چابیاں۔۔سلیم مرزا

میرے اسلام آباد والے فلیٹ کی اکیاون چابیاں اور پینسٹھ سیڑھیاں تھیں ۔لفٹ نہ ہونے کی وجہ سے چوتھی منزل کا یہ دوکمروں کا فلیٹ سستا مل گیا تھا ۔بظاہر میں وہاں اکیلا تھا،لیکن جب میں وہاں  نہیں ہوتا تو فلیٹ اکیلا نہیں ہوتا تھا ۔میری عدم موجودگی میں وہاں پہ جو ہوتا وہ کسی اکیلے بندے کا کام بھی نہیں ہوتا تھا ۔

میں اس فلیٹ کا مالک کم صفائی والا زیادہ تھا ۔ہفتے میں دس دن کام سے واپس آکر جائے وقوعہ سے وارداتوں کے نشان مٹانے پڑتے ، وائٹ ہاؤس میں ہوتا تو کلنٹن کبھی نہ پکڑا جاتا ۔اکثر سرحدی جھڑپوں کے بعد مجھے فاتح اور مفتوحوں کا مال غنیمت بھی ہاتھ آتا ،جن میں بھولے ہوئے سگریٹ کے پیکٹ ۔استعمال شدہ اور غیر استعال شدہ سامان حرب وضرب ،کان کے ٹاپس ،زمانہ و مردانہ ملبوسات،فلیورڈ اور ٹھنڈی جرابیں ،ہئیر کلپ ،ایک دوبار تو پیسے بھی ملے ۔۔بڑے نوٹ تھے
یقیناً ناراضی کے اظہار میں پھینکے گئے ہوں گے ۔

میری نچلی منزل پہ دو لڑکیاں رہتی تھیں ۔
چھیدو اور میدو۔۔۔۔
دونوں انتہائی منہ پھٹ اور خوبصورت تھیں ۔ہماری ہی کیا قریب کی ایک دو بلڈنگیں بھی ان پہ عاشق تھیں ،مگر وہ پٹھے پہ تو کیا سدھے پہ بھی ہاتھ نہیں رکھنے دیتی تھیں ۔ایسی ویگنوں کے پیچھے لکھا ہوتا ہے “اتھری موٹر سجناں دی “۔۔۔۔میں ان سے بات کرتے گھبراتا تھا مگر سیڑھیاں چڑھتے اُترتے سانس لینے ان کے فلیٹ کے سامنے یہی سوچ کر رکتا کہ شاید ۔۔۔؟
اکثر دونوں   سے ٹکراؤ ہو بھی جاتا۔۔”انکل کیسے ہیں “؟کی آواز کبھی اتنی بر ی نہ لگتی اگر وہ ساتھ قہقہہ نہ لگاتیں ۔ویسے تو میری کمپنی میں بھی ایڈہاک معشوق کی سیٹ خالی تھی مگر وہ دونوں کہیں اور جاب کرتی تھیں ۔میں ان سے کچھ کہنا تو چاہتا تھا مگر سوچتا کہ منہ پہ بے عزت ہونے سے بہتر ہے کہ کسی طرح ان کا نمبر مل جائے ،تاکہ نشانہ چوک بھی جائے تو جو ہونی ہے کم سے کم ہو ۔

ان سے نمبر مانگنے کیلئے شیر کا کلیجہ چاہیے اور میں شیر نہیں تھا۔۔

ایک دن سیڑھیاں اُترتے ہی مجھے چھیدو نے روک لیا ۔
“انکل سنیے ”
میں رک گیا میرا منہ بالکل فدویانہ سا ہوگیا
“جی حکم کریں “؟
“نیچے جارھہے ہیں تو ایک موبائل کارڈ لا دیں ”
اس نے سو روپیہ دیا ۔راستے میں میر ے دماغ میں ایک ترکیب آئی ۔
میں نے دکاندار سے ایک کی بجائے دو موبائل کارڈ لئے ۔ایک کو سکریچ کرکے جیب میں ڈال لیا، دوسرا ہاتھ میں پکڑے ان کے فلیٹ کا دروازہ آ بجایا ۔
چھیدو باہر نکلی ،کارڈ لیا ، شکریہ کہہ کر مڑنے لگی تو میں نے کہا
“اسے یہیں فیڈ کر لیں ۔۔اور کارڈ واپس مجھے دیدیں ”
اس نے حیرت سے مجھے دیکھا
“کیوں “؟
“کیونکہ میرے پاس ایک فارمولہ ہے، جس سے ایک کارڈ دو بار فیڈ ہوسکتا ہے ”
اس نے بے یقینی سے مجھے دیکھا ۔اندر سے اپنا موبائل لائی اور دروازے میں کھڑے کھڑے کارڈ فیڈ کیا ۔بیلنس کا میسج دیکھ کر کارڈ مجھے پکڑادیا ۔میں نےوہ کارڈ دائیں جیب میں ڈالا اور دو قدم چل کر رک گیا۔
وہ ابھی دروازے میں ہی تھی ۔
“سنیے، یہ آپ کا کارڈ ہے ۔اچھا نہیں لگتا کہ اسے میں فیڈ کروں ۔لائیں موبائل دیں ”
اتنا کہہ کر میں نے بائیں جیب میں سے دوسرا اسکریچ شدہ کارڈ نکالا اور اسکے سامنے اس کے موبائل میں فیڈ کردیا ۔
وہ بیلنس کے میسج کو حیرت سے دیکھتی رہی اور میں آگے بڑھ گیا۔
پھر یوں ہوا کہ بیچاریاں سو روپیہ پکڑے میری راہ دیکھتی رہتیں ۔
مفت کا بیلنس جلد ختم ہوتا ہے، ضرورت بڑھی تو نمبرز ہی دیدیے کہ جادوگر انکل کو موکلات کارڈز کے نمبر بھی بتا جاتے تھے۔
پھر یوں بھی ہوتا کہ اکثر تہذیب بیکری والے میرے سمال پیزے کی جگہ لارج لگادیتے تو مجبوراً ان بیچاریوں کو بھی انکل کے ساتھ بیٹھ کر کھانا پڑ جاتا۔
ایک بار بیگم کیلئے خریدا ایک مہنگا سوٹ سائز میں بڑا نکل آیا اور حیرت انگیز طور پہ میدو کو فٹ آگیا ۔
اب کتنی بُری بات ہے کہ میدو کو سوٹ ملا ہو تو چھیدو کو کچھ نہ ملے ۔؟
اسے ساتھ لیجاکر سوٹ لیکر دیا ۔
وہاں اسے ڈنر کے دوران بتادیا کہ میں کوئی سائبر چور نہیں ہوں تمہارے چکر میں چھیدو کو کارڈ پلے سے فیڈ کروا رہا ہوں ۔اگر تم راضی ہو تو ۔۔۔۔تو سارے تعلیم کے بجٹ کو بھی دفاع میں ایڈجسٹ کیا جاسکتا ہے۔
کچھ روز بعد چھیدو کو بتایا کہ  میدو کے ہاتھوں تمہاری وجہ سے بلیک میل ہورہا ہوں ،ورنہ میں تو کما ہی تمہارے لئے رہا ہوں ۔
اب میں امریکہ تھا اور وہ مشرق وسطی کی ریاستیں ۔
دونوں کے درمیان آئے روز لڑائی ہوتی، جو روٹھتی سیدھی میرے فلیٹ پہ آجاتی ۔اب میری مرضی ان کے فلیٹ میں جاکر چھیدو کو سمجھاؤں، یا اپنے فلیٹ پہ رہ کر میدو کو،
انہوں نے انکل کہنا بھی چھوڑ دیا تھا ۔
پھر میرے فلیٹ کی صرف دو چابیاں رہ گئیں ۔
ایک میرے پاس، اور دوسری ان دونوں میں سے جسے میں دوں!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *