ہمہ نا امیدی ، ہمہ بدگمانی۔۔رضوانہ سیّد علی

میری امی بتایا کرتی تھیں کہ تقسیم کے وقت جب لاہور میں فسادات پھیل گئے ، تب شہر کو کرفیو لگا کر ، ڈوگرہ رجمنٹ کے حوالے کر دیا گیا ۔ یہ رجمنٹ اپنی شقاوتِ قلبی کے حوالے سے پورے برصغیر میں بدنام تھی ۔ کرفیو کو کئی روز گزر چکے تھے ۔ میری امی کے محلے کے ایک نوجوان نے سوچا کہ وہ ذرا گلی میں ہی چہل قدمی کر لے ۔ اس ارادے سے وہ سیڑھیاں اترا اور ڈیوڑھی میں دبے پاؤں چلتا ہوا بیرونی دروازے تک گیا اور تھوڑا سا آگے ہو کر گلی میں جھانکنے لگا ۔ ڈوگرہ سپاہی بندوقیں تانے مکانوں کے چھجوں کی آڑ میں گشت کر رہے تھے ۔ وہ فوراً اندر ہوگیا اور سیڑھیاں چڑھ کر واپس جانے لگا،مگر ایک ڈوگرا اسےدیکھ چکا تھا ۔ وہ بجلی کی سی سرعت سے نوجوان کے پیچھے لپکا اور اسے آدھی سیڑھیوں سے اتار کر نیچے لایا اور گلی میں لا کر گولی مار دی ۔

یہ واقعہ میرے ذہن میں اس وقت کوندا جب کل دوپہر میں گھر کی چھت پہ پودوں کو پانی دے رہی تھی تب میرے گھر کے برابر سے گزرنے والی سڑک پولیس سائرن سے گونج اٹھی ۔میں نے دیوار پر سے دیکھا کہ دو پولیس گاڑیاں گزر رہی ہیں اور ان کے پچھلے کھلے حصے میں سپاہی بندوقیں تانے بیٹھے ہیں ۔ میرے اعصاب جھنجھنا اٹھے ۔ ایک قیامت کرونا نےبپا کر رکھی ہے تو دوسری بس انہی کی کسر باقی تھی ماحول کومزید دہشت ناک بنانے کی ۔ بھئی اگر امن و امان کا جائزہ لینا ہے ، قانون قائم رکھنا ہے تو ضروری تو نہیں کہ ایسی ڈراؤنی کیفیت پیدا کی جائے ۔ میں کچھ دیر پہلے ہی فیس بک پہ ایک وڈیو دیکھ چکی تھی ،جس میں کسی علاقے میں کمشنر بہادر نے مسلح گارڈذ کے ساتھ ایک ٹرک کو گھیر رکھا تھا اور ٹرک میں چھپے مفلوک الحال لوگوں کو اتار کر کسی کو تھپڑ رسید کیے جا رہے تھے ۔ کسی سے اُٹھک بیٹھک کروائی جا رہی تھی اور کسی شخص کی دردناک چیخیں بتا رہی تھیں کہ اس پہ اچھا خاصا تشدد کیا جا رہا ہے ۔ جبکہ گھروں میں آرام سے بیٹھے بیشتر سورماؤں نے بطور تبصرہ یہ فتوے صادر فرما رکھے تھے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ مزید سختی سے نمٹا جانا چاہیے ۔

کیا مذاق ہے ؟ لوگوں کے دل سے خوفِ خدا اُٹھ چکا ہے ؟؟ قضا سب کے سروں پہ سوار ہے لیکن دل پتھر ہو چکے ہیں ۔۔ میرا سوال ہے کہ مسلح گارڈز کے ہجوم کو قدرتی طور پہ ایسا نادیدہ حفاظتی لباس مرحمت فرمایا جا چکا ہے کہ وہ کرونا سے محفوظ و مامون ہیں اور وہ مفلس و نادار محنت کش جو دور دراز علاقوں سے محنت مزدوری کرنے آئے تھے ۔ ان کے پاس نہ روز گار ہے نہ رہنے کا ٹھکانا اور نہ ہی پیٹ بھرنے کا آسرا ۔ وہ لازماً بیماری کے جراثیم لئے پھر رہے ہیں ؟

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اگر آپ کے ہتھے یہ بد نصیب چڑھ ہی گئے ہیں تو ان کا طبی معائنہ کرانے کے بعد اگر وہ تندرست ہیں تو ان کے لئے مناسب ٹرانسپورٹ کا بندوبست کرو ۔ ان کی مالی امداد کرو اور انہیں ان کے گھروں تک پہنچاؤ اور اگر بیمار ہیں تو علاج کرو ۔ پر کہاں ؟ اپنی نا لائقی ، نا اہلی ، اور غفلت کو چھپانے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ کہ عوام کو خوف میں مبتلا کرو اور دبا دو اور میڈیا پہ جھوٹی تسلیوں کے راگ الاپتےرہو ۔ بین الاقوامی ادارے رپورٹ کر رہے ہیں کہ پاکستان میں سوا کروڑ سے اوپر لوگوں کے بے روز گار ہونے کا امکان ہے ۔ اس مشکل کے لئے کیا منصوبہ بندی ہے؟ کچھ پتہ نہیں ۔اس وقت مالی امداد کہاں ہو رہی ہے کیسے ہو رہی ہے ؟ کوئی عملی ثبوت نہیں ۔ بس وعدےہیں اور عوام ہیں۔

میری کینیڈا میں بیٹی سے بات ہو رہی تھی ۔ اس نے بتایا کہ یہاں حکومت کے پاس اعداد و شمار ہیں کہ کتنے لوگوں کا روزگار متاثر ہوا ہے ان کے اکاؤنٹ میں اعلان کردہ رقوم منتقل کی جا چکی ہیں ۔ نہ راشن کے لئے دھکے اور ڈنڈے نہ ذلت اور خواری اور اپنے ملک میں دیکھ لیں کہ اگر خانہ پوری کے لئے کچھ کیا بھی جاتا ہےتو لوگوں کو کس قدرذلیل و خوار کر کے امداد دی جاتی ہے۔ بس غالب کے شعر کی عملی تفسیر سامنے ہے۔

ہو چکیں غالب بلائیں سب تمام ۔ ۔

ہاں جو لوگ اپنے اپنے حصے کی شمعیں جلا رہے ہیں ۔ وہی اس معاشرے کا حاصل ہیں ۔ انہی کو سلام ہے ۔ وگرنہ ہمہ نا امیدی ہمہ بدگمانی کے سوا کچھ نہیں ۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *