ہم تیار نہیں تھے ۔۔۔ مسعودچوہدری

ایک پاکستانی باپ ، بھائی، بیٹا، ہونے کی حیثیت سے راقم آپ کے سامنے معافی مانگتا ہے۔ جب آپ معاف کر دیں گے تو اللہ رب العزت بھی فوراً معاف فرما دیں گے۔ آپ حیران ہوں گے کہ میں آپ سے معافی کیوں مانگ رہا ہوں؟ کیونکہ یہ انتہائی چھوٹی شئے لوگوں کی اَنا کا مسئلہ بنی ہوئی ہے اور میرے پیارے پاکستان اور اسکے کروڑوں بسنے والوں کی جان کو سولی پر لٹکائے ہوئے ہے۔ ہمارے ہاں معافی مانگنے کا اور معاف کرنے کا رواج تقریباً  ختم ہو چکا ہے۔ شاید میرے معافی مانگنے سے جو کچھ میں آگے کہنے جا رہا ہوں  چند ایک لوگوں کے قلوب و اذہان میں رمق احساس پیدا کر دے اور کوئی بعید نہیں کہ اس کے بعد میرا پیارا اللہ رب العزت جو کہ تمام عزتوں کا مالک ہے میرے پیارے آقا و مولیٰ ﷺ کی آل کے صدقے انہیں اور ہمیں سب کو معاف فرما دیں اور ہمیں سدھرنے کا ایک موقع عنایت فرمادیں ۔

آج پیارے بھائی،صحافی، اور اینکرپرسن جمیل فاروقی نے نجی ٹی وی چینل   کے لیے اپنے پروگرام دی ایڈیٹوریل کا ٹیزر بھیجاجس میں انہوں نے نیشنل ہیلتھ ایمرجنسی کے ڈی جی ڈاکٹر امجد محمود کے ساتھ انٹرویو کیا۔ جناب ڈی جی صاحب یہ ماننے کو تیار نہیں دکھائی دیئے کہ “ہم تیار نہیں تھے”۔ اس آرگیومنٹ میں ڈاکٹر صاحب اکیلے نہیں ہیں۔ لیکن ظاہر ہے نوکری کا سوال ہے تو کوئی کیوں معافی مانگے گا۔ نہ ہی پاکستان میں روایت ہے  کہ کہہ ہی دیا جائے کہ ہم تیار نہیں تھے۔ “میں ذمہ دار ہوں” کا جملہ بھی ہم نے آج تک کبھی کسی سے نہیں سنا اور نہ ہی کسی نے معافی مانگی ہے۔ یہ اتنا بڑا جملہ ہے کہ کہتے ہوئے زبان تھک جاتی ہے۔ چلیں آگے بڑھتے ہیں۔ ٹھیک ہے جو بات نیشنل ہیلتھ ایمرجنسی کے ڈی جی صاحب نے نہیں کہی میں کہہ دیتا ہوں “ہم تیار نہیں تھے”۔ دکھ اگر اتنا ہی ہوتا تو شاید صبر آجاتا لیکن اسے بھی چھوڑیے۔۔

ہمارے ایک فیلڈ رپورٹر نے  کراچی کی ویڈیو بھیجی جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کا جم غفیر حکومتی اعلان کے بعد راشن لینے کے لیے ایک مخصوص مقام کی طرف چلا جا رہا تھا۔ گو کہ یہ ایس او پی سنایا گیا تھا کہ وائرس کے پھیلاؤ  کو روکنے کے لیے چار یا اس سے زیادہ لوگوں کے اکٹھے ہونے، چلنے، پھرنے پر مکمل پابندی ہو گی اور لوگوں کے ایک جگہ اکٹھے ہونے کی حوصلہ شکنی کی جائے گی لیکن اس کے باوجود اتنی بڑی تعداد کا اختلاط؟ درست کہا، بھوک نہ نظر آنے والے دشمن سے زیادہ ظالم ہوتی ہے۔ ہزاروں لوگوں کی لائن، غربت کا مذاق، اور پھر دھکے اور صعوبتیں برداشت کرنے والے ان سفید پوشوں کے لیے حکومت کی جانب سے وہ جملہ جو یہ حکمران طبقہ کبھی بھی نہیں کہے گا۔  وہ جملہ یہاں بھی خاموش ہے ،میں کہہ دیتا ہوں کہ “ہم تیار نہیں تھے”۔

اندرون سندھ سے ہمارے سٹیزن رپورٹرنے ایک ویڈیو پیغام بھیجا جس میں  سندھ کا ہاری ایک پاؤ گھی کا پیکٹ، آدھا کلو چاول، چند کلو آٹا، اور اپنا ادھ ننگا بیٹا گود میں اٹھائے بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ صاحب سے اپنے حال کا رونا رو رہا ہے اور حکومتی امداد کی دہائی  دے رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس دکھ اور تکلیف کا میں اور آپ کیا ہر ذی شعور اندازہ کر سکتا ہے کہ جب کام بند ہوجائے اور آپ فاقے  سے ہوں اور آپ کو ایک تھیلہ ملے جس پر زندہ بھٹو کی تصویر کی لاگت اس تھیلے میں موجود سامان کی مالیت سے زیادہ ہو تو زبان خواہ کچھ بھی ہو اور کہا جو بھی جا رہا ہو،اے میرے ملک کے ہاری جو بات آپ کی سندھ حکومت آپ سے کبھی نہیں کہے گی ،میں معافی مانگتے ہوئے کہہ دیتا ہوں کہ “ہم تیار نہیں تھے”۔

ہمارے فیلڈ رپورٹر اور سینئر جرنلسٹ ڈاکٹر نفیس بھٹہ نے ایک آٹے کے تھیلے کی تصویر بھیجی جس کو ایک ترازو پر رکھا ہوا ہے۔ آٹے کے تھیلے پر بیس کلو لکھا ہوا ہے جبکہ اس کا پورا وزن ترازو پر ساڑھے اٹھارہ کلو ہے۔ پورا تولنے سے متعلق صریح قرآن و حدیث کے احکامات، حکومتی لاک ڈاؤن اور کڑے احتساب کی نوید و شنید دینے والی حکومت اور ہمارے دن رات داد وصول کرتے عوام کے حقوق کے محافظ فوڈ ڈیپاٹمنٹ و دیگر متعلقہ ادارہ جات جو  اس تمام کرپشن کے پیچھے آپ اور مجھ عوام پر اپنے ہاتھ صاف کر رہا ہے اس نے تو کبھی سامنے آنا نہیں لہذا اس فلور مل مالک سے لے کر آخری چپڑاسی تک جو جو کمیشن بنا رہا ہے اور جو جو ان بے حیاء   باگڑ بلوں پر ہاتھ ڈالنے کی سکت، ہمت، و حوصلہ نہیں رکھتا باوجود اختیارات  ہونے کے اس کی طرف سے میں معافی مانگتے ہوئے کہتا ہوں کہ “ہم تیار نہیں تھے”۔

کالم نگار و صحافی ڈاکٹر شجاع اختراعوان نے اپنے کالم وینٹی لیٹر میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں وینٹی  لیٹرز کی کل تعداد  1900  ہے جبکہ حکومت نے ایک ہزار کا آرڈر دے دیا ہوا ہے جو کہ دو ماہ تک پاکستان پہنچ جائیں گے۔ وینٹی لیٹر کیوں ضروری ہیں؟ یہ بحث آپ ہر جگہ پر سن رہے ہوں گے۔ مختصراً عرض کر دوں کہ کرونا وائرس سانس کی نالی کو اور پھیپھڑوں کو تباہ کر دیتا ہے جس سے انسان کو مصنوعی طور پر سانس دیا جانا ضروری ہوتا ہے جس کے لیے وینٹی لیٹر کی ضرورت ہوتی ہے۔ سب کو اس کی اہمیت کا اندازہ ہے۔ فروری میں پاکستان میں پہلا کیس رپورٹ ہونے سے لے کر اب تک صرف یہ فیصلہ کیا جا سکا ہے کہ ہمیں مزید وینٹی لیٹر کی ضرورت ہے۔ لہذا یہ کام پہلے کیوں نہیں کیا جا سکا؟ ہم نے خود کیوں نہ بنا لیے؟ اور کب تک ہم ہر چیز کے لیے باہر دنیا کی طرف ہی دیکھتے رہیں گے؟ ایک طویل بحث میں جائے بغیر تمام وہ لوگ جن کو وینٹی لیٹر نہ ملنے کی وجہ سے دشواریوں کا سامنا ہے اور مستقبل میں کرنا پڑ سکتا ہے میں ہاتھ جوڑ کر آپ سے معافی مانگتا ہوں اور صرف وہ بتانا چاہتا ہوں جو کوئی اور نہیں بتائے گا کہ “ہم تیار نہیں تھے”۔

ہمارے بھائی اور کالم نگار وقار اسلم نے چند تصاویر بھیجیں جن میں وفاقی وزراء نےاین پچانوے  ماسک لگا رکھے ہیں۔ چند دن پہلے سنان ورک صاحب نے گورنر پنجاب صاحب کی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کو قرنطینہ مرکز میں تبدیل کرنے کے موقع پر این پچانوے ماسک لگائے دورہ کی کوریج بھیجی تھی۔ اس سے درکنار کہ میرے تحفظات کیا ہیں یونیورسٹیز ہاسٹلز کو قرنطینہ بنائے جانے میں، اور یہ کہ ہم شاید مستقبل میں بہت سی دیگر بیماریوں کو دعوت دینے جارہے ہیں لیکن یہ اور دیگر ابحاث ا یک طرف رکھ کر یہ بتاتا چلوں کہ این پچانوے ایک خاص طرح کا سرجیکل ماسک ہے جو کہ کرونا کا مقابلہ کرتے ہمارے فرنٹ لائن ڈاکٹر، نرسز، پیرا میڈیک سٹاف، پولیس  ، اور آرمی پرسنز کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ یہ ان لوگوں کے لیے لازم و ملزوم ہے جنہیں اس بیماری کا تواتر کے ساتھ اور ہر وقت سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ گو کہ ملک میں تعداد بہت کم موجود ہے اور پہلے ہی ایک انکوائری جاری ہے کہ کس طرح ملک سے یہ ماسک باہر چلے گئے اور اب ان ڈاکٹروں ، نرسوں، اور پیرا میڈک سٹاف کے لیے بھی موجود نہیں جو کرونا وائرس کے علاج اور مریضوں کی دیکھ بھال میں مصروف عمل ہیں۔ انتہائی دکھ ہوا جب دیکھا کہ وفاقی وزیر زرتاج گل صاحبہ نے پیرا میڈک خواتین کے ساتھ تصویر جاری کی اور طاقتور اور غیر طاقتور کا فرق سب کو دکھایا۔ شاہ محمود قریشی ہوں یا گورنر پنجاب چوہدری سرور، سب کے پاس این پچانوے ماسک وافر موجود ہیں لیکن اگر دستیاب نہیں ہیں تو ڈاکٹروں اور نرسوں کے لیے ہی نہیں ہیں۔ اس پر میں بھی ان تمام لوگوں کی طرح جو ڈاکٹروں اور نرسوں کو سلامی دے رہے ہیں سلامی دیتا ہوں کہ آپ اس محاذ پر ہیں جہاں آپ کے پاس ضروری ہتھیار نہیں، اور گو کہ اس کا مطلب مجھ سمیت سب کو پتہ ہے کہ جب آپ ضروری سامان مانگ رہے ہیں اور آپ کو سلامی دی جا رہی ہے یہ ہی ہے کہ ہمارے اوپر اکتفاء نہیں کرنا لیکن جو الفاظ نہیں کہے گئے ان کے ساتھ ہی میں آپ سب وطن کے جانبازوں سے معافی مانگتا ہوں کہ یہ کام کسی اور نے نہیں کرنا اور الفاظ کے درمیان کا لفظ کہتا ہوں کہ “ہم تیار نہیں تھے”۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *