ایمان کے تقاضے اور ہمارے روئیے۔۔۔ مرزا شہباز حسنین

چند سال پہلے جاوید چوہدری نے ایک آرٹیکل میں واقعہ بیان کیا کہ ایک فضائی سفر کے دوران ان کی ملاقات ایک یہودی اسکالر سے ہوئی۔ گفتگو کے دوران یہودی اسکالر نے بتایا کہ وہ مذہب اسلام کے متعلق ریسرچ کر رہا ہے ۔جاوید چوہدری نے سوال کیا کہ آپ نے اپنی اسلام پر کی گئی تحقیق سے کیا نتیجہ اخذ کیا۔۔یہودی اسکالر نے کہا میں اپنی تحقیق کی بنیاد پر اس نتیجے پر پہنچا ہوں ،کہ اسلام دراصل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات اقدس سے محبت و عقیدت کا نام ہے۔جب تک اسلام کے پیرو کاروں کے دل میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات گرامی سے محبت و عقیدت موجود ہے ۔اسلام کی بقاء اور پھیلاؤ کو رتی برابر خطرہ لاحق نہیں ۔ محمد و آل محمد سے محبت اسلام کی بقاء کی ضامن ہے۔ایک یہودی اسکالر اپنی تحقیق کی بنیاد پر ہم کو اس حقیقت سے روشناس کروا رہاہے ۔مگر کتنی بد قسمتی کی بات ہے ،کہ ہم مسلمان اس بنیادی حقیقت سے روشناس ہونے کے باوجود نام نہاد علماء کے فکری مغالطوں کا شکار ہوتے جا رہے ہیں ۔۔بطور مسلمان ہمارے ایمان کا بنیادی تقاضا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات اقدس سے جڑی ہر نسبت سے والہانہ محبت اور وارفتگی کا متقاضی ہے۔۔آقائے دوجہاں کی ذات اقدس سے محبت کا بنیادی مفہوم کیا ہے ۔کاش ہم اس سوال پر خود غور و فکر کریں ۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل و خرد سے نوازا ہے۔۔

ہر انسان محبت کے مفہوم کو سمجھ سکتا ہے ۔فقط جستجو اور لگن کی ضرورت ہے۔اپنی روز مرہ کی زندگی میں جھانک لینے سے بھی آسانی کے ساتھ محبت کا فلسفہ سمجھا جا سکتا ہے ۔ محبت انسان کی جبلت میں شامل جذبہ ہے ۔محبت کا وجود ازل سے ابد تک موجود رہے گا۔محبت میں مبتلا شخص کی زندگی کا محور فقط محبوب کی خوشنودی اور قرب حاصل کرنا ہے ۔بعین ہی اسلام کی خوشنودی اور قرب کے حصول کا فقط ایک ذریعہ ہے ۔خالق کائنات نے اپنے پیغام میں ہر ذی روح کو آگاہ کیا کہ کائنات میں باری تعالیٰ کی عزیز ترین ہستی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات اقدس ہے۔ہم اگر اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور قرب حاصل کرنا چاہتے ہیں تو فقط ایک ہی راستہ ہے ۔اللہ تعالیٰ کی محبوب ترین ہستی سے محبت کی جائے ۔ان کی نسبت سے محبت ان کی آل سے اہل بیت سے الغرض ان کی ذات اقدس سے جڑی ہر شے سے محبت کی جائے ۔محبت خود کار طریقے سے محبت کرنے والوں کو رہنمائی فراہم کرتی ہے۔محبت کی شمع جب دل میں روشن ہوتی ہے تو خود بخود میکانکی انداز میں محبوب کی رضا کے حصول کی خاطر ہدایات ہمارے ذہن کے نہاں خانے میں قطار اندر قطار نازل ہونے لگتی ہیں ۔مگر دل کے اندر محبت کا موجود ہونا ضروری ہے ۔

موجودہ دور میں اگر ہم اپنے روئیے پر نظر ڈالیں تو صورتحال ایمان کے تقاضے کےبالکل برعکس ہے۔ہمارے رویئے ہمارے جذبات کا عکس ہیں ۔دلوں کے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے۔کیا ہم محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت سے سرشار ہیں یا فقط علمی و فکری مغالطوں کا شکار ہیں۔مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ بتدریج ہمارے دلوں سے نبی پاک اور ان کے اہل بیت کی محبت کو ختم کرنے کے لیے مغالطوں کا سہارا لیا جارہا ہے۔محبت کی شمع کو بجھایا جا رہاہے ۔دور حاضر کے نام نہاد علماء اور خود ساختہ دانشور نت نئی توجیحات پیش کر کے محبت کے جذبات کو مجروح کرنے میں مشغول ہیں ۔محبوب کائنات اپنے نواسوں سے محبت میں اپنے سجدے طویل کر دیتے تھے ۔محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات گرامی اور ان کے اہل بیت سے محبت ایمان کا بنیادی تقاضا ہے ۔آج کے رویئے ملاحظہ ہوں۔اپنا عزیز دنیا سے رخصت ہو جائے تو ہم ہر سال اس کی محبت میں سوگ مناتے ہیں ۔مگر خانوادہ رسول کی شہادت کو دلائل کی زد میں رکھ کر پرکھنے میں مصروف ہیں ۔چند دانشور آج کی نسل کو یہ باور کروانے میں مصروف ہیں کہ محرم کے مہینہ میں شادیوں کی ممانعت نہیں ۔محبوب کائنات کے نواسے امام حسین اور ان کے گھرانے کی شہادت کو یکسر نظر انداز کرنا ان کے رویوں سے ظاہر ہوتا ہے ۔اپنے مرنے والوں کی برسی ہر سال منائی جاتی ہے مگر واقعہ کربلا گویا ان کے نزدیک کوئی سانحہ ہی نہیں ۔ہمارے رویئے محبت کی بجائے بغض نفرت اور بے زاری کے عکاس ہیں ۔خدا کے لیے ان رویوں کو تبدیل کریں ۔ایمان کے بنیادی تقاضاکو سمجھنے کی کوشش کریں ۔محبت اللہ تعالی ٰکے محبوب سے ان کی اہل بیت سے ان کی زندگی کے اک اک پل سے ۔حضور کائنات کی محبت کو دنیا میں موجود ہر شے پر فوقیت دے کر ہی ایمان مکمل ہو سکتا ہے ۔

مرزا شہبازحسنین
مرزا شہبازحسنین
علم کا متلاشی عام سا لکھاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *