• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • کرونا ڈائریز:کراچی،کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(بارہواں دن)۔۔گوتم حیات

کرونا ڈائریز:کراچی،کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(بارہواں دن)۔۔گوتم حیات

پرسوں شام مغرب کے وقت میں “علینہ” پر کامیابی سے “کرونا ڈائریز” کی دسویں قسط کو مکمل کر کے عجیب سرور کی کیفیت میں مبتلا تھا۔ اپنی لکھی ہوئی اُس قسط پر مجھے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ یہ میں نے تخلیق کی ہے۔۔۔ اسی خوشی میں سرشار ہو کر میں نے اپنے آپ کو داد دی، بار بار لکھی ہوئی قسط کا مطالعہ کیا اور پھر کچھ جملوں میں معمولی سا ترمیم و اضافہ کر کے “مکالمہ” کی ایڈیٹر”محترمہ اسماء مغل” کو بذریعہ ای میل ارسال کر دی۔ کچھ ہی دیر بعد قسط شائع ہو کر ایک لِنک کی صورت میں مجھے موصول ہوئی، میں نے اس لِنک کو اپنی فیس بُک وال پر پوسٹ کر دیا۔ اس کے بعد وٹس ایپ پر کچھ دوستوں کو میں یہ لِنک بھیج ہی رہا تھا کہ میرے ایک محترم استاد ڈاکٹر جعفر احمد کی کال آ گئی۔ ڈاکٹر جعفر نے پہلے تو صائمہ کا حال احوال مجھ سے دریافت کیا، اس کے بعد انہوں نے لاک ڈاؤن کو آگے بڑھانے کی خبر سے متعلق بتایا کہ لاک ڈاؤن میں توسیع کر دی گئی ہے۔
ڈاکٹر جعفر کرونا کی وجہ سے موجودہ صورتحال پر بہت ڈیپریسڈ تھے۔ سر کا کہنا تھا کہ پاکستان سمیت پوری دنیا میں آنے والے کئی مہینوں تک یہ صورتحال اسی طرح بدحال رہنے کا خدشہ ہے، بہت سے ممالک میں معاشی سرگرمیاں مفقود ہو چکی ہیں۔ پاکستان میں ہر گزرتے ہوئے دن کرونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے،
کم وبیش یہی صورتحال کئی دوسرے ممالک کی بھی ہے اور اب تو چائنہ میں بھی کرونا کے مزید نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ نیوز چینلز میں ترقی یافتہ مغربی ممالک کی کچھ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ ڈیپارٹمنٹل سٹورز میں لوگ بغیر پیسوں کے سامان لے کر جا رہے ہیں۔ غرض ایک لوٹ مار کا بازار گرم ہو چکا ہے۔ سر اس بات پر فکر مند تھے کہ جب اُن ترقی یافتہ ممالک میں لوگوں کا یہ حال ہے تو پھر آنے والے چند دنوں میں ہمارے ملک کے لوگوں کا کیا حال ہو گا کہ یہاں تو پہلے سے ہی معاشی بدحالی عروج پر ہے۔ لاک ڈاؤن نے لوگوں کو مزید سخت قسم کے مسائل سے دوچار کر دیا ہے، خالی پیٹ لوگ گھروں میں بیٹھ کر کرونا کی وبا کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔

ڈاکٹر جعفر بھی گزشتہ دو ہفتوں سے گھر پر ہی بند ہیں۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ،لاک ڈاؤن کے دنوں کا بھرپور فائدہ اُٹھاتے ہوئے وہ آجکل اُس فکشن کا مطالعہ کر رہے ہیں جو براہ راست طور پر دنیا بھر میں آنے والی وباؤں سے متاثر ہو کر تخلیق کیا گیا تھا۔ اس سلسلے کی پہلی قسط کا آغاز “البرٹ کامیو” کے ناول”دی پلیگ” پر ایک تفصیلی مضمون لکھ کر روزنامہ جنگ اخبار کو بھیج دیا ہے، امید ہے وہ جلد شائع ہو جائے گا، اس کے بعد “مارکیز” کے ناول “وبا کے دنوں میں محبت” پر بھی ایک مضمون لکھ رہا ہوں اور “راجند سنگھ بیدی” کے مشہور افسانے “کوارینٹن” پر بھی لکھنے کا ارادہ ظاہر کیا۔
وبا کے موضوعات سے متعلق میں نے ڈاکٹر جعفر سے کہا کہ آپ “ڈاکٹر روتھ فاؤ” کی “خود نوشت” پر بھی ضرور کچھ لکھیں، کیونکہ ان کی تو بہت خدمات ہیں ہمارے خطے کی عوام کے لیے۔ جب پچاس، ساٹھ کی دہائی میں کراچی میں طاعون پھیلا تھا تو یہ “ڈاکٹر روتھ فاؤ” ہی تھیں جو ہر مریض کا علاج انتہائی لگن اور شفقت سے کیا کرتیں تھیں۔(یہاں میں پڑھنے والوں کو بتاتا چلوں کہ سکول کے زمانے میں ڈاکٹر روتھ فاؤ کی خود نوشت کی اقساط کا مطالعہ میں نے روزنامہ جنگ اخبار کے مِڈ ویک میگزین میں کیا تھا اور میں ہر بدھ کو ڈاکٹر روتھ فاؤ کی نئی قسط کا بےچینی سے انتظار کیا کرتا تھا)
اب میں واپس ڈاکٹر جعفر کی کال کے بقیہ حصے کی روداد پڑھنے والوں کے گوش گزار کرتا چلوں کہ سر سے یہ اہم گفتگو کرنے کے بعد میں نے جب ان سے پوچھا کہ اور سنائیں سر۔۔۔ تو سر نے انتہائی دُکھی دل کے ساتھ یہ بتایا کہ موبائیل فون میں کچھ خرابی کی وجہ سے ان کا
“وٹس ایپ” کا سارا ڈیٹا ڈیلیٹ ہو گیا اور اب وہ فکر مند ہو رہے تھے کہ اس ڈیٹا کے ڈیلیٹ ہونے کی وجہ سے ان کے پاس جو علمی و ادبی چیزوں کا ذخیرہ تھا اُس کا کیا ہو گا۔۔۔ میں نے سر کو تسلںی دی اور انہیں بتایا کہ”وٹس ایپ” کا ڈیٹا تو اسی طرح اکثر خود ہی ڈیلیٹ ہو جاتا ہے لیکن اگر آپ نے اپنے “وٹس ایپ ڈیٹا” کو گوگل کے ذریعے بیک اَپ کیا ہوا ہے تو “وٹس ایپ” میں آپ کے پاس جو بھی ویڈیوز آتی ہیں وہ آٹو میٹیکلی آپ کے اکاؤنٹ میں بھی سیوڈ ہو رہی ہوتی ہیں۔ اس لیے ویڈیوز تو آپ وہاں پر سرچ کر کے حاصل کر سکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے “وٹس ایپ کی چیٹ” جب ایک بار ڈیلیٹ ہو جائے تو اس کو دوبارہ حاصل کرنا ممکن نہیں، شاید کوئی ایسا
سافٹ وئیر ہو جو یہ “چیٹ” بھی ہمیں واپس دلوا سکے لیکن مجھے ایسے کسی سافٹ وئیر کا کوئی علم نہیں۔ اس کے بعد میں نے سر سے پوچھا کہ کیا آپ میری “کرونا ڈائریز” کا مطالعہ کر رہے ہیں؟ سر نے کہا کہ نہیں ابھی مطالعہ نہیں کیا لیکن یہ اچھی بات ہے کہ آپ روز ڈائری لکھ رہے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ یہ ڈائری بھی بہت کام کی ہو گی
“ملالہ کی ڈائری” کی طرح، آپ اس کو لکھتے رہیں۔ میں نے سر کا شکریہ ادا کیا۔ (ڈاکٹر سید جعفر احمد کئی کتابوں کے مصنف، شہر کی ایک اہم علمی اور ادبی شخصیت ہیں۔ ہم کراچی والے ڈاکٹر جعفر کے ریشنل مؤقف اور ان کے سیاسی، سماجی، تاریخی اور ادبی مضامین کو دلچسپی سے پڑھتے ہیں اور سراہتے ہیں۔ آپ کراچی یونیورسٹی کے “شعبہ پاکستان اسٹدیز” کے سابق ڈائریکٹر رہ چکے ہیں اور آجکل آپ “سہیل یونیورسٹی” کے “انسٹیٹیوٹ آف ہسٹوریکل اینڈ سوشل ریسرچ” میں بطور “ڈائریکٹر” خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ مجھے یہ شرف بھی حاصل ہے کہ میں کراچی یونیورسٹی میں ڈاکٹر جعفر کا شاگرد رہ چکا ہوں۔)
ڈاکٹر جعفر کی کال کے بعد میں نے صائمہ کو کال کی اور اُسے بتایا کہ سر دکھی تھے ان کا سارا ڈیٹا ڈیلیٹ ہو گیا۔ یہ بات سُن کر صائمہ کو بھی افسوس ہوا۔ اس کے بعد صائمہ نے مجھ سے پوچھا کہ عاطف کیا تم نے میڈم شہناز شورو کی فیس بُک وال پر اسٹیٹس دیکھا؟؟ میں نے کہا نہیں ابھی تو میں بس اپنی دسویں قسط کی خوشی میں نہال ہوں، کیا میڈم نے کوئی خاص بات وال پر شئیر کی ہے۔۔۔ بتاؤ؟؟؟ صائمہ نے کہا کہ تم خود چیک کرو میں اب کال کینسل کر رہی ہوں۔ میں نے کہا ہاں ٹھیک ہے، میں اُن کا اسٹیٹس دیکھ کر تمہیں کال بیک کروں گا۔
میں نے فوراً میڈم شہناز شورو کی فیس بُک وال کو کھولا اور یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اُن کی وال پر میرے لیے فیس بُک “اسٹیٹس” کی شکل میں ایک پورا مضمون سجا ہوا تھا۔ میں پوری دلچسپی اور حیرانگی کے ساتھ اپنی ہردلعزیز ٹیچر اور دوست “ڈاکٹر شہناز شورو” کا لکھا ہوا وہ خوبصورت مضمون پڑھتا چلا گیا۔ مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ سب میرے لیے لکھا گیا ہے۔ وہ لمحہ میرے لیے غیر معمولی طور پر حیران کُن تھا، مضمون پڑھتے ہوئے “سندھ مسلم گورنمنٹ سائنس کالج” کا زمانہ میری آنکھوں کے سامنے آگیا اور میں نے خود کو کالج کے کلاس روم میں بیٹھا پایا۔
ڈاکٹر شہناز شورو کا لکھا ہوا وہ مضمون میرے لیے کسی
بھی “پی ایچ ڈی” کی سند سے بڑھ کر ہے۔ یہاں میں اپنے پڑھنے والوں کی خدمت میں “ڈاکٹر شہناز شورو” کا وہ مضمون شامل کر رہا ہوں، امید ہے آپ تمام پڑھنے والے بھی اس مضمون کی معنویت پر غور وفکر کریں گے۔
مندرجہ ذیل میں میڈم کا لکھا ہوا مضمون حاضرِ خدمت ہے؛
“عاطف راجہ، جو پہلے راجہ عاطف حیات بنا، پھر
راجہ عاطف حیات گوتم اور اب وبا کے دنوں میں کراچی کے ایک گھر میں سیلف کورنٹین میں بیٹھا، ہمارے لئے روزانہ اپنی ڈائری کا ایک ورق “کرفیو سے لاک ڈاوٴن، لکھنے والا،
گوتم حیات۔
عاطف مجھے بہت عزیز ہے اسی لئے میں اسے اپنا چہیتا شاگرد کہتی ہوں۔ مجھے وہ دن یاد ہے جب میں نے اسے پہلی بار اپنی کلاس میں بیٹھے دیکھا تھا۔ ایک خوبصورت نوجوان جس کے حسین بال اس کی چوڑی پیشانی پر بے فکری سے بکھرے رہتے تھے اور اس کی شرمیلی آنکھیں خلا میں کچھ تلاش کرتی رہتی تھی۔ ایک بار میں کسی کلاس کو پڑھا رہی تھی، گو وہ عاطف کی کلاس نہیں تھی لیکن وہ اجازت لے کر میری کلاس میں بیٹھ گیا۔ کلاس کے خاتمے پر دوسرے بچے چلے گئے تو میں اس کی طرف متوجہ ہوئی، وہ کچھ لکھ رہا تھا اور اگر میں غلطی پر نہیں ہوں تو وہ ڈاکٹر محمد اقبال پر مضمون لکھ رہا تھا۔ میں نے وہ مضمون پڑھا تو مجھے احساس ہوا کہ وہ بہت اچھی اردو لکھ سکتا ہے۔ مجھے یاد نہیں کہ میں نے اس وقت اسے یہ مینشن کیا تھا یا نہیں۔ بہرحال میرے دیگر اسٹوڈنٹس میں سے چند ایسے ہیں جو مجھ سے مسلسل رابطے میں رہے مگر عاطف مجھ سے قریب تر یوں ہے کہ ایک تو وہ فیس بک پر ایکٹو ہے، دوسرا جب بھی میں پاکستان جاتی ہوں تو ایسا ممکن نہیں کہ وہ مجھ سے ملنے نہ آئے، اکیلا یا صائمہ کے ہمراہ۔ کورونا کی وبا کے دنوں میں عاطف کراچی میں بیٹھا ڈائری لکھ رہا ہے۔جس کا ہر صفحہ ہمارے انعام رانا کے “مکالمہ” میں شائع ہوتا ہے۔ میں کراچی سے بہت دور ہوں، مگر میری فیملی وہاں ہے۔ ہر روز صبح عاطف کی ڈائری کا ایک صفحہ مجھے کراچی سے قریب تر کر دیتا ہے۔ وہ صرف حال دل نہیں، حال شہر بھی کہتا ہے، حالت مکاں نہیں حکایت مکیں بھی لکھتا ہے۔ اس نے کرفیو بھی جھیلا ہے اور لاک ڈاؤن بھی۔
مجھے بہت حیرت نہیں ہوئی جب اس نے باقاعدہ لکھنا شروع کیا۔ مجھے معلوم تھا وہ کچھ بھی کر سکتا ہے جس دن بھی اسے احساس ہوا کہ اسے کچھ کرنا ہے یا جس دن اس نے ٹھان لی کہ اسے کچھ کرنا ہے وہ کر لے گا اور لکھنا تو اسے چاہیے کہ اس نے بے پناہ پڑھا ہے۔ شاید اس نے اردو ادب کی ہر قابل ذکر تحریر پڑھ لی ہے۔ وہ زاہدہ حنا صاحبہ کے بہت قریب رہا ہے ان سے اس نے یقیناً بہت کچھ سیکھا ہوگا۔ وہ یونیورسٹیز میں صرف کلاس میں بیٹھنے کے لئے نہیں گیا بلکہ اس نے وہاں کی زندگی اور کرداروں کو پڑھا۔ اس کا زندگی کا مشاہدہ میرے اور آپ کے اندازوں سے زیادہ ہے۔ غور کریں کہ اس کی ڈائری کا ہر ورق پچھلے ورق سے زیادہ خوشنما ہوتا ہے۔ وہ لکھتا ہے تو اچھے اچھوں سے بہتر نثر لکھتا ہے۔ جیسی موہنی صورت ہے، جیسا اُجلا اس کا دل ہے ویسی ہی شفافیت اس کی تحریر میں ہے۔ خلوص، ایمانداری اور احساس کے علاوہ، تعصب سے پاک نظر سے وہ چیزوں اور صورتحال کو دیکھتا ہے۔ ہر استاد کی طرح مجھے بھی اپنے شاگردوں کو ترقی کرتے دیکھنا بہت اچھا لگتا ہے اور بالخصوص جب وہ ادب کی طرف سنجیدگی سے مائل ہوں۔
جب آپ لکھنے کا آغاز کرتے ہیں تو ایک بے پناہ مسرت سے ہمکنار ہوتے ہیں، جسے بیان کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ میں محسوس کر سکتی ہوں کہ عاطف بھی اس سرور سے گزر رہا ہے۔ اور جب عاطف کی یہ “آغاز الفت” والی جھجک دور ہو گی تو وہ، وہ کہانیاں سامنے آئیں گی، جن کا تصور کرتے ہوئے بھی لوگ باگ گھبرا جائیں گے۔ مگر میں آپ کو یاد دلاؤں کہ اس نے زندگی کے ایک ایک لمحے سے سیکھا ہے اور ان دنوں اور راتوں کو جیا ہے، جن کو جھیلتے لوگ بہت کچھ بلکہ زندگی تک ہار جاتے ہیں۔ اب اسے ہار سے ڈر نہیں لگتا، اب اسے کوئی چیز نہیں ڈرا سکتی۔ اب ہم سب کو ان کہانیوں سے ڈرنا چاہئے جو عاطف کے پاس ہیں اور جنہیں لفظوں کی قبا میں دیکھنے کے لئے شہر کراچی برسوں سے منتظر ہے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *