روحانی مسیحا۔۔میاں ضیا ء الحق

ہیلو حبیب! کہاں ہو
جی گھر پر ہوں
اچھا۔ کئی دن سے آئے نہیں دکان پر۔
بس ذرا گھر میں ہی مصروف تھا آؤں گا کسی دن۔
ٹھیک ہے ضرور آنا۔ کھدر اور کاٹن کی نئی ورائٹی آئی ہے۔ پسند آئے تو لے جانا، اکٹھے چائے بھی پئیں گے۔
یار تم اپنی مرضی کے تین سوٹ گھر ہی بھجوا دینا۔ میرا جلد آنا مشکل ہے۔
کیوں بھئی خیریت تو ہے۔
امی کی طبعیت ٹھیک نہیں۔ ڈاکٹرز نے آرام کا مشورہ دیا ہے۔ اب تو چلنا پھرنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ دوا کا بہت خیال رکھنا پڑتا ہے اس لئے میرا پاس ہونا ضروری ہے۔
اچھا۔ ۔یار یہ دوا کا زیادہ استعمال بھی ٹھیک نہیں۔ انسان کو مزید کمزور کردیتی ہے۔ پرانے وقتوں میں تو لوگ سو سو سال جیتے تھے۔ ہونا تو وہی ہے جو مقدر میں لکھا ہوتا ہے۔ ہم ایسے ہی بھاگتے رہتے ہیں۔
وہ تو ٹھیک ہے لیکن کوشش تو کرنی چاہیے،ہر بیماری کا علاج موجود ہے،یہ جدید دور ہے۔
تم کسی دن آؤ تم کو چشتی صاحب سے ملواتا ہوں۔ آج ہی ان کی منجھلی بیگم کپڑا لے کر گئی ہیں۔ ان کا پورا خاندان یہیں سے شاپنگ کرتا ہے۔ جمعے والے دن میں بھی ان کے پاس حاضری کے لئے جارہا ہوں۔ تم بھی چلو۔ اللہ نے چاہا تو خیر ہوجائے گی۔
یار میں نہیں مانتا ان پیروں فقیروں کو۔ پہلے ہی اتنے مسئلے ہیں کہ سنبھالے نہیں جاتے۔ اس ٹاپک کو رہنے ہی دو۔
ٹھیک ہے تمہاری مرضی۔۔ لیکن ہر چیز آزمانی چاہیے،نجانے کہاں سے شفا مل جائے۔ بات یقین کی ہے جہاں بھی ہو۔
نہیں یار میں ان چیزوں سے دور ہی اچھا ہوں۔ بہت جعلساز دیکھے ہیں۔ لوگوں کو لوٹتے ہیں اور پتا نہیں کیا کیا۔
بات تو ٹھیک ہے لیکن ملنے میں حرج نہیں ہے۔ آنٹی کا علاج تو ویسے بھی چل ہی رہا ہے۔ کسی اللہ والے کی دعا نقصان تھوڑی دے گی۔ جمعے کی نماز آستانے والی جامعہ مسجد میں پڑھیں گے۔ یہاں بھی تو کہیں پڑھو گے ہی نا۔
میرا دل نہیں مانتا کہ وہ کچھ کرسکتے ہیں لیکن جمعے کی نماز کے لئے چلتا ہوں۔
اوکے ڈن۔

“اوئے بشیر!
جی پیر صاحب
ذرا جوتی سیدھی کرنا، نماز کا وقت ہورہا ہے وضو کرلوں۔ اور اس چارپائی کو بھی ذرا کس دو۔ ڈھیلی لگ رہی ہے۔
جی پیر صاحب!
باہر کوئی بیٹھا ہے یا چلے گئے ہیں؟
میں نے ان کو جانے کا کہہ دیا ہے۔ جمعے کی نماز کے بعد آئیں گے اب۔
ان کو ایک ایک کرکے اندر بلایا کرو ورنہ بہت رش ہوجاتا ہے یہاں۔ اے سی بند کردو اور یہ بچا ہوا کھانا لے جاؤ۔
جی پیر صاحب!
اور ہاں وہ لبنی کا نمبر بند آرہا ہے۔ شاید بدل لیا ہوگا۔ جمعے میں ڈی آئی جی آئے گا تو اس سے کہنا اس کے نام پر جو نمبر ہیں سب معلوم کرے۔
جی پیر صاحب!
حق حق حق
حبیب جلدی آجاؤ، چشتی صاحب کہیں نکل نا جائیں۔
یار دعا تو مانگ لینے دو۔
بعد میں مانگ لینا یار۔ آجاؤ  جلدی
چشتی صاحب اسلام علیکم(جھکتے ہوئے)
وعلیکم السلام! ارے صدیق کیسے ہو! ۔ آج صبح ہی تمہاراذکر ہورہا تھا۔ عمرے کی تیاری ہے اور کپڑے بنوانے ہیں سب نے۔
حکم چشتی صاحب۔ مجھے بتا دیں کتنے چاہئیں ۔ دو دن بعد سلائی ہوکر آجائیں گے۔
سناؤ کاروبار کیسا ہے
جی آپ کی کرم نوازی سے بہت اچھا ہے۔ صبح آتے ہی آپ کا دیا پانی چھڑکتا ہوں۔ خیر ہوجاتی ہے۔ کل نئی ورائٹی آئی ہے جتنی قیمت بھی رکھو مال رکتا نہیں۔
حق حق حق
اور یہ میرا دوست حبیب ہے۔ میرا کسٹمر تھا اب بھائی بھی بن گیا ہے۔ اس کی والدہ کچھ زیادہ بیمار ہیں۔ دعا کر دیجیے کہ شفا ہوجائے۔
(مختصر سی دعا) آمین !
کیا کرتا ہے تمہارا دوست؟ (سب سے اہم سوال)
جی سوفٹ وئیر ہاوس چلاتا ہے۔ اپنا ہی کاروبار ہے یہ سمجھ لیں۔
وہ کیا ہوتا ہے؟
کمپیوٹر پر کام کرتا ہے اور ویب سائٹ وغیرہ بناتا ہے
اچھا! یہ تو بہت اچھا کام ہے۔ وہ پہاڑی پر آستانے والے پیر صاحب نے تو ایک بندہ رکھ ہی لیا ہے۔ روزانہ کسی نا کسی کا انٹرویو نشر کرتے ہیں اپنی ویب سائٹ پر۔ کچھ سال پہلے تک کوئی ان کو جانتا بھی نہ تھا۔
کسی دن آؤ  اور ہمیں بھی سمجھاؤ  یہ سب کیسے ہوتا ہے۔
نئے مہمان کو کھانا وغیرہ کھلاؤ۔۔ سب خیر ہو جائے گی۔
جی چشتی صاحب۔ السلام و علیکم
یار تو کدھر لے آیا ہے۔ اب میں آستانوں کی ویب سائٹس بناؤں گا کیا؟ ہم تو کمپنیز کا کام کرتے ہیں۔ ان سے کہو کسی اور سے بنوا لیں۔ یہ کیا کام ہوا؟
ارجنٹ نہیں ہے بھائی آرام سے بنا دینا۔ پیر صاحب سے ڈائریکٹ رابطہ بڑے فخر کی بات ہے۔ خوش قسمت ہو۔
(سمائیل)
چوتھا دن

ہیلو
جی کون
میں پیر چشتی بات کررہا ہوں۔ صدیق سے نمبر لیا تھا۔ یاد ہے آپ آئے تھے آستانے پر؟
جی جی پیر صاحب۔ سنائیں کیا حال ہے
کرم ہے اس ذات کا۔
ایک چھوٹا سا کام تھا آپ سے۔ میرے موبائیل میں کچھ ویڈیوز تھیں وہ کسی نے ڈیلیٹ کردی ہیں۔ وہ تو واپس دلا دو۔ اور دوسرا آستانے میں کیمرے لگانے ہیں۔ کسی دن آجاؤ۔
پیر صاحب میں یہ کام نہیں کرتا۔ میں تو سوفٹ وئیر ڈیویلپر ہوں۔
کوشش کرو ہمارے لئے۔ کمپیوٹر کا بندہ تو سب کچھ کرسکتا ہے بھئی۔ تم تو اپنے ہی آدمی ہو۔ ویب سائیٹ کا بھی بتانا کیسے بنے گی۔ اگلے جمعے کو ضرور آنا۔
پیر صاحب بہت معذرت۔۔ میں نہیں آسکوں گا،میں کچھ مصروف ہوں ۔اس دن بھی صدیق کے اصرار پر آگیا ورنہ میں نماز تو گھر کے پاس والی مسجد میں ہی پڑھتا ہوں۔
ٹھیک ہے تمہاری مرضی۔

جمعہ کا دن
گلی میں پولیس کا سائرن
ٹھک ٹھک ٹھک
جی کون
حبیب تم ہو؟
جی فرمائیے۔
یہ گھر میں تم نے کیا کھول رکھا ہے؟ تمہاری رپورٹ ہوئی ہے۔ غیر اخلاقی ویب سائیٹس چلا رہے ہو؟
گھر کی تلاشی لو اور سب کمپیوٹر لیپ ٹاپ پرنٹر ٹی وی قبضے میں کرلو۔ اس کی ویڈیو بھی بناو۔ شرفاء کے محلے میں یہ دھندا چلا رہا ہے۔

ٹی وی نمائندہ:
کتنے عرصے سے یہ کام کر رہے ہو؟
اور کون کون تمہارے ساتھ شامل ہے؟
اب تک کتنے گھر برباد کر چکے ہو؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *