اُس سے میرا سامنا ہوا اور پہلی ہی نظر میں ہم یوں گُھل مل گئے جیسے کہ برسوں سے شناسائی ہو۔
اتفاقیہ ملاقات کی اُس پہلی شام زوہیب کے ساتھ دو اور لوگ بھی تھے۔ مگر میں ان دونوں کی طرف متوجہ نہیں ہوا۔ مجھے تو صرف زوہیب کی شخصیت نے متاثر کیا تھا اور میں مزید کچھ دیر اس کے ساتھ مکالمہ کرنا چاہتا تھا، لیکن بدقسمتی یہ کہ زوہیب کو ان لوگوں کے ساتھ کہیں جانا تھا اور یوں ہماری وہ پہلی ملاقات اختتام پذیر ہوئی۔
اُس مختصر سی ملاقات میں نہ میں اُس سے فیس بُک کی آئی ڈی لے سکا اور نہ ہی موبائل نمبر۔
اُس کے جانے کے بعد میں دیر تک اُس کی آنکھوں کے بارے میں سوچتا رہا، اُس کی آنکھوں کی چمکتی ہوئی رنگت میں ایسا کوئی جادو تھا کہ مجھے اُن میں وادیِ ناران کی کسی جھیل کا سا گمان ہونے لگا۔ اُس کی سبز آنکھوں کی رنگت پر خوب غوروفکر کرنے کے بعد میں آڈیٹوریم کی لائبریری میں جا کر یوں ہی بے سبب کتابوں کی ورق گردانی کرنے لگا۔ کبھی ایک کتاب دیکھتا اور کبھی دوسری اور یوں ہی میں نے تقریباً پانچ، چھ کتابوں کے صفحات کو پلٹتے ہوئے آدھا گھنٹہ گزار دیا۔ لائبریری کے اطراف نظر دوڑائی تو صرف ایک، دو لوگ ہی مطالعے میں غرق نظر آئے۔ میں نے اپنے سامنے پڑی ہوئی کتابوں کو احتیاط سے اُٹھایا اور انہیں واپس لے جا کر بُک شیلف میں رکھ دیا اور آہستگی سے لائبریری سے نکل باہر سڑک پر آگیا۔ باہر گاڑیوں کا
بے ہنگم شور جب میرے کانوں سے ٹکرایا تو سخت کوفت محسوس کرتے ہوئے میں نے تیز قدموں سے پیدل چلنا شروع کر دیا۔ میں تیز قدموں سے پیدل چلتے ہوئے پریس کلب کراس کر کے سیدھے ہاتھ کی طرف مڑ گیا اور کافی دیر تک یوں ہی چلنے کے بعد ریلوے اسٹیشن کے بمبے ہوٹل میں جا کر بیٹھ گیا۔ بیرا فوراً سے دودھ پتّی کا ایک کپ میرے سامنے رکھ کر دوسرے گاہکوں کی طرف متوجہ ہو گیا۔ یہ میرا روز کا ہی معمول تھا کہ شام کی چائے میں بمبے ہوٹل میں ہی پیا کرتا تھا اس لیے میرے روز آنے، جانے کی وجہ سے یہاں کام کرنے والے “بیرے” مجھ سے پوچھے بِنا ہی خاموشی سے دودھ پتّی کا ایک کپ میز پر رکھ کر اپنے کاموں میں مصروف ہوجاتے تھے۔ میں وہاں پندرہ بیس منٹ تنہا، محض دودھ پتّی سے لطف اندوز ہو کر کاونٹر پر بل دے کر ہوٹل سے نکل جاتا۔
اُس شام بھی میں ہوٹل سے نکل کر بس میں بیٹھا اور ایک گھنٹے کی مسافت طے کر کے اپنے گھر پہنچا۔ گھر پر سب لوگ سو رہے تھے۔ میرے دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز سن کر ابو چونکے، آنکھیں ملتے ہوئے گیلری میں آئے اور بیرونی دروازہے کو اندر سے کھولا۔ میں خاموشی سے اندر آیا، ابو کو سلام کر کے اپنے کمرے میں چلا گیا۔ تھکن کی وجہ سے فوراً ہی مجھے نیند نے جکڑ لیا۔
اگلے دن دیر سے اُٹھا، چائے پی کر فیس بُک آن کیا تو زوہیب کی فرینڈ ریکوئسٹ آئی ہوئی تھی۔ زوہیب کو اپنی فیس بُک پر ایڈ کر کے مجھے بہت مسرت ہوئی۔ پھر میں نے اس کو انباکس میں میسج کر کے پوچھا کہ یہ میری پروفائل کیسے ملی تو اس کا جواب آیا کہ نام لکھ کر سرچ کیا اور یوں آئی ڈی مل گئی۔ میں نے اس موقع کو غنیمت جانا اور اس سے موبائیل نمبر سینڈ کرنے کا کہا۔ تھوڑی ہی دیر میں اس نے نمبر سینڈ کر دیا۔ مجھے کسی کام سے باہر جانا تھا، اس لیے زوہیب کو خدا حافظ کہہ کر میں اپنے کام سے باہر چلا گیا۔
دو چار روز بعد میں نے زوہیب سے ملنے کا پلان بنایا وہ شہر سے کافی دور ہائی وے کی طرف رہتا تھا اس لیے ہر روز اس کا شہر میں آنا ممکن نہیں تھا۔ صدر کے قریب ہی ایک چائے کے ہوٹل میں ہماری ملاقات طے ہوئی، وہاں ہم نے دو کپ چائے کے پیے، اطراف میں پھیلی ہوئی دکانوں، تیز ہارن بجاتی سامنے سے گزرتی ہوئی بسوں کو دیکھتے ہوئے، ہم اپنی خوش گپیوں میں بھی مگن رہے۔ معمول کی نسبت آج بہت سی دکانیں بند تھیں اور کچھ دکانوں کے شٹر آدھے کھلے ہوئے تھے۔ یہ آدھ کھلے شٹر اس بات کا اشارہ تھے کہ شہر میں کہیں کوئی مارا گیا ہے۔ اب تو روز کا یہ معمول بن گیا تھا کہ شہر میں گولیاں چلتیں، آٹھ، دس لوگ مارے جاتے، لوگ خوفزدہ ہو کر اپنی دکانوں کے شٹر نیچے گرا کر خود دکانوں کے اندر دبک کر بیٹھ جاتے۔ رفتہ رفتہ لوگ خوف کے اس ماحول میں جینے کے عادی ہو گئے تھے۔ اس لیے جہاں کہیں کوئی واردات ہوتی تو لوگ خوفزدہ ہونے کے بجائے مکمل بےخوف ہو کر اپنے کاروبار میں مگن رہتے، اگر کوئی دکاندار یا کوئی ہوٹل والا قتل ہوتا تو محض چند منٹوں بعد ہی لوگ واقعے کو بھول کر اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوجاتے کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ اُس دن بھی آثار کچھ ایسے ہی تھے۔ میں نے زوہیب سے کہا کہ اگر تم چاہو تو ہم ابھی صدر، بوہری بازار اور اطراف کے علاقوں میں والک کر کے کچھ وقت گزار سکتے ہیں، یہ علاقے یہاں سے محض بیس منٹ کے فاصلے پر ہیں۔ تم کو یہ علاقے دیکھنے چاہئیں کہ یہی کراچی کا اصل حُسن، اس کی اصل شناخت ہیں۔ کلیسا، مسجد، جماعت خانہ اور پارسیوں کا مندر بھی یہیں موجود ہے۔ میں نے جب اتنی تعریفیں کر دیں تو زوہیب بھی یہ جگہیں دیکھنے کے لیے بیتاب ہو گیا۔ چنانچہ ہم ہوٹل سے اُٹھ کر گاڑی کی طرف گئے، ڈرائیور نے قریب ہی گاڑی پارک کی ہوئی تھی۔ میں نے زوہیب سے کہا کہ ہمیں ان علاقوں میں پیدل گھومنا چاہیے، اتنے ٹریفک میں تم بیچارے ڈرائیور کو خوار کرو گے۔ اس کو یہیں پر رہنے دو ہم جب ایک دو گھنٹے میں وہ ساری جگہیں دیکھ لیں گے تو تم اپنے ڈرائیور کو مطلوبہ جگہ پر فون کر کے بلا لینا۔ اور یوں ہم پیدل چلتے ہوئے تھوڑی ہی دیر میں بوہری بازار پہنچ گئے۔ بوہری بازار میں مختلف دکانوں کو دیکھتے ہوئے ہم طاہری جماعت خانے کے قریب آگئے۔ گیٹ پر حسبِ معمول دو چوکیدار موجود تھے۔ میں نے زوہیب سے کہا کہ چونکہ ہم دونوں میں سے کوئی بھی بوہری نہیں ہے اس لیے یہاں کے دروازے ہمارے لیے وا ءنہیں ہوں گے، چلو اب یہاں سے آگے بڑھتے ہیں۔ ہم تھوڑا سا آگے بڑھے اور چلتی ہوئی گاڑیوں اور لوگوں کی بھیڑ کے درمیان سے راستہ بناتے ہوئے فریسکو بیکری کے سامنے سے گزرے اور پھر چند قدم کے فاصلے پر سبزی اور فروٹ والوں کے ہجوم کے قریب ہی ہمیں مّسجدِ صدیق نظر آئی۔ مسجدِ صدیق کو دیکھتے ہوئے ہم مزید آگے بڑھے اور سامنے ہی سینٹ پیٹرک چرچ کی خوبصورت کولونیل وضع کی پُر شکوہ عمارت ہماری منتظر تھی۔ چرچ کے گیٹ پر ہماری سخت چیکنگ ہوئی اور اگلے ہی لمحے ہم دونوں سنگِ مرمر کی بنی ہوئی سیڑھیوں پر بیٹھ کر ماحول کا جائزہ لینے لگے۔ زوہیب کی خوشی دیدنی تھی، وہ پہلی بار آج سینٹ پیٹرک چرچ کی عمارت کے اندر آیا تھا۔ باتیں کرتے ہوئے اس نے مجھے اطلاع دی کہ اس وقت تمہارے ساتھ بیٹھے ہوئے میرے دماغ میں ہلچل سی ہونے لگی ہے اور نظم کی کچھ لائنیں مجھ میں تخلیق ہو رہی ہیں، اگر ابھی کاغذ قلم ہوتا تو اس نئی وارد ہونے والی نظم کو صفحے پر منتقل کرتا۔ میں نے کہا کوئی بات نہیں تم اب اس نظم کو چھوڑ کر چرچ کی طرف متوجہ ہو جاؤ، وقت بھی گزر رہا ہے اور ہمیں کچھ اور جگہیں بھی دیکھنی ہیں۔
ہم چرچ کے دروازے سے نکل کر سامنے کی روڈ کراس کر کے ایک نوادرات کی دکان کے اندر داخل ہو گئے، میں اکثر اس دکان میں آیا کرتا تھا آج زوہیب کو بھی اس دکان کا طواف کروایا۔ اسے یہ دکان شاندار لگی، ایک ہی جگہ پر مختلف مذاہب کے مقدس فن پاروں اور مورتیوں کو دیکھ کر اُسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ یقین آتا بھی تو کیسے کہ سوات کی وادیوں سے طالبان جتھوں کی صورت میں نکل کر، سیکیورٹی فورسز سے سازباز کر کے شہر کے مضافاتی علاقوں کو اپنا مسکن بنا چکے تھے۔ آئے روز خبریں آتیں کہ مضافاتی علاقوں کی مسجدوں میں پیش امام نمازیوں سے گزارش کرتے پائے گئے کہ اپنی زندگیوں کو شریعت کے مطابق ڈھالو، مسجدوں میں جمعے کے اجتماعات میں من پسند، خودساحتہ شریعت کا مکسچر وعظ کی صورت میں نمازیوں کو پلایا جاتا۔ شہر اُن دنوں ایسا ہی تھا شدت پسندی کی آگ میں خاموشی سے جھلستا ہوا۔ ان دنوں لسانی اور قومی تعصب پرستی کے زہریلے انجیکشن بھی حاکم شہر اکثر اپنے ٹیلیفونک خطابات سے لگایا کرتے تھے کہ آناً فاناً بھرے بازار خالی ہو جاتے، سڑکیں سُنسان ہو جاتیں اور لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے۔ پولیس ہاتھ پہ ہاتھ دھرے، سنگین ہوتے حالات کو کنٹرول کرنے کے حکم کا انتظار کرتے ہوئے اور جب حالات کو کنٹرول کرنے کا سپاس نامہ جاری ہوتا تو 17، 18 لاشیں گِر چکی ہوتیں۔ ایدھی کی گاڑیاں ان لاشوں کو اس امید میں ہسپتال پہنچاتیں کہ شاید کسی کی سانس بروقت طبّی امداد سے بحال ہو جائے۔ اکثر ایسا ہوتا کہ قاتلوں کی طرف سے لاشوں کو اُٹھانے کی سختی سے ممانعت کر دی جاتی، یہ طریقہ اس لیے اختیار کیا جاتا کر سڑکوں پر پڑے ہوئے زخمی لڑکے سسک سسک کر اپنے انجام کو پہنچیں اور دیکھنے والے عبرت حاصل کریں۔
نوادرات و فن پاروں کی دکان سے نکل کر ہم باہر آئے تو شب کے آٹھ بج رہے تھے۔ زوہیب نے مجھے بتایا تھا کہ ان دنوں اس کی بیوی اور دونوں بچے جہلم گئے ہوئے ہیں۔ زوہیب کا تعلق جہلم سے تھا اور وہ یہاں نیشنل ہائی وے اتھارٹی میں ایک اہم پوسٹ پر فرائض سرانجام دے رہا تھا۔ شہر میں اس کو آئے بمشکل پانچ، چھ مہینے ہی ہوئے تھے۔ شادی کے بعد جیولوجی میں نمایاں نمبروں سے ایم ایس میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد اب اس کا ارادہ پی ایچ ڈی میں داخلہ لینے کا تھا۔ شاعری اور ادب میں رغبت کی وجہ سے وہ بہت سی نظمیں تخلیق کر چکا تھا۔ اس نے ایک شاہکار مضمون منٹو کے فن پر بھی تحریر کیا تھا۔
رات چونکہ کافی بیت چکی تھی اس لیے ہم نے پارسی ٹیمپل کا پلان مؤخر کر کے گھر جانے کا فیصلہ۔ زوہیب نے اپنے ڈرائیور کو کال کر کے فریسکو بیکری کا راستہ سمجھایا کیونکہ ہم دونوں نوادرات کی دکان سے نکل کر چہل قدمی کرتے ہوئے فریسکو بیکری کے سامنے پہنچ چکے تھے۔ کچھ ہی دیر میں زوہیب ڈرائیور پہنچ گیا۔ میں اس کو خدا حافظ کہہ کر اپنے بس اسٹاپ کی طرف جانے لگا تو اس نے کہا اگر تم میرے ساتھ میرے گھر چلو تو مجھے خوشی ہو گی، ویسے بھی میں گھر میں اکیلا ہوں بوریت میں تنہا رات بسر کرنے سے بہتر ہے کہ تمہارے ساتھ گپ شپ میں رات گزاروں۔ مجھے زوہیب کی آفر اچھی لگی، میں نے اس کو شرارت سے کہا کہ ایک شرط پر چلوں گا۔۔۔۔ اگر تم رات کو مجھے اپنی سبز آنکھوں میں اُترنے دو تو۔۔؟؟؟؟۔ میری بات سن کر زوہیب دلکشی سے اپنے مخصوص انداز میں مسکرایا اور کہا کہ ان سبز آنکھوں میں اُترنے والے ڈوب جایا کرتے ہیں، اور میں نہیں چاہتا کہ تم یوں ڈوب جاؤ۔۔۔ تمہیں تو ابھی بہت آگے جانا ہے، پڑھنے والوں کے لیے لازوال افسانے تخلیق کرنے ہیں، کیا رکھا ہے ان سبز آنکھوں میں۔۔۔۔ چلو اب خاموشی سے گاڑی میں بیٹھو، راستہ طویل ہے اور پھر ٹریفک جام کی اذیت سے بھی گزرنا ہے۔
دو ڈھائی گھنٹوں بعد میں زوہیب کے عالیشان فلیٹ میں تھا۔ چار کمروں کے اس فلیٹ میں دو کمروں کو نہایت اہتمام سے سجا کر رکھا گیا تھا، ان دو کمروں میں ایک کمرہ مہمانوں کے لیے مختص تھا جبکہ ایک کمرہ ڈرائینگ روم کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ ایک چھوٹا کمرہ تھا جس میں
کچھ بے ترتیبی جھلک رہی تھی، چیزیں اِدھر اُدھر بکھری پڑی تھیں۔ ڈراینگ روم سے ہوتے ہوئے ہم بیڈ روم میں آگئے۔ میں چونکہ زوہیب کا مہمان نہیں بلکہ دوست تھا اور اس کی بیوی جہلم گئی ہوئی تھی اس لیے ہم نے وہ رات بیڈ روم میں ہی گزارنے کا فیصلہ کیا۔ ہم دونوں ہی تھکے ہوئے تھے اس لیے منہ ہاتھ دھو کر بیڈ پر لیٹ گئے اور باتیں گرنے لگے۔
کچھ ہی دیر بعد جب میں نے اس سے کہا کہ زوہیب تمہاری یہ سبز آنکھیں بے انتہا خوبصورت ہیں، بھابھی تو ہر دم ان آنکھوں کی نظر اتارتی ہوں گی۔۔۔ تو اس نے لا پروائی سے کہا کہ ایسا کچھ نہیں، اُس نے تو آج تک میری آنکھوں کی ایک بار بھی تعریف نہیں کی۔ یہ سُن کر مجھے تعجب ہوا کیونکہ مجھے زوہیب سے اس طرح کے جواب کی توقع نہیں تھی۔ پھر کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد میں نے اُس سے دریافت کیا کہ کیا تم نے کبھی بھابھی کی تعریف کی، اس کے چہرے کی یا اس کے انداز کی۔۔۔۔ تو اُس نے بیحد روکھے لہجے میں جواب دیا کہ نہیں میں نے کبھی اس کی تعریف نہیں کی، میرے دل میں یہ بات ہی نہیں آئی کہ اپنی بیوی کی تعریف و توصیف کروں۔۔۔۔ زوہیب گویا ہوا، میرے دو بچے ہیں، بیوی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے، انجنیئرنگ کی ڈگری کے بعد اس نے کچھ عرصہ ایک فرم میں ملازمت کی اور پھر ہماری شادی ہو گئی۔ ہماری مکمل طور پر ارینجڈ میرج تھی۔ ہم آپس میں رشتے دار تھے اور جب ہم دونوں کی یونیورسٹی کی تعلیم مکمل ہوئی تو چند سالوں بعد ہماری شادی کر دی گئی۔ اس بات کو بھی اب سات، آٹھ سال ہونے کو ہیں۔۔۔۔۔۔ میں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے پوچھا کہ تو جناب ان سات آٹھ سالوں میں ایک بار بھی تمہاری یہ سبز آنکھیں زیرِ بحث نہیں آئیں۔۔۔۔ حیرت ہے مجھے زوہیب، اکیسویں صدی میں تمام تر آسائشوں کے باوجود کتنی بدمزہ اور غیر رومانوی سی زندگی بسر گزار رہے ہو تم اپنی ایک عدد تعلیم یافتہ بیوی اور دو عدد بچوں کے ساتھ۔۔۔
باتوں باتوں میں آدھی رات بیت چکی تھی، اس دوران اُس نے مجھے انسانی حقوق پر لکھی ہوئی اپنی ایک تازہ نظم سنائی، وہ نظم بہت اچھی تھی، مجھے پنجابی نہیں آتی اس لیے زوہیب نے فوری طور پر میرے لیے نظم کا اردو ترجمہ بھی کیا۔ اس نظم کو سن کر مجھے ہندوستان کا ایک گیت یاد آگیا جو کہ انسانی حقوق پر ہی تھا۔ میں وہ ہندوستانی گیت گُنگنانے لگا۔۔۔۔
“مجھ کو بھی تو جینے کا حق ہے
میں بھی تو انسان ہوں۔۔۔۔۔”
حیران کُن حد تک زوہیب کی وہ نظم اس ہندوستانی گیت سے ملتی جلتی تھی۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آپ کوئی چیز تخلیق کریں اور ویسا ہی خیال کوئی پہلے سے تخلیق کر چکا ہوتا ہے۔ لیکن ہم زوہیب کی اس نظم کو نقل نہیں کہہ سکتے، ہاں مماثلت ضرور کہہ سکتے ہیں۔
مجھے سخت نیند آرہی تھی لیکن میں ابھی جاگنا چاہتا تھا۔ زوہیب کی سبز آنکھوں کی گہرائی میں جھانک کر وادی ناران کی جھیل کو محسوس کرنا چاہتا تھا۔ ہم دونوں ایک ہی بیڈ پر تھے اور پھر میں نے اُس کی سبز آنکھوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ زوہیب سو چکا تھا اور پھر میں بھی سو گیا۔
صبح دس بجے کے وقت میری آنکھ کُھلی، زوہیب بھی اس وقت لیٹا ہوا ہی تھا۔ میں نے زوہیب کو آواز دے کر جگایا اور اس سے کہا کہ آج دن کے وقت ہم صدر کا رخ کریں گے، وہاں پارسی ٹیمپل کو دیکھ کر اردو بازار جائیں گے، کچھ کتابیں بھی لینی ہیں مجھے، تم اپنے ڈرائیور کو فون کر کے آگاہ کر دو۔ میں بیڈ روم سے نکل کر ڈرائینگ روم میں داخل ہوا اور صوفے پر لیٹ کر وہاں رکھے پرانے اخبارات کو پڑھنے لگا۔ اخبارات کو پڑھتے پڑھتے میری آنکھ لگ گئی اور عجیب سا خواب دیکھ کر میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ مجھے بےچینی ہونے لگی۔۔۔ کچن میں جا کر فریج سے پانی کی ٹھنڈی بوتل نکال کر میں نے تین گلاس پانی کے پیے۔ میں پانی پی ہی رہا تھا کہ زوہیب کچن میں آگیا، وہ تیار ہو چکا تھا اور مجھ سے کہنے لگا کہ تم بھی جاکر نہا لو ہم ابھی کچھ دیر میں نکلیں گے، ایک دوست کی کال آئی ہے اس سے
“جوہر موڑ” پر ملاقات کر کے ہم پھر پارسی ٹیمپل کے لیے جائیں گے۔ میں نے کہا ہاں ٹھیک ہے۔ میں دس پندرہ منٹ تک تیار ہو جاؤں گا۔
ہم جب فلیٹ سے نکلے تو ساڑھے بارہ ہو رہے تھے، گرمی تیز تھی اور دھوپ کی شدت سے ہماری آنکھیں چندیانے لگیں تھیں۔ سُپر ہائی وے سے ہوتے ہوئے ہم جب آصف  سکوائیر کے سامنے پہنچے تو تقریبا سب ہی دکانیں بند نظر آئیں۔
دن کے اس پہر دکانوں کا بند ہونا عجیب سا لگا، پھر خیال آیا کہ یقیناً یہاں آئے ہوں گے وہ بھتہ مافیا کے کارندے، دکانوں کو بند کروانے کے لیے۔۔۔ اُن دنوں یہ چلن عام تھا، کوئی زیادہ پرانی بات نہیں یہی کوئی نو، دس سال ہی گزرے ہوں گے، بھتہ مافیا کے کارندے جن کو مکمل طور پر شہر کی حکمراں سیاسی پارٹی کی آشیرباد بھی حاصل تھی سارے شہر کے دکانداروں سے من پسند بھتہ بٹورتے پھرتے تھے۔
ہماری گاڑی آصف  سکوائر کے سامنے بنے پیٹرول پمپ سے سیدھے ہاتھ کی طرف مُڑی اور تیز رفتاری سے آگے بڑھتی ہوئی مسکن گیٹ کو کراس کر کے این ای ڈی یونیورسٹی کو پیچھے چھوڑتی ہوئی آگے ہی بڑھ رہی تھی۔ ڈرائیور خوب موڈ میں لگ رہا تھا۔ عام دنوں کے مقابلے میں آج گاڑیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔ کچھ ہی دیر بعد ہم جوہر موڑ پہنچ چکے تھے۔ حیران کن طور پر یہاں سب دکانیں اور چائے کے ہوٹل کُھلے ہوئے تھے، لوگوں کا رش بھی معمول کے مطابق تھا۔ ہم لوگ مطلوبہ وقت سے آدھا گھنٹہ پہلے ہی جوہر موڑ پہنچ چکے تھے۔ مجھے چائے کی طلب ہو رہی تھی میں نے زوہیب سے کہا کہ ہم دونوں گاڑی سے اُتر کر سامنے روڈ کے قریب ہی ہوٹل پر چائے پی لیتے ہیں، تم اپنے دوست کو بھی فون کر کے یہیں بلا لو۔
گاڑی سڑک کے قریب پارک کر کے ہم فُٹ پاتھ کے اوپر چلتے ہوئے کوئٹہ سلیمان ہوٹل میں پہنچے اندر گرمی ہو رہی تھی اور بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ہوٹل میں لگے دونوں پنکھے بھی بند تھے۔ ہوٹل والے کو ہم نے فُٹ پاتھ پر ہی دو کرسیاں لگانے کا کہا اور دو کپ دودھ پتّی کا بھی آرڈر دے دیا۔ ابھی ہم ہوٹل کے کاؤنٹر کے قریب ہی بنے فٹ پاتھ پر کھڑے تھے کہ بیرا اندر سے دو کرسیاں اور ایک چھوٹا میز لے آیا، ہم لوگوں نے وہیں کرسیاں لگائیں اور بیٹھ گئے۔ ہمارا رُخ سامنے سڑک کی طرف تھا، ہماری پُشت پر کوئٹہ سلیمان ہوٹل کا کاؤنٹر تھا اور اس کاؤنٹر پر ہوٹل کا مالک بیٹھا ہوا تھا۔ چائے میں ابھی چند منٹ تھے، مجھے گرمی محسوس ہوئی، سوچا اندر واش بیسن سے منہ ہاتھ دھو آؤں تو فریش ہو جاؤں گا۔ میں زوہیب کو یہ بات کہہ کر ہوٹل کے اندر لگے واش بیسن کی طرف چلا گیا اور ابھی نلکہ کھولا ہی تھا کہ میرے کانوں میں فائرنگ کی آواز گونجی، گولیاں مستقل چل رہیں تھیں۔۔۔ مجھے اپنے کانوں ہر یقین نہیں آیا، واش بیسن پر کھڑے ہوئے مجھ پر سکتہ سا طاری ہو گیا، نل سے پانی گر ریا تھا اور میرے ہاتھ نل کے پانی کی بہتی ہوئی دھار میں گرم موسم کے باوجود منجمد سے ہو گئے تھے، بار بار مجھے زوہیب کا خیال آرہا تھا اور پھر اچانک پوری قوّت سے میں جب واش بیسن سے پیچھے کی طرف مڑا تو کچھ لوگ نظر آئے جو فٹ پاتھ پر جھکے ہوئے تھے، مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا زوہیب فٹ پاتھ پر گرا ہوا، اس کی ایک آنکھ خون آلود اور گردن سے تھوڑا نیچے اس کے بدن پر دو گولیوں کے نشانات تھے، زوہیب کے جسم پر داغی گئی گولیاں اپنا اثر دکھا چکیں تھیں، ہوٹل کا مالک حیرت انگیز طور پر زندہ بچ گیا، اس کی کلائی پر ایک گولی لگی اور وہ فائرنگ کے وقت اپنے آپ کو کاؤنٹر کے نیچے چھپانے میں کامیاب ہو گیا تھا۔۔۔۔ مگر زوہیب جو سبز آنکھیں لیے اس دنیا میں پیدا ہوا تھا کہ جس کی سبز آنکھوں میں مجھے وادیِ ناران کی کسی جھیل کا سا گمان ہوتا تھا، آج وہ سبز آنکھیں ہمیشہ کے لیے مردہ ہو چکی تھیں، زوہیب اپنی دلکش سبز آنکھوں کو گہرا سرخ کرتا ہوا موت کی وادی میں اُتر چکا تھا، اُس کا قاتل کون تھا۔۔۔؟؟؟
آج چار اپریل ہے، آج کے دن وہ سبز آنکھوں والا۔۔۔۔
میرا دوست زوہیب!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *