• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • دفعہ 370 کا خاتمہ اور کورونا وائرس کی آمد ۔ خنجر گھونپ دیا ہے سینوں میں ہمارے۔۔۔زاہد احمد ڈار

دفعہ 370 کا خاتمہ اور کورونا وائرس کی آمد ۔ خنجر گھونپ دیا ہے سینوں میں ہمارے۔۔۔زاہد احمد ڈار

ماضی بعید میں مختلف ممالک جب آپسی جنگ و جدل کے شکار ہوتے تھے تو وہ اپنے دشمنان کے ساتھ جنگ میں مختلف اقسام کے ایٹم بمبوں،ٹینکوں اور دیگر Arms & Ammunition کو استعمال میں لاتے تھے،جس کی مثال تاریخ کی کتابوں میں رقم ہیروشیما اور ناگاساکی جیسے علاقوں پر کیے گئے حملے ہیں ۔ زمانہ گزرنے کے ساتھ  ساتھ ان جنگوں کی Strategyہی بدل گئی اور 5th  Generation  Warشروع ہوگئی ، جن کو انگریزی میں Psychological  Warsکے نام سے جانا جاتا ہے ۔ ان میں نہ ٹینکوں اور ایٹم بمبوں کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی Arms &  Ammunitionکی، بلکہ مخاطبین و مخالفین کے دماغی توازن کو   افواہوں اور حربوں  سے بگاڑنے کی کوشش کی جاتی ہیں ۔

بالکل اسی طرح۵/ اگست ۲۰۱۹ ء کا دن مقبوضہ جموں و کشمیرکے لئے  انتہائی افسوس ناک دن کی مانند تھا جب بھارتی سامراجیت نے ان کے تشخص Article370اور35Aکو نشانہ بناتے ہوئے ،جوکہ اس سے پہلے سے ہی کھوکھلاکیا جا چکاتھا،کو ختم کرنے کی ایک گھناؤنی حرکت کی ہے ،جو کشمیری عوام کے سینوں میں خنجر گھونپ دینے کے عین مترادف ہے۔ واضح رہےاس فعل بد کو بروئے کار لانے کے لیے سب سے پہلے ۲۸/فروری ۲۰۱۹ء کو جماعت اسلامی جموں و کشمیر پر کم و بیش پانچ سال کے لئے پابندی عائد کرکے امیر جماعت ڈاکٹر عبد الحمید فیاض صاحب اور دیگر قائدین کو ریاستی وغیر ریاستی جیلوں میں پابند سلاسل کردیا گیا۔کشمیری عوام کی  طرف سے اس کے خلاف کوئی احتجاج بلند نہ ہونے سے ظالم و جابر حکومت نے معاملے کو بخوبی بھانپ لیا کہ کشمیر کے بے غیرت و بے ضمیر لوگ آپسی اختلاف میں الجھے ہوئے ہیں اور انھیں اس بات کی کوئی فکر لاحق نہیں ہوئی ، کیونکہ شاید پابندی لگائی جانے والی جماعت کے ساتھ ان کا دور کا واسطہ بھی نہیں تھا۔ معاملہ اس حد تک بڑھ گیا کہ دیگر جماعتوں اور تنظیموں کےکچھ رہنماؤں کو بھی قیدوبند کی صعوبتوں میں ڈال دیا گیا ۔

اس طرح  خوف و دہشت کے ماحول کوبرپا کرنے کےفوراً  بعد کشمیر میں گاہے بہ گاہےہندوستان سے تقریباً  پچاس ہزارکی مزید فوج بھیجی گئی ،پکڑ دھکڑ کا سماں شروع کر دیا گیا، وادی میں موجود غیرریاستی سیاحوں، یاتریوں ،طلبہ وطالبات،تجارت پیشہ اور مزدور طبقہ کو اپنے اپنے گھروں کی طرف واپس بھیج دیا گیا، ریڈ الرٹ Red  Alertنافذ کردیا گیا ،کرفیو اور ای کرفیوe_Curfewعمل میں لایا گیا، وادئی کشمیر کے سکونت پذیر  ہندوستانی  حکومت کے ان چیلوں، جو پچھلی  سات دہائیوں سے ان کے تلوے چاٹ کر مظلوم کشمیری قوم کے بیٹوں کو شہید، ماؤں بہنوں کی عصمت ریزی ،معصوم بچوں کو آنکھوں کی بینائی سے محروم اور بزرگوں کو ظلم و ستم کی اندھیری رات میں دھکیلے ہوئے ہیں ، کو بھی نہ بخش کر نظر بند کردیا گیا۔ اسی طرح سے دیگر کئی اور حربے آزما کر عوام میں خوف و دہشت کا ماحول قائم کردیا گیا۔

اتنے مظالم ڈھائے جانے پر بھارت نے یہ ثابت کردیا کہ اگر انھیں کشمیر کی کوئی چیز محبوب ہے تو وہ کشمیری عوام نہیں  بلکہ یہاں کی سرزمین ہے ۔ اس طرح سے یہ جنت کشمیر  اب دوزخ سے کم  نہیں ہے اور اپنی آخری سانسیں گن رہی ہے کیونکہ  بھارتی سامراج اب یہاں  کی غالب مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرے گی  اور غیرریاستی باشندوں  کو   یہودی طرز پرسرزمین کشمیر میں  اپنی مستقل سکونت حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کرے گی۔ اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کو استصواب رائے عامہ کا موقع  دیا جائے گا جو واضح طور پر ہندوستان کے مفاد میں ہوگا کیونکہ تب تک یہاں کی Demographyکے بدل دینے سے کشمیر کی غالب مسلم اکثریت  غالب غیر مسلم اکثریت میں یا بالفاظ دیگر مسلم اقلیت میں تبدیل ہوچکی ہوگی۔

یہ صرف قانون  کو ختم کرنے کی بات ہی نہیں بلکہ  ہماری ماؤں ، بہنوں اور بیٹیوں کی عزت و عصمت غیر محفوظ ہوجانے کی بات بھی ہے ۔ یہ بے حیائی و بے شرمی، بدکاری، شراب نوشی اور دیگر منہیات کے ماحول  کو پیدا کرنے کی بات ہی نہیں ، بلکہ ان سب Vicesکے لئے لائسنسLicence فراہم کیے جانے کی بات بھی ہے۔اس   سب سے ریاست جموں و کشمیر بد سے برترین صورتحال کا شکار ہوجائے گی ۔ یہ ایک ایسی گھناؤنی حرکت ہے جسے من حیث القوم  کشمیری عوام پر زور الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور ساتھ ہی بین الاقوامی اداروں سے اس دیرپامتنازعہ مسلہ کو دائمی حل کرنے کی پرزور اپیل کرتی ہے۔

دوسری جانب پوری دنیابالعموم اور ریاست جموں و کشمیربالخصوص اس وقت  کورونا وائرس Corona_Virusنامی وبائی  مرض کی لپیٹ میں آچکی ہےجس کی وجہ سے  ابھی تک پورے عرب و عجم میں ہزاروں کی اموات ہوچکی ہیں اور دن بدن یہ مرض رکنے کا نام ہی   نہیں لیتا۔

پہلی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئےکشمیری قوم آپسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اللہ پر بھروسہ رکھ کر صبر و استقامت کے ساتھ اس ہتھکنڈے کا ڈٹ کر مقابلہ کریں اور  جوش میں آکرکوئی غلط قدم نہ اٹھائیں ۔ماضی کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے آس پاس کے محلہ جات کے ضرورت مندوں کا خاص خیال رکھیں ،   یہاں سکونت پذیر اقلیتی برادری کے جان و مال کے تحفظ کو بھی یقینی بنائیں ،ایمبولینس اور دیگر حاجت مندگاڑیوں کو بلاضرورت نہ روکیں اور نوجوانان قوم خون کا عطیہ دینے کے لئے ہمہ وقت تیا رہوں۔وہ وقت دور نہیں ہے جب کشمیری قوم اس جبر واستبداد سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نجات پالے گی۔ ان شاء اللہ! اگر اس امتحان کی گھڑی میں بھی یہ قوم خواب غفلت میں سوئی رہی تو یاد رکھنا  آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گے۔

دوسری صورتحال کے پیش نظر لوگ اپنےاپنے گھروں میں ہی رہیں  ،اپنے ارد گرد صفائی کا خاص خیال رکھیں،فضول خرچی نہ کریں اور  ڈاکٹروں کے وضع کردہ احتیاتی تدابیر پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔

 قوم کے نوجوانون ہی اس ڈوبی ہوئی نیا کو پار کراکے منزل مقصود تک پہنچا سکتی ہیں۔ اس وقت مظلوم قوم درد بھری آواز میں اپنے نوجوانان ملت سے مخاطب ہوکر پکار رہی ہے کہ :

جلال آتش و برق سحاب پیدا کر

اجل بھی کانپ اٹھے وہ شباب پیدا کر

بہے زمیں پہ جو میرا لہو تو غم مت کر

اسی زمیں سے مہکتے گلاب پیدا کر

تو انقلاب کی آمد کا انتظار نہ کر

جو ہوسکے تو ابھی انقلاب پیدا کر

ہمیشہ اپنے تن اور من کو تمام غلاظتوں سے پاک و صاف رکھنے کی کوشش کریں ۔ہم اللہ تعالی سےپورے عالم میں مظلوم انسانیت اور کشمیری عوام پر ظلم کی اندھیری رات  اور تمام وبائی امراض سے نجات  کے دعا گو ہیں ۔ اللہ آپ سب کا اور ہمارا حافظ و ناصر ہو۔ آمین۔والسلام

زاہد احمد ڈار
زاہد احمد ڈار
ساکنہ سیتھر سنگم. ریسرچ اسکالر کشمیر یونیورسٹی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *